Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
22 - 243
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم :
الدواوین ثلثۃ فدیوان لایغفراﷲ منہ شیئا ، ودیوان لایعبأ اﷲ منہ شیئا، ودیوان لایترک اﷲ منہ شیئا،فامّا الدیوان الذی لایغفراﷲ منہ شیئا، فلاشراک اﷲباﷲ، واماالدایون الذی لایعباء اﷲ منہ شیئاا فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ من صوم یوم ترک اوصلاۃ ترکھا فان اﷲتعالٰی یغفرذلک ان شاؤیتجاوز، وامادیوان الذی لایترک اﷲ منہ شیئافمظالم العباد بینھم القصاص لامحالۃ۱؎ رواہ الامام احمد والحاکم فی المستدرک عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا۔
دفتر تین ہیں، ایک دفتر میں سے اﷲتعالٰی  کچھ معاف نہ فرمائے گا، اور دوسرے کی اﷲ کو کچھ پرواہ نہیں، اور تیسرے میں اﷲ کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں اﷲ تعالٰی  کچھ معاف نہ فرمائے گا دفترِ کفر ہے۔ اورجس کی اﷲ کو کچھ پرواہ نہیں وہ بندے کا اپنے رب کے معاملے میں اپنی جان پر  ظلم کرنا کہ کسی دن کا روزہ چھوڑ دیا یا نماز چھوڑ دی اﷲ تعالٰی  چاہے گا تو معاف فرمادے گا اور درگزر فرمائیگا۔اور وُہ دفتر جس میں سے اﷲ تعالٰی  کچھ نہ چھوڑے گا وُہ بندوں کے باہم ایک دوسرے پر ظلم ہیں ان کا بدلہ ضرورہونا۔ اسے امام احمد نے اورمستدرک میں حاکم نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا سے روایت کیا ۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا    مطبوعہ دارالفکر بیروت       ۶ /۲۴۰ 

    المستدرک علی الصحیحین    کتاب الاھوال     مطبوعہ دارالفکر بیروت     ۴/  ۵۷۵ )
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم :
خمس صلوات کتبھن اﷲعلی العباد، فمن جاء بھن فلم یضع منھن شیئا استخفافابحقھن کان لہ عنداﷲ عھد ان یدخل فی الجنۃ، ومن لم یات بھن فلیس لہ عنداﷲ عھد، ان شاء عذبہ وان شاء ادکلہ الجنۃ ۲ ؎۔ رواہ الائمۃ مالک واحمد وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم والبیہقی بسندصحیح عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
پانچ نمازیں اﷲ تعالٰی  نے بندوں پرفرض ہیں جو ا نہیں بجالائے اوراُن کے حق کو ہلکا جان کر اُن میں سے کچھ ضائع نہ کرے اﷲ کے پاس عہد ہوکہ اُسے جنّت میں داخل فرمائے اور جو انہیں بجانہ لائے اُس کے لئے اﷲ کے پاس عہد نہیں کہ چاہے اسے عذاب کرے چاہے  اسے جنّت میں داخل کرے۔ اسے امام مالک،امام احمد، ابوداؤد، نسائی، ابنِ ماجہ، ابنِ حبان، حاکم اوربیہقی نے بسندِ صحیح حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔
 (۲؎ سنن ابوداؤد    باب فیمن لم یوتر      مطبوعہ  آفتاب عالم پریس لاہور   ۱ /۲۰۱

مسند احمد بن حنبل    مروی از عبادہ بن الصامت    مطبوعہ  دارالفکر بیروت    ۵/ ۳۱۵)
دُرمختار میں ہے :
ھی فرض علٰی کل مسلم مات خلا اربعۃ بغاۃ وقطاع طریق اذاقتلوافی الحرب وکذا مکابرفی مصرلیلابسلاح وخناق وقاتل احد ابویہ الحقق فی النھر بالبغاۃ ۱ ؎ (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہرمسلمان کی نمازِ جنازہ فرض ہے سوائے چار کے، باغی، رہزن، جبکہ یہ لڑائی میں مارے گئے ہوں۔ اسی طرح رات کو شہر کے اندر ہتھیار لے کر لوٹ مار کرنے والا، گلادباکر مارنےوالا، اپنے ماں باپ میں سے کسی کو قتل کرنے والا، نہر میں اسے بھی باغیوں سے لاحق کیا ہے(ملخصاً) واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۲)
مسئلہ نمبر ۲۸: از بنگلہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی محمد اکرم صاحب    یکم ربیع الاوّل ۱۳۲۰ھ

بے نمازی کی نمازِ جنازہ چاہئے یا نہیں۔اگر چاہئے تو کیا دلیل، جواب بالتفصیل بحوالہ کتبِ معتبرہ تحریر فرمائے ۔بینواتوجروا
الجواب

صحیح یہ ہے کہ ترکِ نماز سخت کبیرہ گناہ اشد کفرانِ نعمت ہے، مگر کفر وارتداد نہیں، جبکہ انکارِ فرضیت یااستخفاف واہانت نہ کرے، اور نماز ہر مسلمان کے جنازے کی فرض کفایہ ہے، اگر سب چھوڑیں گے سب گنہگار  رہیں گے، نماز پنجگانہ اُس پر فرض تھی اُس نے چھوڑی، نماز جنازہ ہم پرفرض ہے ہم کیوں چھوریں، اُس نے وہ فرض چھوڑا جو خالص  حق اﷲ کریم غنی و عزوجل کا تھا، ہم وہ فرض چھوڑ دیں جس میں اﷲ عزوجل کا بھی حق اوراس محتاج باشدّالاحتیاج کا بھی حق العبد، یہ محض نادانی اورخود اپنی بھی بدخواہی ہے، علمائے کرام نے فرضیتِ نمازِجنازہ سے صرف چند شخصوں کا استثناء فرمایا۔ باغی اورآپس کے بلوائی کہ فریقین بطور جاہلیت لڑیں اوراُن کے تماشائی اورڈاکو، اور وُہ  کہ لوگوں کا گلہ دباکر، پھانسی دے کر مار ڈالاکرتاہو، اور وُہ جس نے اپنے ماں باپ کو قتل کیا۔ ظاہر ہے کہ بے نمازی ان سے خارج ہے تو اس کی نمازِ جنازہ مثل عام مسلمانوں کے فرض ہے۔
فی الدرالمختارھی فرض علٰی مسلم مات خلابغاۃ وقطاع طریق اذاقتلوافی الحرب واھل عصبۃ ومکابرفی مصر لیلاوخناق وقاتل احدابویہ اھ ۲ ؎ ملخصا
درمختار میں ہے: ہرمرنے والے مسلمان کی نماز جنازہ فرض ہے سوا باغی، رہزن کے جب لڑائی می مارے جائیں، اور جو  براہ عصبیت آپس میں لڑیں، رات کو ہتھیار لے کر شہر میں لوٹ مار کرنے والا  گلا  دباکر مارڈالنے والا، اپنے والدین میں سے کسی کا قاتل اھ بتلخیص۔
(۲؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی      ۱ /۱۲۲)
وفی ردالمحتار فی شرح دررالبحار فی النوازل جعل مشائخنا المقتولین فی العصبیۃ فی حکم اھل البغی وکذاالواقفون الناظرون الیھما ان اصابھم حجرا وغیرہ وماتوافی تلک الحالۃ ولوماتوابعد تفرقھم یصلی علیھم۱؎اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے :شرح دررالبحار میں نوازل کے حوالے سے ہے کہ ہمارے مشائخ نے عصبیت میں مارے جانےوالوں کو باغیوں کے حکم میں رکھا ہے ایسے ہی ان کے پاس کھڑے تماشا دیکھنے والے، اگر انہیں کوئی پتھر وغیرہ لگا اوراسی حالت میں مرگئے ، ہاں اگر جُدا ہونے کے بعد مرے تو ان کی نماز پڑھی جائے گی اھ مختصراً۔ واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ علی الجنازۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۶۴۲)
مسئلہ نمبر ۲۹: ازآرہ ،مدرسہ فیض الغرباء     مرسلہ مولوی رحیم بخش صاحب قادری برکاتی رضوی 

 ۲۷جمادی الاُخرٰی   ۱۳۳۴ ھ

زید تمام ضروریاتِ دین کو تسلیم کرتا ہے کسی ایک کے انکار کو کفر جانتا ہے محض سستی وغفلت سے بے نماز ہے۔ پس ایسے بے نمازوں کے جنازے کی نماز  ناجائز ہے یا نہیں؟ کوئی نہ پڑھے نہ پڑھائے؟
الجواب

لاالٰہ الااﷲ مسلمان اگرچہ بے نماز  ہو اس کے جنازے کی نماز مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگر کوئی نہ پڑھے گا جتنوں کو خبر ہو سب گنہگار وتارکِ فرض رہیں گے۔ ہاں اگر زجر کے لئے علماء خود نہ پڑھیں دوسروں سے پڑھوادیں تو بیجا نہیں، اور اگر اُن کے نہ پڑھنے سے اور بھی کوئی نہ پڑھے یا اُن کو بھی منع کریں تو یہ علماء بھی مستحق عذابِ نار ہوں گے، بلکہ جہال سے زیادہ فانما علیک اثم۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصَّلٰوۃ واجبۃ علیکم علٰی کل مسلم یموت براکان اوفاجرا وان ھو عمل الکبائر ۲ ؎۔ رواہ ابوداؤد وابویعلی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح علٰی اصولنا۔
تم پر ہر مسلمان کے جنازے کی نماز فرض ہے نیک ہو یابداگرچہ اُس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں۔ اسے ابوداؤد اور ابویعلی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ہمارے اصول پر بسندِ صحیح روایت کیا۔
 (۲؎ سنن ابوداؤد    کتاب الجہاد    مطبوعہ  ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر        ۱ /۵۹۰)
در مختار میں ہے :
ھی فرض علٰی کل مسلم مات، خلا اربعۃ بغاۃ وقطاع طریق اذاقتلوا فی الحرب وکذامکابر فی مصرلیلا بسلاح خناق وقاتل احد ابویہ الحقہ فی النھر بالبغاۃ۱ ؎  ملخصاً واﷲتعالٰی اعلم
ہر مسلمان کی نمازِ جنازہ  فرض ہے سوا چارکے ، باغی، رہزن جبکہ یہ جنگ میں قتل ہوں ۔اسی طرح رات کو شہر کے اندر ہتھیار لے کرلوٹ مار کرنے والا، گلادباکر مارنے والا، اپنے ماں باپ میں سے کسی کا قاتل ، نہر میں اسے بھی باغیوں سے لاحق کیا ہے۔ملخصاً۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
 (۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۲۲)
مسئلہ ۳۰: ازموضع بکہ جیبی والا ، علاقہ جاگل ،تھانہ ہری پور، ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲ خان، مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب۲۳رمضان المبارک  ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے اُس کا جنازہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور بے نمازی کے لڑکے نابالغ کا جنازہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

بے نمازی اگرچہ فاسق ہے مگر مسلمان ہے، اور اس کی نابالغ اولاد کا غسل وکفن اور نماز ودفن میں وہی حکم ہے جو اور مسلمانوں کا حدیث میں ارشاد ہوا:
صلّو اعلٰی کل بروفاجر۲؎
 (ہر نیک و بد کی نمازِجنازہ پڑھو۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ سنن الدارقطنی    باب صفۃ من تجوز الصلٰوۃ معہ والصلٰوۃ علیہ   نشر السنّۃملتان   ۲ /۵۷

 سنن ابی داؤد    باب فی الغزومع ائمہ الجور      آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۳۴۳)
Flag Counter