جان آدمی ہر چند درشدائد ومصائب گرفتار شود بحفظ الٰہی محفوظ است شکستہ شدن وفنا پذیر فتن آں از محالات است ولہذا درحدیث شریف وارد است انما خلقتم لابد یعنی جان آدمی کہ درحقیقت ادمی عبارت از آنست ابدی است ہر گز فنا پذیر نیست، وآنچہ در عرف مشہور است کہ موت ہلاک جاں می کنہ محض مجاز است نہایت کاموت آن ست کہ جان از بدن جدا شود بدن بسبب نایافت مربی و محافظ از ہم باشد والاجان رافنا متصور نیست واثبات علم برزخ ومکان حشر ونشر مبنی برہمیں مسئلہ است ۲؎ الخ۔
آدمی جس قدر بھی سختیوں اور مصیبتوں میں گرفتار ہو مگر اس کی روح خدا کی حفاظت کے باعث محفوظ ہے اس کا ٹوٹنا پھوٹنا اور فنا ہونا محال ہے۔ اس لیے حدیث میں آیاہے: تم ہمیشہ کے لیے پیدا کئے گئے ہو__ یعنی تمھاری جان اور روح __کہ حقیقت میں انسان اسی سے عبارت ہے ___ ابدی اور جاودانی ہے۔ وہ کبھی فنا نہیں ہونے والی۔ اور وہ جو عرف میں ہمیشہ میں مشہور ہے کہ موت جان کا ہلاک کردیتی ہے محض مجاز ہے۔ موت کا زیادہ سے زیادہ اثر یہ ہے کہ جان بدن سے جدا ہوتی ہے اور بدن اپنے مربی ہے ومحافظ کو کھودینے کی وجہ سے بکھر کر رہ جاتا ہے۔ ورنہ جان کے لئے فنا متصور نہیں، عالم برزخ اور امکان حشر ونشر کے اثبات کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے۔ الخ (ت)
بالجملہ موت بہ معنی حقیقی کہ بدن ہی کو عارض ہوتی ہے وہی ایسی چیز ہے کہ جسے لاحق ہو مہمل ومعطل و
معرض فساد وملحق بالجماد کردے۔ موت مجازی کہ روح کے لیے ان سب آفات سے پاک ومبرا ہے۔ وللہ الحمد والحجۃ السامیہ ۔
مقدمہ ثانیہ: عاقل جانتا ہے کہ علم وادراک صفت جان پاک ہے نہ کہ وہ وصف مشتِ خاک ،
قال اللہ عزوجل:
ما کذب الفؤاد ماراٰی ۱؎ علی القول المختار ان المرا دبالرؤیۃ بحاسۃ البصر ۲؎۔
دل نے غلط نہ کہا اسے جو آنکھ نے دیکھا۔ یکہ معنی قول مختار کی بنیا د پر ہے کہ یہاں رؤیت سے مراد حاسہ نگاہ سے دیکھنا ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن ۵۳ /۱۱)
(۲؎ المصابیح المنیر کتاب الباء منشورات درالجہرۃ قم ایران ۱ /۲۴۷)
تفسیر کبیر میں ہے :
ان الانسان شیئ واحد وذلک الشی ھوالمبتلی بالتکالیف الالٰھیۃ والامورالربانیۃ وھو الموصوف بالسمع والبصر ومجموع البدن لیس کذٰلک ولیس عضو من اعضاء البدن کذٰلک فالنفس شی مغائر لجملۃ البدن ومغائر الاجزاء البدن وھو موصوف بکل ھذہ الصفات ۳؎۔
انسان ایک شی واحد ہے۔ اسی شی کا تکلیفات شرعیہ اور احکام ربانیہ سے ابتلا ہے۔ وہی سننے دیکھنے سے متصف ہے۔ اور پورا بدن یہ صفت نہیں رکھتا ، نہ ہی اعضائے بدن میں سے کوئی عضو اس وصف کا ہے۔ تو روح پورے بدن کے مغایر اور ہر جزو بدن کے مغایر ایک شے ہے۔ وہی ان تمام صفات سے متصف ہے۔ (ت)
(۳؎ التفسیر الکبیر تحت ویسئلونک عن الروح المطبعۃ البھیۃ العربیۃ الازہر مصر ۲۱ /۵۲)
اس میں بعد اقامت حج کے لکھتے ہیں :
فثبت بما ذکرنا ان النفس الانسانیۃ شیئ واحد وثبت ان ذلک الشی ھو المبصر والسامع والشام و الذائق واللامس والمتخیل والمتفکر والمتذکر و المشتھی والغاضب وھوالموصوف بجمیع الادراک لکل المدرکات وھو موصوف بجمیع الافعال الاختیاریۃ والحرکات الارادیۃ ۱ ؎۔
یہاں مذکور سے ثابت ہوا کہ روح انسانی ایک شی واحد ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہی شی دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے، چھونے، خیال کرنے، سوچنے، یاد کرنے، خواہش کرنے، غصہ کرنے والی ہے۔ وہی تمام ادراکات سے متصف ہے۔ اور وہ تمام افعال اختیاریہ اور حرکاتِ ارادیہ سے متصف ہے۔ (ت)
(۱؎ التفسیر الکبیر تحت یسئلونک عن الروح المطبعۃ البہیۃ العر بیۃ بمیدان الازہر مصر ۲۱ /۴۷)
پھر فرمایا:
لما کانت النفس شیئاواحدا امتنع کون النفس عبارۃ عن البدن وکذا القوۃ السامعۃ وسائر القوی فانا نعلم بالضرورۃ انہ لیس فی البدن جز واحد ھو بعینہ موصوف بالابصار والسماع والفکر فثبت ان النفس الانسانیۃ شیئ واحد موصوف بجملۃ ھذہ الادراکات وثبت بالبداھۃ ان البدان و شیئامن اجزاء البدن لیس کذلک، ولنقرر ھذا البرھان بعبارۃ اخری فنقول نعلم بالضرورۃ انا اذا بصرنا شیئاعرفناہ واذا عرفناہ اشتھیناہ واذا اشتھیناہ حرکنا ابداننا الی القرب منہ فوجب القطع بان الذی البصر ھو الذی عرف ھو الذی اشتھی ھوالذی حرک ۲؎ الی اٰخرما اطال اوطاب ھذا مختصر ملتقط۔
جب روح شی واحد ہے تو محال ہے کہ روح بدن سے یا قوت سامعہ یا دیگر قوی سے عبارت ہو، اس لیے کہ ہمیں بدیہی طور پر معلوم ہے کہ بدن میں کوئی ایک خاص جز ایسا نہیں کہ وہی دیکھنے سننے اور فکر کرنے سے متصف ہو تو ثابت ہو کہ روح انسانی وہ شی واحد ہے جو ان تمام ادراکات سے متصف ہے ___ اور بدیہی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ بدن اور اجزائے بدن میں کوئی جز ایسا نہیں۔ اس دلیل کی تقریر ہم دوسرے الفاظ میں یوں کرتے ہیں کہ دیہی طور پر ہم جانتے ہیں کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کو پہچان لیتے ہیں اور جب اسے پہچان لیتے ہیں تو ہم اس کی خواہش کرتے ہیں اور جب اس کی خواہش کرتے ہیں تو اپنے بدن کو اس سے قریب ہونے کے لیے حرکت دیتے ہیں تو اس بات کا قطعی طور پر حکم کرنا ضروری ہے کہ جس نے دیکھا اس نے پہچانا ، اسی نے خواہش کی اسی نے حرکت دی، امام رازی نے اس کی مزید تفصیل اور عمدہ تقریر فرمائی ہے یہاں اختیار کے ساتھ جگہ جگہ کی عبارتوں کا انتخاب نقل ہوا۔ (ت)
(۲؎ التفسیر الکبیر تحت یسئلونک عن الروح المطبعۃ البہیۃ العر بیۃ بمیدان الازہر مصر ۲۱ /۴۸و۴۷)
تفسیر عزیزی میں ہے :
جزو اعظم جان است وشعورو ادراک وتلذذ وتألم خاصہ اوست ۱؎ اھ ملخصا۔
جزوِ اعظم جان ہے، اور شعور وادراک اور احساس لذت والم اس کا خاصہ ہے اھ بتلخیص (ت)
اقول اس معنٰی پرشرع سے بھی دلائل قاطعہ قائم، قرآن عظیم واجماع عقلاء دو شاہد عدل ہیں کہ انسان سمیع وبصیر ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ان خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ فجعلنٰہ سمیعا بصیرا ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ہم نے آدمی کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا تا کہ اسے جانچیں، پھر ہم نے اسے سننے دیکھنے والا بنادیا۔ (ت)
(۲؎ القرآن ۷۶/۲)
اور عقلاً ونقلاً بدیہات سے ہے کہ انسان کی انکھ، کان انسان نہیں تو یقینا ثابت کہ یہ جسے سمیع وبصیر فرمایا چشم وگوش نہیں اور باقی اعضاء کا سمع وبصر سے بے علاقہ ہونا واضح تر، تو وہ نہیں مگر روح۔ ولہذا قرآن مجید فرماتا ہے :
ألَھم ارجل یمشون بھا، ام لھم اید یبطشون بھا ام لھم اعین یبصرون بھا، ام لھم اٰذان یسمعون بھا ۳؎۔
کیا ان کے پاس پاؤں جن سے وہ چلتے ہیں، یا ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، یا آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، یا کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں، (ت)
(۳؎ القرآن ۷ /۱۹۵)
افعال وسمع وبصر کی اضافت صاحب جو ارح کی طر ف فرمائی اور جوارح پر بائے استعانت آئی، ثابت ہوا کہ فاعل و سامع وبصیر روح ہے۔ اور بدن صرف آلہ، اسی طرح تمام نصوص احوال برزخ کہ بعد فنائے بدن بقائے ادراکات پر شاہد ہیں جن سے جملہ کثیر فصول سابقہ میں گزرا سب سے ثابت کہ مدرک غیر بدن ہے۔ ہاں کبھی مجاذاً بدن کی طرح بھی بوجہ آلیت نسبت ادراکات ہوتی ہے،
قال اللہ تعالٰی وتعیھا اذن واعیۃ ۴؎
(اللہ تعالٰی فرماتاہے: اور کوئی سمجھ والا کان سے سمجھے۔ ت)