حضرات منکرین کی غایت سعی وتمام مایہ ناز اس باب میں جو کچھ ہے وہ یہی مسئلہ یمین ہے جسے دکھا کر عوام بلکہ کم علموں کو متزلزل کردیتے ہیں یا کیا چاہتے ہیں، مائتہ مسائل میں کافی شرح وافی، وفتح القدیر وکفایہ حواشی ہدایہ و مستخلص وعینی شروح کنز سے طولانی عبارتیں کچھ قطع وبرید کچھ بیگانہ مزید پر مشتمل نقل کیں کہ عوام بڑی بڑی عبارات عربیہ دیکھ کر ڈر جائیں۔ اور اگر سماع موتٰی سے منکر نہ ہوں تو لااقل تردد تو کر جائیں، مگر بحمد اللہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ سب نری ملمع کاری ہے ورنہ وہ عبارات اور ان جیسی سو یا ہزار جتنی اور ہوں نہ ہمیں مضر نہ منکرین کو مفید، نہ اہل سنت وجماعت کا اجماعی مسئلہ جو نصوص صریحہ احادیث صحیحہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت کسی مشکک کی تشکیکات بے معنی سے متزلزل ہوسکے، فقیر غفراللہ المولی القدیر اس کی تحقیق و تنقیح میں بھی کچھ کلمات چند نافع وسود مند گزارش کرے کہ باذنہٖ تعالٰی موافق کو ثبات و استقامت، مخالف منصف کو رشاد و ندامنت، مکابر متعسف کو وبال و غرامت دیں،
وباﷲ التوفیق بہ الوصول الی ذری التحقیق
(اور خدا ہی سے توفیق اور اسی کی مدد سے بلندی تحقیق تک رسائی ۔ ت) مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھائے زید سے بول نہ بولوں گا، تو یہ قسم زید کی حالت حیات پر متصور رہتی ہے۔ اگر بعد انتقال زید سے کلام کرے حانث نہ ہوگا، اصل مسئلہ ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے صرف اس قدر ہے۔ اور اس کی وجہ یہ کہ ہمارے نزدیک بنائے یمین عرف پر ہے۔ لفظ سے جو معنٰی عرفا مراد و مفہوم ہوتے ہیں ان پر قسم وارد ہوتی ہے نہ معنی لغوی یاشرعی پر، تمام کتب مذہب اور خود ان کتب مذکورہ میں(جن کی عبارات کو منکرین راہ جہل یا تجاہل اپنی سند سمجھے) اس امر کی تصریحات جلیہ ہیں، مثلاً قسم کھائی بچھو نے پر نہ بیٹھے گا یا چراغ سے روشنی نہ لے گا یا چھت کے نیچے نہ آئے گا تو زمین پر یا دھوپ میں یا زیر آسمان بیٹھنے سے قسم نہ ٹوٹے گی اگر چہ قرآن عظیم میں زمین کو فرش اور آفتاب کو سراج اور آسمان کو سقف فرمایا،
قال اﷲ تعالٰی جعل لکم الارض فراشا ۱؎ وقال اﷲ تعالٰی وجعل فیھا سراجا وقمرا منیرا۲ ؎ وقال اﷲ تعالٰی وجعلنا السماء سقفا محفوظا ۳؎۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے : تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا، اور فرماتا ہے : اس میں ایک چراغ اور ایک روشن چاند بنایا۔ اور فرماتا ہے: ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا (ت)
(۱؎ القرآن ۲ /۲۲)(۲؎ القرآن ۲۵ /۶۱)(۳؎ القرآن ۲۱ /۳۲)
یو ہی قسم کھائی کسی گھر میں نہ جائے گا، تو مسجد وغیرہ معابدہ میں جانے سے حانث نہ ہوگا اگر چہ لغتہً ان پر بھی گھر کا لفظ صادق، وجہ وہی ہے کہ اگر چہ شرعاً یا لغتہً یہ اشیاء ان الفاظ میں داخل مگر ایمان میں عرفاً شمول درکار ہے وہ یہاں غیر حاصل، بعینہٖ اسی وجہ سے مسئلہ مذکورہ میں بعد موت بولنے سے حنث زائل کہ کسی سے نہ بولنا عرفاً اس کی موت کے بعد سلام وکلام کو غیر شامل، اس سے یہ تراش لینا کہ ہمارے اصل ائمہ مذہب کے نزدیک میّت سے کلام حقیقۃً یا شرعاً کلام نہیں محض باطل، اور ایسا گمان کرنے والا اصل مبنائے مسئلہ سے جاہل یا ذائل، ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے جس طرح یہ تصریح فرمائی یوں ہی یہ بھی کہ صورت مذکورہ میں اگر قسم کھانے والا اور زید دونون نماز میں تھے اور زید نے سلام پھیرنے میں ہمراہیوں پر سلام کی نیت کی حانث نہ ہوگا، اور بیرون نماز اگر زید کسی مجمع میں ہو اور قسم کھانے والا السلام علیکم کہے حانث ہوجائے گا یو نہی اگر زید امام تھا اور یہ مقتدی زید نماز میں کچھ بھولا اس نے بتایا قسم نہ ٹوٹے گی، اور نماز سے باہر بتایا ٹوٹ جائے گی،
بحرالرائق وردالمحتار وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے :
لایقصدہ فیدین ولوسلم من الصلوۃ الایحث وان کان المحلوف علیہ من یسارہ ھوا لصحیح لان اسلامین فی الصلٰوۃ من وجہ ولو سبح لہ السہو ا و فتح علیہ القرأۃ وھو مقتد لم یحنث وخارج الصلٰوۃ حنث ۱؎۔
( جس سے کلام نہ کرنے کی قسم کھائی تھی) تو حانث ہوجائےگا۔لیکن اگر سلام میں اس کا قصد نہ کیا تو دیانۃً اس کا بیان مانا جائے گا، اور اگر نماز کا سلام پھیرا اور وہ جس سے متعلق قسم کھائی تھی اس کے بائیں موجود ہے تو بھی قسم نہ ٹوٹی یہی صحیح ہے۔ اس لیے کہ دونوں سلام بھی ایک طرح داخل نماز ہیں۔ اور اگر وہ امام تھا یا مقتدی، سہو پر اس کے لیے سبحان اللہ کہا یا قرأت میں غلطی پر لقمہ دیا تو حانث نہ ہوگا اور بیرون نماز ایسا ہوا تو حانث ہوجائے گا۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الایمان مصطفی البابی مصر ۳ /۱۱۲)
اب اس سے یہ قرار دے لینا کہ نمازی پھتر ہیں نمازی کچھ سنتے نہیں، نمازیوں سے کلام حقیقۃً کلام ہی نہیں۔ اس جہالت کی کچھ بھی حد ہے، خواہ انھیں کی کتب مستندہ کی عبارتیں سنئے۔
کافی میں ہے :
الاصل ان الالفاظ المستعملۃ فی الایمان مبنیۃ علی العرف عندنا (الی ان قال) قلنا ان غرض الحالف ماھو المتعارف فیتقید بماھو غرض الابری ان من خلف ان لایستضی بالسراج اولا یجلس علی البساط فاستضاء بالشمس او جلس علی الارض لایحنث، وان سمی فی القرآن الشمس سراجا والارض بساطا رجل حلف ان لایدخل بیتا لا یحنث بدخل الکعبۃ والمسجد و البیعۃ والکنیسۃ۲ ؎ الخ۔
اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک قسم میں استعمال ہونے والے الفاظ کی بناء عرف پر ہے (آگے فرمایا) ہم یہ کہتے ہیں قسم کھانے والے کا مقصد وہی ہوتا ہے جو عرف میں جاری ہے تو ا س کی قسم اس کے مقصود سے مقید رہے گی۔ دیکھے اگر کسی نے قسم کھائی کہ چراغ سے روشنی نہ لے گا یا بچھونے پر نہ بیٹھے کا اور سورج سے روشنی لی یا زمین پر بیٹھا تو حانث نہ ہوگا اگر چہ قرآن میں سورج کو چراغ اور زمین کو بچھونا فرمایا ہے۔ کسی نے قسم کھائی گھر میں نہ جائے گا توکعبہ ومسجد یا کلیسا اور گرجا میں جانے سے حانث نہ ہوگاالخ۔ (ت)
الاصل ان الایمان مبینۃ علی العرف عندنا لاعلی الحقیقۃ اللغویۃ کما نقل عن الشافعی ولا علی الاستعمال القراٰفی کما عند مالک ولا علی النبیۃ مطلقا کما عند احمد۱؎۔
اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک قسم کی بنا پر عرف پر ہے حقیقت لغویہ پر نہیں۔ جیسا کہ امام شافعی سے منقول
ہے ___ نہ ہی قرآن کے استعمال پر ___ جیسا کہ امام مالک کے یہاں ہے ___ نہ ہی مطلقا نیت پر ____ جیسا کہ امام احمد کے یہاں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الدخول والسکنی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷)