Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
231 - 243
فائدہ ۶: نہ وہ ہرگز کسی تخصیص بے دلیل کے مرتکب ہوئے نہ ان کی اس دلیل پر زنہار کوئی نقض وارد، نہ تفریع وتاصیل پر کچھ الزام عائد، غرض یہ سب اور دیگر مقامات میں ان کے کلمات اور باقی ائمہ کے نصوص وتصریحات اوراحادیث وآثار کے عالی ارشادات بحمد اللہ تعالٰی سب متفق ومنظم ہیں اور ایک درسرے سے متناسب وملتئم۔ اور اس تقریر معقول۔ مستنیر ومصقول، واجب القبول نہ مانیے تو یہ تمام منقلب ہو کران  کے مقابل اتنے ہی ضرر حاصل اور نتیجہ کچھ نہیں کہ انجام یہ ٹھہرے گا کہ کلام مشائخ طرح طرح سے منقوض باطل اور انواع انواع زلزلوں سے متزلزل اور آپ ہی اپنی تلوار سے گھائل، پھر کیا کسی استناد کے قابل
وھذا ممالا یرضاہ عاقل
(اور اسے کوئی عاقل پسند نہ کرے گا) اب بحمد اللہ مہر نیمر وزوماہ نیم ماہ سے زیادہ رخشاں ودرخشاں ہو اکہ بعض کبرائے متاخرین شراح محدثین نے اس باب میں جو تقریریں فرمائیں اصل مرام مشائخ کرام پر وارد نہیں۔ وہ گویابر  سبیل ارخائے عنان رائحہ مخالفت مان کر جواب مخالف کی تعلیمیں تھیں اور واقعی ہمارے ائمہ کرام ومشائخ اعلام کی انظار غامضہ ایسی ہی عالیہ واقع ہوئیں کہ بعض اوقات انظار ناظرین متاخرین ماہرین اس کے مرقات مدارج ومعالی معارج تک وصول میں متساہل رہیں جیسا کہ  خادم ابواب وفصول فقہ واصول پر اشکار ومبین، یہ بحمد اللہ تعالٰی حق تحقیق وتحقیق حق ہے جس سے حق حقیق بقول وتصدیق یک سرمُو متجاوز نہیں
ھکٰذا ینبغی التحقیق واللّٰہ سبحانہ ولی التوفیق
(اسی طرح تحقیق چاہئے اور خدائے پاک ہی توفیق کا مالک ہے۔ ت) الحمد للہ! اگر اس تمام کتاب میں ان مقدمات سبعہ کی تمہید وتزیین اور اس جواب عین الصواب کی تحریر وتبیین کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو بفضل عظیم حضرت کریم عم نوالہ، اسی قدر شافی وکافی ومغنی وو افی تھا،
ذلک فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرون رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی علیّ وعلٰی والدی وان اعمل صٰلحا ترضا واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین والحمدﷲ رب العٰلمین۔
وہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے، اے میرے رب! مجھے یہ عطا کر کہ میں شکر ادا کروں اس احسان کا جو تم نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا، اور یہ کہ میں نیک کام کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو میرے فائدے کے لیے نیک بنادے، بیشک میں تیری طرف رجوع لایا اور یقینا میں اسلام والوں سے ہوں اور سب خوبیاں اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا پرودگار ہے ۔(ت)
الحمد للہ اس جواب جلیل وجمیل کے بعد اصلاً حاجت نہیں کہ اور جوابوں کی طرف توجہ کروں، دلائل نے بفضلہٖ تعالٰی یقین قطعی دے دیا ہے کہ بلاشبہ مراد مشائخ کرام یہی ہے تو اب کیا ضرورت ہے کہ تنزلات کیجئے، ارخائے عنان سے مہلتیں دیجئے، مگر مخالف کو شکایت وحسرت نہ رہے، لہذا چالشکری کو کچھ اور بھی امتداد سہی، اسی جواب کے متعلق بعض تنبیہات مفیدہ لکھرکر دیگر اجوبہ کی طرف عطف عنان کروں وباللہ التوفیق۔
تنبیہ اول:ا قول بعض مسائل میں اہل بدعت اور بعض یا کل اہلسنت متفق ہوتے ہیں اور ان کےماخذ حسب اختلاف مذہب مختلف مثلاً حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک لے کر ندا کرنی ہمارے نزدیک بھی ناجائز ہے اور وہابیہ تو قاطبۃً شرک کہتے ہیں ان کا ماخذ ملوم وہی شرک موہوم اور ہمارے منع کی وجہ آیہ کریمہ
لاتجعلوا دعاء والرسول  بینکم کدعاء بعضکم بعضا ۱؎
رسول کا پکارنا اپنے میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔
(۱؎القرآن       ۴۹ /۲)
تونام لے کر ندا ناجائز ہے بلکہ یا رسول اللہ، یا حبیب اللہ، یا خلیفۃ اللہ وغیرہا اوصاف کریمہ کے ساتھ نداچاہئے ، یوں ہی مسئلہ تلقین بعد دفن کو جمہور معتزلہ تو منع کیاہی چاہیں کہ ان سنگ ساروں کے نزدیک اموات کی روح وبدن سب اینٹ پتھر ہیں، ولہٰذا وہ سفہاء عذاب قبر وسوال نکیرین کے منکر ہیں اور حنفیہ میں جمہور مانعین  وہی ہیں قول ۱۳۱ میں امام زاہد صفار کا ارشاد سن چکے کہ منع تلقین مذہب معتزلہ پر ہے۔ قول ۱۳۴ و ۱۳۵ میں جوہرہ نیرہ و درمختار سے گزرا کہ تلقین اہل سنت کے نزدیک مشروع ہے، قول ۱۵۴:
ہر کہ تلقین نمی کند ونمی گویدبآں اور بر مذہب اعتزال است کہ گویند میّت جماد محض است ۲؎۔
جو تلقین کا عامل وہ قائل نہیں وہ مذہب معتزلہ پرہے جو کہتے ہیں کہ میّت جماد محض ہے۔ (ت)
 (۲؎ کشف الغطاء    فصل احکام دفن    مطبع احمدی دہلی    ص۵۷)
ولہٰذا امام ابن ہمام نے اپنا عندیہ بیان فرمایا کہ میرے گمان میں منع تلقین انکار سماع پر مبنی ہے یہ ان جمہور مانعین کے لحاظ سے ضرور صحیح ہے مگر بعض علمائے اہل سنت کہ منع میں شریک ہوئے ان کا ماخذ یہ ہر گز نہیں بلکہ بعض کے نزدیک بدعت ہونا،
کما مرعن سلطان العلماء
(جیسا کہ سلطان العلماء سے گزرا۔ ت) یا ان کے خیال میں بے فائدہ ٹھہرنا کہ ایمان پر گیا تو کیا حاجت ورنہ کیا منفعت، ولہٰذا اما م نسفی نے مسئلہ یمین میں وہ تصریحات فرمائیں مگر انکار تلقین میں ہر گز اس کا نام نہ لیا بلکہ اسے عدم فائدہ سے استناد کیا، جیسا کہ قول ۱۵۴ او نکتہ جلیلہ میں گزرا، ولہٰذا ملک العلماء بحرا لعلوم عبدالعلی محمد نے جب انکار تلقین اختیار کیا اس پر اسی انعدام نفع سے استظہاراور ساتھ ہی بربنائے انکار سماع انکار ماننے پر تصریح انکار کیا ارکانِ اربعہ میں فرما تے ہیں:
لان المیّت لافائدۃ من تلقینہ اصلا لانہ ان مات مسلما فھو ثابت علی الشھادۃ بالتوحید والرسالۃ فالتلقین لغو وان مات کافرا فلا یفید التلقین لانہ لاینفعہ الایمان بعد الموت وماقیل ان التلقین لغو لان المیّت لا یسمع فھذا باطل ۱؎۔
تلقین میّت میں اصلا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ اگر  وہ اسلام پر مرا ہے تو خود توحید ورسالت پر قائم ہے پھر تلقین بیکار ہے۔ اور اگر کفر پر مراہے تو تلقین سود مند نہ ہوگی اس لیے کہ موت کے بعد ایمان لانا اسے نفع بخش نہ ہوگا، اور یہ جو کہا گیا کہ تلقین اس لیے لغو ہے کہ میّت سنتانہیں تو یہ باطل ہے۔ (ت)
 (۱؎ رسائل الارکان     فصل فی حکم الجنازۃ    مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۵۰)
فائدہ: امام علامہ شیخ الاسلام نسفی نے جس طرح کافی میں منع تلقین پر صرف نفی نفع بروجہ مذکور سے استدلال کیا جس سے صاف مترشح کہ وہ اصل سماع کے منکر نہیں، ورنہ سرے سے یہی فرمانا تھا کہ تلقین کسے کی جائے، اینٹوں پتھروں کو، یوں ہی آیات کریمہ کی تفسیر میں نفی انتفاع ونفی قبول ذکر فرمائی، زیر کریمہ ملائکہ فرمایا
شبہ الکفار بالموتی حیث لاینفعون بمسموعھم ۲؎
(کفار کو مردوں سے تشبیہ دی اس لحاظ سے کہ وہ سنتے ہیں اس سے نفع یاب نہیں ہوتے ۔ت) زیر کریمہ نمل
لما کانوا لایعون مایسمعون لابھم ینتفعون شبھوا بالموتی ۳؎
(چونکہ کفار سنتے ہیں اس کو سمجھتے نہیں اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اس لیے انھیں مردوں  سے تشبیہ دی گئی ۔ ت)
(۲؎ تفسیر النسفی (مدارک التنزیل)    وماانت بمسمع من فی القبور        دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۳۳۹)

(۳؎ تفسیر النسفی سورہ نمل زیر آیت انک لا تسمع الموتی    دارالکتاب العربی بیروت     ۳/۲۲۲)
زیر کریمہ روم
وھٰو لاء فی حکم الموتی فلا تطمع ان یقبلوا منک ۴؎
 (اور یہ مردوں کے حکم میں ہیں تو اس کی طمع نہ رکھوں کو وہ تمھاری بات قبول کریں گے۔ ت) مگر صاحب تفہیم المسائل تواختراع وافتراء کے ماہر کا مل صاف لکھ دیا:
صم بکم می نویسد المعنی انھم فی حال کفر ھم وتکذیبھم کمن لا یسمع ولا یتکلم فلھذا شبہ الکفار بالموتٰی لان المیّت لایسمع ولایتکلم کذا قال ابن الخازن العراقی الشافعی فی تفسیرہ لباب التاویل فی معنی التنزیل انتہی ۵؎ اھ۔
تفسیر مدارک میں آیت کریمہ ''جنھوں نے ہماری آیتوں کو جٹھلایا بہرے گونگے ہیں'' کے تحت لکھتے ہیں: معنی یہ ہے کہ وہ اپنے کفر وتکذیب کی حالت میں ان کی طرح ہیں جو سنتے بولتے نہیں، اسی لیے کفار کو مردوں سے تشبیہ دی گئی اس لیے کہ مردہ سنتا بولتا نہیں، ایسے ہی ابن خازن عراقی شافعی نے اپنی تفسیر لباب التاویل فی معنٰی التنزیل میں فرمایا۔ انتہی یعنی عبارت مدارک ختم ۔ اھ (ت)
 (۴؎ تفسیر النسفی روم زیر آیت فانک لاتسمع الموتی    دارالکتاب العربی بیروت     ۳ /۲۷۶)

(۵؎ تفہیم المسائل     عدم سماع موتی از کتب حنفیہ        مطبع محمدی لاہور    ص۸۸)
مدارک شریف میں اس عبارت کا نشان نہیں، لطف یہ کہ اس میں تفسیر لباب تاویل کا حوالہ نقل کرکے انتہی کردی یعنی یہاں تک کہ عبارت مدارک تھی، حالانکہ صاحب مدارک کی وفات ۷۰۱ ھ یا ۷۱۰ ھ میں علی اختلاف القولین ہے اور لباب التاویل کی تالیف ۷۲۵ھ میں ختم ہوئی۔ نہ امام اجل نسفی ایسے حوالے کے عادی، اور وہ بھی اپنے کسی ایسے معاصرہ بلکہ مدارک العصر سے ، مگر نابینائی جو چاہے کرائے۔
Flag Counter