تحقیق یہ ہے کہ انسان ایک جوہر ہے وہی کام کرنے والا ہے وہی سمجھنے والا ہے، وہی ایمان لانے والا ہے، وہی اطاعت کرنے والا ہے، وہی نافرمانی کرنے والا ہے،۔ اور یہ اعضاء کام میں اس کے آلات واسباب ہیں تو ظاہر میں کام کی نسبت آلہ کی طرف کی گئی اور حققیت میں وہ اسی جوہر ذات انسان کی طرف منسوب ہے۔ (ت)
(۴؎ التفسیر الکبیر سورہ انفال تحت ایہئ ذلک بما قدمت ایدیکم مطبعہ بہیہ مصریہ مصر ۱۵ /۱۷۹)
مقدمہ ثالثہ: جب باجماع اہل حق روح کے لیے موت نہیں، اور تمام کُتب عقائد میں تصریح اور شرح مقاصد کی عبارت فصل دوم نوع اول مقصد سوم میں گزری کہ اہل سنت کے نزدیک جسم شرط حیات نہیں، معتزلہ اس میں خلاف کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ادراکات تابع حیات ہیں
کما نص علی فی شرح طوالع الانوار اللعلامۃ التفتازانی وللاصفھانی وشرح الموافق للسید الجرجانی
(جیسا کہ علامہ تفتازانی واصفہانی کی شروح طوالع الانوار اور سید شریف جُرجانی کی شرح مواقف میں اس کی تصریح ہے۔ ت) ولہذا ہمارے نزدیک روح موت سے متغیر نہیں ہوتی اس کے کلام وادراک بدستور رہتے ہیں جس کا بیان شافی درجہ کافی فصل مذکور میں مسطور، تو روح بعد دفن فتنہ وسوال یا نعیم ونکال، کسی امر میں ہرگز اعادہ حیات کی محتاج نہیں کہ حیات وادراکات اس سے جدا ہی کب ہوئے تھے، ہاں بدن ضرور محتاج ہے۔ وجہ یہ کہ اہل سنت کے نزدیک قبر کی تنعیم یا معاذاللہ عذاب جو کچھ ہے روح وجسم دونوں پر ہے۔
امام جلیل جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں:
باتفاق اہل سنت عذاب قبر اور اسائش قبر کا محل روح اور بدن دونوں میں ہیں، (ت)
(۱؎ شرح الصدور باب عذاب القبر خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۷۶)
اور اس پر شرع مطہرہ سے نصوص کثیرہ وشہیرہ متواتر دال ہیں جن کے استقصا کی طرف راہ نہیں، اسی کتاب کی احادیث مذکورہ میں بکثرت اس کے دلائل ہیں کما تری، اسی طرح سوال نکیرین بھی روح وبدن دونوں سے ہے۔
شرح فقہ کبر میں ہے :
لیس السوال فی البرزخ للروح وحدھا کما قال ابن حزم وغیرہ منہ قول من قال انہ للبدن بلاروح والاحادیث الصحیحۃ ترد الاقولین ۲؎۔
برزخ میں تنہا روح سے سوال نہیں جیسے ابن حزم وغیرہ کا قول ہے اور اس سے زیادہ فاسد اس کا قول ہے جو کہتا ہے کہ سوال صرف بدن بے روح سے ہے۔ صحیح احادیث دونوں قولوں کی تردید فرماتی ہیں۔ (ت)
(۲؎ شرح فقہ الاکبر تعلق الروح بالبدن علی خمسۃ انواع مطبع قیومی کانپور بھارت ص۱۵۴)
اور جماد میں حیث ہو جماد سے سوال یا اسے لذت، خواہ الم کا ایصال، بداہۃً محال، لاجرم وقت سوال بدن کو ایک نوع حیات کی عود سے چارہ نہیں، اگر چہ ہم اس کی کیفیت جزماًنہ جانیں،
امام اجل ابوالبرکات نسفی عمدۃ الکلام میں فرماتے ہیں :
عذاب القبر للکفار ولبعض العصاۃ من المؤمنین والانعام لاھل الطاعۃ، باعادۃ الحیاۃ فی الجسد وان توقفنا فی اعادۃ الروح حق ۳؎۔
کفار اور بعض گنہگار مومنین کے لیے عذاب قبر اور اہل طاعت کے لیے اسائش وانعام حق ہے اس طرح کہ جسم میں زندگی لوٹادی جائے اگر چہ روح کے لوٹانے میں ہمیں توقف ہو۔ (ت)
(۳؎ عمدۃ الکلام للنسفی)
امام الائمہ مالک الازمہ سید نا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
سوال منکر ونکیر فی القبر حق واعادۃ الروح الی العبد فی قبر حق ۴؎۔
قبر میں منکر نکیر کا سوال حق ہے، اور قبر میں بندے کی طرف روح کا اعادہ حق ہے۔ (ت)
(۴؎ فقہ اکبر ملک سراج الدین اینڈ سنز لاہور ص۱۸)
اسی کی شرح منح الروض میں ہے :
(اعادۃ الروح) ای ردھا وتعلقھا (الی العبد) ای جسدہ بجمیع اجزانہ او ببعضھا مجتمعۃ او متفرقۃ (فی قبرہ حق) والواولمجرد الجمعیۃ فلا ینا فی ان السوال بعد اعادۃ الروح وکمال الحال ۱؎۔
(روح کا اعادہ) یعنی اسے لوٹا نا اور اس کا تعلق ہونا (بندے کی طرف) یعنی اس کے بدن کی طرف، جو اپنے تمام اجزاء کے ساتھ ہو یا بعض کے ساتھ ہو یہ مجتمع ہوں یا منتشر ہوں (اس کی قبر کے اندر حق ہے) اور ''واو'' محض جمیعت کے لئے ہوتا ہے تو اس کے منافی نہیں کہ سوال روح لوٹانے اور حالت کامل ہوجانے کے بعد ہوگا۔ (ت)
(۱؎ شرح فقہ اکبر تحت عبارت مذکورہ مطبع قیومی کانپور بھارت ص۱۲۱)
اسی میں ہے :
اعلم ان اھل الحق اتفقوا علی ان اﷲ تعالٰی یخلق فی المیّت نوع حیاۃ فی القبر قدر مایتألم ویتلذذ ولکن اختلفوا فی انہ ھل یعاد الروح الیہ والمنقول عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ التوقف الا ان کلامہ ھنا یدل علی اعادۃ الروح اذ جواب الملکین فعل اختیاری فلا یتصور بدون الروح وقیل قد یتصور۲؎ الخ
جان لو کہ اہل حق کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالٰی میّت کے اندر قبر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردیتاہے ۔ اتنی کہ وہ لذت و الم کا احساس کرے، مگر اس میں ان کا اختلاف ہے، کہ اس کی جانب روح لوٹائی جاتی ہے یا نہیں، اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول یہ ہے کہ توقف کیا جائے۔ مگر یہاں پر ان کا کلام اعادہ روح پر دال ہیے اس لیے کہ نکیرین کا جواب ایک فعل اختیاری ہے تو وہ بغیر روح کے متصور نہیں اور کہا گیا کہ متصور ہے۔ (ت)
(۲شرح فقہ اکبر تحت عبارت ما بعد مطبع قیومی کانپور بھارت ص۱۲۲)
امام ابن الہمام اسی فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الحق ان المیّت المعذب فی قبرہ توضع فیہ الحیاۃ بقدر ما یحس الالم والبدنیۃ لیست بشرط عند اھل السنۃ حتی لوکان متفرق الاجزاء بحیث لاتتمیز الاجزاء بل ھی مختلطۃ بالتراب فعذب جعلت الحیاۃ فی تلک الاجزاء الّتی لایاخذھا البصروان اﷲ علی ذٰلک لقدیر والخلاف فیہ ان کان بناء علی انکار عذاب القبر امکن والا یتصور من عاقل القول بلاعذاب مع عدم الاحساس ۱؎۔
حق یہ ہے کہ قبر میں عذاب دئے جانے والے مردے کے اندر اتنی زندگی رکھی جاتی ہے کہ وہ الم کا احساس کرے اور یہ بدن اس کے لئے شرط نہیں یہاں تک کہ اگر اس کے اجزء اس طرح بکھر چکے ہوں کہ امتیاز نہ ہوسکے بلکہ مٹی سے خلط ملط ہو گئے ہوں پھر عذاب دیا جائے تو حیات ان ہی اجزاء میں کردی جائے گی جو نظر نہیں آتے اور بلا شبہہ اللہ اس پر قادر ہے۔ اس سے اختلاف اگر عذاب قبر سے انکار کی بنا پر ہو تو ہو سکتاہے ورنہ کسی عاقل سے متصور نہیں کہ وہ اس کا قائل ہو کہ بغیر احساس کے عذاب ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الضرب والقتل نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۶۰)