Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
233 - 243
جواب دوم: مانا کہ روح ہی میں کلام ہے مگر کہاں سے کہ سمع منفی بمعنی ادراک بتوسط آلاتِ جسمانیہ نہیں یوں بھی مطلب حاصل، اور تنافی زائل کہ منفی یہ ہے اور مثبت بمعنی انکشاف تام اصوات بروجہ جزئی، اس جواب کے قریب قریب کلام تنزل سے حضرت شیخ محقق رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے مرور فرمایا: شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
دریں جاسخن دیگر است فرضاً اگر از ثبوت سماع تنزل کنیم باعتبار آنکہ سماع بحاسہ سمع می باشد وسمع بخرابی بدن خراب شد بگویم از نفی سماع نفی علم لازم نمی آید وعلم بہ روح بود کہ باقی است پس علم بہ مبصرات ومسموعات حاصل باشد نہ بروجہ ابصار وسمع چنانچہ بعض متکلمان وسمع بصر الٰہی تعالٰی رابعلم مسموعات اومبصرات تاویل کردہ اند ۲؎ الخ
یہاں ایک اور گفتگو ہے کہ بالفرض اگر ہم ثبوت سماع سے تنزل کریں، اس لحاظ سے کہ سننا کان سے ہوتا ہے اور کان فساد بدن کی وجہ سے فاسد ہوچکا تو ہم کہیں گے نفی سماع سے نفی علم لازم نہیں آتی، اور علم روح سے ہوتا ہے جو باقی ہے تو دیکھتی سنی جانیوالی چیزوں کا علم حاصل ہوگا اگر چہ دیکھنے اور سننے کے طور پر نہ ہوگا، جیسا کہ بعض متکلمین نے خدائے تعالٰی کے سمع وبصر کی تاویل مسموعات اور مرئیات کے علم سے کی ہے الخ (ت)
 (۲؂اشعۃ اللمعات       باب حکم الاسراء         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر	۳ /۴۰۰  و  ۴۰۱ )
اقول وبا اللہ التوفیق محصل ارشاد مبارک شیخ شیوخ علماء الہند قدس سرہ یہ ہے کہ سمع حقیقۃً بمعنٰی مطلق ادراک مخصوص اصوات ہے عام ازیں کہ آلات جسمانیہ کا توسط ہو یا نہیں، ولہٰذا اللہ عزوجل کو سمیع مانتے ہیں کہ عقیدہ ایمانیہ ہے محققین کے نزدیک کوئی تاویل وتجو ز نہیں اس لیے ہم قائل سماع حقیقی ارواح مفارقہ ہیں اگر چہ موت تعلیل آلات کردے اور اگر سمع کیلئے یہ معنٰی بھی مانیے بلکہ توسط آلات ہی سے مخصوص جانئے تو ہم علٰی سبیل التنزیل کہیں گے کہ سمع نہ سہی ادراک تام بروجہ جزئی تو ہے اس قدر سے ہمارا مدعا حاصل، اگر چہ بنام سمع تغبیر نہ کریں جیسے بعض متکلمین نے سمع وبصر الٰہی جل وعلا کو یونہی تاویل کیا، اور مقدمہ رابعہ میں تقریر فقیر غفرلہ المولی القدیر یا د کیجئے تو اس کا مسلک یہ ہے کہ بحمد اللہ تعالٰی نہ ہمیں دعوٰی سمع سے تنزیل کی حاجت نہ روح مفارق، یا معاذاللہ حضرت عزت میں ارتکاب تاویل کی ضرورت سمع کے دونوں معنی مقرر ومسلم ہیں اور ایک دوسرے کانافی نہیں، معنی آلیت نہ کبھی مراد تھی کہ اب تنزل کریں نہ کریں نہ اس معنی میں اطلاق سمع محصور ہوسکے کہ ناچار تاویل وتحمل کریں، خیر یہ طرز بحث کا تنوع تھا اصل سخن کی طرف چلئے، فاقول جبکہ سمع کے جسمانی وروحانی دونوں معنی اور جسمانی کی نفی میں نہ ہمیں ضرر نہ مخالف کو نفع تو احتمال قاطع استدلال نہ کہ جب جسمانی ہی کا ارادہ راجح و واضح ہو پر ظاہر کہ ادراک اصوات کا یہی طریقہ معلومہ معہودہ ہے، تو باہمی محاورات عرفیہ می ذہن اسی طرف تباہ کرے گا، آخر نہ دیکھا جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بعد ذکر فضائل جمعہ ارشاد فرمایا:
اکثر واعلی من الصلوۃ فیہ فان صلٰوتکم معروضۃ علی۔یا رسول اﷲ وکیف تعرض صلاتنا علیک وقد ارمت۔ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء۔ ۱؎ رواہ الامام احمد والدارمی وابواداؤد والنسائی ابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان والداقطنی و الحاکم والبیہقی فی الدعوات الکبیر وابو نعیم وصححہ الاربعۃ السابقون علی الاخیرین وابن دحیۃ وغیرھم وحسنہ وعبدالغنی والمنذری۔
اس دن مجھ پر درود بہت بھیجو کہ تمھارا درود مجھ پر عرض کیا جائے گا۔ (ت)صحابہ نے گزارش کی:یا رسول اللہ! یہ کیونکر ہوگا حالانکہ بعد وصال جسم باقی نہیں رہتے۔ (ت)

فرمایا:بے شک اللہ تعالٰی نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ (ت) اسے امام احمد ، دارمی ، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، دارقطنی، حاکم، دعوات کبیر میں بہیقی اور ابو نعیم نے روایت کیا۔ اور ابن خزیمہ، ابن حبان، دارقطنی ، حاکم اور ابن دحیہ وغیر ہم نے اسے صحیح کہااور عبدالغنی اور منذری نے حسن کہا۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از اوس بن ابی اوس        دارالفکر بیروت    ۴ /۸)

(سنن ابن ماجہ        باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۱۹)

( سنن ابو داؤد        باب تفریع ابواب الجمعہ        آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۵۰)
اسی طرح دوسری حدیث میں ہے: حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
اکثروا الصلٰوۃ علی یوم الجمعۃ فانہ مشھود تشھدہ  الملئکۃ وان احدا لم یصلی علی الاعرضت علی صلوتہ حتی یفرغ منھا۔
جمعہ کے دن مجھ پر درود زیادہ بھیجا کرو کہ وہ دن حضور ملائک کا ہے رحمت کے فرشتے اس دن حاضر ہوتے ہیں اور جو مجھ تک درود بھیجتا رہے اس کی درود مجھ پر پیش کی جاتی ہے۔
ابود رداء رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
قلت وبعد الموت
میں نے عرض کی اور بعد انتقال اقدس! فرمایا:
ان  اللہ تعالٰی حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء
بے شک اللہ تعالٰی نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ تتمہ حدیث(عہ)  ہے۔
فنبی اﷲ حی یرزق ۱؂،
اللہ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اسے امام احمد ، ابوداؤدا ور ابن ماجہ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
عہ:  ھکذا لان ھذہ القطعۃ محتملۃ الادراج فاثبتھا علی وجہ یحتمل الوجھین وھذا من دقائق حسن التعبیر فلیتنبہ وﷲ الحمد ۱۲۔
میں نے اسے اس طرح ذکرکیا ا س لیے کہ اس حصہ حدیث میں یہ احتمال ہے کہ راوی نے اپنے طور پر کہا ہو اور یہ بھی کہ حضور کا کلام نقل کیا ہو تو میں نے اس طور پر اسے لکھا کہ دونوں صورتیں بن سکیں یہ حسن تعبیر کی باریکی ہے جس پرتنبہ چاہئے، اور حمد خداہی کے لیے ہے۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب ذکر وفاتہ ودفنہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۱۹)
پر ظاہر کہ پیش ہونے کے معنی نہ تھے مگر اطلاع دی جاتی ، اس سے صحابہ کرام کے ذہن ادراک واطلاع بذریعہ آلات جسمانی ہی کی طرف گئے لہٰذا و ہ سوال عرض کئے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حیات بدن ہی سے جواب دیے صاحب تفہیم المسائل کی جہالت کہ یہ حدیثیں ذکر کرکے لکھا:
دریں ہر دو حدیث دلیل ست بارآنکہ موتی راسماع نیست و برآنکہ ایں امر مستفربود نزد صحابہ زیرا کہ ایشاں بر عرض و سماع در وبعد موت استعجاب کردہ استفسار نمودند آنحضرت(عہ)  جواب دادند کہ چوں انبیاء راحیات دنیاوی حاصل وجسد ایشاں نیز باقی ست لہٰذا محل استبعاد سماع وعرض نیست۔۱؎
ان دونوں حدیثوں میں اس پر دلیل ہے کہ مردوں کو سماع حاصل نہیں اور اس پر کہ یہ امر صحابہ کے نزدیک قراریافتہ تھا اس لیے کہ ان حضرات نے بعد موت درود پیش ہونے اور سننے پر تعجب کرکے سوال کیا۔ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب انبیاء کو حیات دنیاوی حاصل ہے اور ان کا جسم بھی باقی ہے تو سننے اور پیش ہونے کو بعید سمجھنے کا موقع نہیں۔ (ت)
 ( ۱؎ تفہیم المسائل   عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور   ص۸۴ و ۸۵)
عہ : اقول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲منہ
Flag Counter