دلیل ۱۲: اگر یہ کلام مشائخ کرام روح پر محمول ہوتو وہ اعتراضات قاہرہ وارد ہوں جن سے رہائی ناممکن الحصول ہو، مثلاً:
اولاً حدیث ۴۰ سے ۵۱ تک انھیں بارہ(۱۲) احادیث عظیمہ صحیحہ خفق نعال وقلیب بدر سے ایرا دجلیل اور ادعائے تخصیص وقت سوال قبر یا خصوصیت کفا رمقتولین بدر باطل وبے دلیل کما سمعت (جیسا کہ سن چکے۔ ت)
مرقات شرح مشکوۃ میں فرمایا :
ردہ ان الاختصاص لایصح الابدلیل وھو مفقود ھھنا بل السوال والجواب ینا فیانہ ۲؎۔
اس کی تردید اس سے ہوتی ہے کہ خصوصیت بغیر کسی دلیل کے صحیح نہیں اور دلیل یہاں مفقود ہے بلکہ سوال و جواب تو اس کے منافی ہیں۔ (ت)
(۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ با ب حکم الاسراء مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ /۱۱)
ثانیا یہاں خصوصیت سہی اور جو ا حادیث کثیرہ عموماً ومطلقاً اموات کے علم وسمع وبصر وادراک ومعرفت میں وارد ہیں ان سے کیا جواب ہوگا، مرقاۃ میں ہے:
مع ان ماورد من السلام علی الموتی یرد علی التخصیص باول احوال الدفن ۳؎۔
باوجود یکہ مُردوں پر سلام کے بارے میں جوا حادیث وارد ہیں وہ اول وقت دفن سے تخصیص کی تردید کرتی ہیں۔ (ت)
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب حکم الاسراء مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ /۱۱)
ثالثاً بہت اچھا، جب ابتدائے دفن میں تم خود سماع کے قائل،یہاں تک کہ کلام
لایعقل متکلم لا یعقل اعنی تفہیم المسائل
بھی معترف وقائل،
حیث قال دروقت سوال وجواب ہمہ قائل سماع اند ۱؎
(اس کے الفاظ یہ ہیں: سوال وجواب کے وقت سبھی سماعت کے قائل ہیں، ت) اس وقت کلام کرنے سے کیوں حنث نہیں ہوتا کہ اب تو سمع وفہم سب کچھ حاصل، جس طرح انھیں امام ابن الہمام نے د ربارہ تلقین منکرین پر اعتراض کیا کہ:
الاانہ علی ھذا ینبغی التلقین بعد الموت لانہ یکون حین ارجاع الروح ۲؎۔
مگر اس بنیاد پر تو بعد موت تلقین ہونی چاہئے اس لیے کہ وہ اعادہ روح کے وقت ہوتی ہے۔ (ت)
(۱؎ تفہیم المسائل عدمِ سماع موتٰی ا ز کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص۸۱)
(۲؎ فتح القدیر باب الجنائز مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۶۹)
یہ اعتراضات اس تقدیر باطل یعنی انکار سماع ارواح پر اصل سے اس کلام مشائخ کو باطل وازبیخ کندہ کرتے ہیں بخلاف اس تقدیر حق کے کہ صرف سماع جسم سے انکار مرادہے، اب ان میں اصلا کچھ وارد نہیں ہوتا۔
فاقول وباللّٰہ التوفیق
(میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) تقریر کلام مشائخ اعلام یہ ہے کہ مبنائے ایمان عرف پر ہے اور خطابات عرفیہ متعلق بدن مگر کلام بے سمع وفہم نامتصور، لاجرم یہ قسم حالتِ حیات پر مقصور اور جسم خالی معزول ومہجور کہ بعد فراق روح بدن مردہ ہے اور اس کے حواس ومشاعر باطل وافسردہ، عذاب قبر اگرچہ روح وبدن دونوں پر ہے مگر اس کے لیے بدن کو ایک نوع حیات تازہ بقدر الم دی جاتی ہے مگر موت تواس قدر احساس وادراک کے منافی ہے پھر اس حیات کا استمرار بھی ضرور نہیں ، احادیث کثیرہ کہ سمع وبصرہ فہم وادراک ومعرفت اموات پر ناطق ہے ضرور صادق ہیں۔ ان میں مراد ارواح موتٰی ہیں کہ ادراک حقیقتاً روح ہی کا کام ہے اور اسے موت نہیں، نہ موت بدن سے میں تغیر آئے، البتہ احادیث خفق نعال ضرور سمع جسمانی بتاتی ہیں، قطع نظر اس سے کہ لفظ میّت بدن میں حقیقت، ان میں صراحۃً
اذا وضع فی قبرہ
(جب وہ قبر میں رکھا جاتا ہے۔ ت) ار شاد ہوا، اورقبر میں رکھا جانا بدن ہی کی شان ہے مگر یہ بھی بوجہ مذکور ہم پر وارد نہیں نسخہ میں تحریر نہیں کہ اس وقت بغرض سوال بدن کی طرف اعادہ حیات ہوتاہے تو سماع حی کے لیے ثابت ہوا نہ کہ میّت کے لیے، اور احادیث قلیب اگر چہ حیات معادہ للسوال سے جدا ہیں کہ اول تو کافر مجاہر سے سوال ہونے میں کلام ہے۔ امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فرمایا: سوال یامومن سے ہوگا یا منافق سے کہ بظاہر مسلمان بنتا تھابخلاف کافر ظاہر کہ اس سے سوال نہیں، امام جلیل جلال سیوطی نے فرمایا:
ھو الارجح ولا اقول سواہ۳ نقلہ فی ردالمحتار
(یہی ارجح ہے اور میں اس کے سوا کا قائل نہیں اھ اسے ردالمحتارمیں نقل کیا۔ ت) شرح الصدور میں اس کی تائید کرکے فرماتے ہیں:
(۳؎ ردالمحتار صلٰوۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ۱ /۶۲۹)
وفی حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عند الطبرانی من قول حماد وابی عمر الضریر مایصرح بذلک ۱؎۔
طبرانی کے یہاں بالفاظ حماد وابوعمر ضریر جو حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے اس میں اس کی تصریح ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح الصدور فصل فیہ فوائد خلافت اکیڈمی سوات ص۵۹)
اور اگر سوال مانئے بھی تواس کا وقت ابتدائے وضع ودفن ہے یہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ناپاک لاشوں سے وہ گندہ کُنواں پٹ جانے کے تین دن بعد وہاں تشریف لے جاکر مخاطب ہوئے تھے، صحیح مسلم کی روایت حدیث ۴۸ میں گزری اور صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن ابی طلحۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر یوم بدر باربعۃ وعشرین رجلا من صنادید قریش فقذ فوافی طوی من اطواء بدر خبیث مخبث وکان اذا ظھر علی قوم اقام بالعرصۃ ثلث لیال فلما کان ببد رالیوم الثالث امر براحلتہ فشد علیھا رحلھا ثم مشی وتبعہ اصحابہ وقالوا مانری ینطلق الا لبعض حاجتہ حتی قام علی شفۃ الرکی فجعل ینادیھم باسمائھم واسماء اٰبائھم یا فلاں بن فلاں ویا فلان بن فلان ایسرکم انکم اطعتم اﷲ ورسولہ فانا قد وجد نا ماوعدنا ربناحقافھل وجدتم ماوعد ربکم حقا قال فقال عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یا رسول اﷲماتکلم من اجسادا لاارواح لھا فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم والذی نفس محمد بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم قال قتادۃا حیاھم اﷲ حتی اسمعھم قولہ توبیخاً وتصغیراونقمۃ وحسرتا وندما ۱؎۔
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو بدر کے کنوؤں میں ایک گندے پلید کنویں میں پھنکوادیا، حضور کاطریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم پر فتحیاب ہوتے تو میدان میں تین دن قیام فرماتے، جب بدرکا تیسرا دن تھا تو سواری مبارک پر کجاوہ کسوایا، پھر چلے، صحابہ نے ہمر کابی کی، اور کہا ہمارا یہی خیال ہے کہ اپنے کسی کام سے تشریف لے جارہے ہیں، یہاں تک کہ کنویں کے سرے پر ٹھہر کران کا اور ان کے آباء کانام لے لے کر اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کہہ کر پکارنے لگے، فرمایا ''کیا اس سے تمھیں خوشی ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم تم نے مانا ہوتا، ہم نے تو حق پایا وہ جس کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا، کیا تم نے اس کو ثابت پایا جو تمھارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا '' حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: یار سول اللہ ! کیا آپ ان جسموں سے کلام فرمارہے ہیں جن میں جان نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں: اللہ تعالٰی نے ان کی توبیخ، تذلیل، کلفت، حسرت اور ندامت کے لیے انھیں حیات دے کر حضور کا کلام سنوایا۔ (ت)
(۱؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جہل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۶۶)
اور حدیث مذکور نص صریح ہے کہ ان کافروں نے گوش بدن ہی سے سنا کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: حضور کیا کلام فرماتے ہیں ان بدنوں سے جن میں روح نہیں، اسی کے جواب میں ارشاد ہوا کہ خدا کی قسم تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، توصاف ثابت ہوا کہ سماع جسمانی ہی واقع ہوا مگر جبکہ روح کا جسم سے فراق یقینا معلوم اور بے عود حیات سماع جسم خالی قطعا معدوم، تو ان کافروں کے لیے تین دن بعد پھر عود زندگی ماننے سے چارہ نہیں، اور پر ظاہر کہ یہ امر عموما نہیں ہوتا، ناچار بالخصوص حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اعجاز سے ان ملا عنہ کو زیادت حسرت وندامت وعذاب واذیت ہونے کے لیے واقع ہوا کہ روح وبدن دونوں کا اشتراک تنہا روح کے ادراک سے اشد وسخت تر ہے، لہذا قتادہ نے کہا: اللہ تعالٰی نے ان کی حسرت وتوبیخ وتذلیل کے لیے اعادہ حیات فرماکر سنوایا، بالجملہ جو ا حادیث سماع جسمانی میں نص ہیں ان میں تخصیص وقت یا بعض اموات خود سبیل واضح ہے اور جوایسی نہیں وہ رأسا غیر وارد کہ سماع روح تو آپ ہی خود ثابت ولائح ہے۔ بحمد اللہ یہاں سے روشن ہوا کہ صاحب تفہیم المسائل کا خبط بے ربط کہ:
ہر چند مبنی ایمان برعرف است مگر مقصود فقہاء از نفی سماع دریں مقام نفی سماع عرفی وحقیقی ہر دوست زیرا کہ فقہا نفی سماع مطلق کردہ اند نہ بتقید عرف واگر نفی صرف سماع عرفی نہ حقیقی مقصود مے بود حاجت جواب دادن از مسئلہ عذاب قبروتوجیہ کردن دیگر وقائع کہ برسماع موتٰی دال ست نبود ۲؎۔
ہر چند کہ قسم کی بنیاد عرف پر ہے مگر یہاں سماع کی نفی سے فقہا کا مقصود عرفی وحقیقی دونوں سماع کی نفی ہے، اس لیے کہ فقہا نے سماع کی نفی مطلق کی ہے عرف کی قید لگا کر نہیں، اگر حقیقی نہیں صرف عرف سماع کی نفی مقصود ہوتی تومسئلہ عذاب قبر کا جواب دینے اور سماع موتٰی پر دلالت کرنے والے دوسرے حالات و واقعات کی توجیہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ (ت)
(یہ کیا ہے؟ کلام قائل کی ایسی توجیہ جس سے قائل راضی نہیں۔ ت) محض نافہمی وجہل واضح ہے۔
فاقول (میں کہتا ہوں۔ ت) اولاًیہاں عرفی وحقیقی متغائر نہیں ہے۔ اوپر واضح ہوچکا کہ یہی ادراک اصوات بآلات جسمانیہ ہی حقیقت لغویہ اور یہی متعارف ہے، اور وہ معنٰی جو وقت اضافت سمع بروح مجر د یا بحضرت عزت مراد ہوتے ہیں، محل یمین میں ان کا احتمال ہی کیا تھا کہ اطلاق،نفی انھیں میں شامل ہو۔