Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
213 - 243
تنبیہ مہم واجب الملا حظہ ہر مسلم
الحمد ﷲ کلام
نے ذروہ منتہٰی لیا اور بیان نے مسئلے کو  اس کا حق دیا
ذلک من فضل اﷲ وعلی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون
 (یہ ہم پر اور لوگوں پر خدا کا ایک فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ ت)

اب  حضرات وہابیہ سے اتنا پوچھ لینا چاہیئے کہ اس مختصر رسالہ کے مقصد سوم نے علماء کے تین سو پانچ (۳۰۵) قول آپ کے گوش گزار کئے جن میں ایک سو انچاس(۱۴۹) علم و سمع وبصر موتٰی کے متعلق خاص، اور پانچ(۵) میں یہ کہ اولیاء کی کرامتیں بعد وصال بھی باقی ہیں ان ایک سو چون(۱۵۴) پر تو آپ کی سرکار سے شاید صرف حکم بدعت وضلالت ہو ، اگر چہ وہ  بھی بتصریح امام الطائفہ مثل محل اصل ایمان ہے۔ باقی کنتے رہے ایک سو اکاون(۱۵۱) اور تین قول ابھی ابھی اسی تکملہ کے فائدے میں تازہ مذکور ہوئے۔ یہ پھر ایک سو چون(۱۵۴) ہوگئے جن کے مفاد مقاصد کی تفصیل اس جدول سے ظاہر۔
9_14.jpg
اب ان کی نسبت ارشاد ہو وہ ایک سو چون(۱۵۴) بدعت تھے،  یہ ایک سو چون آپ کے مذہب میں خالص شرک، اور ان کے قائل ائمہ و افاضل عیاذاً باﷲ پکے مشرک ٹھہریں گے  یا نہیں، اگر کہئے نہ ( خدا کرے ایسا ہی ہو) تو الحمد اللہ کہ ہدایت پائی اور کفر و شرک کی تیز وتند کہ مدتوں سے بیرنگ چڑھی تھی اتار  پر آئی، رب قدیر کو ہدایت فرماتے کیا دیر لگتی ہے۔ آخر کلمہ پڑھتے ہو، شاید پاس اسلام کچھ جھلک دکھا جائے، اور محبوبان خدا و ائمہ ہدی کو معاذاللہ کافر و مشرک کہتے جگر تھرائے،
 ان ذلک علی اﷲ یسیر ان اﷲ علی کل شیء قدیر
 ( بیشک وہ خدا پر آسان ہے یقینا اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ت) اور اگر شاید اصرار مذہب وتعصب مشرب آڑے آئے، اور بے دھڑک آپ کے منہ سے ہاں نکل جائے، توآپ صاحبوں سے تو اتنا عرض کروں گا کہ حضرات! جنھیں آپ نے مشرک کہہ دیا ذرا نگاہ رُر برُو ان میں شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالعزیز صاحبان اور ان کے اسلاف واخلاف یہاں تک کہ خود بانی مذہب امام اطائفہ مولوی اسمٰعیل دہلوی بھی ہیں، اب ان کی نسبت تصریحا استفسار، اگر یہاں جھجکے تو کہوں گا کیوں صاحب! اسی بات پر ائمہ ہُدٰی تو  پناہم بخدا چنین وچناں ٹھہریں اور یہ حضرات مطلق العنان

کیا ان کے لیے کوئی وحی آگئی ہے کہ احکام الٰہی سے مستثنٰی رہیں، یا انھوں نے رحمان سے عہد لے لیا ہے کہ ان کی امامت میں بال نہ آئے اگر چہ شرک کے بول کہیں۔
اٰﷲ اذن لکم بھذا ام علی اﷲ تفترون ۱؎ مالکم کیف تحکمون ام لکم کتٰب فیہ تدرسون ان لکم فیہ لما تخیرون۲؎
کیا خدا نے تم کو اس کا اذن دیا ہے یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو، تمھیں کیا ہوا تم کیسا حکم لگاتے ہو؟ یاتمھارے لیے کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمھارے لیے وہ ہے جو تم پسند کرتے ہو۔ (ت)
 (۱؎ القرآن   ۱۰ /۵۹ ) (۲؎ القرآن        ۶۸ /۳۶ تا ۳۸)
اور اگر شاید بات کی پچ ایسی ہی آپڑی کہ یہاں بھی کُھل کر شرک کی جڑی  ؎
شادم کہ از قیباں دامن کشاں گزشتی         گومشت خام ماہم برباد رفتہ باشد
 (میں خوش ہوں کہ تم رقیبوں سے دامن کھینچ کر نکل گئے، گو اس میں ہماری خاک بھی برباد ہوگئی۔ ت)
غرض اس تقدیر پر اپ سے زیادہ عرض کا کیا محل ہوگا جز این کہ
سلام علیکم لا نبتغی الجاھلین۳؎
 (سوائے اس کے کہ تم پر سلام ہم نادانوں کو نہیں چاہتے۔ ت)
 (۳؎ القرآن        ۲۸ /۵۵)
ہاں عوام اہلسنت کو بیدار کروں گا کہ بھائیوں! اب بھی وضوح حق میں کچھ باقی ہے جس نامہذب ناپاک مشرب کی روح سے صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین وعلمائے دینوی و اولیائے کاملین قرون ثلٰثہ سے لے کر آج تک سب کے سب معاذا للہ مشرک کافر بدعتی خاسر ٹھہریں ع ؎
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم ظاہر ہے کہ وہ طائفہ تالفہ کیسا ہوگا اور اسے سنت وجماعت سے کتنا علاقہ، سبحان اللہ سنت جماعت کو شرک بتائیں، جماعت سنت کو مشرک ٹھہرائیں، پھر سنی ہونے کا دعوٰی بجا۔
کلا ورب العرش الاعلی قل جاء الحق وزھق الباطن ان الباطن کان زھوقا والحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، سبحانک الھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک والحمد للہ رب العالمین
عرش اعلٰی کے رب کی قسم، ہر گز نہیں! فرمادو حق آیا اور باطل مٹا، بیشک باطل مٹنا ہی تھا، ساری تعریف خدا کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور درود سلام رسولوں کے سردار حضرت محمد اور ان کے آل واصحاب پر،  اے اللہ! تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتاہوں، ۔ میں گواہی دینا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت کا طالب اور تیری بارگاہ میں تائب ہوں، اور سب خوبیاں سارے جہانون کے مالک اللہ کے لیے ہیں (ت)
Flag Counter