Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
232 - 243
تنبیہ دوم: اقول بحمداللہ تعالٰی واضح ہوچکا کہ ہمیں بقائے حیات بدن وسماع جسمانی سے کچھ کلام نہ وہ عام لوگ میں ہمارا دعوٰی، نہ ہمارا کوئی مسئلہ اس پر موقوف، توا گر بالفرض بدن کے لیے موت مطلق دائم رہتی ہمارا کچھ حرج نہ تھا، ورود نصوص کے سبب ہم نے تنعیم وتعذیب قبر روح وبدن دونوں کے لیے مانی، اور شبہات عقل و نقل بدن کے واسطے بھی ایک نوع حیات اس تلذم وتنعم وتالم کے لےے لازم جانی، ہاں یہ ضرور ہمارا مدعا ہے اور بحمد اللہ تعالٰی دلائل قاہرہ اس پر قائم ہوچکے کہ روح باقی مستقر بحال ونامتغیر وسمیع ومبصر، اور بدن کے ساتھ اس کا ایک تعلق ہمیشہ مستمر، تو جو کچھ بعد فراق بھی بدن کے ساتھ کیا جائے ضرور دیکھے گی، مطلع ہوگی، اگر وہ فعل تعظیم ہے پسند کرے گی یا اہانت ہے نا خوش ہوگی، اذیت پائے گی، فصول سابقہ اس بیان کی متکفل ہوچکیں تو خارج سے بھی جو ضرب یا صدمہ بدن میّت پر واقع ہو  اگر بطور استہانت وتحقیر ہے قطعا روح کا ایذا روحانی ہوگی، رہا یہ کہ اس سے اس اذیت ودرد جسمانی بھی لاحق ہوگا یا نہیں، یعنی جس طرح عالمِ حیات میں بدن پرجو صدمہ آتا ہے بدن اسے روح تک پہنچانے کا آلہ وواسطہ بنتا کہ ا س کے تفرق اتصال سے روح کو درد پہنچتا، آیا بعد فراق بھی مثل عذابِ الٰہی والعیاذباللہ تعالٰی تعذیب بشری سے بھی الم ہوتا ہے یا اس میں درد منتقی، اور صرف وہی توہین کے باعث ناخوشی باقی ظاہر کلام مشائخ کرام جانب ودوم ہے ، ولہٰذا کافی میں فرمایا:
المیّت لا یتالم بضرب بنی آدم وانما ذلک مما یتفرد بہ اﷲ تعالٰی ۱؎۔
میّت کو بنی آدم کے مارنے سے دکھ نہیں ہوتا، یہ ایسا امر ہے جو خداے تعالٰی کے ساتھ خاص ہے۔ (ت)
 (۱؎ کافی شرح وافی)
اور یہی مقتضائے اثر حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے:
اخرج ابن سعد عن خلف معد ان قال لما انھز مت الروم یوم اجنادین انتھوا الی موضع لا یعبرہ الا انسان وجعلت الروم تقاتل علیہ وقد تقدموہ وعبروہ فتقدم ھشام بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقاتل علیھم حتی قتل، ووقع علی تلک الثلمۃ فسدھا، فلما انتھی المسلمون الیھا ھابوا ان یوطؤھا الخیل فقال عمر وبن العاص رضی اﷲ عنہ ایھا الناس ان اﷲ قد استشھدہ ورفع روحہ وانما ھو جثّۃ فاوطؤہ الخیل ثم اوطأہ ھو وتبعہ الناس حیت قطعوہ۔۱؎
ابن سعد نے خلف بن معدان سے روایت کی وہ فرماتے ہیں جب روز اجنادین  رومی شکست خوردہ ہونے لگے ایک ایسی تنگ جگہ پہنچ گئے جسے بس ایک ایک آدمی پار کرسکتا تھا، اسی جگہ رومی جنگ کرنے لگے، ہشام بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ آگے بڑھے، لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوکر اسی تنگ جگہ آرہے۔ ان کے جسم سے وہ حصہ بھرگیا، جب مسلمان وہاں پہنچے تو ان کے اوپر گھوڑےچلانے سے خوف کیا، حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: اے لوگو! اللہ تعالٰی نے انھیں شہادت دی اور اس کی روح کو اٹھالیا اب یہ صرف جُثہ ہے، تو اس پر سے گھوڑے گزادو، پھر انھوں نے پِہِل کی اور لوگوں نے آپ کی اتباع کی، یہاں تک کہ وہ جسم پارہ پارہ ہوگیا، (ت)
 (۱؎ الطبقات الکبرٰی لابنِ سعد        ترجمہ ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ    دارصادر بیروت        ۴ /۱۹۴)
امام جلیل جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں :
ھذہ الاٰثار لا تدل علی ان الارواح لا تتصل بالا بدان بعد الموت اناما تدل علی ان الاجسام لاتتضر ربما ینالھا من عذاب الناس لھا ومن اکل التراب لھا فان عذاب القبر لیس من جنس عذاب الدنیا وانما ھو نوع اخر یصلی الی المیّت بمشیۃ اﷲ تعالٰی وقد رتہ ۲؎۔
ان کا آثار میں اس پر دلیل نہیں کہ موت کے بعد بدن سے روح کا تعلق نہیں ہوتا، ان کی دلالت صرف اس پر ہے کہ جسم کو تکلیف سے ضرر نہیں ہوتا جو انسانوں کو جانب سے اسے پہنچائی جاتی ہے، اسی طرح مٹی کے کھالینے سے اسے تکلیف نہیں ہوتی، اس لیے کہ عذاب قبر عذاب دینا کی جنس سے نہیں، وہ ایک دوسری قسم کی چیز ہے جو اللہ تعالٰی کی مشیت وقدرت سے میّت کو پہنچتی ہے۔ (ت)
(۲؎ شرح الصدور        باب احوال الموتٰی فی قبورہم        خلافت اکیڈمی منگورہ سوات    ص۸۳)
اور ظواہر حدیث ودیگر آثار واخبار واقوال اخیار جانب اول ہیں، حدیث ۲۶ میں روایت دارقطنی سے زیادت لفظ فی الالم گزری یعنی مردہ وزندہ کی ہڈی توڑنی درر میں برابر ہے، علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
جم غفیر ذھبوا الی ان المراد ان کسر عظم المیّت ککسر عظمہ حیافی التألم والتاذی ۳؎۔
جماعت عظیم علماء اس طرف گئی کہ مراد حدیث یہ ہے کہ مردے کی ہڈی توڑنی درد وایذا میں ایسے ہی ہے جیسے زندہ کی۔
(۳؎ مرقاۃ   شرح مشکوٰۃ بحوالہ طیبی    فصل ثالث من باب دفن المیّت    مکتبہ امدادیہ ملتان        ۴ /۷۹)
امام ابو عمر ابن عبدالبر شیخ محقق کا اس باب میں ارشاد قول ۴۰ و ۴۱ میں گزرا اور تینوں سید علامہ ابراہیم حلبی واحمد مصری ومحمد شامی محشیان دُر کے اقوال اسی کے بعد مذکور ہوئے، حدیث ۲۴ میں بروایت صحیح مسلم شریف انہی عمر وبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزرا:
اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا ۴؎ ۔
جب مجھے دفن کرو تو مٹی مجھ پرآہستہ آہستہ نرم نرم ڈالنا۔
(۴؎ صحیح مسلم     باب کون الاسلام یہدم ماقبلہ    نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۷۶)
یہی وصیت حدیث ۳۲ میں علاء بن لجلاج تابعی سے گزری اور وہیں اس پر شیخ محقق کا قول کہ:
ایں قول اشارت است باآنکہ میّت احساس می کند ودردناک می شود بآنچہ دردناک م شود بآں زندہ ۱؎ ۔
اس قول میں اس جانب اشارہ ہے کہ میّت کو احساس ہوتا ہے اور اسے بھی اس چیز سے درد پہنچتا ہے جس سے زندہ کو درد پہنچتا ہے (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات    باب دفن المیّت     مکتبہ نو ریہ رضویہ سکھر      ۱ /۶۹۷)
حدیث ۱۶ میں امام سفیان کا ارشاد گزرا کہ:
انہ لینا شد باﷲ غاسلہ الا خففت غسلی ۲؎۔
مردہ اپنے نہلانے والے کو خدا کی قسم دیتا ہے کہ مجھ پر آسانی کرنا۔
 (۲؎ شرح الصدور     عن سفیان باب معرفۃ المیّت من یغسلہ        خلافت اکیڈمی منگورہ سوات        ص۴۰)
ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ایک عورت کی میّت کو دیکھا کہ اس کے سر میں زور زور سے کنگھی کی جاتی ہے۔ فرمایا:
علام تنصون میّتکم ۳؎۔ الامام محمد فی الاثار اخبرنا ابو حنیفۃ ح وعبدالرزاق فی مصنفہ واللفظ لہ قال اخبرنا سفیٰن عن الثو ری کلاھما عن حماد بن ابی سلیمان عن ابراہیم النخعی عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا انھا رأت امرأۃ یکدون رأسھا بمشط فقالت علام تنصو میّتکم ۴؎ ورواہ کمحمد ابو عبید القاسم بن سلام وابراھیم الحربی فی کتابیھما فی غریب الحدیث عن ابراہیم عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا انھا سئلت عن المیّت یسرح رأسہ فقالت علام تنصون میّتکم ۱؎۔
کس جُرم میں اپنے مردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو۔ (اسے امام محمد نے کتاب الآثار میں روایت کیا، فرمایا ہمیں ابوحنیفہ نے خبر دی__ اور عبدالرزاق نے مصنف میں روایت کیا__ الفاظ اسی کے ہیں: کہا ہمیں خبردی سفیان نے وہ ثوری سے راوی ہیں۔ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری دونوں حماد بن ابی سلیمان سے وہ ابراہیم نخعی سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی ہیں انھوں نے دیکھا کہ ایک عورت کے بالوں میں کنگھا کررہے ہیں، فرمایا: ''کیوں اپنی میّت کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو؟'' اور اسے امام محمد کی طرح ابوعبیدقاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں ابراہیم نخعی سے، انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راویت کیا، ان سے میّت کے سر میں کنگھا کرنے سے متعلق سوال ہوا، فرمایا: کیوں اپنی میّت کاموئے پیشانی کھینچتے ہو۔ (ت)
 (۳؎ کتاب الآثار امام محمد    باب الجنائز وغسل المیّت            ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ص۴۶)

(۴؎ مصنف عبدالرزاق    با ب شعر المیّت واظفارہ     حدیث ۶۲۳۱    المکتبۃ الاسلامی بیروت            ۳ /۴۳۷)

(۱؂غریب الحدیث قاسم بن سلام وابراہیم الحربی )
بالجملہ رجحان اسی جانب ہے اور بہر حال اگر الم مانیے تو مسئلہ یمین فی الضرب پر کچھ نقض نہیں کہ الم پہنچے گا حیات معادہ سے، اور حلف تھا حیات موجودہ عندالحلف پر،
کما قدمنا تحقیقہ عن الفتح
(جیسا فتح القدیر سے اس کی تحقیق ہم پئش کر چکے۔ ت) اور نہ مانیے تو سماع میں کچھ نقض نہیں کہ ہمارا کلام روح سے ہے آلیتِ بدن ہونا نہ ہونا یکساں۔ ولہٰذاامام  اجل سیوطی نے بآں کہ اثبات سماع موتٰی میں ہو تحقیقاتِ باہرہ وقاہرہ رکھتے ہیں اس تقریر پر تقریر فرمائی :
ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام واﷲ سبحانہ ولی الانعام وافضل الصلٰوۃ واکمل السلام علی سیدنا محمد اکرم الکرام واٰلہ وصحبہ الی یوم القیام۔
اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے اور خداے پاک ہی انعام کا مالک ہے، اور بہتر درود، کامل تر سلام ہمارے آقا حضرت محمد پر جو کریموں میں سب سے زیادہ کریم ہیں، اورا ن کی آل واصحاب پر، روز قیامت تک۔ (ت)
Flag Counter