Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
222 - 243
یونہی جسم کو
انا الانسان
کا دعوٰی پہنچتا ہے۔ ہم سنتا، دیکھتا، بولتا، چلتا، پھرتا کام کرتا بدن ہی دیکھتے ہیں حالانکہ مدرک و فاعل روح ہے اور بدن آلہ، لہذا بدن پر اطلاق انسان حقیقت عرفیہ(عہ)  قرار پایا اور  وہی تمام صفات وافعال کا منسوب الیہ ٹھہر اور قرآن عظیم بھی مطابقت عرف پر اترا،
قال تعالٰی انہ لحق مثل ما انکم تنطقون  ۱؎۔
باری تعالٰی فرماتا ہے: بے شک وہ حق ہے اس کے مثل جو تم بولتے ہو۔ (ت)
عہ : عرف تو عرف اس شدت اختلاط وعدم تمایز بحد اتحاد نے سفہائے فلاسفہ کو دھوکا دیا جو ہمیشہ تدقیق کے نام پر جان دیتے اور فضول  تعمقات کو تحقیق جانتے  ہیں۔ وہ بھی کہاں، خاص مقام  تحدید میں  انسان کی تعریف کر  بیٹھے حیوان ناطق ، حالانکہ حیوانیت بدن کے لئے ہے کہ وہی جسم نامی اور ناطق ومدرک روح، بلکہ خود حیوان ہی کی تعریف میں خلط ہے، جسم نامی متحرک بدن ہے اور حساس ومدید روح  ۱۲منہ (م)
 (۱؎ القرآن      ۵۱ /۲۳)
اب نہ تجوز  ہے نہ استخدام، نظیر اس کی ''رأیت زیداً '' ہے زید را دیدم، زید کو دیکھا، حالانکہ زید اگرچہ اس سے بدن ہی مراد لیجئے ہر گز ہمیں مرئی نہیں،مرئی صرف رنگ و سطح بالائی ہے اور  وہ قطعا نہ روح زید ہے نہ بدن، مگر شدت اتصال کی باعث اسے رؤیت زید کہتے ہیں اور ہر گز اس میں تجوز و مخالفت حقیقت کا توہم بھی نہیں کرتے یہاں تک کہ اگر کوئی زید کے رنگ و سطح کو یونہی دیکھے اور قسم کھا ئے میں زید کو نہ دیکھا قطعاً کاذب سمجھا جائے گا،
لاجرم تفسیر کبیرمیں روح کے غیر جسم ہونے پر کلام واسع ومشبع لکھ کر فرماتے ہیں :
اعلم ان اکثر العارفین المکاشفین من اصحاب الریاضات وارباب المکاشفات والمشاھدات مصرون علی ھذ القول جاز مون بھذا المذھب، واحتج المنکرون بقولہ تعالی من ای شیئ خلقہ من نطفۃ خلقہ ھذا تصریح بان الانسان مخلوق من نطفۃ وانہ یموت ویدخل القبر ولولم یکن عبارۃ عن ھذہ الجنۃ لم تکن الاحوال المذکورۃ صحیحۃ والجواب انہ لما کان الانسان فی العرف والظاھر عبارۃ عن ھذہ الجثۃ اطلق علیہ اسم الانسان فی العرف۲؎ اھ مختصراً
معلوم ہو ا کہ اہل ریاضت اور ارباب کشف ومشاہدہ میں سے اکثر عرفاء مکاشفین اس قول پر اصرار اور اس مذہب پر جزم رکھتے ہیں__ اور منکرین نے باری تعالٰی کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے اسے کس چیز سے پیدا کیا، نطفہ سے، یہ اس بات کی تصریح ہے کہ انسان نطفہ سے پیدا کیاگیا ہے اور وہی مرنے والا اور قبر میں جانے والا ہے، اگر انسان جسم وجُثہ سے عبارت نہ ہو تومذکورہ احوال صحیح نہ ہوں گے، جواب یہ ہے کہ نہ عرف اورظاہر میں انسان اس بدن سے عبارت تھا تو عرفاً ا س پر لفظِ انسان اطلاق ہوا۔ (ختم باختصار)
 (۲؎ تفسیر کبیر    زیر  آیہ  ویسئلونک عن الروح    مطبعۃ بہیہ مصریہ بمیدان الجامع الازہر مصر    ۲۱ /۵۳۔ ۵۲)
اقول وھذالجواب احسن مماقدم قبلہ حیث قال، فان قالوا ھذہ الاٰیۃ حجۃ علیکم لانہ تعالٰی قال ''ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین) وکلمۃ من للتبعیض وھذا یدل علی ان الانسان بعض من ابعاض الطین، قلنا کلمۃ ''من'' اصلھا لابتداء الغایۃ کفولک خرجت من البصرۃ الی الکوفۃ فقولہ تعالٰی ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین،  یقتضی ان یکون ابتداء تخلیق الانسان حاصلان من ھذہ السلالۃ ونحن نقول بموجبہ لانہ تعالٰی یسوی المزاج اولا ثم ینفخ فیہ الروح فیکون ابتداء تخلیقہ من السلالۃ  ۱؎ اھ قلت وقدیستأنس لہ بقولہ تعالٰی
وبدأخلق الانسان من طین ۲؎،
فافھم۔
اقول یہ جواب اس سے بہتر ہے جو اس سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ اگر وہ کہیں کہ یہ آیت تمھارے خلاف حجت ہے اس لیے کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا ایک خلاصہ سے جو مٹی سے ہے۔ کلمہ مِنْ (سے) تبعیض کے لئے ہے۔ اور  یہ بتاتا ہیے کہ انسان مٹی کا ایک جُز اور بعض ہے ___ ہم جواب دیں گے کہ کلمہ مِنْ کی اصل ابتدائے غایت کے لئے ہے جیسے تم کہتے ہو میں بصرہ سے کوفہ گیا، تو ارشاد باری (ہم نے انسان کو پیدا کیا ایک خلاصہ سے جو مٹی سے ہے) اس کا مقتضی ہے کہ تخلیق انسان کی ابتداء اس خلاصے سے ہوتی ہے (ختم) قلت اس جو اب کے لئے اس ارشاد سے استیناس ہوتاہے : اور انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی، تو اسے سمجھو۔ (ت)
 (۱؎ تفسیر کبیر    زیر آیہ ویسئلونک عن الروح        مطبعۃ بہیۃ مصریۃ بمیدان الجامع الازہر    ۲۱ /۵۱)

(۲؎ القرآن      ۳۲ /۷)
بالجملہ خلاصہ مبحث یہ ہوا کہ اطلاق انسان کے لیے دو حقیقتیں ہیں:ا یک حقیقت اصلیہ دقیقہ یعنی روح متعلق بالبدن اگر چہ بتعلق برزخی،د وم حقیقت مشہور عرفیہ یعنی بدن، اور اکثر متکلمین کے زعم میں یہی حقیقت اصلیہ ہے، اور اگر غرابت فنِ سے قطع نظر کرکے ان کا کلام انسان عرفی پر محمول کریں تو وہ بھی صحیح ۔
مقدمہ سادسہ: اقول صفات بدن دو قسم ہیں: اصلیہ کہ خود بدن کے لئے حاصل اور تبعیہ کہ حقیقۃً صفات روح ہیں، اور بوجہ اتحاد مذکور بدن کی طرف منسوب جیسے علم و سمع وبصر و ارادہ و فاعلیت افعال اختیاریہ وغیرہا، عر ف میں اگرچہ انسان نامِ بدن ٹھہرا مگر صفات تبعیہ کی اس کی طرف اضافت مشروط بشرط حیات ہے، بعد موت بے عود حیات بدن خالی کو عرفاً لغۃً کسی طرح سمیع وبصیر مرید فاعل عامل نہیں کہتے کہ یہ نسبتیں اس اتصال سریانی پر مبنی تھیں جس نے روح وبدن کو عرفاً امر و حدانی کردیا تھا، جب وہ مسلوب ہو ا کشف محجوب ہوا، صفات تبعیہ حق بہ حقدار رسید ہوکر اپنے مرکز کو گئیں اور اس تودہ خاک کو  اپنی اصلی حالتیں ظاہر ہوئیں، نظیر اس کی وہی صحبت اتش وانگشت ہے، کوئلہ کالا ٹھنڈا تاریک تھا اور نار دخانی گرم  و روشن ، جب تک اگ کی سرایت سے دہک رہاتھا اس کے نیچے اپنے عیوب چھپے ہوئے تھے آگ ہی کے اوصاف سے موصوف ہوتا جب آگ جدا ور برکران ہوئی اصل حقیقت عیان ہوئی تو ایمان اگر چہ عرف پر مبنی ہیں اور عرفاً انسان خواہ بلفظ انسان وبشرو آدمی تعبیر کیا جائے یا اعلام وضمائر واسماء اشارہ سے اس کا معبرعنہ یہی بدن ہوتا ہے مگر بنظر تقسیم مذکور امور محلوف علیہا کی طرف نظر ضرور ، اگر صفات اصلیہ پر مقصودہو، جیسے اٹھانا ، بٹھانا،نہلانا و غیرہ توکچھ حالت کی تخصیص نہ ہوگی کہ نفس بدن کا ان کا صالح ہے، اور اگر صفاتِ تبعیہ پرموقوف ہو جیسے خطاب و اعلام و افہام و کلام، تو ضرورۃ متقید بحال حیات رہے گا کہ بغیر ان کے بدن ان کا صالح نہیں، بالجملہ انسان کا عرفاً بدن میں حقیقت ہونا اور معنی حقیقی عرفی میں استعمال کیا جانا زنہار  اسے مقتضٰی نہیں کہ وہ کلام بدن کی ہر حالت کو مشتمل رہے یا بعض احوال پراقتصار کے باعث حقیقت عرفیہ سے منسلخ ہو کر کسی اور معنی  پر محمول بنے بلکہ وہی مراد ہو کہ بات جس حال کے قابل ہوگی اسی قدر کو شامل ہوگی مثلاًاگر کہئے زید نے کوئلے سے بدن جلالیا تو قطعا اس سے وہی دہکتا ہو اکوئلہ مراد ہوگا کہ جلانے کی صلاحیت اسی میں ہے۔ اس سے نہ یہ لازم کہ مطلق کوئلہ اس سے مفہوم ہو نہ یہ کہ کوئلہ اپنے معنی حقیقی سے محروم ہو
وھذا کلہ ظاہر جدا
(اور یہ سب بہت واضح ہے۔ ت) بحمد اللہ تعالٰی یہ معنٰی ہیں اس ضابطے کے جو علماء نے یہاں ارشاد فرمایا، اور تنویر الابصار ودرمختار وشروح کنز وغیرہ میں مذکور ہو اکہ:
ماشارک المیّت فیہ الحی یقع الیمین فیہ علی الحالتین، وما اختص بحالۃ الحیاۃ تقید بھا۱؎۔
جس امر میں میّت زندہ کا شریک ہو اس میں قسم دونو ں حالتوں پر واقع ہوگی اور جو حالتِ حیات سے خاص ہو اس میں قسم حالتِ زیست سے مقید رہے گی۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۳۱۱)
مقدمہ سابعہ : اقول مناظرات میں وقت و اطاعت کہ راہ پاتی ہے بیشتر اصل مقصد ومورد نزاع سے غفلت کے باعث منہ دکھاتی ہے، فریقین اس کے پابند رہیں، یہ تو معلوم ہو کہ اہل باطل اکثر اصل مطلب سے فرار ہی میں مفر مگر اہل حق پرا س کا خیال لازم، ہر وقت پیش نظر رکھیں کہ بحث کیاتھی اور چلے کدھر، اس میں باذن اللہ تعالٰی تخفیف مؤنت او ر مخالف کے عجز و سکوت جلد ظاہر ہونے پر معونت ہوتی ہے، اس مسئلہ دائرہ سماع موتی میں مقصود اہلسنت کچھ اس پر موقوف نہیں کہ تمام اموات کیے بدن ہی قبر میں ہمیشہ زندہ رہیں زائروں کے سلام وکلام وہ انہی کا نوں کے ذریعہ سے سنیں ہوائے متموج متکیف بالصوت انہی کے  پٹھوں کو کرے، اسی طریقے پر سماع ہو، یونہی رؤیت عامہ اموات میں، ہماری اس سے کوئی غرض متعلق نہیں کہ وہ انہی انکھوں سے دیکھے، انہی سے خروج شعاع یا انھیں کے لوح میں صورت کا انطباع ہو، یہ نہ واقع ہے نہ ہمارا دعوٰی کو اس پر توقف، آخر اہلسنت کے نزدیک جس طرح ابھی کا مردہ سنتا دیکھتا ہے یو نہی برسوں کا ، جبکہ کان آنکھ جسم کا کوئی ذرہ سلامت نہ رہا سب خاک وغبار ہو کر مٹی میں مل گیا، جس طرح مسلمان قبر میں سنتاہے یونہی ہندو کافر مرگھٹ میں، جس وقت اس کے کان آنکھ کو آگ دیتے ہیں وہ ان آگ دینے والوں کو دیکھتا ان کی باتیں سنتا اس آگ کی اذیت کا احساس کرتاہے۔ آنکھ کان اعضا ء کو جلتا دیکھتا ان  پر آگ بھڑکنے کی آواز سنتا ہے اور جب جل بجھ کر راکھ ہوجاتے ہیں جب بھی دیکھتا سنتا ہے۔ جو سلام وکلام مدفون امروزہ کے لئے شرع مطہر ہ میں ہے وہی مدفون ہزار سالہ کے واسطے، دونوں سے وہی کہاجائےگا کہ ''سلام تم پر اے ایمان والو! اللہ تعالٰی تمھیں اور ہمیں بخشے، تم ہمارے اگلے ہو اور ہم تمھارے پچھلے ،خدا چاہے تو ہم تم سے ملنے والے ہیں۔'' حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان صحابی اعرابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جب یہ حکم دیا کہ ''جہاں کسی کافر کی قبر  پرگزرو  اسے دوزخ جانے کا مژدہ دو،'' تو ارشاد اقدس میں تخصیص تازہ مر ے ہوئے کی نہ تھی بلکہ صاف تعمیم تھی اور تعمیم ہی پر ان صحابی نے کاربندی کی، غرض دلائل مطلق ہیں اور عقیدہ مطلق اور آلات جسمانیہ کی تخصیص ناحق، ہمیں اتنی بات سے کام ہے کہ مردے زندوں کی طرح صورت و صوت کا ادراک کرتے ہیں، اور او پر روشن ہوچکا کہ ادراک کار  روح ہے اور روح نہ موت سے مرتی ہے نہ متغیر ہوتی ہے، مگر اس پر بھی لفظِ میّت کا اطلاق آتا ہے ہم انھیں ارواح موتٰی کے سماع وابصار کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اسی کو اموات کا دیکھنا سننا کہتے ہیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہاں بھی ذرائع وآلات یہی ہوں یا غیر، فصل پانزدہم میں امام شیخ الاسلام خاتمۃا لمجتہدین تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی سبکی قدس سرہ الملکی کا ارشاد گزرا کہ ہم نہیں کہتے کہ مردہ بدن سنتا ہے بلکہ روح سنتی ہے خواہ تنہا جبکہ بدن مردہ رہے یا جسم سے مل کر جبکہ حیات جانب جسم  عود کرے، آخر اس قدر سے حضرات منکرین بھی منکر نہیں کہ اموات جنت ونار وملائکہ ثواب وعذاب کو دیکھتے ، ان کی بات سنتے سمجھتے، قیامت کے آنے نہ آنے کی دعائیں کرتے ہیں، توا س کی تسلیم انھیں بھی ضرور کہ دیکھنا سننا بولنا انھیں الات جسمانیہ پر غیر مقصور۔
قال المولٰی تبارک وتعالٰی النار یعرضون علیھا غدوا و عشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا اٰل فوعون اشد العذاب۱؎۔
مولٰی تبارک وتعالٰی کا ارشاد ہے: وہ صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن فرعون والوں کو زیادہ سخت عذاب میں ڈالیں گے۔ (ت)
(۱؎ القرآن        ۴۰ /۴۶)
Flag Counter