Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
234 - 243
اقول اولاً اگر یہ مراد کہ ان سے عام لوگوں کے لیے بعد موت ادراک جسمانی نہ رہنا مستفاد ، تو ہمیں مسلم اور تمھیں کیا مفاد اور ادراک روح کا انکار ماننا اور اسی کو اذہان صحابہ میں مستقر جاننا معاذاللہ انھیں بدمذہب ٹھہرانا اور حضورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اس پر سکوت تقریر وتسلیم بتانا ہے۔ ذی ہوش نے اتنا نہ دیکھا کہ صحابہ کرام نے فنائے جسدو بقائے ادراک میں تنافی ظاہر کی اور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نفی تنافی سے جواب نہ دیا بلکہ نفی منافی سے کہ انبیاء کے اجسام بھی زندہ ہیں اب یہاں ادراک روح میں کلام ہو تو دو ہی صورتیں ہیں یا تو صحابہ موت جسد سے روح کو بھی مردہ مانتے یا ادراک روح کے لیے بقائے بدن شرط جانتے، فصول سابقہ نیزمباحثِ قریبہ میں بار بار تکرار واضح ہوچکا کہ یہ دونوں قول اہل بدعت وضالین معتزلہ وغیرہم مخذ ولین کے ہیں۔ قول ۱۵ میں مقاصد وشرح مقاصد سے گزرا کہ بدن کو شرط ادراک جاننا اہلسنت کے خلاف معتزلہ کا اعتساف ہے۔ اسی طرح عامہ کتب عقائد وتفسیر کبیر وغیرہا میں تصریح منیر افسوس کہ اپنی بد مذہبی بنانے کے لیے معاذاللہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو عقائد فاسدہ کا معتقد ومظہر اور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ان پر ساکت ومقربتاؤ اور دل میں خوفِ خدا نہ لاؤ۔

ثانیا کیا خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت صرف سکوت بتانا کہہ رہاہوں وہ صراحۃً کلام اقدس کے معنی بتا چکا کہ از آنجا کہ انبیاء کے اجسام باقی ہیں، لہذا سننے میں استعباد نہیں کیا ظلم ہے کہ صاف صاف رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کو ادراک روح کے لیے بقائے جسم کا شرط ماننے والا بتاؤ، خدا بدمذہبی کی بلا سے بچائے۔
ثالثاً طرفہ یہ کہ یہاں پیشی درود بذیعہ ملائکہ مقصود حدیث دوم میں شہود ملائک کی تصریح موجود اور خود اس کے ترجمے میں لکھا:
گفت ابودرداء گفتم بطریق استفہام واستبعاد کہ پس از موت نیز عرض می کنند ۱؎۔
ابودرداء فرماتے ہیں: میں نے بطریق استفہام واستبعاد عرض کی کہ کیا بعد انتقال اقدس بھی وہ درود پیش کریں گے۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل    سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہوری    ص۸۴)
ذرا اس ''می کنند'' کا مرجع تو بولئے مگر اذہان صحابہ میں فنا وخرابی بدن کے بعد روح کی بے ادراکی تمھاری مقررہ بے ادراکی سے بھی فزوں ترتھی کہ ملائکہ کی بات سننے سمجھنے پر بھی تعجب واستعباد فرماتے مگر امثال آیہ کریمہ النار یعروضون علیھا سے کہ مکیہ ہے اور اظہار فضل جمعہ وتنزیل فرض درود سے بہت پہلے نازل ہوئی ان کے کان بے خبر تھے، ہاں بدن کی یہ حالت ضرور ہے کہ اس کو وہ موت عارض ہوتی ہے جو مطلقا منافی شعور  ہے تن مردہ جب تک مردہ ہے نہ ملک کی بات سن سکتا ہے نہ بشر کی، اور وقت سوال وغیرہ عود سماع بعود حیات ہے۔ اس کا یہ بھی استمرار ضرور نہیں ، تو برقیاس عامہ ناس کہ اس وقت تک خاصہ اجسام طیبہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا علم نہ تھا بحال فنائے بدن بقائے ادراک جسمانی میں اشکال ہوا جس پر وہ سوال اور اس کا وہ جواب کا شف حقیقۃ الحال ہوا الحمد للہ تعالٰی اتنی حقیقت تھی آپ کے اس نئے ناز کی جس پر بڑی دھوم سے دکان فخر بازی کی کہ:
چوں از جواب مغالطات معترض فراغت دست داد، لہذا تحقیق این مسئلہ بطور دیگر ضرور افتاد ۲؎۔
چونکہ معترض کے مغالطات سے فراغت دستیاب ہوئی اس لیے اس مسئلہ کی تحقیق دوسرے طورپر ضروری ہوئی (ت)
 (۲؎ تفہیم المسائل    سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہوری    ص۸۴)
ماشاء اللہ اس شرط وجزا کے ربط کو دیکھیے،یہی بتارہا ہے کہ سخت گھبرائے ہوئے اور اعتراضات علامہ معترض قدس سرہ کا لا حل سمجھ رہے ہو، اگر واقعی اعتراض اٹھ جاتے تو اگلی ہی تحقیق کی جان بچ جاتی، آپ کے اس فراغت دست کے بعد پچھلی ضرورت پر ضرور افتاد کی افتاد کیوں آتی   ع

نطق کا حوصلہ معلوم ہے بس جانے دو
فائدہ جلیلہ: جب محاورات باہمی میں مطلق سمع سے یہ تبادر تو حدیث قلیب کا ذکر ہی کیا ہے کہ اس کا تو سماع جسمانی میں نص صریح ہونا اوپر مبین ہوچکا اور ام المومنین محبوبہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وعلیہا اجمعین  حاضر واقعہ نہ تھیں نیز اوپر ظاہر کیاکہ آیات کریمہ متعلق باجسام ہیں خصوصا
وماانت بمسمع من فی القبور
اگر چہ نفی سماع نہیں فرماتے مگرنفی سماع ظاہر ہے اور اس واقعہ سے صراحۃً اسماع اجسا م مفہوم، لہذا  ام المومنین نے اسے منافی آیات خیال فرما کر وہم وسہو کا حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یعلمون فرمایا یعنی ان کی روحیں جانتی ہیں، راوی کو یسمعون یاد رہا کہ ان کے جسم سنتے ہیں پر ظاہر کہ علم صفت خاصہ روح ہے جس میں وہ بدن کی محتاج نہیں بخلاف سمع متعارف بذریعہ آلات بدنیہ کہ بے حیات بدن ناممکن اور یہ وقت ان کافروں کی حیات جسمانی کا نہ تھا تو اس وقت اثبات سماع اجسام منافی آیات ہے، ہاں علم حاصل ہے کہ وہ روح سے ہے اور روح باقی ہے یہ حاصل ارشاد ام المومنین صلی اللہ تعالٰی علٰی بعلہا الکریم و علیہا وسلم ہے۔ اوراسی بناء پر مشائخ کرام نے کہ قطعاً دربارہ ابدان کلام فرمارہے تھے اس سے استناد کیا کما قدمنا (جیسا کہ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں ۔ ت) اور یہ اصلا ان منکرین ومخالفین کو مفید نہیں کہ سمع جسمانی نہ ہمارے دعوے میں مقصود ومنظور نہ انکار منکرین اس پر مقصور، رہا ادراک روح کا انکار حاشا نہ وہ کلام ام المومنین سے مستفاد نہ ہر گز کسی دلیل سے ظاہر کہ یہ ان کی مراد تو منکرین کا اس سے استناد محض رجماً بالغیب وخرط القتاد، بلکہ اس کے ضلالت وطلان اور ان کے بطالت وخذلان پر خودا رشادات صحیحہ صریحہ ام المومنین احسن الاشہاد الاو ل تو اسی حدیث میں جب علم مان رہی ہیں توا دراک روح کی خود قائل ہوئیں۔ پھر انکار سمع روح کے کیا معنی، اور حدیث
علام تنصون میّتکم
ابھی گزری کہ میّت کے سر میں زور سے کنگھی کرتے دیکھا تو فرمایا: کاہے پر اس کے بال کھینچتے ہو، اس سے قطع نظر کیجئے تو حدیث جلیل صحیح بستم کہ ابتدائے نوع دوم مقصد دوم میں مذکور ہوئی، جس میں ام المومنین قسم کھاکر فرماتی میں: ''واللہ! جب سے امیر المومنین عمر دفن ہوئے میں ان کی شرم سے بے تمام کپڑے پہنے مزرات طیبہ پر حاضر نہ ہوئی۔؂۱'' قطعاً لاجواب ہے۔ جب ام المومنین بعد دفن ابصار مانتی ہیں تو روح کو قطعا مدرک اور اس کے ادراکات کو شامل ، امور دنیویہ بھی جانتی ہیں۔ پھر انکار سماع ظاہر الامتناع، بلکہ محل قریب میں حال سماع حال ابصار سے بداہتہً اخف ہے کہ اس کے شرائط سے ازید ہیں ،شاہد ہیں، معہود ومشہور تو یہ ہے کہ باوصف حائل وحجاب ابصار زائل اور سماع حاصل، جب ام المومنین ایسے کثیف وکثیر پردوں سے دیکھنامانتی ہیں تو سننا کیونکر نہ مانیں گی! معہذا کوئی قائل بالفصل نہیں، جوا بصار مانتا ہے سماع بھی مانے گا، اور جو سماع نہیں جانتا ابصار بھی نہ جانے گا، تیسری حدیث جلیل ام المومنین منقول بہ نقل ائمہ اجلہ ثقات وعدول رجال بخاری ومسلم مروی جامع ترمذی شریف یہ ہے:
 (۱؎ مشکوٰۃ المصابیح     بحوالہ احمد    باب زیارۃ القبور    مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۵۴)
حدثنا الحسین بن حریث (ثقۃ من رجال الشیخین) ناعیسٰی بن یونس (ثقۃ مأمون رجال الستۃ کسائر السند) عن ابن جریج عبداﷲ بن ابی ملیکۃ قال توفی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بالحُبشی قال فحمل الی مکۃ فد فن فیھا فلما قدمت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا اتت قبر عبدالرحمٰن بن ابی بکر فقالت۔ ع 

وکنا کند ما نی جذیمۃ حقبۃ

من الدھر حتی قیل لن یتصدعا

فلما تفرقنا کانی ومالکا

لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا

ثم قالت واﷲ لوحفر تک مادفنت الا حیث مت ولو شھد تک مازرتک ۱؎۔
ہم سے حدیث بیان کی حسین بن حریث نے (یہ ثقہ رجال بخاری ومسلم سے ہیں) انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی عیسٰی بن یونس نے (ثقہ مامون، او ر باقی رجال سندکی طرح صحاح ستہ کے رجال سے ہیں)
وہ راوی ہیں ابن جریج سے ، وہ عبداللہ بن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے فرمایا۔ ت) یعنی حضرت سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ برادر حقیقی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے مکہ معظمہ کے قریب موضع حبشی میں انتقال فرمایا، ان کی نعش مبارک مکہ معظمہ لائے، جنت المعلّٰی میں دفن ہوئے، جب ام المومنین مکہ معظمہ آئیں تو ان کے مزار مبارک پر گئیں، دو شعر (کہ تمیم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیہ میں کہے تھے) پڑھے کہ ایک مدت دراز تک جذیمہ (بادشاہِ عرب وعراق وجزیرہ مقتول ملک جزیرہ زبا) کے دونوں مصاحبوں کی طرح (کہ چالیس سال تک صحبت بادشاہ میں یکجا رہے تھے) ساتھ رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے کہا کہ یہ ہرگز جُدا نہ ہوں گے اب کہ جدا ہوئے، گویا اس قدر طول یکجائی پر کسی شب ایک جگہ نہ رہے تھے ____ پھر اپنے برادر مکرم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مخاطب ہوکر یہ باتیں کیں خدا کی قسم! اور اگر میں آپ کے انتقال کے وقت موجود ہوتی تو آپ وہیں دفن ہوتے جہاں آپ کا انتقال ہوا تھا، اور اگر میں اس وقت اپ کے پاس ہوتی توا ب آپ کی زیارت کو نہ آتی÷
(؎ جامع التر مذی    باب ماجاء فی الزیارت للقبور للنساء     امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱ /۱۲۵)
Flag Counter