مسئلہ نمبر ۳۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایک طالب علم موضع فرید پور میں مولوی یٰسین کا شاگرد وہاں کی مسجد میں مقیم ہے اور وُہ یہ کہتا ہے کہ بے نمازی کے جنازے کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اور قبر پر اذان دینا جائز نہیں ہے، اور فاتحہ وغیرہ اور گیارھویں شریف کی نیاز کرنا جائز نہیں ہے، اور یہاں پر سب گاؤں کے مسلمانوں کو گمراہ کئے دیتاہے، لہذا یہ باتیں تحریر کردیں جائز ہیں یا نہیں، بموجب شرع شریف کے جواب سے مشرف فرمائیے گا۔ بینواتوجروا۔
الجواب
۱س شخص کے یہ مسئلے محض غلط اور بے سند ہیں۔جنازے کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے
الامااستثناہ العلماء ولیس ھذامنھم
(مگر وہ جس کا علماء نے استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں۔ت)قبر پر اذان دینا جائز ہے.
کما ھو مبین فی ایذان الاجر فی اذان القبر
(جیسا کہ ہمارے رسالہ ''ایذان الاجر فی اذا ن القبر'' میں اسکا واضح بیان ہے۔ت) اورفاتحہ گیارھویں شریف کی نیاز وایصالِ ثواب اہلسنّت کے نزدیک جائز و بہتر ہے
(جیسا کہ ہدایہ، فتح القدیر، درمختار اور ردالامحتار وغیرہ میں ہے۔ت) ان چیزوں کو جو شخص ناجائز کہے اس سے ایک ہی بات دریافت کرنا کافی ہے وُہ یہ کہ تو جو ناجائز کہتا ہے آیا اﷲ ورسول نے انہیں ناجائز کہا ہے یا تو اپنی طرف سے کہتا ہے؟ اگر اﷲ ورسول نے نا جائز کہا تو دکھا کون سی آیت یا حدیث میں ہے کہ اذان جو مسلمان کی قبر پر دفع شیطانِ ودفعِ وحشت وحصول اطمینان و نزول برکت کے لئے کہی جائے وہ ناجائز ہے اور فاتحہ اور گیارھویں شریف کو بغرض ایصال ثواب کی جائے ناجائز ہے، اور اگر اﷲ و رسول نے ناجائز نہ کہا تو خود اپنی طرف سے کہتاہے تو تیرا قول تیرے منہ پر مردود ہے۔ بغیر خدا و رسول کے منع فرمائے کوئی چیز ناجائز نہیں ہوسکتی۔ ہمیں قرآن وحدیث نے یہ قاعدہ کلیہ ارشاد فرمایا ہے کہ اﷲ اور رسول جس بات کا حکم دیں وُہ واجب ہے جس سے منع فرمائیں وہ ناجائز ہے اور جس کا کچھ ذکر نہ فرمائیں وُہ معافی ہے وُہ اگر واجب نہیں تو ناجائز بھی نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرگیابکر نے کہا زید نماز نہیں پڑھتا تھا اُس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے مگر اس شرط پر کہ اس کو کھنچوانا چاہئے ، پھر زید کو بیلوں سے پاؤں باندھ کر کھنچوایا ۔ یہ بات قرآن وحدیث سے درست ہے یا نہیں ؟ اور اگر نہیں توبکر پر کیا حکم ہے؟ فرمائیے کتاب اور حدیث رسول سے۔
الجواب
بکر گنہگار ہوا اور اُس نے مردے پر ظلم کیا۔ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے تو میت کے کنگھی کرنے سے منع فرمایا کہ اُسے تکلیف ہوگی،فرمایا:
علام تنصون میتکم۔ رواہ الامام محمد فی کتاب الاثارقال اخبرنا ابوحنیفۃ و رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ قال اخبرناسفیٰن عن الثوری کلاھما عن حماد بن ابی سلیمٰن عن ابراہیم النخعی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انہارأت امرأۃ یکدّون راسہا بمشط'ف۱'فقالت علامہ تنصون میتکم۱ ؎ ورواہ ابوعبیدالقاسم بن سلام، وابراہیم الحربی وکتابیھا فی غیریب الحدیث عن ابراہیم عن عائشۃ انھا سئلت عن المیّت بسرح راسہ فقالت علامہ تنصون میتکم ۲؎۔
کاہے پر اپنے مُردے کے موئے پیشانی کھینچتے ہو۔اسے امام محمد نے کتاب الاثار میں روایت کیا --فرمایا ہمیں خبر دی امام ابو حنیفہ نے ، اوراسے عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا--کہا ہمیں خبر دیسفیان نے ، وُہ راوی ہیں سفیان ثوری سے--دونوں حضرات راوی ہیں حماد بن ابی سلیمان سے--وہ ابراہیم نخعی سے--وہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت کے سر میں کنگھا کر رہے ہیں تو فرمایا: کیوں اپنے مُردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو--اور اسے ابوعبید قاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے اپنی اپنی کتاب غریب الحدیث میں حضرت ابراہیم نخعی سے، انہوں نے حضرت صدیقہ سے روایت کی کہ ان سے میّت کے سر پر کنگھا کرنے سے متعلق پوچھا تو فرمایا: کیوں اپنے مُردے کی موئے پیشانی کھینچتے ہو ۔ (ت)
(۱؎ المصنف لعبدالرزاق باب شعرالمیت واظفارہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۳۷
کتاب الاثار باب الجنائز وغسل المیت مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۴۶)
ف۱: کتاب الاثار اور مصنف عبدالرزاق دونوں کتابوں میں ''بمشط ''کا لفظ نہیں ہے بلکہ ''کتاب الاثار'' میں
''رأت میتایسرح رأسہ''
اور''مصنف'' میں
''رأت امرأۃ یکدّون راسھا''
ہے۔ (نذیر احمد)
(۲؎ غریب الحدیث )
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان کسر عظم المسلم میتا ککسرہ حیا۳؎ رواہ الائمۃ مالک واحمد وسعید بن منصور وعبدالرزاق وابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
بیشک مردہ مسلمان کی ہڈی توڑنی ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنی ۔اسے امام مالک،امام احمد ، سعید بن منصور ، عبدالرزاق ، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بسندِ احسن ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔
سزا دینا توحاکمِ شرح کاکام ہے ہرکس وناکس کو اُس کا اختیار نہیں اور موت کے بعد تو سزا دینے کے کوئی معنی ہی نہیں، سزا درکنار موت کے بعد بُرا بھلا کہنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الجنائز مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۲)
فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
لاتسبواالاموات فانھم قدافضواالی ماقدموا۴ ؎ ۔ رواہ احمدوالبخاری والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
مُردوں کو بُرا مت کہو کہ وُہ اپنے کئے کو پہنچ چکے۔اسے امام احمد اور نسائی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔
(۴؎ سنن النسائی کتاب الجنائز المکتبہ السلـفیہ لاہور ۱ /۲۲۲)
اور فرماتے ہیں صلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم :
لاتذکر واھلکاکم الابخیر ان یکونوا من اھل الجنۃ تاثمون وان یکونوا من اھل النار فحسبھم ماھم فیہ ۱ ؎۔رواہ النسائی عنہا رضی اﷲ تعالٰی عنھا بسند جیّد۔
اپنے مُردوں کو یاد نہ کرو مگر بھلائی کے ساتھ کہ اگر وہ جنتی ہیں تو براکہنے سے تم گنہ گار ہوگے اوراگر دوزخی ہیں توانہیں وہ عذاب ہی بہت جس میں وہ ہیں۔اسےنسائی نےحضرت صدیقہ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہا سےبسندِجیّد روایت کیا۔