| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
فصل یاز دہم میں گزرا کہ یہ سلام وکلام ضرور دلیل سماع وافہام ہیں، مگر یہ اکابر اعلام معاذا للہ اتنی تمیز نہ رکھتے تھے کہ اینٹوں پتھروں سے سلام وکلام کیا معنی ؟ شاہد۴: یو ں ہی جس نے زیارت حضرات شیخین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما ذکر کی بالاتفاق ان سے علاوہ سلام و کلام بھی تعلیم کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ موجہہ اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اتنا ہٹے کہ صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے مواجہے میں آجائے اس وقت ان سے یوں عرض کرے۔ پھر ان کے مواجہہ سے اتنا ہٹے کہ فاروق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے مواجہے میں آجائے اس وقت ان سے یوں گزارش کرے۔ اگر معاذاللہ یہ سلام وکلام مخفی ازقبیل ''اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست'' (اے باد صبا! یہ سب کچھ تونے اڑایاہے۔ ت) تھا تو ہٹ ہٹ کر مواجہوں میں آنے کی کیا حاجت تھی! ہٹ دھرم بے انصاف انصاف کی تو کہتے نہیں مگر ذی عقل منصف تو قطعاً ان تعلیمات سے یہی سمجھتاہے کہ یہ سلام وکلام ضرور حقیقی ہے اور مواجہے سے مقصود پیش نظر آنا، اسی فتح القدیر میں ہے :
ثم یتاخر عن یمینہ قدر ذراع فیسلم علی ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فان راسہ حیال منکب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیقول السلام علیک یاخلیفۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وثانیہ فی الغار ابی بکر الصدیق جزاک اﷲ عن امۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خیر ا ثم یتاخرکذلک قدر ذراع فیسلم علی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ لان راسہ من الصدیق کرأس الصدیق من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیقول السلام علیک یا امیر المومنین عمر الفاروق والذی اعز اﷲ بہ الاسلام جزاک اﷲ من امۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خیرا ۱ ؎۔
پھر اپنے داہنے ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سلام عرض کرے اس لئے کہ ان کا سر مبارک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دوشِ انور کے مقابل ہے۔ تو عرض کرے آپ پر سلام اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلیفہ اور غار میں ان کے ثانی ابو بکر صدیق! خدا آپ کو امتِ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جانب سے جزائے خیر دے۔ پھر اسی طرح ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سلام عرض کرے، اس لیے کہ ان کا سر مبارک حضرت صدیق سے اسی طرح ہے جیسے حضر ت ابوبکر صدیق کا سر مبارک حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے۔ تو عرض کرے آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین عمر فاروق ، وہ جس سے اللہ نے اسلام کو عزت وقوت دی، اللہ آپ کو امت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے نیک جزا عطا فرمائیے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الحج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۵)
شاہد ۵: چلے کہا کو، انھیں امام ابن الہمام کا وہ ارشاد ہدایت بنیاد جگر شگاف توا ہب والحاد سنئے کہ سارے انکاری مذہب پر مردنی چھا جائے، اموات کوپتھر سمجھنے پر حجارۃ من سجیل کا پتھر اؤ آئے۔ اسی فتح القدیر کے آخر کتاب الحج میں فرماتے ہیں :
یاتی القبر الشریف ویستقبل جدارہ ویستک برالقبلۃ وما عن ابی اللیث انہ یقف مسقبل القبلۃ مردود بماروی ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی مسندہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال من السنۃ ان تاتی قبر النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قبل القبلۃ و تجعل ظھرک الی القبلۃ وتسقبل القبر بوجھک ثم تقول السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اﷲ وبرکاتہ،ٰ الا ان یحمل علی نوع مامن الا ستقبال وذٰلک انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی القبر الشریف المکرم علی شقہ الایمن مستقبل القبلۃ،وقالوا فی زیارۃ القبورمطلقا الا ولٰی ان یأتی الزائر من قبل رجل المتوفی لامن قبل راسہ فانہ اتعب لبصرالمیّت بخلاف الاول لانہ یکون مقابلہ بصرہ لان بصرہ ناظر الٰی جہۃ قدیمہ اذا کان علٰی جنبہ فعلی ھذا تکون القبلۃ عن یسارا لواقف من جہۃ قدمیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بخلاف ماذا کان من جھۃ وجہہ الکریم فاذا اکثر الاستقبال الیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاکل الاستقبال یکون استدبارہ القبلۃ اکثر من اٰخذہ الی جھتھا فیصدق الاستدبارونوع من الاستقبال ۱؎ الخ۔
یعنی مزار انور حضور سید اطہر صلی علیہ وسلم کی زیارت کو حاضر ہو روضہ اقدس کی طرف منہ اور قبلے کو پیٹھ کرے۔ اور وہ جو فقیہ ابواللیث سے نقل کیا گیا کہ قبلہ رو کھڑا ہو مردود ہے اس حدیث سے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ سنت یوں ہے کہ مزار اقدس کے حضور قبلہ کی طرف سے آئے قبلے کو پُشت اور قبر انور کی طرف منہ کرے، پھر عرض رساں ہو سلام حضور پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ایک گونہ قبلے کی طرف ہونا مراد لیں اس لئے کہ حضو ر اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قبر انور میں دہنی کروٹ پر قبلہ رو تشریف فرما ہیں، اور علمائے کرام نے عام قبروں کی زیارت میں حکم دیا ہے کہ زائر کو چاہئے میّت کی پائنتی کی طرف سے آئے نہ کہ سرہانے کی جانب سے کہ اس میں مردے کی نگاہ کو تکلیف ہوتی ہے بخلاف پہلی صورت کے کہ یوں آنے والا میّت کی نگاہ کے سامنے ہوگا اس لیے کہ میّت جب کروٹ سے ہو تو اس کی نظر اپنے پاؤں کی طرف ہے، تو ا س تقدیر پر جب حضور انورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاؤں کی طرف سے حاضر ہوگا قبلہ اس کے بائیں ہاتھ کو ہوگا، زیادہ رخ جانب قبر ہوگا، اور ایک گوشہ جانب قبلہ ہوگا تو پشت بقبلہ بھی ہوا اور ایک گونہ قبلہ کی طرف جھکا ہونا بھی صادق آیا۔ الخ
(۱؎ فتح القدیر کتاب الحج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۵)
اللہ اکبر اللہ اکبر وﷲ الحمد
ایمان سے کہنا یہی وہ علماء ہیں جو میّت کو پتھر، بے حس، بے ادراک بتا رہے ہیں
انا ﷲ وانا الیہ راجعون،
پھر امام ممدوح اپنا ارشاد نہیں فرماتے بلکہ ہمارے علمائے کرام سے نقل فرما رہے ہیں، خدا کی شان یہی وہ مشائخ حنفیہ ہیں کہ سماع روح کا انکار جن کے سر باندھئے، اللہ تعالٰی توفیق انصاف بخشے، آمین!
شاہد ۶: یہی امام عینی شارح کنز عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب الاذان بعد ذھاب الوقت میں فرماتے ہیں :
الروح جوھر لطیف نورانی مدرک للجزئیات والکلیات غنی عن الاغتذاء بری عن التحلل والنماء ولھذا یبقی بعد فناء البدن اذ لیست لہ حاجۃ الی البدن ومثل ھذا الجوھر لایکون من عالم العنصر بل من عالم الملکوت فمن شانہ ان لا یضرہ خلل البدن وتلتذ بمایلائمہ ویتألم بما ینافیہ، والدلیل علی ذٰلک قولہ تعالٰی ولاتحسبن الذیین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا بل احیاء عند ربھم الاٰیۃ وقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا وضع المیّت علی نعشہ رفرف روحہ فوق نعشہ ویقول یا اھلی ویاولدی ۱؎۔
روح ایک جوہر لطیف نورانی ہے کہ علم سمع وبصر وغیرہا تمام ادراکات رکھتی ہے، کھانے پینے سے بے نیاز، گھلنے بڑھنے سے بری ہے۔ اسی لئے فنائے بدن کے بعد باقی رہتی ہے کہ اسے بدن کی طرف اصلاً احتیاج نہٰی، ایسا جوہر عالمِ آب وگِل سے نہیں ہوتا بلکہ عالم ملکوت سے ، توا س کی شان یہ ہے کہ بدن کا خلل پذیر ہونا اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے، جو بات موافق ہو اس سے لذت پائے، جو مخالف ہو اس سے درد پہنچے، اور اس پر دلیل اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ جو راہ خدا میں مارے گئے ہر گز انھیں مردہ نہ جانیوں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس (الآیۃ) اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث کہ جب مردہ نعش پر رکھا جاتاہے اس کی روح بالائے نعش پر افشاں رہتی ہے اور کہتی ہے کہ اے میرے گھر والو، اے میرے بچو!
(۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری باب الاذان بعد ذہاب الوقت ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۵ /۸۸)
للہ انصاف! اگر روح بعد موت معطل اور اس کا فہم وادراک مختل ہو تویہ کیونکر صحیح ہوتا کہ اسے بدن کی حاجت نہیں، خللِ بدن سے کچھ مضرت نہیں، بھلا روح تو بیکار وجما د ہوئی یہ رب کے پاس زندہ کون ہے؟ یہ نعش پر جلوہ افگن ونوازن کون ہے؟
شاہد ۷: یہی امام محمود اسی عمدہ میں اس حدیث کے نیچے کہ میّت کو اپنے اہل کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ امام اجل ابو زکریا نووی سے نقل فرماتے ہیں:
حکی عن طائفۃ ان معناہ انہ یعذب بسماع بکاء اھلہ علیہ ویرق لھم وقال والی ھذا ذھب محمد بن جرید الطبری وغیرہ قال القاضی عیاض وھو اولی الاقول واحتجوا بحدیث فیہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زجر ا مرأۃ من البکاء علی ابنھا وقال ان احدکم اذابکی استعبرلہ صویحبہ فیاعباداﷲ لاتعذ بوا اخوانکم ۱ ؎۔
یعنی امام ممدوح نے ایک جماعت علماء سے نقل فرمایا کہ معنٰی حدیث یہ ہیں کہ لوگ مردے پر جو روتے ہیں مردے کو ا ن کا رونا سن کر صدمہ ہوتا ہے اور ان کے لئے اس کا دل کڑھتاہے، امام محمد نے فرمایا محمد بن جرید طبری وغیرہا اسی طرف گئے، امام قاضی عیاض نے فرمایا یہ سب قولوں سے بہتر ہے، اور اس پر ایک حدیث سے دلیل لائے کہ ایک بی بی اپنے بیٹے پر رو رہی تھیں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں منع کیا اور فرمایا: ''جب تم میں کوئی روتا ہے تو اس کے رونے پر مردے کے بھی آنسو نکل آتے ہیں تو ا ے خدا کے بندو! اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دو۔''
(۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری مایرخص من البکاء فی غیر نوح ادارۃ المنیریۃ بیروت ۸ /۷۹)