Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
212 - 243
عہ :  فائدہ جلیلہ: علامہ زیادی پھر علامہ اجہوری پھرعلامہ داؤدی پھر علامہ شامی فرماتے ہیں: جس کی کوئی چیز گم جائے مکان بلند پر رو بقبلہ کھڑ ے ہوکر فاتحہ پڑھے اور اس کا ثواب حضور اقدس سید عالم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نذر کرے پھر اس کا ثواب سیدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں ہدیہ کرے ا سکے بعد یوں عرض سا ہو کہ : یا سیدی احمد یا ابن علوان! میری گمی ہوئی چیز مجھے مل جائے الخ۔ ردالمحتار حاشیہ درمختار کے منہیہ میں ہے :
قررالزیادی ان الانسان اذا اضاع لہ شیئ و ارادان یرد اﷲ سبحانہ علیہ فلیقف علی مکان عال مستقبل القبلۃ ویقرء الفاتحۃ ویہدی ثوابھا للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم یھدی ثواب ذلک لسیدی احمد بن علوان ویقول یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی و الا نزعتک من دیوان الاولیاء فان اﷲ تعالٰی یرد علی من قال ذلک ضالہ ببرکتہ اجہوری مع زیادۃ کذا فی حاشیۃ شرح المنھج للداؤدی رحمہ اﷲ تعالٰی انتھی  ۱۲ (م)
زیادی نے بیان کیا ہے کہ جب کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے تو کسی اونچی جگہ پر قبلہ رو کھڑا ہوجائے ، فاتحہ پڑھے اور اس کا ثواب نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ہدیہ کرے پھر اس کاثواب سیدی احمد بن علوان کو ہدیہ کرے اور عرض گزار ہو کہ سیدی احمد، یاابن علوان ! اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کرائی تو دفتر اولیاء سے آپ کا نام نکلوا دوں گا، اللہ تعالٰی یہ کہنے والے کو اس کی گم شدہ چیز  ان کی برکت سے واپس دلادے گا ____ اجہوری باضافہ اس طرح داؤدی رحمۃ اللہ تعالٰی کی شرح منہج  میں ہے ۱۲(ت)
 (۱؂ ردالمحتار 	کتاب اللقطۃ دار احیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۲۴)
دیکھو (مقال۸۸/۵) شاہ ولی اللہ کہتے ہیں گھر بیٹھے ارواح طیبہ کی طرف توجہ کرو، دیکھو (سوال۱۲/۶) مزرا مظہر صاحب عارضہ جسمانی میں حضرت مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کی طرف اور مشکل باطنی میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جانب توجہیں کرتے ادھر سے امداد فرمائی جاتی دیکھو (سوال۱۷/۷ و مقال۳۲ /۸) گھر بیٹھے قصائد سناتے ارواح عالیہ سے نوازشیں پاتے دیکھو (سوال۱۸/۹ و مقال۱۰/۱۰) حضور  پر نور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت کہا حضور کے جس متوسل سے ملاقات ہوئی توجہ والا اس کے حال پر مبذول پائی دیکھو (مقال۳۳/۱۱) مغلوں کا بیان کہ جنگل میں سوتے وقت اپنا مال حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ العزیز کی حمایت میں سونپتے ہیں اس پر غیب سے مدد پاتے ہیں دیکھو (مقال۳۴/۱۲ ) ہر شہر میں بندگانِ خدا ولایت قطبیت کے مراتب پاتے ہیں پھر کیونکر ان سب کو  وہ فیض حضرت ائمہ اطہار و حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہم عطافرماتے ہیں۔ دیکھو (مقال۳۸/۱۳  و ۳۹ /۱۴  و  ۴۰/۱۵  و ۴۱ /۱۶  و ۴۲ /۱۷  و  ۴۳/۱۸  و ۴۴ /۱۹  و ۴۵ /۲۰  و  ۶۴/۱۱ ) سلطنتیں اور امانتیں کسی ملک میں و شہرمیں نہیں ہوتیں پھر ان سب میں حضرت مولٰی مشکل کشا کا توسط کیونکر ہوتا ہے دیکھو (مقال۱۸/۲۲) حضور غوث اعظم رضی للہ تعالٰی نے شیخ ابوالرضا کوا سرار تعلیم فرمائے دیکھو (مقال۷۰/۲۳  و  ۷۱/۲۴) یہ  ایک عجوزہ کو پانی پلا کر لحاف اڑھا کر غائب ہوگئے، دیکھو (مقال۷۲/۲۵) حضور غوث اعظم و حضرت نقشبند رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنے مریدان سلسلہ کی تربیت فرمائی، دیکھو (مقال۷۶/۲۲  و  ۷۷/۲۷) اسمٰعیل دہلوی مدعی کہ دونوں ارواح طیبہ نے ان کے  پیر پر جلوہ فرمایا اور پِہِر بھر تک توجہ بخشی، دیکھو (مقال۷۸/۲۸) ولہٰذا یا رسول اللہ، یا علی، یا شیخ عبدالقادر جیلانی کہنا بے تخصیص مکان وقید زمان جائز ہوا اور شاہ ولی اللہ اور ان کے اکابر نے یا علی یا علی کا وظیفہ کیا، دیکھو ۱۶۰/۲۹ و ۱۶۱/۳۰ و ۱۶۲/۳۱  و مقال ۹۰/۳۲  و  ۹۱/۳۳  و  ۹۲/۳۴  و ۹۳/۳۵  و ۹۴/۳۶ و ۹۵/۳۷  و  ۹۶/۳۸  و  ۹۷/۳۹  و  ۹۸/۴۰  و  ۹۹/۴۱ و ۱۰۰/۴۲  و  ۱۰۱/۴۳  و  ۱۰۲/۴۴  و  ۱۰۳/۴۵  و ۱۰۴/۴۶۔ مسلمان ان فوائد سے غفلت نہ کرے کہ بہت نافع ہیں اور ضلالت سے مانع،
واﷲ الھادی الٰی صراط مستقیم
(خدا ہی سیدھے راستے کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت)
تنبیہ: یہ مواضع بعیدہ سے استمداد کا مسئلہ بجائے خود ایک مستقل تالیف کے قابل ہے جس کی تائید میں خود حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بہت احادیث اور خاص تصریح میں حضرت عبداللہ بن عباس و عبداللہ بن عمر و عثمان بن حنیف وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم کے آثار اور علاوہ ان چھیالیس(۴۶) مصرحوں، تیرہ(۱۳) مویدوں کے جن کی طرف فائدہ خامسہ و رابعہ میں ایما ہوا بہت ائمہ دین وعلمائے معتمدین و کبرائے خاندان عزیزی کے اقوال اس وقت میرے پیش نْظر جلوہ گر رہے ہیں عجب نہیں کہ حضرت جل وعلا کا ارادہ ہو تو فقیر اپنے رسائل کثیرہ کی تتمیم وتبییض سے فارغ ہو کر خاص اسباب میں ایک جامع رسالہ ترتیب دے اور ان سب احادیث و اقوال ماضیہ وآیۃ کو فراہم کرکے تحقیقات سلطنۃ المصطفی وغیرہا میں اقامت تازہ کا اضافہ کرے
واﷲ الموفق وبہ نستعین والحمد ﷲ رب العٰلمین
 (اور خدا ہی توفیق دینے والا ہے۔ اور اسی سے ہم مدد مانگتے ہیں اور تمام تعریف اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ ت)
تذییل
نواب صدیق حسن خان بہادر شوہر ریاست بھوپال رسالہ تقصار جیود الاحرار میں تصریح کرتے ہیں کہ غوث الثقلین وغوث اعظم وقطب الاقطاب کہنا شرک سے خالی نہیں، میں کہتا ہوں نواب بہادر نے یہاں خدا جانے کس خیال سے ایسا گرا ہوا لفظ لکھا ورنہ بیشک تمام وہابیہ پر فرض قطعی کہ صرف لفظ غوث کہنے پر خالص شرک جلی کاحکم لگائیں، غوث اعظم و غوث الثقلین تو بہت اجل و اعظم ہے، آخر غوث کے کیا معنی فریاد کو  پہنچنے والا، جب ان کے نزدیک استمداد فریاد شرک، تو فریاد رس ، کہنا کیونکر شرک صریح نہ ہوگا، اب دیکھئے کہ ان حضرات کے طور  پر کون کون مشرک ہوگیا، قاضی ثناء اللہ پانی پتی ومیاں اسمٰعیل دہلوی نے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو غوث الثقلین لکھا، دیکھو (مقال۳۸و  ۷۸) شاہ ولی اللہ امام معتمد اور شیخ ابوالرضاء ان کے جدّ امجد اور مرزا جانجاناں انکے ممدوح اوحد، اورا ن کے پیر سلسلہ شیخ عبدالاحد نے غیاث الدارین حضور غوث الثقلین کو غوث اعظم کہا، دیکھو (مقال۶۱، ۷۰، ۷۱، ۷۶،۷۷) شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیز ی میں فرمایا :
برخے از اولیاء مسجود خلائق ومحبوب دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ وسلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ تعالٰی سرہما۔۱؎
کچھ اولیاء خلائق کے مسجود اور دلوں کے محبوب ہوگئے ہیں جیسے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اور سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ تعالٰی سرّھما (ت)
 (۱؎ تفسیری عزیزی     پارہ عم       سورۃ الم نشرح      مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی    ص۳۲۲ )
تنبیہ: ذرا  یہ ''مسجود خلائق'' کا لفظ بھی پیش نظر رہے جس نے شرک کا پانی سر سے گزاردیا، میاں اسمٰعیل نے صراط مستقیم  میں کہا :
طالبان نافہم میدانندکہ مانیزہم پائیہ حضرت غوث الاعظم شدیم ۲؎ ۔
نافہم طالب یہ سجھتے ہیں کہ ہم بھی غوث الاعظم کے ہم پایہ ہوگئے۔ (ت)
 (۲؎ صراط مستقیم   تکملہ  دربیان  سلوک ثانی راہ ولایت    مکتبہ سلفیہ لاہور     ص۱۳۲)
انھیں بزرگوار نے حضرت خواجہ قطب الحق والدین بختیار کاکی قدس سرہ العزیز کو قطب الاقطاب لکھا، دیکھو (مقال۷۹) اور ہاں مولوی اسحق صاحب تو  رہے ہی جاتے ہیں جنھوں نے مائۃ مسائل کے جواب سوال دہم کہا: ''ولایت وکرامت حضرت غوث الاعظم قدس سرہ ۳؎'' غرض مذہب کوطائفہ عجب مذہب ہے جس کی بناء پر تمام ائمہ وعمائد طائفہ بھی سو سو طرح مشرک کافربنتے ہیں،
لا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم ۔
 (۳؎ مائۃ  مسائل    جواب سوال دہم    مسئلہ۹    مکتبہ توحید وسنت پشاور        ص۲۰ و ۲۱)
Flag Counter