Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
219 - 243
 مجمع البحار میں ہے :
البصیر تعالٰی یشاھد الا شیاء ظاھرھا وخافیھا من غیر جار حۃ، والبصر فی حقہ تعالٰی عبارۃ عن صفۃ ینکشف بھا کمال نعوت المبصرات ۳ ؎۔
خدائے بصیر بغیر کسی عضو کے اشیاء کا مشاہدہ فرماتا ہے ان کے ظاہر کا بھی اور باطن کا بھی، او رباری تعالٰی کے حق میں بصر ایک ایسی صفت سے عبارت ہے جس سے مرئیات کی صفات کا  کامل طور  پر منکشف ہوجاتی ہیں۔ (ت)
(۳؎مجمع البحار     باب الباء مع الصاد    مطبع عالی منشی نولکشور لکھنؤ        ۱ /۹۶)
منح الروض میں ہے :
السمع صفۃ تتعلق بالمسموعات، والبصر صفۃ تتعلق بالمبصرات فیدرک ادراکا تاما لاعلٰی سبیل التخیل والتوھم ولاعلی طریق تاثیر حاسۃ ووصول ھواء  ۴؎۔
سمع ایک صفت ہے جس کا تعلق مسموعات سے ہے اور بصر ایک صفت ہے جس کا تعلق مبصرات سے ہے تو اسے ادراک تام ہوتا ہے مگر خیال ووہم کے طور  پر نہیں، نہ ہی حاسہ کی تاثیر اور ہوا پہنچنے کے طور پر ۔ (ت)
 (۴؎ شرح فقہ الاکبر    شرح الصفات الذاتیہ    مصطفی البابی مصر        ص۱۹۔ ۱۸)
اسی اطلاق پر مواقف وشرح میں فرمایا:
الثانیۃ شبھۃ المقابلۃ وھی ان شرط الرؤیۃ، کما علم بالضرورۃ من التجربۃ، المقابلۃ او مافی حکمھا نحوالمرئی فی المراٰۃ وانھا، مستحیلۃ فی حق اﷲ تعالٰی لتنزھہ عن المکان والجھۃ والجواب منع الاشتراط۱؎۔
دوسرا شبہہ مقابلہ کا ہے۔ وہ یہ کہ رؤیت کی شرط یہ ہے کہ مرئی مقابل ہو جیسا کہ بداھت تجربہ سے معلوم ہے، یا مقابلہ کے حکم میں ہو، جیسے وہ جو آئینے میں نظر آتا ہے۔ اور مقابل ہونا اﷲ تعالٰی کے حق میں محال ہے۔

اس لیے کہ وہ جہت اور مکان سے پاک ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مقابلہ کا شرط رؤیت ہونا ہم نہیں مانتے۔ (ت)
 (۱؎ شرح المواقف    المرصدالخامس المقصد الاول    منشورات الشریف الرضی، قم ایران    ۸ /۱۳۹)
امام نسفی مصنف کافی مذکور نے عمدۃ الکلام میں فرمایا:
ماقالوا من اشتراط المقابلۃ وغیرہ یبطل برؤیۃ اﷲ تعالٰی ایانا ۲؎۔
یہ جو کہا گیا کہ رویت کے لئے مقابلہ وغیرہ شرط ہے۔ اس دلیل سے باطل ہے کہ خدائے تعالٰی ہمیں دیکھتا ہے اور مقابلہ وغیرہ بالکل نہیں ۔ (ت)
(۲؎ عمدۃ الکلام للنسفی)
روح ملاصق بالبدن کا سمع وبصر بروجہ اول ہے اور مفاق کا از قبیل دوم ،
کل ذٰلک علی الاغلب و الافربما یحس الملاصق بنورہ کما فی کشوف الاولیاء والمفارق بالاٰلات الباقیۃ الدائمۃ کما فی الانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام، ومعنی المفارقۃ فیھم طریان الفراق اٰنی تحقیقا للوعد الربانی ۔
یہ سب حکم اکثری ہے ورنہ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ بدن سے متعلق روح اپنے نور کے ذریعہ احساس کرتی ہے جیسا کہ اولیاء کرام کے کشف میں ہوتا ہے۔ اور بدن سے مفارق روح ان آلات کے ذریعہ احساس کرتی ہے جو باقی ودائم ہوتے ہیں جیسے حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے احساسات میں ہوتا ہے، اور ان کے حق میں بدن سے روح کی مفارقت کا معنی، بس ایک آن کے لئے جدائی کا طاری ہونا تا کہ وعدہ الٰہیہ (ہرنفس کے لئے موت) کا تحقیق ہوجائے۔ (ت)

اور اس معنی سے انکار کی منکران سماع موتٰی کو بھی گنجائش نہیں کہ آخر رؤیت جنت و نار ونعیم وعذاب و سماع وکلام ملائکہ ماننے سے چارہ کہا، اور جب جسم  معطل اور آلات مختل تو یہی ظاہر و عیاں ،
وسیأتی تفصیلہ عنقریب انشاء القریب
(انشاء اللہ اس کی تفصیل عنقریب آئیگی۔ ت) اور یہاں ایک تیسرے معنی مجازی اور ہیں یعنی رائی ومرئی و سامع وسموع میں بروجہ آلیت واسطہ ہونا اور صور جزئیہ کا مدرک تک پہنچانا یہ اس وقت مراد ہوتے ہیں جب سمع وبصر بدن کی طرف مضاف ہو،
کما بیناہ فی المقدمۃ الثانیۃ
(جیسا کہ دوسرے مقدمہ میں ہم نے اسے بیان کیا۔ ت) خواہ بروجہ اثبات، اور یہ ظاہر ہے خواہ بہ ضمن سلب جہاں سلب مقتصر نامستمر ہے
لتضمنہ الاثبات کما لا یخفی
 (اس لئے کہ وہ اثبات کو متضمن ہے جیسا کہ واضح ہے۔ ت)
مقدمہ خامسہ: قرآن واحادیث نصوصِ شرعیہ ومحاورات عرفیہ سب میں ا نسان  طرف صفات روح وجسم دونوں نسبت کی جاتی ہیں ۔
قال اﷲ تعالٰی ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین ثم جعلناہ نطفۃ فی قرار مکین ''الٰی قولہ سبحانہ'' فتبارک اﷲ احسن الخالقین  ۱؎ وقال عزوجل واذ قال ربک للملٰئکۃ انی خالق بشرا من صلصال من حمأمسنون o فاذا سوّیت ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سٰجدین ۲؎o وقال تبارک اسمہ، انا خلقنا ھم من طین  ۳؎  وقالک جل جلا لہ،  یا ایھاالناس ان کنتم فی ریب من البعث فانہ خلقنا کم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ و غیر مخلقۃ لنبین لکم ونقر فی الارحام مانشاء الٰی اجل مسمّی ۴ ؎ الایۃ۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: بیشک ہم نےانسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک عزت والی قرار گاہ میں ٹھہرایا، تاارشاد باری تعالٰی: تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا، اور فرماتا ہے: یاد کرو جب تمھارے رب نے فرشتہ سے فرمایا: بیشک میں بدبودار گارے کی بجتی ہوئی مٹی سے انسان بنانے والا ہوں تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی معزز روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گرجانا، اور فرماتا ہے: بیشک ہم نے ان کو چپکتی ہوئی مٹی سے بنایا۔ اور فرماتا ہے: اگر تمھیں بعث سے متعلق کچھ شک ہے تو بیشک ہم نے تم کو مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر خون بستہ سے پھر  پارہ گوشت سے، مکمل اور نامکمل تاکہ تم پر ہم روشن کردیں، اور جسے چاہیں ایک مقررہ میعاد تک رحموں میں ٹھہرائیں۔ الآیۃ (ت)
 (۱؎ القرآن        ۲۳ /۱۲ و ۱۳ و ۱۴ )             (  ۲؎ القرآن        ۱۵/ ۲۸و ۲۹)

(۳؎ القرآن        ۳۷ /۱۱ )                        (۴؎ القرآن        ۲۲ /۵)
پر ظارہر کہ کھنکھناتی چپکتی خمیر کی ہوئی مٹی، پھر پانی کے قطرے، پھر خون کی بوند، پھر گوشت کے لوتھڑے سے بننار حم میں ایک مدتِ معین تک ٹھہرنا ٹھیک ہونے کے بعد اس میں روح کا پھونکا جانا یہ سب احوال واطوار (عہ ۱)بدن کے ہیں ۔
عہ: خصوصاًاخیر کہ غیر بدن کے لیے کسی طرح محتمل نہیں  ۱۲منہ (م)
اور انسان کی طرف نسبت فرمائی ۔
وقال عزمجد وحملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولا  ۵؎۔
خدائے عزوجل فرماتا ہے: اور انسان نے اس امانت کو اٹھالیا بے شک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے،
 (۵؎القرآن        ۳۴ /۷۲)
قال تعالٰی و شانہ ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ، بلا قادرین علی ان نسوی بنانہ، بل یرید الانسان لیفجر امامہ، یسئل ایان یوم القیٰمۃ ''الی قولہ جل ذکرہ'' یقول الانسان یومئذ این المفر ۱؎ ''الٰی قول جلت عظمتہ'' ینبأ الانسان یومئذ بما قدم واخرہ بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ oولو القی معاذیرہ ۲ ؎۔
اور فرماتا ہے: کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہدیاں جمع نہ کریں گے، کیوں نہیں، ہم قادر ہیں کہ اس کے  پور برابر کردیں، بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اس کے آگے بے حکمی کرے، پوچھتا ہے کب ہے قیامت کا دن (تا ارشاد :) انسان کہتا ہے اس دن مفر کہاں ( تا ارشاد ربانی : ) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا جو اس نے آگے کیا اور پیچھے کیا ، بلکہ انسان اپنے نفس کو خوب دیکھنے والا ہے اگر چہ اپنے عذر سامنے لائے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن        ۷۵ /۳ تا ۱۰  )	 (  ۲؎ القرآن        ۷۵/ ۱۳ تا۱۵)
Flag Counter