وعذاب القبر یوضع حیاۃ جدیدۃ فیہ وھو قول عامۃ العلماء خلافا لابی الحسن الصالحی (عہ) فان عندہ ویعذب المیّت من غیر حیاتہ ۲؎۔
عذاب قبر بدن میں ایک نئی زندگی رکھنے سے ہوتاہے، اسی پر عامہ علماہیں بخلاف ابوالحسن صالحی کے ، اس کے نزدیک بغیر زندگی کے میّت کو عذاب قبر ہوتا ہے۔ (ت)
عہ: رجل من المعتزلہ الیہ تنسب الفرقۃ الصالحیۃ ۱۲منہ (م)
یہ معتزلہ میں سے ایک شخص ہے جس کی طرف فرقہ صالحیہ منسوب ہے۔ (ت)
(۲؎ مستخلص الحقائق باب الیمین فی الضرب والقتل دلی پرنٹنگ ورکس دہلی انڈیا ۲ /۳۸۸)
اور بالیقین یہ شان بدن ہی کی ہے کہ اسے موت عارض ہوتی اور اس کا حس وادراک باطل کرتی، پھر معاذاللہ تعذیب کے لیے الگ گونہ حیات دی جاتی ہے اور وہ بھی کاملہ نہیں ہوتی بخلاف روح کہ اس کی حیات مستمرہ ہے۔
امام ابن الہمام نے ا س مضمون کو خوب صاف فرمادیا، بعد عبارت مزبورہ لکھتے ہیں:
لانہ لایحس ولذا کان الحق ان المیّت المعذب فی قبرہ توضع فیہ الحیاۃ بقدر مایحس بالاَلم، حتی لو کان متفرق الاجزاء بحیث لایتمیز الاجزاء بل ھی مختلطۃ بالتراب فعذب جعلت الحیاہ فی تلک الاجزاء التی لا یاخذھا البصر وان اﷲ علی ذلک لقدیر ۱ ؎ الخ وقد تقدم تاما فی المقدمۃ الثالثۃ۔
اس لیے کہ اس میں احساس نہیں۔ اس لیے حق یہ ہے کہ جس مردے کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اس کے اندراتنی زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ وہ الم کا احساس کرے، یہاں تک کہ اگراس کے اجزا اس طرح بکھر گئے باہم امتیاز نہ رہا بلکہ مٹی سے خلط ملط ہوگئے پھر اسے عذاب دیا گیا تو ان ہی اجزاء میں زندگی رکھ دی جاتی ہے جو نظر نہیں آتے، اور بلا شبہ اللہ تعالٰی اس پر ضرور قادر ہے الخ یہ عبارت مقدمہ سوم میں مکمل گزری۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الضرب والقتل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۶۰)
اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھئے وہ کسے میّت کہہ رہے تھے۔ کس کی طرف اعادہ حیات بقدر احساس الم مانا، کس کے اجزاء متفرق ہوگئے۔ کس کے اجزاء اتنے باریک ہوئے کہ نظرکام نہیں کرتی۔ ہاں وہ کیا ہے جس کے اجزاء مٹی میں مل گئے۔ کیا وہ روح پاک ہے۔ حاشا یہی بدن تو وہ خاک ہے۔ تو آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ اس مردہ حقیقی میں علماء کا کلام ہے۔ اسی کی نسبت انکار سماع وافہام ہے۔
واﷲ الحجۃ السامیۃ
(اور اللہ ہی کے لئے بلند حجت ہے۔ ت)
دلیل ۸: انھیں کتب میں کریمہ وما انت بمسمع من فی القبور سے استدلال کیا اور پر ظاہر کہ من فی القبر نہیں مگر بدن، خود صاحب تفہیم المسائل نے اسی بحث میں براہ بدقسمتی خود انھیں امام عینی شارح کنز کی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری سے نقل کیا:
فان قلت بعد فراغ الملکیئن من السوال مایکون المیّت قلت ان کان سعیدا کان روحہ فی الجنۃ وان کان شقیا ففی سجین علٰی صخرۃ فی الارض السابعۃ ۲؎۔
یعنی بعد سوال نکیرین سعید کی روح جنت میں رہتی ہے اور شقی کی سجّین میں ساتویں زمین کی ایک چٹان پر۔
(۲؎عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری باب المیّت یسمع خفق النعان ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸ /۱۴۷)
تو قبر میں نہیں مگر بدن، اسی سے آیت نفی اسماع فرماتی ہے، اور اسی سے یہ علماء نفی سماع۔
دلیل ۹: نیز یہ سب علماء قول ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے دلیل لائے۔ اوران شاء اللہ القریب المجیب عنقریب روشن ہوتا ہے کہ ام المومنین صرف سماع جسمانی کی منکر ہیں اور ادراک روحانی کی مثبت ومقر۔
دلیل ۱۰: انھیں کتب میں اسی میّت میں مسائل دو قسم کے ذکر فرمائے: ایک متقید بحیات، دوسرے شامل حیات وممات۔ فرماتے ہیں اگر قسم کھائی کہ اگر تجھے ماروں یاتجھ سے بولوں، یاعورت سے کہا اگر تجھ سے صحبت کروں یا تیرا بوسہ لوں، تویہ قسمیں اس مخاطب مرد وزن کو زندگی پر مقتصر رہیں گی۔ اور اگر قسم کھا ئی کہ اگر تجھے نہلاؤں یا اٹھاؤں یا بٹھاؤں تو موت وحیات دونوں کو شامل ہوں گی۔ یہاں تک کہ اگر وہ شخص مر گیا اور اس نے اسے غسل میّت دیا اس کا جنازہ اٹھایا، اسے ہاتھ لگایا، کفن پہنایا تو حانث ہوگا، کافی میں عبارت منقولہ مائۃ مسائل کے چند سطور بعد ہے :
بخلاف ان غسلتک اوحملتک اومسستک او البستک فانھا لا تنقید بالحیاۃ لان الغسل یرادبہ التنظیف وتطھیر وذایتحقق فی المیّت الاتری انہ یجب غسل المیّت تطھیرالہ فکیف ینا فیہ ولوصلی علی المیّت قبل الغسل لم یجز ولوکان غسیلا جاز والحمل یتحقق بعد الموت قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من حمل میّتا فلیتوضا والمس للتعظیم وللشفقۃ فیتحقق بعد الموت والالباس للتعظیمۃ والمیّت محل لہا ۱؎۔
اس کے برخلاف اگر کہا: اگر میں نے تجھے نہلایا، یا اٹھایا، یا مس کیا، یا پہنایا، تو یہ قسمیں حالتِ حیات سے مقید نہ رہیں گی، اس لیے کہ نہلانے سے پاک صاف کرنا مقصود ہوتا ہے اور وہ میّت کے حق میں بھی ثابت ہے۔ دیکھو کہ میّت کو پاک کرنے کے لیے اسے غسل دینا واجب ہے تو وہ قسم اس کے منافی کیسے ہوگی؟ __ اور اگر غسل سے پہلے میّت کا جنازہ پڑھ لیا تو جائز نہیں اور بعد غسل جائز ہے۔ اور جس نے ایسے مردے کو لیے ہوئے نماز پڑھی جسے غسل نہ دیا گیا تھا تو جائز نہیں اور اگر غسل دیا ہوا تھا تو جائز ہے۔ اور اٹھانا بعد موت بھی متحقق ہے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''جس نے کسی میّت کو اٹھایا تو چاہئے کہ وضو کرے۔'' مس کرنا تعظیم یا شفقت کے لئے ہوتا ہے تو وہ بعد موت بھی متحقق ہوگا۔ پہنانا تعظیم کے لئے ہوتا ہے اور میّت اسی کا محل ہے۔ (ت)
(۱؎ کافی شرح وافی)
دیکھئے وہی کان ہے وہی خطاب ہے۔ اور اگر اس سے بدن مراد نہ ہوتا تو ان حلفوں میں واجب تھا کہ کبھی حانث نہ ہو کہ مسائل قسم ثانی مطلقاً وہی ہوں گے جنھیں محض بدن سے تعلق ہے۔ جب بدن مقصود نہیں تو اسے نہلانا، اٹھانا، چھونا، پہنانا کیوں موجب حنث ہونے لگا، اور ایک اسی قسم پر کیا ہے قسم اول میں ضرب و جماع وبوسہ کیا غیر بدن سے متعلق ہیں۔ نسق واحد کے ذکر کیے ہوئے تمام مسائل میں بدن مراد لینا اور صرف ایک کو اس سے الگ کردینا کس قدر دو ر از کار ہے کاف خطاب سے جو ان سب میں مراد ہے وہ ہی کُلمتک میں، تو لا جرم یقینا قطعا یہ سب خطاب محاورہ عرف حلف سب متعلق بدن ہی ہیں اور فاروق وہی جلیل وجمیل جو بتوفیق اللہ تعالٰی ہم نے ذکر کیا کہ ضرب میں درد، کلام میں فہم، بوسے میں لذت، جماع میں قضائے شہوت درکار ہے۔ اور یہ امور بدن کے ان صفات پر مقصود کہ بہ تبعیت روح اسے حاصل ہوتے ہیں لہذا بعد موت جسم خالی انھیں کافی نہیں بخلاف غسل وحمل ومس والباس کہ صرف صفاتِ اصلیہ بدن کے طالب ہیں تو ان میں حیات وموت یکساں ۔
دلیل ۱۱: ان ائمہ کرام وعلمائے اعلام کا یہ کلام ارواح موتی پر حمل کرنا صراحۃً باطل
وتوجیہ القول بما لا یرضی بہ القائل
ہے ان کے کلمات عالیات بہزار زبان اس سے تحاشی فرما رہے ہیں شواہد سنئے:
شاہد ۱: امام اجل ابو البرکات نسفی قدس سرہ کا ارشاد اسی کافی شرح وافی سے ابھی گزرا کہ روحیں نہیں مرتیں۔
شاہد ۲: خود عقائد کی کتاب میں ارشاد فرمایا کہ روح میں مرگ سے کچھ تغیر نہیں آتا کیا وہ اسی روح کو کہیں گے کہ مرگئی، فہم وادراک کے قائل نہ رہی، یہ کچھ ہوا ا ور تغیر نہ آیا، وائے جہالت!
شاہد ۳: یہی امام ابن الہمام اور ایک یہی کیا تمام علمائے اعلام زیارت قبور میں اموات پر سلام اور ان سے خطاب وکلام تسلیم فرماتے ہیں اور اسے سنت بتاتے ہیں،
فتح القدیر میں ہے :
یکرہ النوم عندالقبر وقضاء الحاجۃ بل اولٰی وکل مالم یعھد من السنۃ والمعھود منھا لیس الازیارتھا والدعاء عندھا قائما کما کان یفعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الخروج الی البقیع ویقول السلام علیکم دار قوم مومنین وانا ان شاء اﷲ بکم لا حقون اسئل اﷲ لی ولکم العافیۃ ۱؎۔
قبرکے پاس سونا مکروہ ہے اور قضائے حاجت بھی بلکہ بدرجہ اولٰی مکروہ ہے۔ اورہر وہ کام جو سنت سے معہود نہ ہو، اور سنت سے معہود یہی زیارت اور وہاں اکھڑے ہو کر دعا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بقیع تشریف ارزانی میں کیا کرتے تھے اور کہتے تم پر سلام ہوا ے اہل ایمان لوگو! اور ہم بلاشبہ تم سے ملنے والے ہیں اگر اللہ نے چاہا۔ میں اپنے لیے اور تمھارے لئے عافیت مانگتا ہوں ۔ (ت)
(۱؎ افتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲ )