واضح ہے کہ تکالیف شرعیہ سے مخاطب ہونا اور ظلم وجہل وحسبان وارادہ سوال وکلام واعلام ومعرفت ومعذرت یہ سب صفات وافعال روح سے ہیں یو نہی فجور بھی۔
قال عزمجدہ ونفس وماسوّٰھا فالھمھا فجورھا وتقوٰھا ۳؎۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: قسم ہے نفس کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا، پھر اس کے دل میں اس کی نافرمانی اور پر ہیزگاری ڈالی ۔
(۳؎ القرآن ۹۱ /۷، ۸)
انھیں بھی انسان کی جانب اضافت فرمایا بلکہ ایک ہی آیت میں دونوں قسم کے امور اس کے لیے مذکور۔
قال عزشانہ ان خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ فجعلنٰہ سمیعا بصیرا ۴؎۔
باری تعالٰی فرماتا ہے: بے شک ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفہ سے بنایا کہ اسے آزمائیں، پھر ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنایا۔
(۴؎ القرآن ۷۶ /۲)
مرد و زن کے ملے ہوئے نطفے سے بدن بنا اور تکلیف وآزمائش روح کی ہے اور وہی شنوا وبینا۔
قال تعالٰی ذکرہ، اولم یرالانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذاھو خصیم مبین وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ۵؎ الاٰیۃ۔
ارشاد باری تعالٰی ہے: اور کیا انسان نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ کُھلا جھگڑنے والا ہے اور اس نے ہمارے لئے مثل بنائی اور اپنی تخلیق کو بھول گیا۔ (ت)
(۵؎ القرآن ۳۶ /۷۷ ، ۷۸)
رویت وعلم، شانِ روح ہے اور نطفے سے پیدائش بدن کی، پھر خصومت ومثل زنی ونسیان احوال روح اور ضمیر اخیر نے پھر تخلیق نطفہ سے جانب بدن مراجعت کی ۔ یہی سب محاورات عرف عام میں شائع ، اب چار حال سے خالی نہیں، یا توا نسان محض بدن ہے یا مجروح روح یا ہر ایک یا مجموع، احتمال ثالث تو بداہۃً مدفوع، ہر عاقل جانتاہے کہ اس کے بنی نوع کا ہر فرد اور وہ خود ایک انسان ہے۔ نہ یہ کہ ہر شخص میں دو انسان ہوں یا ایک روح ایک بدن ۔ ولہٰذا اس کی طرف کسی کاذہاب معلوم نہیںِ ثلٰثہ باقیہ مذاہب معروفہ ہیں، اول اکثر متکلمین کا خیال ہے اور ثانی امام رازی وغیرہ کا مفاد مقال اور ثالث خود انھیں امام جلیل ودیگر اجلہ اکابر کا ارشاد جمیل۔
تفسیر کبیر میں ہے :
اما القائلون بان الانسان عبارۃ عن ھذہ البنیۃ المخصوصۃ وعن ھذا الجسم المحسوس فھم جمھور المتکلمین، وھذا القول عندنا باطل (وذکر علی حججان الی ان قال) الحجۃ الخامسۃ ان الانسان قد یکون حیا حال مایکون البدن میّتا والدلیل قولہ تعالٰی ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا بل احیاء فھذا النص صریح فی ان اولئٰک المقتولین احیاء والحس یدل علی ان ھذا الجسد میّت، الحجۃ السادسۃ قول تعالٰی النار یعرضون علیھا وقولہ اغرقوا فادخلوا نارا، وقول علیہ الصلٰوۃ والسلام من حفرالنار، کل ھذہ النصوص تدل علٰی ان الانسان یبقی بعد موت الجسد، الحجۃ السابعہ قول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اذاحمل المیّت علی بعشہ رفرف روحہ فوق النعش ویقول یا اھلی یا ولدی (الحدیث) ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صرح بان حال مایکون الجسد علی النعش بقی ھناک شیئی ینادی ویقول جمعت المال من حلہ وغیر حلہ، ومعلوم ان الذی کان الاھل اھلالہ وکان جامعا للمال وبقی فی رقبتہ الوبال لیس الا ذٰلک الانسان، فھذا تصریح بان فی الوقت الذی کان الجسد میّتا کان الانسان حیاباقیا فاھما، الحجۃ الثامنۃ قول تعالٰی یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الٰی ربک راضیۃ مرضیۃ والخطاب انماھو حال الموت فدل ان الذی یرجح الی اﷲ بعد موت الجسد یکون حیا راضیا ولیس الا الانسن فھٰذا یدل ان الانسان بقی حیا بعد موت الجسد، الحجۃ العاشرۃ جمیع فرق الدنیا من الھند والروم والعرب والعجم وجمیع ارباب الملل والنحل من الیھود والنصاری والمجوس والمسلمین یتصدقون عن موتاھم ویدعون لھم بالخیر ویذھبون الی زیارتھم، ولولا انھم بعد موت الجسد بقوا احیاء لکان التصدق والدعاء والزیارۃ عبثا، فیدل ان فطرتھم الاصلیۃ شاھدۃ بان الانسان لایموت بل یموت الجسد، والحجۃ السابعۃ عشرۃ ان الانسان یجب ان یکون عالما، والعلم لایحصل الاّ فی القلب فیلزم ان یکون الانسان عبارۃ عن الشیئ الموجود فی القلب اوشیئ لہ تعلق باقلب ۱؎ اھ ملتقطا ملخصا۔
اس مخصوص ساخت اور اس محسوس جسم کو انسان بتانے والے جمہور متکلمین ہیں اور یہ قول ہمارے نزدیک باطل ہے (اس پر دلائل ذکر کئے، یہاں تک کہ فرمایا:) پانچویں دلیل یہ ہے کہ انسان کبھی زندہ ہوتا ہے جبکہ بدن مردہ ہوتاہے اور اس کی دلیل یہ ارشاد باری ہے کہ انھیں جوا للہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں، یہ صریح نص ہے کہ وہ شہید زندہ ہیں، اور احساس یہ بتاتا ہے کہ بدن مردہ ہے ___ چھٹی دلیل: باری تعالٰی کا ارشاد: فرعون اور اس کے ساتھی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں، اور یہ ارشاد: وہ غرق کیے گئے پھر آگ میں ڈالے گئے۔ اور رسول اکر م صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان : قبر جنت کے باغو ں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گھڑا ہے۔ یہ تمام نصوص اس پر دلیل ہیں کہ انسان بدن کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے ___ ساتویں دلیل: رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کایہ ارشاد:جب میّت کو اس کی چارپائی پر اٹھا یا جاتا ہے اس کی روح جنازے کے اوپر پھڑ پھڑاتی ہے اور کہتی ہے اے میرے لوگو! اے میری اولاد! (الحدیث) نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صراحت فرمادی کہ جس وقت بدن چارپائی پر ہوتاہے اس وقت ایک شی باقی رہتی ہے جو ندا دیتی ہے اور کہتی ہے: میں نے مال جائز وناجائز طریقوں سے جمع کیا، اور معلوم ہوا کہ اہل جس کے اہل تھے، اور جو مال جمع کرنے والا تھا اور جس کی گردن پر وبال رہ گیا وہ نہیں مگر وہ انسان ___ تو یہ اس بات کی تصریح ہے کہ جس وقت بدن مردہ ہے اسی وقت انسا ن زندہ ، باقی اور سمجھنے والا ہے ___ آٹھویں دلیل: اللہ تعالٰی کا ارشاد : اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ___ یہ خطاب بعد موت ہی ہے، تو معلوم ہوا کہ بدن موت کے بعد جو اللہ کی طرف لوٹنے والا ہے وہ زندہ، راضی ہوتا ہے، اور وہ انسان ہی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ انسان جسم کی موت کے بعد بھی زندہ رہا ___ دسویں دلیل: ہندوستان، روم، عرب، عجم کے رہنے والے تمام اہل عالم اور یہود، نصارٰی، مجوس، مسلمان تمام ادیان ومذاہب والے اپنے مردوں کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں۔ ان کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں، اگر وہ جسم کی موت کے بعد زندہ نہ رہتے تو صدقہ، دعا ا ور زیارت ایک عبث اور بے فائدہ کام ہوتا __ ا س میں دلیل ہے کہ ان کی اصل فطرت اس پر شاہد ہے کہ انسان نہیں مرتا بلکہ جسم مرتا ہے___ سترھویں دلیل: ضروری ہے کہ انسان علم رکھنے والاہو، او رعلم کا حصول قلب ہی میں ہوتا ہے، تو لازم ہے کہ انسان اس شے سے عبارت ہو جو قلب میں موجود ہے یا اس شیئ سے جو قلب سے متعلق ہے (ختم، تلخیص اور متعدد جگہوں سے اقتباس کے ساتھ)۔ (ت)
(۱؎ التفسیر الکبیر تحت آیہ ویسئلونک الطبعۃ البہیۃ العربیۃ بمیدان جامع الازہر مصر ۲۱ /۴۰ تا ۴۳)
اما م الطریقۃ بحر الحقیقۃسیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ فتوحات مکیہ شریف میں فرماتے ہیں:
لیس فی العلوم اصعب تصورا من ھذہ المسئلۃ فان الارواح طاھرۃ بحکم الاصل والاجسام وقواھا کذٰلک طاھرۃ بمافطرت علیہ من تسبیح خالقھا وتوحیدہ ثم باجتماع الجسم والروح حدث اسم الانسان وتعلق بہ التکالیف وظھر منہ الطاعات والمخالفات ۲؎ الخ۔
علوم میں اس مسئلہ سے زیادہ عسیر الفہم کوئی نہیں، اس لیے کہ ارواح بحکم اصل پاک ہیں، اسی طرح اجسا م اور ان کے قوٰی اپنے خالق کی تسبیح وتو حید کی جس فطرت پر پیدا ہوئے ہیں، پاک ہیں، پھر جسم اور روح کے ملاپ سے نامِ انسان رونما ہوا، اس سے تکلیفات و احکام وابستہ ہوئے اور اس سے فرمانبرداری وخلاف و رزی ظہور پذیر ہوئی۔ (ت)
(۲؎الیواقیت والجواہر المبحث السادس والستون مصطفی البابی مصر ۲ /۱۵۰)
امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب الیواقیت والجواہر میں امام ابوطاہر رحمہ اللہ تعالٰی سے نقل فرماتے ہیں :
الانسان عند اھل البصائر ھذا المجموع من الجسد والروح بما فیہ من المعانی ۳؎۔
ارباب بصیرت کے نزدیک انسان جسم وروح کا یہ مجموعہ ہے ان تمام معانی کے ساتھ جو اس میں ہیں۔ (ت)
(۳؎الیواقیت والجواہر بحوالہ شیخ محی الدین مصطفی البابی مصر ۲ /۱۵۴)
امام فخرا لدین رازی تفسیر کبیر میں زیر
قولہ تعالٰی فی سورۃ النحل خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین ۴؎
فرماتے ہیں:
اعلم ان الانسان مرکب من بدن ونفس فقولہ تعالٰی (خلق الانسان من نطفۃ) اشارۃ الی الاستدلال ببد نہ علی وجود الصانع الحکیم وقول تعالٰی (فاذاھو خصیم مبین) اشارۃ الی الاستدلال باحوال نفسہ علی وجود الصانع الحکیم ۱؎ الخ
معلوم ہو کہ انسان بدن اور روح سے مرکب ہے، تو ارشاد باری تعالٰی (انسان کو نطفے سے پیدا کیا) بدنِ انسان سے صانع حکیم کے وجود پر استدلال کی جانب اشارہ ہے۔ اور ارشاد باری (پھر جبھی وہ کُھلا جھگڑنے والا ہے) روح انسان کے احوال سے صائع حکیم کے وجود پر استدلال کی جانب اشارہ ہے۔ الخ (ت)
(۴؎ القرآن ۱۶/۴)
(۱؎ التفسیر الکبیر تحت آئیہ مذکورہ مطبعۃ بہیۃ مصریۃ بمیدان الازہر مصر ۱۹/۲۲۴)
اقول وباللہ التوفیق
( میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) آیات کریمہ قران اعظم و محاورات عامہ شائعہ تمام عالم کے ملاحظہ سے بنگاہ اولین ذہین میں منقش ہوتاہے کہ جسے انسان کہتے ہیں اور زید عمر و اعلام یا من وتوضمائر یا این وآن اسمائے اشارہ سے تعبیر کرتے ہیں، اس میں روح وبدن دونوں ملحوظ ہیں، ایک یکسر معزول ہو ایسا ہر گز نہیں، اب خواہ یوں ہو کہ ہر ایک نسخ حقیقت انسانی میں داخل وجزوِ حقیقی ہو یا یوں کہ ایک سے تجوہر حقیقت اور دوسرے کو معیت وشرطیت مگر ساتھ ہی عقل ونقل کی طرف نظر کیجئے تو ان کا اجماع و اطباق دیکھتے ہیں کہ انسان ایک شیئ مدرک عاقل فاہم مرید مکلف من اللہ تعالٰی ہے، اور یہ صفات اس کے لیے حقیۃ ثابت ہیں کہ نہ موصوف بالذات کوئی شئی غیر ہو اور اس کی طرف بالتبع بالعرض نسبت کئے جاتے ہوں، اس بیّن و واضح امر کی طرف التفات کرتے ہیں منجلی ہوگیا کہ جس طرح قولین اولین میں تجرد وتمخص بہ معنی بشرط لاشیئ مراد لینا کسی عاقل سے معقول نہیں، اگر ہے تو لابشرط، اوریہ معنی منقول نہیں کہ روح بدن میں کوئی لحاظ سے بلکل معزول نہیں، ا ور قول اول تو اس کا قابل نہیں کہ انسان عاقل ہے اور ابدان ذوی العقول نہیں، انسان مالک و متصرف ہے بدن کی طرح آلہ ومعمول نہیں، یوں ہی یہ بھی روشن ہوگیا کہ قول اخیر میں مجموع سے مراد بشرط شیئ ہے نہ ترکب نفس حقیقت، ورنہ انسان عاقل ومدرک نہ رہے کہ مجموع مدرک ونامدرک نامدرک ہے اور لازم آئے کہ آیات ومحاورات عامہ خواہ مدنیات ہو ں جن میں موصوف بصفات جسم کو انسان کہا گیا یا روحیات جن میں صفات نفس سے انسان کو متصف کیا۔ خواہ جامعات جن میں دونوں کو اجتماع دیا سب یکسر حقیقت سے معزول اور مجاز پر محمول ہوں کہ اب انسان نہ روح نہ بدن بلکہ شی ثالث ہے، لاجرم مجموع کا محمل اول مراد نہیں ہوسکتا۔
ومن الدلیل علیہ قول الامام ابی طاھر ''بما فیہ من المعانی'' فما کان لعا قل ان یتوھم دخول الاعراض فی قوام جوھر وانما المراد الدخول فی اللحاظ وکذا تنصیص الامام الرازی علی الترکیب مع اعطائہ مرارا کثیرۃ ان الانسان ھوالروح۔
اس کی ایک دلیل امام ابو طاہر کے یہ الفاظ ہیں (ان تمام معانی کے ساتھ جو اس میں ہیں) کہ اسے کوئی عاقل یہ وہم نہیں کرسکتا کہ اعراض ایک جوہر کی حقیقت میں داخل ہیں مراد صرف لحاظ میں داخل ہونا ہے، اسی طرح مرکب ہونے پر امام رازی کی تصریح، جب کہ ان کے کلام سے بہت سی جگہ مستفاد ہے کہ انسان__ وہی انسان روح ہے (ت)
رہا محمل دوم اس میں بھی دو احتمال ہیں قوام روح سے ہو اور بدن شرط یعنی انسان روح متعلق بالبدن کا نام ہو یا بالعکس یعنی بدن متعلق بالروح کا ثانی بھی اس مقدمہ مذکورہ واضحہ سےمدفوع کہ انسان عاقل مخاطب بالاصالۃ ہے،نہ بالتبع، تو بفضل اللہ تعالٰی عرش تحقیق مستقر ہوگیا کہ مختار ومنصور وہی قولِ اخیر بایں معنی و تفسیر ہے۔ اور قول ثانی بھی اس سے بعید نہیں کہ جب قوام جوہر میں صرف روح ہے انسان روح ہی کا نام ہوا بلحاظ تعلق ہونا اسے روح ہونے سے خارج نہیں کرتا، نہ ان عبارات میں لحاظ تعلق سے قطع نظر مذکور، تو اس کا اسی قول منصور کی طرف ارجاع میسور، ولہٰذا امام اجل فخر الدین رازی نے بآنکہ بار ہاروح ہی کے انسان ہونے پرتسجیل و تنقیح فرمائی، خود ہی انسان کے روح وبدن سے مرکب ہونے کی تصریح فرمائی، اسی طرح شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں جہاں وہ عبارت لکھی کہ جان آدمی کہ درحقیقت آدمی عبارت از ان است (آدمی کی جان کہ حقیقت میں آدمی اس سے عبارت ہے۔ ت) وہیں اس کی شرح یوں ارشاد کی :
تفصیل این اجمال آنکہ آدمی مرکب از دو چیز است جان و بدن جزوِ اعظم جان است کہ تبدل وتغیّر دراں راہ نمی یابد وبدون بمنزلہ لباس است کہ اختلاف بسیار در وے راہ می یابد ۱؎ اھ مخصراً
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آدمی دو چیزوں سے مرکب ہے، جان اور بدن __ جزوِ اعظم جان ہے جس میں تبدل وتغیر کو راہ نہیں __ اور بدن بمنزلہ لباس ہے کہ اس میں بہت تبدیلی ہوا کرتی ہے اھ مختصراً (ت)
پھر روح کا بدن سے تعلق چار قسم ہے : ایک تعلق دنیوی بحالِ بیداری، دوسرا بحالِ خواب کہ من وجہ متعلق من وجہ مفارق، تیسرا برزخی، چوتھا اُخروی ۔
وجعلھا فی شرح الصدور عن ابن القیم خمسۃ قال للروح بالبدن خمسۃ انواع من التعلق متغائرۃ، الاول فی بطن الام، الثانی بعد الولادۃ، الثالث فی حال النوم فلھا بہ تعلق من وجہ و مفارقۃ من وجہ۔ الرابع فی البرزخ فانھا و ان کانت قد فارقتہ بالموت فانھا لم تفارق فراقا کلیا بحیث لم یبق لھا الیہ التفات، الخامس تعلقھا بہ یوم البعث وھو اکمل انواع التعلقات ولانسبۃ لماقبلہ الیہ اذ لایقبل البدن موہ موتا ولانوما ولا فسادا ۱؎ اھ وتبعہ القاری فی منح الروض،
اور شرح الصدور میں ابن قیم کے حوالہ سے پانچ قسم قرار دی ___ عبارت یہ ہے: بدن سے روح کے پانچ الگ الگ قسم کے تعلق ہیں ___ پہلا شکم مادر ہیں__ دوسرا بعد ولادت __ تیسرا حالتِ خواب میں کہ ایک طرح سے روح بدن سے متعلق ہے اور دوسری طرح سے جدا ہے، چوتھا برزخ ہے ___ کہ روح موت کے باعث اگر چہ بدن سے جدا ہوچکی ہے مگر بالکل جدا نہیں ہوئی ہے کہ بدن کی طرف اسے کوئی نہ رہ گیا ہو__ پانچواں روز بعث کا تعلق۔ وہ سب سے زیادہ کامل تعلق ہے جس سے ماقبل کے تعلقات کو کوئی نسبت نہیں، اس لئے کہ اس تعلق کے ساتھ بدن، موت، خواب اور فساد تغیر قبول نہیں کرتا اھ اور منح الروض میں علامہ قاری نے بھی اسی اتباع کیا ___
(۱؎شرح الصدرو باب مقرالارواح خلاف اکیڈمی منگورہ سوات ص۱۰۰)
اقول الکلام فی الانواع المتغائرۃ ولا یظھر للتعلق الرحمی تـغایر مع الذی بعد الولادۃ فان کلیھما تعلق الاتصال المحـض والتدبیر والتصرف الناقص بخلاف النومی فلایتمخص للاتصال، والبرزخی فلیس مع ذٰلک تعلق التدبیر و الاٰخروی فلانقص فیہ اصل فیتحصل التقسیم ھکذا التعلق اما ممتمحض للاتصال اولا الاول ان کمل بحیث لایقبل الفراق فاخروی ، والا فدنیوی ، یقظی، والثانی ان کان تعلق تدبیر فنومی اولا فبرزخی فان قیل لیس یستعمل الجنین الاتہ وجوارحہ فی الاعمال والادراک مثل المولود قلت لایستعملھا المولود من ساعتہ کالفطیم ولا الفطیم کالیافع ولاالیافع کمن بلغ اشدہ ولاکمثلہ الشیخ الھرم ثم الفانی ، فلیجعل عامۃ ذلک تعلقات متغائرۃ فافھم۔۲؎
اقول گفتگو الگ الگ اور جداگانہ تعلقات کے بارے میں ہے ___ جب کہ شکم مادر والے تعلق کی، بعد ولادت والے تعلق سے کوئی مغایرت ظاہر نہیں___ اس لئے کہ دونوں صورتوں میں خالص اتصال اور تدبیر وتصرف کا ناقص تعلق ہے۔ اس کے برخلاف حالت خواب کے تعلق میں خالص اتصال نہیں۔ من وجہ فراق بھی ہے۔ اور برزخ والے تعلق میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ تدبیر کا تعلق نہیں___ اور آخرت والے تعلق میں بالکل کوئی نقص نہیں__ تو تقسیم اس طرح حاصل ہوگی، تعلق یا تو خالص اتصال رکھتاہے یا نہیں ___ او ل اگر ایسا کامل ہے کہ جدائی قبول نہ کرے تو اُخروی ___ ورنہ دنیوی جو بیداری میں ہو___ اور ثانی اگر تدبیر کا تعلق ہے تو خواب والا ہے اور تدبیر والا نہیں تو برزخی ہے ___ اگر یہ اعتراض ہو کہ شکم کا بچہ افعال اور ادراک میں اپنے آلات وجوارح کو پیداشدہ بچے کی طرح استعمال نہیں کرتا (اس فرق کی وجہ سے دونوں کو دو شمار کیا گیا) ہمارا جواب یہ ہوگا کہ اس وقت مولود بچہ بھی اپنے اعضاء وجوارح کوا س بچے کی طرح استعمال نہیں کر تا جو دودھ چھوڑ چکا ہو، اور دودھ چھوڑنے والا نوجوان یا قریب البلوغ کی طرح اور یہ بھرپور جوانی والے کی طرح استعمال نہیں کرتا، نہ ہی اس کی طرح بہت بوڑھا، پھر مزید بڑھاپے سے فنا کو پہنچ جانے والاشخص استعمال کرتا ہے__ تو چاہئے کہ ان سب کو جداگانہ ومتغائر تعلقات قرار دیا جائے___ تو اسے سمجھو۔ (ت)
(۲؎ الیواقیت والجواہر المبحث السادس والستون الخ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۵۴)