Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
230 - 243
ثانیا: مشائخ کرام نے جن وقائع کی توجیہ فرمائی وہ سماع جسمانی پر دال تھے، ان کی توجیہ کی ضرور حاجت تھی اس سے سماع روح کا انکار سمجھ لینا تمھاری خوش فہمی ہے۔

ثالثاً : توجیہ عذاب قبر کی بھی ایک ہی کہی، ذی ہوش کو نافع ومضر میں تمیز تک کی لیاقت نہیں مگر تصحیح المسائل کے مقابل آنا ضروری ؎
ماذاخاضک یا مغرور فی الخطر

حتی ھلکت فلیت النمل لم نظر
 ( اے فریب خوردہ! کس چیزنے تجھے خطر ے میں ڈالا کہ تو ہلاکت کو پہنچا، کاش! چیونٹی پرواز ہی نہ کرتی۔ ت)

عقلمند یہ بھی دیکھا کہ وہ توجیہ کیا کی ہے اور اس سے روح میں کلام نکلتا ہے یاصاف بدن میں گفتگو ہونا منجلی ہے۔ دلیل ہفتم کو گزرے ابھی دیر نہ ہوئی اسے ملاحظہ کیجئے اور صاحب تفہیم کی فہم سقیم کی داد دیجئے۔

رابعاً: کاش اس بطور خویش جماد شوندہ نابینا وناشنوندہ یعنی اس تحریر سے پہلے مرجانے والے تفہیم نگارندہ کو زمانہ مہلت دیتا کہ ہمارے کلام میں دلیل یازدہم اور اس کے پچیس شواہد کو آنکھوں دیکھا کانوں سنتا اس وقت کھلتا کہ
  تو جیہ القول بما لایرضی بہ قائلہ
(کلامِ قائل کی ایسی توجیہ جس سے قائل راضی نہیں۔ ت) کا ارتکاب کس نے کیا۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، اب رہا یہ کہ جب ابتدائے دفن میں سماع مسلم تو اس وقت حنث کیوں نہیں، اقول ہاں یوں نہیں کہ یہ یمین مقتضی حیات مخاطب ہے اور نفس روح سے متعلق نہ تھی، اگر اس سے تعلق ہوتا تو اس کی حیات ادراکات تو مستمرہ ہیں ضرور حنث ہوتا۔
فلان العرض وان کان لایبقی زمانین لکنہ مادام مستمرا بتجدد الامثال یعد شیئاً  واحداً باطباق اللغۃ والعرف والشرع۔
کیونکہ عرض اگر چہ دو زمانوں تک باقی نہ رہے لیکن وہ تجدد امثال کی وجہ سے مستمر ہوتو باتفاق لغت وعرف وشرح شی واحد ہی شمار ہوتا ہے۔ (ت)
بخلاف بدن کہ اس کی حیات زائل حیات جدیدہ اس وقت ملی ہے اور وہ حیات اولٰی کی غیر ہے تو جس حیات

سے یمین متعلق تھی منقطع ہوچکی اور حنث کی گنجائش نہ رہی، یہی امام ابن الہمام اسی فتح القدیرمیں فرماتے ہیں:
الحیاۃ المعادۃ غیر الحیاۃ المحلوف علی اذنہ فیھا وقدومہ وھی الحیاۃ القائمۃ حالۃ الحلف لان تلک عرض تلاشی لایمکن اعادتھا بعینھا وان اعیدت الروح فان الحیاۃ غیرالروح لانہ امر لازم للروح فیمالہ روح ۱؎۔
دوبارہ دی جانے والی زندگی اس زندگی کے علاوہ ہے جس کے اندر اجازت اور آمد کی قسم کھائی تھی اور وہ زندگی وہ ہے جو قسم کھانے کے وقت اس شخص کے ساتھ قائم تھی کیونکہ وہ توا یک عرض ہے جو ختم ہوگیا، بعینہٖ اس کا اعادہ ممکن نہیں، اگر چہ روح کا اعادہ ہو، اس لیے کہ حیات روح کے علاوہ ایک شی ہے، وہ ایک ایسا امر ہے جو روح کے لیے لازم ہے اس شی میں جس کے لیے روح ہوتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    باب الیمین فی الکلام    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۴۲۴)
تنبیہ جلیل: الحمد للہ جس طرح اس تقریر سے یہ واضح ہو اکہ ہمارے مشائخ کرام باتباع احادیث صحیحہ ان عامیانہ اوہام حجاب وحائل خشت وگِل قبر کو مہمل وناقابل التفات جانتے ہیں کہ میّت مدفون کے لیے وقت اعادہ روح ایسی خفی آواز ہائے بیرونی کا سماع ثابت مانتے ہیں، یو نہی یہ بھی لائح ہو ا کہ یہاں سماع جسمانی سے مانع یہی موت تھی، ولہذا جس وقت جسم کوایک  نوع حیاتِ ملی سماع اصوات کی راہ کھلی، توظاہر کہ روح کہ بالاجماع ہمیشہ زندہ ومستمر بحال ونامتغیر ہے اس کا سماع عادۃً دائم ہے کہ مصحح موجود اور مانع مفقود، اب کھلا کہ مشائخ کرا م کی یہ بحث وکلام، فقط مذ ہب منکرین سے بیگانہ ہی نہ تھی بلکہ بحمد اللہ تعالٰی صراحۃ ان کا رد ہیں اس تحقیق انیق کے بعد صاحب تفہیم المسائل کا مزاج پوچھئے کہ آپ کی اس خوش فہمی وقوت وہمی نے کہ:
درفتح القدیر نوشتہ کہ بنائے منع تلقین نزد اکثر مشائخ نابرعدم سماع موتٰی است ودر آخر گفتہ کہ طائفہ مشائخ درحدیث تلقین قائل بحقیقت بدیں وجہ شدہ اند کہ وقت تلقین مقام ارجاع روح است برائے سوال وجواب وایں وقت موتٰی رابجہت عود روح سماع حاصل است پس ایں طائفہ ہم منکر سماع موتٰی است و در وقتِ سوال وجواب ہمہ قائل سماع از دریں صورت از عبارت فتح القدیرمعلوم  مے شود کہ مذہب ہمہ فقہا انکار سماع موتٰی است۱؎۔
فتح القدیر میں مرقوم ہے کہ ہمارے اکثر مشائخ کے نزدیک منع تلقین کی بنیاد عدم سماع موتی پر ہے، اور آخر میں کہا کہ ایک جماعت مشائخ حدیث تلقین میں حقیقت کی قائل اس وجہ سے ہوئی کہ وقت تلقین سوال وجواب کے لیے روح لوٹائے جانے کاموقع ہے اور اس وقت روح کے عود کرنے کے باعث مردوں کو سماع حاصل ہے تویہ جماعت بھی سماع موتٰی کی منکر ہے اور سوال وجواب کے وقت سبھی سماع کے قائل ہیں، اس طرح یہ فتح القدیر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع موتٰی سے انکار تمام فقہاء کا مذہب ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل    عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہور    ص۸۰ و ۸۱)
کیسا حکم تیر بازگشت پیدا کیا یہ تو اسی عقلمند کے کلام سے واضح ہوا کہ وہ میّت جس کے لیے فقہاء سماع نہیں مانتے بدن ہی ہے۔ ذرا ہوش میں آکر بتانا کہ عود روح کس میں ہوتا ہے؟ پھر یہ پوچھے کہ اے ذی ہوش! وہ روح جس کے ادنٰی عود سے یہ مشت خاک اتنے حجابوں حائلوں میں بالاتفاق سمیع ہوجاتا ہے، وہ خود کہ حجاب وحائل سے منزہ اور ہمیشہ زندہ ہے، کیوں نہ بالاتفاق دائماً شنوا وبینا ہوگی! اب یاد کیجئے کہ امام ابن الحاج کا ارشاد مذکور قول ۶۵ کہ اولیائے احیاء نور خدا سے دیکھتے ہیں، اور نور خدا کو کچھ جب نہیں۔ پھر اموات کا کیاکہنا، اور شاہ عبدالعزیز صاحب کا مقال ۷ کہ روح کے آگے مکان دور ونزدیک یکساں ہے جس طرح نظر کنویں میں آسمان برین کے ستارے دیکھتی ہے وغیر ذلک اقوال کثیرہ مذکورہ۔ نسخہ میں الف تحریر نہیں  دیکھ ظالم! حجت الٰہی یوں قائم ہوتی ہے، ہاں یہ باقی رہا کہ ادراک روح کے لیے جسم شرط مانئے، یہ اوپر واضح ہوچکا کہ اس کے کون قائل ہیں، معتزلہ وغیر ہم لیام، آگے تم جانوں اور تمھار اکام، یہی بحمد اللہ تقریر وتفسیر وتنویر اس کلام حضرات مشائخ کی، جسے مخالف اپنا کمال موافق جان کر اہل حق سے الجھتے اور موافق بگمان تخالف مشکل و معضل سمجھتے، اہل بدعت اپنی سپرپناہ ٹھہرا کر آسمان ناز پر اپنی ٹوپیاں اُچھالتے، اور اصحاب سنت بظاہرمخالف عقیدہ صادقہ پاکر سلاح معارضہ ومنافقہ سنبھالتے، اب بعونِ عزیز مقتدر عزجلالہ روشن ہوگیاکہ امربالکل  بالعکس ہے۔، وہ کلام ہدایت نظام سراپا اہل سنت کے مطابق اور مذہب مخالف کا رد ونکس ہے۔بحمد اللہ تعالٰی اب مخالف دیکھے کہ اس کے شو شے قعرِ عدم کے گوشے میں گئے، موافق نہ صرف موافق، ہرذی عقل منصف دیکھے کہ بفضلہ تعالٰی اس تقریر منیر سے کیا کیا فائدے حاصل ہوئے۔
فائدہ ۱: کلام مشائخ بحمد اللہ تعالٰی ہر گز عقیدہ اہلسنت کے مخالف نہیں۔

فائدہ ۲: نہ عیاذ اً باﷲ کسی حدیث مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف۔

فائدہ ۳: نہ تصریحات ائمہ میں اصلاً تعارض۔

فائدہ ۴: نہ خود ان علماء کے کلام میں کہیں بوئے تناقص۔

فائدہ ۵: نہ وہ اس مسئلہ ویمین میں اپنی ہی اصل مقرر یعنی بنا علی العرف سے جدا چلے بلکہ اسی جڑے یہ پودے کھلے۔
Flag Counter