سادساً :ظاہر حس وعقل بالبداہۃً جسم میّت کے معطل وبے حس ہونے پر شاہد ہے اگر کسی وقت اس کا مدرک ہونا ثابت ہوتو یہ قطعا امور غیبیہ سے ہے، اب سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قسم کھا کر اس غیب پر حکم فرمانا پھر قرآن عظیم کا معاذ اللہ اس کے خلاف پر آنا دوصورتوں کے سوا ممکن نہیں، یا تواولاً عیاذاللہ حضور پر نور صلوات اللہ وسلامہ علیہ نے رجما بالغیب کلام فرمادیا یا اپنی طرف سے غیب پر حکم لگادیا یا یوں کہ اول اسی طرف سے خبر غیب معاذا للہ خلاف واقع آئی، پھر اس کا رَد اُترا، تمھارا ایمان ان دونوں میں سے جسے قبول کرے مانو ۔
سا بعاً :اگر بفرض غلط یہ روایت غریبہ خاملہ صحیح بھی ہو تو قطعا یقینا حتما جزما آیات مذکورہ آیت کریمہ
(تو انھیں تم نے قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا۔ اور تم نے کنکریاں نہ پھینکیں جب پھینکیں لیکن اللہ نے پھینکیں۔ ت)
( ۱؎ القرآن ۸ /۱۷ )
کے باب سے ہیں جن میں معاذاللہ ہر گز اپنے نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کی قسم پر وہ انکار نہیں بلکہ یوں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ جوا جسام مردہ تمھارا کلام سن رہے ہیں یہ تم نے انھیں نہ سنایا بلکہ خدا نے سنایا
ان اﷲ یسمع من شیاء و ما انت بمسمع من فی القبور
یہ اسی کی قدرت سے ہوا کہ ان خالی بدنوں میں روح نے عود کیا جس کے آتے ہی گئے ہوئے ہوش وحواس بدن کے پھر درست ہوگئے، اب یہ روایت بھی ہماری دلیل ہے اور تفہیمی ملا کے فہم خوار وذلیل
والحمد ﷲ الھادی الٰی سواء السبیل
(اور خدا ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت) خیر بات دور پہنچی اور اب صاحب تفہیم داخل من فی القبور تو سماع قبول سے قطعا مہجور، لہذا اصل سخن کی طرف عنان گردانی کیجئے، کلام مشائخ دوبارہ اجسام موتٰی ہونے پر شواہد وا سانید میں یہ تین امور بالائی کافی و وافی تھے مگر خود نفس مسئلہ میں انھیں علماء کرام کے کلام ودیگر ابحاث مقام اور ان کے رد واحکام ونقص وابرام یک زبان اس معنٰی پر شہود وعدول تو قبول واجب اور عدول مخذول۔ مثلا:
دلیل۴: بحث دیکھئے ، کاہے کی ہے؟ ایمان کی۔ اور باجماع حنفیہ وتصریحات علمائے مذکورین وغیرہم ان کا مبنی عرف اور عرف میں انسان وزید و آن وتوسب کامورد بدن تو قسم اسی پر صادق، اور یہ داوری و چالشگری اس سے متعلق۔
دلیل ۵: پر ظاہر کہ اول تا اخر ان کا کلام موت میں ہے، اور میّت نہیں مگر بدن، خود اسی کا فی شرح وافی میں اسی بحث ایمان میں فرمایا :
الروح لایموت لکنہ زال عن قالب فلان واﷲ تعالٰی قادر علی اعادتہ۱؎۔
یعنی روح میّت نہیں وہ تو صرف بدن سے جدا ہوگئی ہے اور اللہ تعالٰی قادر ہے کہ اسے دوبارہ بدن میں لے آئے۔
(۱؎کافی شرح وافی)
دلیل ۶: ساتھ ہی دلائل میں صاف تحریر فرماتے ہیں کہ جس میّت میں ان کا کلام ہے وہ وہی ہے جسے ادراک نہیں، جسے فہم نہیں، جسے درد نہیں پہنچتا، جو بے حس ہے۔ کتب خمسہ مستند مائتہ مسائل میں ہے :
واللفظ للرمز، الکلام للافھام فلا یتحقق فی المیّت ۲؎۔
اور الفاظ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق للعینی کے ہیں: کلام سمجھانے کے لئے ہوتا ہے تو میّت کے حق میں ثابت نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق باب الیمین فی الضرب والقتل الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۲۰)
فتح القدیر میں ہے:
والموت ینا فیہ ۳؎
(اور موت اس کے منافی ہے۔ ت)
(۳؎ فح القدیر باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلک مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۶۱)
اسی مستخلص الحقائق میں بہ تبعت ہدایہ ہے :
من قال ان ضربتک فعبدی حر فھو علی الضرب فی الحیاۃ فلو مات ثم ضرب لا یحنث لان الضرب اسم لفعل مؤلم یتصل بالبدن والایلام لایتحقق فی المیّت۴؎۔
کسی نے کہا اگر میں نے تجھے مارا تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ قسم زندگی کے اندر مارنے پر محمول ہوگی، اگر اسی کے مرجانے کے بعد مارا تو حانث نہ ہوگا، اس لیے کہ مارنا بدن سے متعلق الم رساں کام کا نام ہے اور الم رسانی میّت کے حق میں متحقق نہیں۔ (ت)
(۴؎ مستخلص الحقائق باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلک فضل احمد تاجر کتب پشاور ۲ /۳۸۸)
اسی فتح القدیر میں ہے :
لا یتحقق فی المیّت لانہ لایحس ۱؎۔
میّت کے حق میں متحقق نہیں اس لیے کہ وہ احساس نہیں رکھتا۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلک مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۶۰)
اسی مائۃ مسائل میں عینی شرح کنز میں ہے :
الضرب ایقا ع الا لم وبعد الموت لایتصور ۲؎۔
ضرب کا معنی تکلیف پہنچانا اور بعد موت یہ متصور نہیں۔ (ت)
تو قطعا ثابت وہ بدن ہی میں کلام کر رہے ہیں کہ وہی ایسا میّت ہے جسے نہ حس رہتا ہے نہ ادراک، بخلافِ روح کہ اس کے ادراک قطعاً باقی ہے، خود یہی امام نسفی عمدۃ الکلام میں فرماچکے :
الروح لا یتغیر بالموت ۳؎
(روح موت سے متغیر نہیں ہوتی۔ ت)
(۳؎ عمدۃ الکلام لامام نسفی)
دلیل ۷: پھر جب اس تقریر پر شبہہ وارد ہوا کہ جب حس نہیں، تالم نہیں، تو عذاب قبر کیسا ! تو ان حضرات نے یہی جواب دیا کہ معاذ اللہ جس پر عذاب قبر ہوتا ہے اسے قبر میں یک گونہ حیات دی جاتی ہے جس سے الم پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے،
اسی مائۃ مسائل میں عینی سے بعد عبارت مذکورہ ہے :
ومن یعذب فی القبر یو ضع فیہ الحیاۃ علی الصحیح ۴؎۔
جسے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے صحیح قول یہ ہے کہ اس میں زندگی پیدا کردی جاتی ہے۔ (ت)
عند العامۃ یوضع فیہ الحیاۃ بقدر مایتألم لاالحیات المطلقۃ وقیل یوضع فیہ الحیاۃ من کل وجہ۱؎۔
جمہور کے نزدیک اس میں اس قدر زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ اسے الم کا احساس ہو، حیات مطلقہ نہیں رکھی جاتی، اور کہا گیا کہ اس میں پورے طور پر زندگی رکھ دی جا تی ہے۔(ت)
عہ لطیفہ: مائۃ مسائل میں یہ کافی کی عبارت اسی طرح نقل کی جس سے وہم ہو کہ جمہور علماء کے نزدیک قبر میں بدن کی طرف عود حیات صرف ایک خفیف طور پر ہوتا ہے، حیات کامل ملنا قولِ بعض ومرجوح ہے کہ اسے عامہ کی طرف نسبت کرکے اس بلفظ قیل نقل کیا حالاناکہ فقیر کافی میں جمہور کے نزدیک اعادہ حیات اور اس کی دلیل لکھ کر انھیں سے وہ دونوں قول حیاتِ خفیفہ وحیات کاملہ کے یکساں طور پر نقل کیے کہ :
ثم اختلفوا فقیل توضع فیہ الحیاۃ بقدر مایتألم لاالحیاۃ المطلقۃ، وقیل توضع فیہ الحیاۃ من کل وجہ ۳؎ اھ
پھر علماء مختلف ہوئے بعض نے کہا اس میں اس قدر زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ اسے الم کا احساس ہو حیات مطلقہ نہیں رکھی جاتی، اور بعض نے کہا کہ اس میں پورے طور پر زندگی رکھ دی جاتی ہے اھ (ت)
اسی طرح علامہ عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا فلیتنبہ ۱۲ منہ (م)
(۱؎ مائۃ مسائل مسئلہ ۲۶ مکتبہ توحید و سنہ قصہ خوانی پشاور ص۵۲)(۳؎ کافی شرح وافی)