الاصل ان لالفاظ المستعملۃ فی الایمان مبنیۃ علی العرف عندنا وعند الشافعی علی الحقیقۃ لان الحقیقۃ بان یراد، وعند مالک علی معانی کلام القراٰن لانہ علی اصح اللغات وافصحھا ولنا ان غرض الحاف ماھو والمتعارف فینعقد بغرضہ ۲؎۔
اصل یہ ہے کہ قسم میں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ہمارے نزدیک ان کی نبا عرف پر ہے۔ اور امام شافعی کے یہاں حقیقت پر ہے اس لیے کہ حقیقت اس قابل ہے کہ مراد ہو، اور امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے یہاں الفاظ قرآن کے معانی پر ہے اس لیے کہ قرآن سب سے زیادہ صحیح اور فصیح زبان پر وارد ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ قسم کھانے والے کی غرض وہ ہی ہوتی ہے جو عرف میں ہے تو اس کی غرض سے منعقد ہوگی۔ (ت)
(۲؎ الکفایۃ مع فتح القدیر باب الیمین فی الدخول والسکنی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷)
اسی میں ہے :
رجحنا العرف علی الحقیقۃ لان مبنٰی الایمان علی العرف ۳؎۔
ہم نے عرف کو حقیقت پر ترجیح دی اس لیے کہ قسم کی نبا عرف ہی ہوتی ہے۔ (ت)
(۳؎ الکفایۃ مع فتح القدیر مسائل متفرقہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۳)
اسی مستخلص شرح کنز میںکفایہ کا پہلا کام بعینہٖ نقل کرکے لکھا:
کذا فی الکفایۃ وقد ذکر فخر الاسلام فی اصول ان من جملۃ ماترک بہ الحقیقۃ خمسۃ انواع وعدمن جملتھا استعمال العرف الغالب۴ ؎۔
اسی طرح کفایہ میںہے۔ اور فخر الاسلام نے اصول میں بیان فرمایا ہے کہ جن امور سے حقیقت متروک ہوجاتی ہے وہ پانچ قسم کے ہیں، ان میں اکثر عرف کے استعمال کو بھی شمار کیا۔ (ت)
(۴؎ مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الایمان ، باب الیمین فی الدخول والسکنی دلی پرنٹنگ پریس دہلی ۲ /۳۳۷)
اسی عینی شرح کنز میں ہے :
الایمان عندنا مبنیۃ علی العرف وعند الشافعی واحمد علی الحقیقۃ وعند مالک علی معانی کلم القرآن۱؎۔
ہمارے نزدیک قسم عرف پر مبنی ہوتی ہے اور امام شافعی وامام احمد کے نزدیک حقیقت پر اور امام مالک کے نزدیک کلمات قرآن کے معانی پر۔ (ت)
(۱؎ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الایمان باب الیمین فی الدخول السکنی نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۰۷)
بلکہ اسی فتح القدیر میں خاص ہمارے مسئلہ دائرہ کے مبنی علی العرف ہونے کی تصریح کی، فرماتے ہیں:
یمینہ لاتنعقد الا علی الحی لان المتعارف ھوا لکلام معہ ۲؎۔
یعنی یہ قسم خاص حالت زندگی ہی پر منعقد ہوگی کہ عرف میںکسی سے بولنا اس کی زندگی ہی میں بات کرنے کوکہتے ہیں ۔
(۲؎ فتح القدیر باب الیمین فی الکلام نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۱۷)
علامہ علی قادری مکی حنفی مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں اسی مسئلہ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں:
ھذا منھم مبنی علی ان مبنی الایمان علی العرف فلا یلزم نفی حقیقۃ السماع کما قالوا فیمن حلف لا یاکل اللحم فاکل السمکۃ مع انہ تعالٰی سماہ لحماطریا ۳ ؎۔
یعنی ہمارے علماء کا یہ ارشاد کہ بعد موت کے کلام سے قسم نہ ٹوٹے کی اس پر مبنی ہے کہ قسم کی بناء عرف پر ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مردے حقیقتاً نہیں سنتے، جس طرح ہمارے علماء نے فرمایا کہ جو گوشت کھانے کی قسم کھائے مچھلی کھانے سے حانث نہ ہوگا حالانکہ اللہ عزوجل نے قرآن عظیم میں اسے تروتازہ گوشت فرمایا۔
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح باب حکم لاسراء فصل اول مسئلہ سماع الموتٰی مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ /۱۱)
اسی طرح شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث حنفی اشعیۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں بعد ذکر مسئلہ کہ:
اگر کیے سوگند خورد کہ کلامِ نہ کنم پس کلام کرد اور رابعد مردن اوحانث نمی گردد ۴؎۔
اگر کسی نے قسم کھائی کہ فلاں سے بات نہ کروں گا، پھر اس کے مرنے کے بعد اس سے کلام کیا حانث نہ ہوگا۔ (ت)
(۴؎ اشعۃ اللمعات باب حکم لاسراء فصل اول مسئلہ سماع الموتٰی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۲۹۹)
اس کی وجہ ارشاد فرماتے ہیں :
مبنائے ایمان برعرف وعادت است نہ برحقیقت ۵؎۔
قسم کی بنیاد عرف وعادت پر ہے حقیقت پر نہیں (ت)
(۵؎ اشعۃ اللمعات اب حکم لاسراء فصل اول مسئلہ سماع الموتٰی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۲۹۹)
اصل بات تو اتنی ہے جسے انکار سماع موتٰی سے نام کو مس بھی نہیں مگر بعض شروح مثل کتب خمسہ مذکورہ وغیرہا میں اس مسئلہ کی توجہ وتاویل و وجہ ودلیل کچھ ایسے طور پر واقع ہوئی جس سے بنظر ظاہر فکر غائر کچھ وہم خلاف پیدا ہو، حضرات منکرین اور یہ ایک منکرین کیا اہلسنت کے تمام مخالفین ہمیشہ الغریق یتشبت بکل حشیش کے مصداق ہوتے ہیں ڈوبتا ہوا سوار (تنکا) پکڑتا ہے، اپنے صریح مضرسے بھی توا ستدلال کرلاتے ہیں پھر جس میں بظاہر کچھ نفع کا وہم نکلتا ہو اس کا کہنا ہی کیا ہے۔ اب احادیث صحیحہ صریحہ جلیلہ جزیلہ کے تمام قاہر، باہر، ظاہر تصریحات سب اٹھا کر طاق نسیاں پر رکھ دیں، صحابہ و تابعین وائمہ دین، سلف صالحین وخلف کاملین سب کے ارشادات جلیلہ عُلیہ سے آنکھیں بند کرلیں، احادیث اور وہ ارشادات ائمہ کیوں دیکھے جاتے وہاں تو انکار کی قلعی کھلتی ہے۔ بنی مطلع علی الغیب کے ارشاد سے اس بر زخی پنہاں کی خیر اپنی خواہش کے خلاف ملتی ہے۔اقوال علماء میں اجماع اہلسنت کے بادل گرج رہے ہیں جنھیں سن کر اختراع انکار کی چھاتی دہلتی ہے۔ چار ناچار انھیں چند عبارات موہمہ کے معانی موہومہ پر ایمان لانا فرض ٹھہرا، خدارا ا نصاف اگر معاذ اللہ صورت برعکس ہوتی۔ کہ حضرات کی طرف وہ دلائل قاہرہ احادیث متواترہ و نقول اجماع اہل سنت ہوتیں اور دوسرا ان کے خلاف ایسی چند عبارات سے استناد کرتاکیا کچھ نہ بکھرتے پھرتے، طعن وتشنیع کے رنگ نکھرتے، مگر اپنے لیے سب کچھ حلال ہے کیا کریں اس میں گنجائش یہیں تک مجال ہے
ذلک مبلغھم من العلم
(یہی ان کا مبلح علم ہے۔ ت) طرہ یہ کہ ان میں مدعیان حنفیت، درکنار حضرات غیر مقلدین بھی انکار سماع موتٰی پر مرتے جان دیتے ہیں اور نصوص صریحہ، احادیث صحیحہ چھوڑ کر ایسے ہی بعض عبارات موہمہ کی آڑ لیتے ہیں،ا ب نہ عمل بالحدیث کی آن ، نہ
اتخذوا حبارھم ورھبانھم ۱؎
( اپنے عالموں اور راہبوں کو خدا چھوڑ کر رب بنالیا ہے۔ت)پر ایمان ۔
( ۱؎ القرآن ۱۰ /۳۱)
بات یہ ہے کہ منکر صاحبوں کے یہاں دین شریعت اپنی ہو ا و ہوس کا نام ہے جہاں جیسا موقع دیکھا اسی سے کام ہے، ان حضرات کے عمل بالحدیث کی وہی حالت ہے جو قرآن عظیم میں اصل اصول مذہب ذوالخویصرہ تمیمی کے دربارہ صدقات ارشاد فرمائے کہ:
ومنھم من یلمزک فی الصدقات فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھا اذا ھم یسخطون o ۲؎۔
ان میں کوئی وہ ہے جو صدقات کے بارے میں تم پر عیب لگاتا ہے۔ اگر انھیں ان میں سے کچھ دے دیا جائے تو راضی ہوجائیں اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائیں۔ (ت)
(۲؎ القرآن ۱۰ /۵۸)
ارشادات حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے زعم میں ان کے ہوسات کو جگہ دی تو خوش ہیں بڑے متبع حدیث ہیں، ورنہ خفا۔ حدیث کی طرف سے رو درقفا۔ اب لاکھ پکارا کیجئے تعالوا ا لی الرسول (رسول کی طرف آؤ۔ ت) کون ستناہے۔ کسے قبول خوبی یہ کہ سب کو چھوڑ کر جن کا دامن پکڑا ان کے کلمات میں بھی دع ماکدر (گدلے کو چھوڑدو۔ ت) پر عمل رہا۔ طُرفہ تر یہ کہ خود ان کی عبارتوں میں عقل ودانش وانصاف کو غور ونظر کی رخصت نہ دی، نہ احتمال واستدالال میں تمیز کی، ہاں طالب تحقیق وصاحب توفیق براہ انصاف و ترک احتساب ادھرا ۤئے کہ بعونہٖ تعالٰی رفع حجاب ودفع اضطراب وتنقیح جواب وتوضیح صواب کے دریا لہراتے پائے۔
فاقول وبحول اﷲ تعالٰی اصول تقریر جوابات سے پہلے مقدمات مفید دلائل تمہید والتوفیق من اﷲ العزیز الحمید:
مقدمہ اولٰی: فصول سابقہ میں ثابت ہوا کہ اہلسنت کے نزدیک روح کے لیے فنا نہیں، موت سے روحوں کا مرجانا بد مذہبوں کا قول ہے۔ کتب عقائد مثل مقاصد ومواقف وطوالع، اور ان کی شروح غیرہا اس کی تصریحات سے مالا مال ہیں، یہ مسئلہ بلکہ خود روح جسم کے علاوہ ایک شی ہونا ہی اگر چہ بنظر بعض الناس منجملہ نظریات تھا جس کے سبب امام اجل فخر الدین رازی کو تفسیر کبیر میں زیر کریمہ
یسئلونک عن الروح ۱ ؎
اس پر سترہ حج قاہرہ (عہ)کا قائم کرنا پڑا مگر قرآن وحدیث پر اتنے نصوص واضحہ قاطعہ عطا نہیں فرماتے جن کا حصر وشمار ہوسکے اور اب توبحمد اللہ تعالٰی یہ باتیں اہل اسلام میں بدیہات سے ہیں جان کا جاننا ہر ایک جان نہیں مگر انجان جان کا جانا جسم سے نکلنا ضرور جانتاہے اور ساتھ ہی فاتحہ وخیرات وایصال ثواب حسنات و صدقات سے بتادیتاہے کہ وہ روح کو باقی وبرقرار مانتاہے تو موت حقیتاً صفت بدن ہے نہ کہ وصفِ روح ولہذا علامہ الوجود مفتی ابوالسعود محمد نے تفسیرات ارشاد العقل السیلم میں زیر قول تعالٰی
بل احیاءعند ربھم
(بلکہ وہ اپنے رب کے یہاں زندہ ہیں۔ ت)
عہ : ان میں بعض دلائل کا خلاصہ قریب آتا ہے جن سے موت بدن حیات روح بھی ثابت ۱۲منہ (م)
(۱؎ القرآن ۱۵ /۸۵ )
فرمایا :
فیہ دلالۃ علی ان روح الانسان جسم لطیف لایفنی بخراب البدن ولایتوقف علیہ ادراکۃ وتالمہ والتذاذہ ۲؎۔
اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی روح ایک جسم لطیف ہے جو بدن کے ہلاک ہونے سے فنا نہیں ہوتی اور س کا ادراک اور لذت والم پانا بدن پر موقوف نہیں۔ (ت)
(۲؎ ارشاد العقل السلیم تحت آئیہ مذکورہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۱۲)
پھر بھی مجازاً روح مفارق عن البدن پر بھی اس کا اطلاق آتا ہے۔ حدیث میں ہے :
اللھم رب الارواح الفانیۃ والاجساد البالیۃ ۱ الحدیث ولفظہ عند ابن السنی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا دخل الجبانۃ، یقول السلام علیکم ایتھا الارواح الفانیۃ، والابدان البالیۃ والعظام النخرۃ التی خرجت من الدنیا وھی باﷲ المؤمنۃ اللھم ادخل علیھم روحامنک وسلاما منا ۲؎۔
اے اللہ فانی ارواح اور بوسیدہ اجسام کے رب، الحدیث۔ ابن السنی کے یہاں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روای سے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب قبرستان میں داخل ہوتے تو فرماتے: تم پر سلام ہو اے فانی ارواح اور بوسیدہ اجسام اور گلی ہوئی ہڈیو ! جو دنیا سے خدا پر ایمان کے ساتھ نکلے۔ اے اللہ! ان پر اپنی جانب سے اسائش اور ہماری طرف سے سلام پہنچا۔ (ت)
(۱؎ تنزییہ الشریعۃ المرفوعۃ کتاب الذکر والدعاء فصل ثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۲۸)
(۲ کتاب عمل الیوم واللیلۃ باب مایقول اذا خرج الی المقابر حدیث ۵۹۳ نور محمد اصح المطابع کراچی ص ۱۹۸)
علامہ عزیزی اس حدیث کے نیچے سراج المنیر میں فرماتے ہیں:
(الارواح الفانیۃ) ای الفسانی اجسادھا۳؎۔
(ارواح فانی کا مطلب یہ ہے کہ جن کے جسم فانی ہیں۔ ت)
(۳؎ السراج المنیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث مذکورہ مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر ۳ /۱۲۵)
علامہ زین العابدین مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں:
یعنی الارواح التی اجسادھا فانیۃ ولا فالارواح لاتفنی۴؎
(یعنی وہ ارواح جن کے جسم فانی ہیں ورنہ ارواح تو فنا نہیں ہوتیں۔ ت)
علامہ حفنی حاشیہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
قولہ الفانیۃ ای الفانیۃ اجسادھا اذا الارواح لا تقضی ولذا اٰتی بالجملۃ بعدھا مفسرۃ لذالک اعنی والابدان البالیۃ ای فی غیر نحو الشھداء ۵؎۔
ا س قول ''الفانیۃ'' یعنی جن روحوں کے جسم فانی ہیں کیونکہ روحیں فنا نہیں ہوتی اس لیے اس کی تفسیر کرنیوالا جملہ بعد میں لائے ۔ میری مراد، الابدان البالیہ (بوسیدہ اجسام) یعنی شہداء کے ماسوا اجسام بوسیدہ ہیں (ت)
(۵؎ حواشی الحفنی علی ھامش السراج المنیر شرح الجامع الصغیر مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر ۳ /۱۲۵)
ان سب عبارات کا محصل یہ کہ روح پرا طلاق فانی باعتبار جسم واقع ہوا یعنی اے وہ روحو! جن کے بدن فناہو گئے تم پر سلام ہو۔ ورنہ خود روح کے لیے ہر گز فنا نہیں۔ ولہذا دوسرے فقرے میں اس کی تفسیر فرمادی کہ گلے ہوئے بدن یعنی عام لوگوں کے لیے کہ شہداء اور ان کے مثل خواص کے جسم پر بھی سلامت رہتے ہیں، اس کے بعد تیسیر وسراج المنیردونوں میں ہے :
فیہ ان الاموات یسمعون اذ لا یخاطب الامن یسمع ۱؎۔
یعنی اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو کہ مردے سنتے ہیں خطاب اس سے کیا جاتا ہے جو سنتا ہو۔
(۱؎ السراج لمنیر شرح الجامع الصغیر تحت آیہ مذکورہ مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر ۳ /۱۲۵)
احادیث نوع اول مقصد اول پر نظر تازہ کیجئے تو وہ ایک ساتھ ان کو مطالب کو ادا کر رہی ہیں کہ بدن و روح دونوں پر میّت کا اطلاق ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہیں کہ حقیقت موت بدن کے لیے ہے روح اس سے پاک و مبرا ہے مثلاً حدیث پنجم میں ارشاد ہو اکہ جو شخص مردے کو نہلا تا کفناتا اٹھا تا دفناتا ہے مردہ اسے پہچانتا ہے پُر ظاہر کہ یہ افعال بدن پر وارد ہیں نہ کہ روح پر، اور پہچاننا کہ روح پر، اور پہچاننا کام روح کا ہے۔ اور جب وہ اپنے ادراک پر باقی ہے تو اسے موت کہا! موت کی چھوٹی بہن نیند میں تو پہچان رہتی نہیں، موت میں کیونکر رہتی یونہی حدیث ۶ و۷ و احادیث ۱۰ تا ۱۵وغیرہ سب اسی طرح ان جملہ مطالب کی معاً مودی ہیں
کما لا یخفی
(جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) لاجرم شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں فرمایا :
موت بمعنی عدم حس وحرکت و عدم ادراک وشعور جسد را رومی دہد روح را اصلاً تغیر نمی شود چنانچہ حامل قوٰی بود حالاہم ہست وشعورے وادراکے کہ داشت حالاہم دارد بلکہ صاف تر و روشن تر پس ارواح رامطقا خواہ روح شہید باشد یا روح عامہ مومنین یا روح کافر وفاسق بایں معنی مردہ نتواں گفت، مردگی صفتِ بدن است کہ شعور وادراک و حرکات وتصرفات کہ سبب تعلق روح باوی ازوی ظاہر می شدند حالانمی شوند آری روح را بدو معنی موت لاحق می شود اول آنکہ از مفارقت بدن از ترقی بازمی مانند ۔ دوم بعضے تمتعات مثل اکل و شرب از دست اُمی روند لہذا اور نیز درشرع حکم بموت می فرمائید اما دریں امور فقط اما شہید ان راہ خدارا درحقیقت ایں دو معنی ہم نیست بلکہ ایشاں زندگان درحقیقت ایں دو معنٰی ہم نیست بلکہ ایشاں زندگانند دائما در ترقی و تمتعات جسدانیہ نیز از ایشاں موقوف نہ شدہ ۱؎اھ مختصرا۔
موت کا یہ معنی کہ حس و حرکت ختم ہوجائے اور ادراک و شعور مفقود ہوجائے۔ صرف جسم کے لیے ہوتا ہے۔ اور روح میں بالکل کوئی تٗغیر نہیں ہوتا، وہ جیسے پہلے حامل قوٰی تھی اب بھی ہے۔ پہلے جو شعور و ادراک ا سکے پاس تھا وہ اب بھی ہے بلکہ اب زیادہ صاف اور روشن ہے۔تو اس معنی کرکے روح کو مردہ نہیں کہہ سکتے، مطلقاً خواہ شہید کی روح ہو یا عام مومن کی روح یا کافر فاسق کی روح موت بدن کی صفت ہے کہ روح کے تعقل کی وجہ سے جو شعور وادراک اور حرکات تصرفات بدن سے ظاہر ہوتے تھے اب نہیں ہوتے___ ہاں روح کو دو معنی میں موت لاحق ہوتی ہے__ ایک یہ کہ بدن سے جدا ہوجانے کے بعد اس کی ترقی رک جاتی ہے دوسرے یہ کہ کھانے پینے جیسی لذتیں اس کے قبضے سے نکل جاتی ہے۔ اس لیے کہی شریعت میں اس کے لیے بھی موت کا حکم دیتے ہیں لیکن وہ بھی صرف ان باتوں میں__ مگر خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے حقیقت میں یہ دونوں معنی بھی نہیں بلکہ یہ حضرات زندہ ہیں اور ان کی ترقی ہمیشہ جاری ہے۔ اور جسمانی لذتیں بھی ان سے موقوف نہیں الخ (ت)