یہ تو ان ائمہ سے نقل تھی اور اس سے پہلے خود امام عینی فرماچکے ہیں :
اما تصور البکاء من المیّت فقد ورد نی حدیث ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان احد کم اذ ابکٰی استعبرلہ صویحبہ والمراد والمراد بصویحبہ المیّت ۲؎۔
یعنی میّت کا رونا متصور ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی روتا ہے تواس کا ساتھی وہ مردہ بھی رونے لگتا ہے، (صویحیب سے مراد میّت ہے)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح البخاری مایرخص من البکاء فی غیر نوح ادارۃ المنیریۃ بیروت ۸ /۷۹)
للہ انصاف! یہی علماء میں جوارحِ موتٰی کے سماع وفہم سے انکار رکھتے ہیں ۔
فائدہ: یہ بی بی حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں، اور یہ حدیث ابوبکر بن ابی شیبہ وطبرانی نے ان سے روایت کی وہ خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھیں اپنے ایک بیٹے کو یاد کرکے روئیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا طریقہ ہے کہ دنیا میں زندگی تک کو اپنے ساتھی سے اچھا سلوک اور مرے پیچھے ایذا دو،
فوالذی نفس محمد بیدہ ان احد اکن لتبکی فتستعین لہ صویحبۃ فیا عباد اﷲ لاتعذبوا موتاکم ۱ ؎۔
قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی جان پاک ہے کہ تمھارے رونے پر تمھارا مردہ رونے لگتا ہے، تو اے خدا کے بندو! اپنی اموات کو عذاب نہ کرو،
(۱ المعجم الکبیر مروی از قبیلہ بنت مخرمہ حدیث ۱ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۵ / ۱۰ )
شاہد ۸: علامہ شربنلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں قولِ درر :
الم رسانی میّت کے اندر متحقق نہیں، اسی طرح گفتگو بھی، کیونکہ اس کا مقصودِ افہام اور سمجھانا ہوتا ہے، موت اس کے منافی ہے۔ (ت)
(۲ الدرر الاحکام لملاخسرو باب حلف الفعل مطبعہ کاملیہ مصر ۲ / ۵۳ )
پر تقریر کی اور خود فر مایا:
الاصل فیہ ان کل فعل یلذو یولم ویغم ویسر یقع علی الحیات دون الممات ۳؎۔
اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ فعل جس سے لذت والم اور غم وسرور ہو وہ حیات ہی پر واقع ہوگا موت پر نہیں۔ (ت)
(۳ غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ علی الدرر الاحکام باب حلف الفعل مطبعہ کاملیہ مصر ۲ / ۵۳)
اور قول ۳۲ میں ان کا ارشاد بحوالہ حضرت استاذ سن چکے کہ مردوں کو جوتوں کی پہچل سے اذیت ہوتی ہے۔
شاہد ۹: قول ۵۱ دیکھو کہ گھاس اور پیڑ کی تسبیح سے مردہ کا جی بہلتا ہے۔
تنبیہ: فتاوٰی قاضی خاں وامداد الفتاح ومراقی الفلاح علامہ شرنبلالی وغیرہا میں مقبروں سے درخت و گیاہِ سبز کاٹنے کی کراہت پر دلیل مذکور قائم فرمائی اور جس غافل غیر ماؤف الدماغ کے سامنے ان الفاظ کو بیان کیجئے کہ فلاں کی تسبیح سے فلاں کا جی بہلا، اس کا ذہن قطعاً اس طرف جائے گا کہ اس نے اس کی تسبیح سنی اور اس سے انس ملا، بداہت عقل شاہد ہے کہ کسی شے سے انس پانے کو اس پر اطلاع ضرور، اور تسبیح جنس کلام سے ہے جس پر اطلاع بطور سماع تویہ کلام علماء صراحۃ سماع موتٰی کی دلیل صاف ہے بلکہ اس درجہ قوت قویہ سمع کی جو عامہ احیاء کو حاص نہیں
کما نبھنا علیہ سالفا
(جیسا کہ پیچھے ہم نے اس پر تنبیہ کی۔ ت) تو صاحب تفہیم المسائل کا خبط کہ اس کلام کو ہر گز مطلب سے آشنائی نہیں، پھر کہا:
بایددید کہ ایں عبارت را از سماعتِ موتٰی چہ مناسبت ۴؎؟
دیکھنا چاہئے کہ اس عبارت کو مردوں کے سننے سے کیا مناسبت ہے؟ (ت)
(۴؎ تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص۸۴)
محض نافہمی وجہالت ہے، ہاں بحمد اللہ تعالٰی اس تذییل جلیل نے شمس وامس کی طرح روشن کردیا کہ اس کے مقتداء صاحب مائۃ مسائل کا ان عبارات خمس سے استدلال کرنا اور اس کی تائید میں اس وہابی جدید کا اسی طرح کی اور عبارات نقل کرکے اور اق بھر نا سب مطلب سے نا آشنا اور مورد نزاع سے محض بیگانہ تھا وللہ الحمد۔
شاہد ۱۰ تا ۱۲: یونہی سید عالم ابوا لسعود ازہری صاحبِ فتح اللہ المعین وسید علامہ طحطاوی وسید علامہ شامی محشیانِ دُر نے دربارہ یمین وہی تقریرات ذکر کیں اور سب حضرات نے تسبیح گیاہ سے میّت کو انس ملنا ذکر فرمایا، کما تقدم (جیسا کہ گزرچکا۔ ت)
شاہد ۱۳ و ۱۴: سیدین اخیرین نے تصریح فرمائی کہ انسان جو قبر کے پاس ذکر الٰہی کرے اس سے میّت کا جی بہلتا ہے، دیکھو قول ۴۷ و ۴۹۔
شاہد ۱۵ و ۱۶: یونہی دونوں حضرات نے فرمایا کہ مقابر میں پیشاب کرنے سے زندوں کی طرح مردے کو بھی ایذا ہوتی ہے۔ دیکھو قول ۳۸ و ۳۹۔
شاہد ۱۷: علامہ طحطاوی نے تقریر فرمائی کہ اموات کو جوتوں کی پہچل سے اذیت ہوتی ہے، دیکھو قول ۳۴،
شاہد ۱۸ تا ۲۰: علامہ حلبی محشی دُر ر بھی اس تقریر یمین میں شریک ہیں اور احراق حیوانات بعد ذبح پر وہ شبہ فرمایا کہ میّت کو ایذا ئے خارج سے درد پہنچنا ثابت ہے، سیدین اخیرین نے جواب دیا کہ یہ بنی آدم میں ہے، دیکھو تذییل زیر قول ۴۰۔
شاہد ۲۱: قول ۲۷ میں علامہ شامی کا امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وہ نقل فرمانا دیکھو کہ قبر حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حضور نماز میں بسم اللہ شریف آواز سے نہ پڑھی۔
شاہد ۲۲: قول ۶۴ میّت کے سرہانے سے نہ آئے کہ اس کی نگاہ کو تکلیف ہوگی پائنتی سے آئے کہ میّت کے پیش نظر ہوگا۔
شاہد ۲۳: تکمیل جمیل میں علامہ زیادی و داؤدی واجہوری سے علامہ شامی کا وہ نقل کرنا دیکھو کہ کسی چیز کے ملنے کے لیے بلندی پر جاکر حضرت سیدی احمد بن علوان کو ندا کرے۔
شاہد ۲۴: علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں قبور پر سلام ذکر کرکے فرمایا: حدیث صحیح سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شناسا قبر پر گزرتا اور سلام کرتا ہے مردہ اسے پہچانتا ہے اور جواب دیتاہے۔
حیث قال واخرج ابن عبدالبر فی الاستذ کار والتمہید بسند صحیح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مامن احد یمر بقبر اخیہ المومن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ الاعرفہ وردّ علیہ السّلام ۱؎۔
ان کی عبارت یہ ہے: ابن عبدالبر نے استذکار اور تمہید میں بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نےفرمایا: جو شخص بھی اپنے کسی ایسے مومن بھائی کی قبر سے گزرتا ہے جو اسے دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو صاحب قبر اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلا م کا جواب دیتا ہے۔
(۱؎ حاشیۃ الطحاوی علی مراقی الفلاح فصل فی زیارہ القبو ر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۴۱)
شاہد ۲۵: انھیں کا قول ۸۲ دیکھو کہ اموات زائروں کا سلام سنتے، جواب دیتے، ان سے انس پاتے ہیں، پھر فرمایا: اس میں نہ شہیدوں کی خصوصیت، نہ کسی وقت کی قید، خدا را انصاف! یہ علماء سماع روح کے منکر ہونگے،
حاش للہ حاش للہ، ولکن الوھابیۃ قوم یعتد ون
(مگر وہابیہ ایسے لوگ ہیں جو حد سے تجاوز کرتے ہیں، ت) پچیس شاہد ہیں اور پچیس سو ممکن مگر علماء اپنا لکھا خود نہ سمجھتے تھے لاجرم قطعا یقینا وہ ارواح موتٰی کے لیے سمع وبصر وعلم وفہم مانتے اور بدنِ مردہ کو جب تک مردہ رہے ان صفات سے معزول جانتے ہیں،یہی بعینہٖ ہمارا مذہب اور یہی عباراتِ علماء کا مطلب