Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
221 - 243
ان میں جس طرح اعلی واکمل تعلق اخروی ہے جس کے بعد فراق کا احتمال ہی نہیں ، یوں ہی ادون واقل تعلق برزخی ہے کہ با وصف فراق ایک اتصال معنوی ہے مگر قرآن عظیم وحدیث کریم کے نصوص قاطعہ شاہد عدل ہیں کہ اس قدر تعلق بھی بقائے انسانیت کے لئے بس ہے___ ہدیۃ معلوم کہ قبر تنعیم بامعاذاللہ تعذیب جو کچھ اسی انسان ہی کے واسطے ہے جو اپنی حیات دینوی حیات دنیوی میں مومن ومطیع یا معاذ اللہ کا فر و عاصی تھا، نہ یہ کہ طاعت و ایمان توانسان نے کئے اور نعمت مل رہی ہے کسی غیر انسان کو یا کافر وعصیان انسان سے ہوئے اور عذاب ہو تا ہو کسی غیر انسان پر، اسی طرح وہ تمام حجج واضحہ جو ابھی تفسیر کبیر سے بعد موت و بقا وحیات انسان  پر گزریں مع اپنے نظائر کثیرہ کی اس مدعا کی کفیل ہیں تو ثابت ہو اکہ حقیقت انسانیہ میں جو تعلق ملحوظ ہے مطلق ومرسل ہے کسی وقت کا ہو۔
اماما قال الامام ابوطاھر بعدما اسلفنا نقلہ من انہ اذا بطلت صورۃ جسدہ بالموت وزالت عنہ المعانی بقبض روحہ لایسم انسانا فاذا جمعت ھذہ الاشیاء الیہ بالاعادۃ ثانیا کان ھو ذٰلک الانسان بعنیہ الا تری ان الجسد الفارغ من الروح والمعانی یسمی شبحا و جثۃ ولایسمی انسانا وکذلک الروح المجرد لایسمی انسانا ۱؎ الخ
رہا وہ جو امام طاہر نے سابقا نقل شدہ عبارت کے بعد فرمایا کہ: جب موت سے آدمی کے جسم کی صورت باطل ہوجاتی ہے اور روح قبض ہوجانے کی وجہ سے معانی اس سے زائل ہوجاتے ہیں تو اسے انسان نہیں کہا جاتا۔ پھر جب دوبارہ یہ چیزیں اس کے ساتھ جمع کردی جاتی ہیں تو بعینہ وہی انسان ہوجاتا ہے۔دیکھو کہ روح اور معانی سے خالی جسم کو شیخ اور جُثہّ ، ڈھانچہ اور لاشہ کہا جاتا ہے، انسان نہیں کہا جاتا، اس طرح مجرد روح کو انسان نہیں کہا جاتا الخ
 (۱؎ الیواقیت والجواہر    المبحث السادس والستون    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۵۴)
فاقول لیس یرید رحمہ اﷲ تعالٰی ان الانسان یبطل بالموت وان الذی فی البرزخ من لدن الموت الٰی حین البعث لیس بانسان، ومعاذاﷲ ان یریدہ وھو وقول اھل البدع ومصادم للقواطع وکیف یجوز ان لایکون الروح البرزخی المتصل بالبدن اتصالا فی فراق انسانا، ومعلوم قطعا ان الانسان ھوالذی کان امر وکفر واحسن وفجر وبدیھی ان غیر الانسان غیر الانسان  افینعھم من لم یعلم ویعذب من لم یعص واﷲ تعالٰی یقول عنھم
يویلنا من بعثنا من مرقدنا ۱؎
فافادان المبعوثین فی الحشرھم الراقدون فی القبر ومعلوم ان المحشورین فی العقبٰی ھم الکاینون فی الدنیا فالانسان ھو ھو فی الدور الثلث لم یزل عن انسانیۃ ولم ینسلخ عن حقیقۃ، وقال تعالٰی
النار یعروضون علیھا ۲؎
وانما اعاد الضمیر الی الناس المذکورین فھم المعروضون علی النار لا غیر ھم وقال تعالٰی
قتل الانسان مااکفرہ  ۳؎
الی قولہ عزوجل
ثم اماتہ فاقبرہ ۴؎
فالاقبار بعد الاماتۃ وقد ارجع الکنایۃ فیہ الی الانسان فثبت ان المیّت المقبور لیس الا انسانا، وبالجملۃ ففی الدلائل علی ھذا کثرۃ لامطمع فی احاطہا،
فاقول (میں کہتا ہوں۔ ت) امام موصوف رحمہ اللہ تعالٰی کی مراد یہ نہیں کہ انسان موت سے نیست ونابود ہوجاتا ہے اور عالم برزخ میں ازدمِ موت تا وقت بَعث جو ہوتا ہے وہ انسان نہیں___ اللہ کی پناہ کہ یہ ان کی مراد ہو__ جب کہ یہ بد مذہبوں کا قول ہے اور قطعی دلائل سے متصادم ہے___ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ روح برزخی انسان نہ ہو جو بدن سے فراق کے ساتھ ایک اتصال بھی رکھتی ہے___ اور یہ قطعا معلوم ہے کہ انسان وہی ہے جس سے ایمان وکفر اور نیکی وبدی کا صدور ہوا___ اور بدیہی ہے کہ غیر انسان، غیرانسان ہے تو کیا انعام اسے ہوتا ہے جس نے عمل نہ کیا ، اور عذاب اسے ہوتا ہے جس نے معصیت نہ کی؟ ___ حالانکہ اللہ تعالٰی ان کے متعلق بیان فرماتا ہے کہ وہی کہیں گے: ہائے ہماری خرابی! کس نے ہماری خواب گاہ سے  ہمیں اٹھایا، اس سے افادہ ہوا کہ حشر میں جو اٹھا ئے جانے والے ہیں وہی قبر میں سونے والے ہیں___ اور معلوم ہوا کہ آخرت میں جو اٹھائے جائیں گے وہ وہی ہیں جو دنیا میں تھے__ تو انسان تینوں مقامات میں وہی انسان ہے۔ کسی وقت میں وہ انسانیت سے جدا اور اپنی حقیقت سے خارج نہ ہوا___ اور باری تعالٰی فر ماتا ہے: وہ آگ پر پیش کئے جاتے ہیں___ ضمیران ہی لوگون کی طرف لوٹائی جو مذکور ہوئے تو آگ پر پیش کیے جانے والے وہی ہیں، غیر نہیں۔ اور ارشاد باری ہے: انسان مارا جائے کتنا بڑا ناشکرا ہے (تا ارشاد باری:) پھر اسے موت دی، پھر اسے قبرمیں رکھا__ تو قبر میں رکھنا موت دینے کے بعد ہوا، اور ضمیر اس میں بھی انسان ہی کی طرف لوٹائی تو ثابت ہو اکہ میّت جو قبر میں ہوتا ہے وہ انسان ہی ہے___ بالجملہ دلائل اس بارے میں بہت ہیں جن کا احاطہ کرنے کی طمع نہیں۔
(۱؎ القرآن        ۳۶ /۵۲ )(   ۲؎ القرآن        ۴۰ /۴۶)(۳؎ القرآن      ۸۰ /۱۷ ) (  ۴؎ لقرآن        ۸۰ /۲۱)
وانما اراد التنبیہ علی ان الانسان لیس بمعزول اللحاظ عن شیئ من الروح و البدن فالجسد اذا ابطلت صورتہ بالموت وزالت عنہ المعانی لخروج الروح عنہ لایسمی ذلک لجسد الفارغ انسانا وقد کان یسمی قبلہ عرفا لمکان الاتصال کما سیأتی وکذا الروح المجرد من حیث ھو مجرد لایسمی انسانا و انما الانسان المجموع اعنی الروح الملحوظ بلحاظ الاتصال اعم ان یکون دنیویا او اخرویا اوبرزخیا ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا  المقام، واﷲ سبحانہ ولی الانعام۔
امام موصوف نے بس اس بات پر تنبیہ فرمانا چاہا ہے کہ روح اور بدن دونوں میں کسی سے بھی انسان لحاظ میں جدا نہیں__ تو جسم کی صورت جب موت کی وجہ سے باطل ہوجائے اور اس سے روح نکل جانے کے باعث معانی اس سے زائل ہوجائیں تو اس خالی جسم کو انسان نہیں کہا جاتا، جبکہ اس سے پہلے عرفاً کہا جاتا تھا کیونکہ اتصال تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے ___ اسی طرح روح بھی مجر د کو، اس حقیقت سے کہ وہ مجرد ہے انسان نہیں کہا جاتا____ انسان تو مجموع روح و بدن ہے __ یعنی وہ روح جس کے ساتھ بدن سے اتصال کا لحاظ ملحوظ ہے خواہ وہ اتصال دنیوی ہو یا اخروی یا برزخی __  اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے ، اورخداء پاک ہی مالک انعام ہے (ت)
یہ تحقیق حققیت ومصداق انسان میں کلام تھا اب آیات ومحاورات مذکورہ کی طرف چلئے جب انسان و روح ہر ایک کا انسان جداگانہ ہونا بداہۃً باطل ہوچکا، توا ب اقوال ثلاثہ سے کوئی قول لیجئے آیات ومحاورات بدنیہ و روحیہ سے ایک میں تجوز اور جامعہ میں استخدام ماننے سے گریز  نہ ہوگی کما لا یخفی ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ نہ مفسرین ان میں کہیں استخدام (عہ)مانتے ہیں نہ اہل عرف ان میں کسی کلام کو حقیقت سے جدا جانتے ہیں توبوجہ شدت اختلاط گویا روح وبدن شیئ واحد ہیں بلکہ روح خفی ونظری ہے اور بدن محسوس مرئی اور اشراق شمس روح نے بدن پر حیات کی شعاعیں ڈال کر اسے اپنے رنگ میں رنگ لیا، جس طرح دہکتے کوئلے کو کہ اس کے ہر ذرے میں آگ کی سرایت نے انا النار کہنے کا مستحق کر دیا اب اسے آگ ہی کہا جاتا ہے ،
عہ :   بل قال بعض العلماء ان الاستخدام بھذا المعنی لم یقع فی القرآن العظیم اصلانقلہ الامام السیوطی فی الاتقان، قال وقد استخرجت بفکری اٰیات وذکر ثلثا الاولٰی ''اتی امراﷲ فلاتستعجلوہ'' امراﷲ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، کما اخرج ابن مردویۃ من طریق الضحاک عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما والضمیر لہ مراد بہ قیام الساعۃ او العذاب، والثانیۃ ''ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین'' المراد بہ آدم، ثم اعاد الضمیر علیہ مراد بہ ولدہ فقال: ''ثم جعلنہ نطفۃ'' قال وھی اظھرھا، والثالثۃ لا تسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم''، ثم قال قد سألھا قوم من قبلکم ای اشیاء اٰخرھذا ملخص کلام السیوطی۔
 [ اصطلاح بلاغت میں استخدام یہ ہے کہ کسی لفظ کے متعدد معنی ہوں اور ایک جگہ لفظ یا اس کی ضمیر سے ایک معنی مراد لیا جائے اور وہی دوسری جگہ ضمیر سے دوسرا معنٰی مراد لیا جائے  ۱۲منہ مترجم] بلکہ بعض علماء نے فرمایا: استخدام اس معنی میں قرآن عظیم میں بلکل کہیں وارد نہیں، اسے امام سیوطی نے اتقان میں نقل فرمایا وہ فرماتے ہیں میں نے اپنی فکر سے چندا ۤیات میں استخدام نکالا ہے، تین آیتیں ذکر فرما ئیں، ایک (اللہ کا امر آیا تو اس کی جلدی نہ مچاؤ) اللہ کا امر محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،جیسا کہ ابن مردویہ نے بطریق ضحاک حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اور اس کی ضمیر سے (''جو اس کی جلدی نہ مچاؤ'' میں ہے) قیام قیامت یا عذاب مراد ہے___ دوسری : ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے  پیدا کیا۔ انسان سے مراد حضرت آدم ہیں۔ پھر ہم نے اسے نطفہ کیا، یہاں انسان کی طرف راجع ضمیر ''اسے'' سے مراد اولاد آدم ہے، فرمایا: یہ سب سے زیادہ ظاہر ہے ___ تیسری: ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم  پر ظاہر کردی جائیں تو تمھیں بری لگیں۔ پھر ارشاد ہوا تم سے پہلے کچھ لوگوں نے انھیں پوچھا__ یعنی کچھ دوسری چیزوں کو  پوچھا__ یہ امام سیوطی کے کلام کی تلخیص ہے۔
اقول وقد استخرجت مثالین اٰخرین  الاول قولہ عزوجل احصنت فرجہا فنفخنا فیہ'' الفرج فرج المرأۃ والضمیر للفرج بمعنی فرج الجیب علی ماعلیہ المحققون والاٰخر ذکرتہ فی رسالتی الزلال الاتقٰی من بحر سبقۃ الاتقی التی ذکرت فیھا تفسیر قولہ عزوجل وسیجنبھا الاتقی ۱۲منہ (م)
اقول میں نے دومثالیں اور نکالیں ہیں اول: ارشاد باری عزوجل مریم نے اپنی شرمگاہ محفوظ رکھی تو ہم نے اس میں  پھونک ماری، شرمگاہ سے مراد شرمگاہ زن،ا ور اس کی ضمیر سے مراد چاک گریبان، اس قول کی بنیاد پرجو محققین کا مختار ہے __ یہ دوسری مثال میں نے اپنے رسالہ ''الزلال الا نقٰی من بحر سبقۃ الاتقی'' (۱۳۱۴ھ) میں ذکرکی ہے جس میں میں نے ارشاد باری عزوجل ''وسیجنبھا الاتقی'' کی تفسیر بیان کی ہے۔ (ت)
Flag Counter