Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
223 - 243
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
ان ارواح اٰل فرعون فی اجوان طیر سود یعرضون علی النار کل یوم مرتین تغدو  و تروح الی النار فیقال یا اٰل فرعون ھذہ مأوٰکم حتی تقوم الساعۃ  ۱؎۔
فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹ میں ڈال کر انھیں روزانہ دوبار نار پر پیش کیا جاتا ہے، صبح وشام کو نار کی طرف جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے اے فرعون والو! یہ تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور    تحت آیہ مذکورہ     مکتبہ آیۃ اللہ ایران    ۵ /۵۲ ۔ ۳۵۱)
فرعون اور فرعونیوں کو ڈوبے ہوئے کتی ہزار برس ہوئے ہر روز صبح وشام دو وقت اگ پر پیش کیے جاتے ہیں جہنم جھنکا کر ان سے کہا جاتا ہے یہ تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت آئے۔ اور ایک انھیں پرکیا موقوف ہر مومن و کافر کو یونہی صبح وشام جنت ونار دکھاتے اور یہی کلام سناتے ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم وموطائے امام مالک و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامات احدکم عرض علیہ مقعدہ، بالغداۃ والعشی، ان کان من اھل الجنۃ فمن اھل الجنۃ وان کان من اھل النار فمن اھل النار یقال لہ ھذا مقعدک حتی یبعثک اﷲ الی یوم القیامۃ ۲؎۔
جب تم میں سے کوئی مرتا ہے اس پر اس کا ٹھکانا صبح وشام پیش کیا جاتا ہے، اگر اہل جنت سے تھا تو اہل جنت کا مقام اور اہل نار سے تھا تو اہل نار کا مقام دکھا یا جاتا ہے اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ خدا تجھ کو روز قیامت اس کی طرف بھیجے۔ (ت)
 (۲؎ مؤطا امام مالک    جامع الجنائز      میر محمد کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۲۱)
یو نہی اموات کی باہم ملاقات، آپس کی گفتگو ، قبر کا ان سے باتیں کرنا، ان کی حد نگاہ تک کشادہ ہونا احیاء کے اعمال انھیں سنائے جانا، اپنے حسنات وسیئات اور گاؤماہی کا تماشا دیکھنا وغیرہ وغیرہ امور کثیر جن کی نظر صدر مفصد دوم میں اشارہ گزرا، جن کے بیان میں دس بیس نہیں صدہا حدیثیں وارد ہوئیں ان مطالب پر شاہد ہیں جس طریقے سے ہو ان چیزوں اور آوازوں کو دیکھتے سنتے ہیں اور قیامت تک جس کے گلنے خاک میں ملنے کے بعد بھی دیکھیں سنیں گے، یونہی زائروں قبروں کے سامنے گزرنے والوں اور ان کے کلام کو۔ طرفہ یہ کہ مولوی اسحاق صاحب نے بھی جواب وسوال ۱۹ میں تسلیم کیا مردے زندوں کا سلام سنتے ہیں۔ حضرت! جن کانوں سے سلام سنتے ہیں انہی سے کلام ۔ یہ تو ہماری طرف سے کلام تھا، اب جانب منکرین نظر کیجئے ان کا انکار بھی قطعا عام ہے، صرف آلاتِ جسمانیہ سے خاص نہیں، کاش وہ ایمان لے آئیں کہ اموات اصوات کا ادراک تام کرتے ہیں مگر نہ گوشِ بدن تو جھگڑا ہی کیا ہے، ابھی اتفاق ہوگیا، اہل سنت بھی تو اسی قدر فرماتے ہیں، گوش وگوشت کی تخصیص کب بتاتے ہیں مگر حاشا و ہ کب اس راہ آتے ہیں، انھیں تو اولیائے مدفونین کی ندا حرام کرنی ہے۔ ان محبوبان خدا سے طلب دعا حرام کرنی ہے۔ وہ کس دل سے سننا مان لیں، اگرچہ بے زریعہ گوش، دیکھنا تسلیم کرلیں گے گو بے واسطہ چشم، انھیں مولوی مجیب صاحب کی طرح یہ کہنا کہ جب درمیان زائر ومقبور کے حجب عدیدہ سمع وبصر حائل تو سماع اصوات اور بصارت صور محال، یہ تحریر محل نزاع ہے جس کو سمجھ لینا مزیل اشکال،
الحمد اﷲ المھیمن المتعال وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ خیر صحب واٰل ۔
تمام تعریف خدائے نگہبان برتر کے لئے ہے۔ اور اللہ تعالٰی ہمارے آقا حضرت محمد اور ان کی آل واصحاب پر جو بہترین آل واصحاب ہیں درود نازل فرمائے۔ (ت)

بحمد اللہ تقریر مقدمات سے فراغ پایا۔ تحریر جوابات کا وقت آیا جو امر جس مقدمے میں ثالث کیا گیا جواب میں اس پر علامت (مقہ ) لکھ کر شمار مقدمہ کا ہندسہ بغرض یاد دہانی ثبت ہوگا کہ ہرجگہ بحکم مقدمہ فلاں یا دیکھوں مقدمہ فلاں لکھنے کی حاجت نہ ہو۔
فاقول وبا اﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
 (اللہ تعالٰی کی توفیق ومدد سے ذرویہ تحقیق تک پہنچا جاسکتا ہے۔ت)
جواب اول: ائمہ اہل سنت رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماعی عقیدہ کہ مردے سنتے ہیں قطعاً حق ہے، اور کیوں نہ حق ہو کہ وہ اہل سنت ہیں حق انھیں میں منحصر ہے۔ اور اس کے معنٰی یہ کہ مردگان (کہ ان پربھی اطلاق مردہ ومیّت کیا جاتا ہے اور خود وہ اور ان کے ادراکات باقی ومستمر وبحال ونامتغیر ہیں) بعد فراق بھی بدستور ادراک اصوات وکلام کرتے ہیں اور ان مشائخ وشراح اہلسنت وفلاح رحمہم اللہ تعالٰی کا بیان کہ ''مردے نہیں سنتے'' بے شک صحیح ہے، اور کیوں نہ صحیح ہو کہ وہ اہل فقاہت ہیں، ان کا فضل وکمال ظاہر و باہر ہے۔ اور اس کے معنٰی یہ کہ جو چیز مرگئی یعنی بدن کہ حقیقۃً وہ مردہ ہے مردہ ہے سمع سے معزول ہے آلیت وتوسط وتادیہ صور کے لائق نہیں، یہ دونوں کلام صراحۃً سچ ہیں اور آپس میں اصلاً متخالف، نہ کوئی حرف مفید مخالفن بحمد اللہ تعالٰی اس معنی نفیس کا بروجہ احتمال ہی بیان کرنا ہمیں بس تھا، مخالفان عبارات علماء سے مستدل اور ان کے منکر سماع ہونے کومدعی ہے اور احتمال قاطع استدلال پھر سند کے لئے نظرا نصاف میں متعدد دلیلیں موجود  (عہ)،  عہ : کہ بقالوں مناظرہ شواہد نقض تفصیلی ہیں  ۱۲ منہ  (م)  مثلاً:۔ دلیل۱:جب ائمہ دین وعلمائے معتمدین سے ہزار در ہزار قاہر تصریحیں سماعِ موتٰی کے باب میں موجود اور بتصریح

علماء حتی الامکان کلمات ائمہ میں توفیق وتطبیق محمود ومقصود، اور بے ضرورت داعیہ ابقائے خلاف ونزاع جس کے باعث خواہی نخواہی ای گروہ ائمہ کا کلام غلط باطل ٹھہرے مطرود ومردود، اور یہ توفیق کہ بتوفیق الٰہی ہم نے ذکرکی واضح وصریح اور تخالف مفقود، تو لاجرم اسی کی طرف مصیر لازم، اور یہ راہ خلاف بند و مسدود ۔
دلیل ۲: خلاف وتطبیق درکنار ثقات علماء اثبات سماع موتٰی پر اجماع اہلسنت نقل فرماچکے ، کیا معاذا للہ انھیں جزاف وکذب کی طرف نسبت کرسکتے ہیں یا اکثر مشائخ حنفیہ عیاذاً با للہ ایسے بے مقدار و ناقابل شمار کہ ان کے خلاف کو لاشیئ ٹھہرا کرعلماء ادعائے اجماع رکھتے ہیں، لاجرم سبیل یہی ہے کہ باہم خلاف ہی نہیں اجماع نسبت ارواح اور قول مشائخ نسبت اشباح۔
دلیل۳:جب احادیث کثیرہ وافرہ صریحہ متوافرہ سماع موتٰی پر  بے تخصیص و تقیید قوت ایسی نا طق جن میں ذی انصاف ودین کو مجال تاویل وتبدیل نہیں تو کیا مقتضائے حق شناسی حضرات مشائخ ہے کہ اپنی بات بنانے کے لیے خواہ مخواہ ان کا کلام مخالف احادیث سید الانام علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والسلام ٹھہرائے اور  وہ بھی کسی جرأت کے ساتھ کہ خاص اخبار متعلقہ بغیب وبرزخ کا مقام اور خود اراشادات صریحہ نبی لاریب امین الغیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف کلام
وان ھذا الابلاء لا یحتمل وعنأ لایرم
 (یہ ایسی بلاء ہے جو اٹھنے والی نہیں اور ایسی تکلیف جو ٹلنے والی نہیں۔ ت)
رہا وہابی قنوج  رفو خواہ مائۃ مسائل صاحب تفہیم المسائل کا تعصب کہ:
آنچہ از ملا علی قاری و شیخ عبدالحق آوردہ ہمہ ہا از شرح صدور نقل می کنند و مایہ تصانیف شیخ جلال ا لدین سیوطی کتب احادیث طبقہ رابعہ است وایں احادیث قابل اعتماد نیستند ۱ ؎۔
جو کچھ ملا علی اور شیخ عبدالحق سے نقل کیا ہے سب شرح الصدور سے ناقل ہیں اور شیخ جلا ل الدین سیوطی کی کتابوں کا سرمایہ طبقہ رابعہ کی احادیث ہیں اور یہ حدیثیں قابل اعتماد نہیں۔ (ت)
 (۱؎ تفہیم المسائل    عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ    مطبع محمدی لاہور    ص۸۳)
اقول اولاً : شدت تعصب نے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث جلیلہ کو شاید دیکھنے نہ دیا۔ ان  پر بھی طبقہ رابعہ کا حکم ہوگیا۔ کیا علی قاری و شیخ محقق نے ان سے استناد نہ کیا یا آپ نے ان کے کلاموں کا جواب دے لیا، شرم شرم شرم ! ہا ں مجھی کو سہو  ہوا جواب کیوں نہ دیا، وہ دیا کہ عقل وحیا دیانت سب کو جواب دیا۔ اخر کلام میں اسے بھی سن لیجئے۔
ثانیاً: یہاں ان کے علاوہ اور حدیثیں بھی تھیں کہ ائمہ فن نے جن کی تصحیحیں کیں، زیادہ علم نہ تھا تو اپنے خصم ہی کا کلام دیکھا ہوتا، مولانا علی قاری کی عبارت نقل کی تھی :
ھذہ المسائل کلھا ذکرھا السیوطی فی کتابہ شرح الصدور فی احوال القبور بالاخبار الصحیحۃ والاٰثار الـصریحۃ ۔
یعنی یہ سب مسائل امام سیوطی نے شرح الصدور میں صحیح حدیثوں صریح روایتوں سے بیان کئے ۔
Flag Counter