Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
224 - 243
شیخ محقق کی عبارت منقول تھی :
بالجملہ کتاب و سنت مملو ومشحون اند باخبار و احادیث کہ دلالت مے کند بروجود علم مرموتٰی رابد نیا و اہل آں  پس منکر نہ شود آں رامگر جاہل باخبار ومنکر دین ۱؂
بالجملہ کتا ب وسنت ایسی اخبار واحادیث سے لبریز ہیں جن میں دلیل ہے کہ مردوں کو دنیا و اہل دنیا سے متعلق علم ہوتا ہے، توا س کا منکر وہی ہوگا جو احادیث سے جاہل اور دین کا منکر ہو۔ (ت)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات    باب حکم الاسراء      مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۰۱)
ثالثاً: کیا مولانا قاری وشیخ محقق نے احادیث سلام و حدیث ترمذی عن ام المومنین دربارہ خطاب بہ میّت وغیرہا سے استدلال نہ کیا تھا۔ یا یہ سب بھی طبقہ رابعہ میں داخل اور ان  پر اعتماد مردود وباطل۔

رابعاً: کتب سیوطی میں جو کچھ ہے کیا سب طبقہ رابعہ سے ہوتا ہے یا یہاں خاص ایسا ہے؟ اور جب دونوں باتیں بداہۃً باطل، تو طبقہ رابعہ کا ذکر مہمل ولاطائل۔
خامساً : احادیث طبقہ رابعہ جس طرح تصانیف امام ممدوح میں مذکور ہوئیں یو نہی عامہ ائمہ کی تالیف میں، اورخود یہ بلکہ ان سے نازل ترکی احادیث و روایات حجۃ اللہ البالغہ وقرۃ العینین وازالۃ الخفاء وتفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہا  تصانیف ہر دو شاہ صاحب میں کہ یہی ا س تقسیم طبقات کے موجد و قائل ہیں تو وہ تو دہ بھری ہیں ۔

سادساً :لطف یہ کہ خود انہی شاہ عبدالعزیز صاحب نے خودا سی مسئلہ سماع موتٰی میں خود انہی احادیث سے استناد کیا۔ اسی طرح شرح الصدور شریف کا حوالہ دیا کہ:
تفصیل آں دفتر طویل مے خواہد درکتا ب شرح الصدور فی احوال الموتٰی والقبور کہ تصنیف شیخ جلال الدین سیوطی است ودیگر کتب حدیث باید دید ۲؎۔
اس کی تفصیل ایک طویل دفتر کی طالب ہے شیخ جلال الدین سیوطی کی تصنیف شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور اور دوسری کتب حدیث دیکھنا چاہئے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی عزیزی    مکتوب درحال ہمراہیان حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۸)
سابعاً: یہ سب تمھارے فہم کے لائق کلام تھا اگر طبقات کے بارے میں تحقیق حق ناصع درکارہو تو فقیر کا رسالہ مدارج طبقات الحدیث دیکھئے کہ بعونہٖ تعالٰی انکھیں کھلیں اور حق کے دریا لہراتے ملیں مکابرہ قنوجی اب وہ جواب سنئے جو ملاتفہیمی صاحب نے صحیح حدیثوں اور ائمہ علماء کی تمام تحقیقوں کا دو حرف میں دے دیا یہی شگوفہ طبقہ رابعہ چھوڑ کر فرماتے ہیں :
علاوہ ازیں تفسیر ابن عباس کہ شیخ جلال الدین سیوطی ذکر آں در دُرمنثور کردہ صریح عدم سماع موتٰی مستفاد است۱؎۔
علاوہ ازیں تفسیر ابن عباس سے ___ جس کا ذکر شیخ جلال الدین سیوطی نے درمنثور میں کیا ہے: مردوں کا نہ سننا صاف طور پر مستفاد ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل         عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہور  ص ۸۳ )
پھر وہ تفسیر بحوالہ ابوجہل سدی بن سہل الجنید النیشا پوری (عہ) بطریق عبدالقادر عن ابی صالح عن ابن عباس یہ نقل کی کہ جب سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قلیب بدر  پر ان کافروں کی لاشوں سے کلام کیا اور فرمایا: تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سنتے،
فانزل اﷲ تعالٰی انک لا تسمع الموتٰی وما انت بمسمع من فی القبور ۔
اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیتیں اتاریں، پھر خود اس روایت کی نسبت
کہا نص است برآنکہ موتٰی راسماع نیست ۲؎
(یہ اس پر نص ہے کہ مردے نہیں سنتے۔ ت)
عہ : درنسخہ مطبوعہ تفہیم المسائل ہمچنیں است و صحیح الجنید نیشاپوری است فلیتنبہ ۱۲منہ (م)
تفہیم المسائل کے مطبوعہ نسخوں میں اس طرح ہے اور صحیح ''الجنید نیشاپور'' ہے، اسے یاد رکھنا چاہئے  ۱۲منہ (م)
 (۲؎ تفہیم المسائل         عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ        مطبع محمدی لاہور    ص ۷۳)
اقول اولاً :صحاح جلیلہ مشہورہ بخاری ومسلم کے مقابل ایسی شواذ غریبہ ونوادر مجہولہ اجزائے خاملہ ذکر کرتے شرم نہ آئی، او ر ایک کتاب میں رطب ویابس، مقبول ومردود جو ملے محض جمع کردینا مقصود ہو دوسری جگہ استدلال وتفریع وتحقیق وتنقیح موجود ہو ان میں فرق کی تمیز بنائی۔
ثانیاً : محمدر سول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تو مؤکد  بقسم کرکے
والذی نفس محمد بیدہ ما انتم باسمع لما اقول  منھم ۳؎
قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں محمدکی جان پاک ہے میں جو فرمارہا ہوں اسے تم سے کچھ زیادہ نہیں سنتے، اور تو ان آیتوں کی اس کے خلاف پر اتر نا مانے، کیا معاذاللہ قرآن عظیم اپنے رسول کی قسم کی تکذیب کے لئے اترا؟ ایسا لکھتے اللہ ورسول سے کچھ حیا نہ آئی۔ ام المؤمنین نے جب حدیث کو مخالف آیت گمان کیا راوی کی طرف وہم وسہو نسبت فرمایا تو نے تو اس ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یوں فرمانا اور قرآن عظیم کا معاذاللہ اس خبر کی تغلیظ میں آنا مانا۔
 (۳؎ صحیح البخاری        باب قتل ابی جہل        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۵۶۶)
ثالثاً : لطف یہ کہ یہ آیتیں تین سورتوں میں واقع ہوئیں، نمل، ملائکہ، روم ، تینوں مکیہ ہیں کہ قبل ہجرت نازل ہوئیں اور واقعہ بدر ہجرت کے بعد ہے۔کیا آیتیں پیشگی اتر آئی تھیں؟ علماء نے ان آیات کو نہ مستثنیات من الملکیات میں شمار فرمایا نہ مستثنیات فی النزول میں۔
رابعاً :دیکھئے سباق و سیاق آیات صراحۃً کلام کفار احیاء میں ہے کہ سخن حق میں نہیں سنتے، نہیں مانتے نہ کافروں کی لاشوں میں۔ سورۃ روم میں فرماتا ہے:
ولئن ارسلنا ریحا فرأوہ مصفرا لظلوا من بعدہ ویکفرون oفانک لاتسمع الموتی ولاتسمع الصم الدعاء اذا ولّوا مدبرین o  وما انت بھادی العمی عن ضلالتھم ان تسمع الاّ من یؤمن باٰیتنا فھم مسلمون  ۱؎ o
اگرہم ہوا بھیجیں جس سے وہ کھیتی کو زرد یکھیں تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں، بیشک تم مردوں کو نہ سناؤ گے اور نہ بہروں کو پکار سناؤں گے جب وہ پیٹھ دے کر پھریں، اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والے ہو، تم ان ہی کو سناؤ گے جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائیں پھر وہ فرمانبردار ہوں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن        ۳۰/۵۱  تا  ۵۳      و     ۲۷ /۸۱  و  ۸۲)
بعینہٖ اسی طرح انک لا تسمع الموتٰی سے آخر تک سورہ نمل میں ہے۔ سورہ فاطر میں ہے:
انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب واقاموا الصلٰوۃ ومن تزکی فانما یتزکی لنفسہ و الی اﷲ المصیر ومایستوی الاعمٰی والبصیر ولاالظلمات ولاالنور ولا الظل والاالحرور  ومایستوی الاحیاء والاموات ط ان اﷲ یسمع من یشاء  ط واما انت بمسمع من فی القبور  ط ان انت الا نذیر ۲ ؎۔
بیشک تمھارا ڈرسنانا ان ہی کا کام دیتا ہے جو اپنے رب سے بے دیکھے ڈریں اور نماز قائم کریں اور جو ستھرا بنے وہ اپنے نفع ہی کے لئے ستھرا ہوگا اور اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے۔ اور برابر نہیں نابینا اور بینا، نہ ہی تاریکیاں اور روشنی، نہ ہی سایہ اور تیز دھوپ، اور برابرنہیں زندے اور مردے بیشک اللہ جسے چاہتا ہے سناتا ہے، اور تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں، تم تو صرف ڈرسنانے والے ہو۔ (ت)
(۲؎ القرآن        ۳۵/۱۸ تا ۲۳)
ایمان سے کہنا ان آیتوں میں یہی بیان ہے کہ کافروں کی لاشوں  پرکیوں پکار رہے ہو وہ مرنے کے بعد کیا سنیں گے۔

خامساً :قطع نظر اس سے کہ اگر اس واقعہ میں اس افادے کے لیے یہ کلام پاک اترتا تو فاطر والی آیت یانمل و روم میں کی ایک کافی تھی
، انک لا تمسع  جُدا اور ماانت بمسمع
الگ اترنے کی کیا حاجت تھی؟ نمل وروم کی دونوں آیتیں تو حرف بحرف ایک ہی ہیں صرف زیادت فاکا فرق ہی، اس کے کیا معنی تھے کہ جبریل اس واقعہ پر انکار کے لیے ایک بار انک لاتسمع آخر تک سناتے پھر اس وقت
''فانک لاتسمع''
آخرتک سناتے، لاجرم ان میں کی ایک کسی دلیل سے اپنے محل سورت سے جدا نہیں ہوسکتی، اور جب مکہ معظمہ میں پیش ہجرت انکار اتر چکا تھا تو اب سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اس پر بقسم اصرار کیا احتمال رکھتا تھا!
Flag Counter