پھر روح کی نسبت تو اوپر واضح ہوچکا کہ اس کی حیات مستمرہ غیر منقطعہ ہے۔ مگر بدن کے لیے بعد عود بھی استمرار ضروری نہیں کہ وہ ایک تعلق خاص بمقصد خاص ہوتاہے جس کے انصرام پر اس کا انقطاع بجا ہے۔ امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری شرح البخاری میں بجواب معتزلہ دلائل اثبات عذاب قبر میں فرماتے ہیں :
لنا اٰیات احدٰھا قولہ تعالٰی النار یعرضون علیھا غد وا وعشیا، فھو صریح فی التعذیب الموت الثانیۃ قولہ تعالٰی ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین فان اﷲ تعالٰی ذکر الموتۃ مرتین وھما لا تتحقان الا ان یکون فی القبر حیاۃ وموت حتی تکون احدی الموتتین ما یتحصل عقیب الحیاۃ فی الدنیا والاخری مایتحصل عقیب الحیاۃ التی فی القبر۲؎۔
ہماری دلیل میں متعدد آیتیں ہیں ایک باری تعالٰی کا یہ ارشاد ''وہ (فرعون اور اس کے ساتھی) صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں'' یہ بعد موت عذاب دئے جانے کے بارے میں صریح ہے دوسری آیت، ارشاد باری: '' اے ہمارے رب! تو نے دوبار ہمیں موت دی اور دوبار حیات دی'' اللہ تعالٰی نے دو بار موت کاذکر فرمایا ہے۔یہ اسی وقت ہوگا جب قبر میں موت وحیات ہو کہ ایک موت تو وہ ہے جو دنیا کی زندگی کے بعد ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قبر والی زندگی کے بعد ہوتی ہے۔ (ت)
(۲عمدۃ القاری شرح بخاری باب المیّت یسمع خفق النعال ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ۸ /۴۶۔ ۱۴۵)
شرح الصدور میں بدائع سے ہے :
نقلت من خط القاضی ابی یعلی فی تعالیقہ لابد من انقطاع عذاب القبر لانہ من عذاب الدنیا والدنیا وما فیہا منقطع فلابد ان یلحقھم الفناء والبلاء لایعرف مقدار مدۃ ذٰلک ۱۔
قاضی ابویعلی کی قلمی تحریر جو ان کی تعلیقات میں ہے، اس سے میں نے نقل کیا ہے کہ عذاب قبر کا منقطع ہونا ضروری ہے اس لیے کہ وہ عذاب دنیا کی جنس سے ہے اور دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب منقطع ہے تو انھیں فنا اور بوسیدگی لاحق ہونا ضروری ہے اور اس مدت کی مقدارمعلوم نہیں (ت)
(؎ شرح الصدور آخرباب عذاب القبر خلافت اکیڈ می منگورہ سوات ص ۷۶)
پھرفرمایا :
قلت ویؤید ھذا ماا خرجہ ھنادبن السری فی الزھد عن مجاھد قال للکفار ھجعۃ یجدون فیھاطعام النوم حتی یوم القیامۃ فاذا صیح باھل القبور یقول الکافر یٰویلنا من بعثنا من مرقدنا فیقول المؤمن الی جنبیہ ھذا ما وعد الرحمٰن وصدق المرسلون ۲؎۔
میں نے کہا: ا س کی مؤید وہ ہے جو ہناد بن سری نے زہد میں امام مجاہد سے روایت کیا، فرمایا کفار کیلئے ایک خوابیدگی ہوگی جس میں نیند کا مزہ پائیں گے قیامت تک جب قبر والوں کو پکارا جائے گا کافر بولے گا: ہائے ہماری خرابی! کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھایا توا س کے پہلو سے مومن بولے گا : یہی وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا اور رسولوں نے سچ فرمایا۔ (ت)
(۲؎ شرح الصدور آخرباب عذاب القبر خلافت اکیڈ می منگورہ سوات ص ۷۶)
مقدمہ رابعہ: سمع وبصر لغۃً وعرفاً ادراک الوان واضواء واصوات بحاسہ چشم وگوش کا نام ہے۔ قاموس میں ہے:
السمع حس الاذن ۳؎
( سماعت کان کی جس کانام ہے۔ ت)
(۳ ۱لقاموس المحیط باب العین فصل السین مصطفی البابی مصر ۳ /۴۱)
اسی میں ہے :
''البصر'' محرکۃ حس العین۴؎
(بصر ___ صاد کی حرکت کے ساتھ___ آنکھ کے احساس کا نام ہے ۔ ت)
(۴؎ ۱لقاموس المحیط باب الراء فصل الباء مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۸۷)
اسی طرح تاج العروس میں محکم سے ہے۔ صحاح جوہری و مختار رازی میں ہے:
البصر حاسۃ الرئویۃ ۵؎
(بصر حاسہ رؤیت ہے۔ ت)
(۵؎ الصحاح للجوہری تحت لفط''بصر'' دارالعلم للملایین بیروت ۲ /۵۹۱)
المصباح المنیر میں ہے:
البصر النور الذی تدرک بہ الجارحۃ ۶؎
(بصر وہ نور ہے جس سے عضو کو ادراک ہوتاہے۔ ت)
(۶؎المصباح المنیر کتاب الباء منشورات دارالہجرۃ قم ایران ۱ /۵۰)
اسی میں ہے:
ورأیت الشیئ رؤیت بحاسۃ البصر ۷ ؎
(میں نے شیئ کو دیکھا یعنی میں نے اسے حاسہ بصر سے دیکھا)
(۷؎المصباح المنیر کتاب الراء منشورات دارالہجرۃ قم ایران ۱ /۲۴۷)
(سمعی ادراک کان کے سوراخ تک ہو ا پہنچنے سے ہوتا ہے۔ ت)
(۸؎ شرح المواقف المر صدالخامس فی النظر منشورات الشریف الرضی ایران ۱ /۲۰۱)
اور شارح نے مباحث نظر میں ذکر کیا:
الادراک بالبصر یتوقف علی امور ثلثۃ مواجہۃالبصر(عہ ۱) و تقلیب الحدقۃ نحوہ طلبالرؤیتہ (عہ ۲) و ازالۃ الغشاوۃ المانعہ من الابصار ۱؎۔
نگاہ سے ادراک تین امور پر موقوف ہے: نظر کا رو برو ہونا، آنکھ کی پتلی کو اس کی جانب اسے دیکھنے کی طلب میں گردش دینا، دیکھنے سے مانع پردہ کا ازالہ (ت)
عہ۱: ای للمبصر نفسہ اوشجہ المنطع فی نحو مرأۃ علی القول بالانطباع ام علی القول بخروج الشعاع فمقابلۃ المبصر حاصلۃ فی الوجہین لاجل الانعکاس اقول ومیل ائمتنا الفقھاء الی القول بالانطباع ھو ان یقولو ا کون الابصاربہ، وبذالک بانھم صرحوا ان الرجل اذا رأی فرج امرأۃ وھی فی الماء تثبت حرمۃ المصاھرۃ، ولو راٰی فرجھا فی الماء لامنہ وھی خارجۃ لم تثبت لانہ علی الاول رأی فرجھا وعلی الثانی انما راٰی شجہ لانفسہ کما فی الخانیۃ وغیرھا، فلو قالوا بالانعکاس لکان رای نفس الفرج فی الصور تین، ''فلیحفظ'' فانی لم ار من نبہ علی ثم رأیت المحقق نبہ علی فی فتح القدیر وﷲ الحمد ۱۲منہ (م)
یعنی نگاہ کا خود مرئی کے سامنے ہونا یا اس کی مثال کہ جو آئینہ وغیرہ میں منطبع ہو یہ اس قول پر کہ آئینہ میں شیئ کی صورت مطبع ہوتی ہے او شعاع بصری نکلنے والے قول پر تو مرئی کا سامنا انعکاس کی وجہ سے دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔ اقول ہمارے ائمہ فقہا کا میلان قول انطباع کی طرف ہے کہ رؤیت انطباع سے واقع ہوتی ہے۔ وہ میلان یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ جب عورت پانی کے اندر ہو اور کوئی مرداس کی شرمگاہ دیکھے تو حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، اور جب عورت پانی سے باہر ہے اور مرد نے پانی سے نہیں بلکہ پانی میں اس کی شرمگاہ دیکھی تو حرمت نہ ثابت ہوگی، اس لیے کہ پہلی صورت میں اس نے خود شرمگاہ دیکھی اور دوسری صورت میں خود شرمگاہ نہیں بلکہ اس کی مثال دیکھی، جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے ___ تو یہ فقہاء ا گر انعکاس کے قائل ہوتے تو خود شرمگاہ کی رؤیت دونوں صورت میں قرار پاتی، اسے یاد رکھنا چاہئے اس لیے کہ اس پر تنبیہ میں نے کہیں نہ دیکھی ___ پھر حضرت محقق کو دیکھا کہ انھوں نے فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے۔ اور حمد اللہ ہی کے لئے ہے ۱۲منہ (ت)
عہ۲: اقول قید الطلب خرج وفاق فلیس من شرط الرؤیئۃ طلبھا والمراد بالازالۃ العدم اصلیا او طاری بافعل الرائی اوغیرہ ۱۲منہ (م)
اقول طلب کی قید اتفاقی ہے اس لئے کہ دیکھنے کی طلب شرط نہیں، اور ازالہ سے مراد یہ ہے کہ پردہ نہ ہو خواہ سرے سے نہ رہا ہو یا بعد میں دیکھنے والے یا کسی اور کے عمل سے زائل ہوگیا ہو ۱۲منہ (ت)
(۱؎ شرح المواقف المر صدالخامس فی النظر منشورات الشریف الرضی ایران ۱ /۲۰۱)
اور ا س کا اطلاق بے واسطہ جو ارواح وآلات ادراک تام جزئیات مذکورہ خواہ غیر مذکورہ بروجہ جزئی مخصوص پر بھی کیا جاتا ہے، یہاں نہ مدرک بالفتح میں صورت ولون وضو کی تخصیص ہے نہ مدرک بالکسر میں آلات جسمانیہ کی قید، روز قیامت مومنین اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے اور اس کا کلام سُنیں گے اور وہ اور اس کی صفات اعراض سے پاک ہیں، اور مولٰی عزوجل سمیع وبصیر علی الاطلاق ہے اور آلات وجوارح سے منزہ، مصباح میں ہے:
سمع اﷲ قولک علمہ ۲؎
(خدانے تیری بات سنی یعنی اسے جانا۔ ت)
(۲؎ مصباح المنیر تحت لفظ سمع منشورات دارالہجرۃ قم ایران ۱/ ۲۸۹)