Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
211 - 243
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تکمیل جمیل وتسجیل جلیل چند فوائد عالیہ کی یاددہانی میں
حامدا ومصلیا ومسلما
ہر چند یہ فوائد وہی ہیں جن کا ثبوت مباحث رسالہ میں گزرا مگر کتاب میں ان کے لیے کوئی فصل معین نہ تھی متفرق مواقع پر واقع ہوئے لہذا ان کے مہتم بالشان ہونے نے چاہا کہ یہاں ان کے مواضع پر مطلع کردیا جائے۔

فائدہ اولٰی: اس مسئلہ میں خلاف کرنے والے بدعتی گمراہ ہیں، دیکھو (قول ۱۵/۱) کہ ادراکاتِ موتٰی کا انکار مذہب معتزلہ ہے، (قول۱۸/ ۲) کہ بعض معتزلہ رافضی جمادیت موتٰی سے سند لائے، (قول۱۹/۳ ) کہ میّت کا جماد ہونا مذہب اعتزال ہے (قول۲۵/۴) کہ علم موتٰی کا منکر نہ ہوگا مگر حدیثوں سے جاہل ہے اور دین سے منکر، (قول ۱۹۹/۵ و ۲۰۰/۶) کہ علم وسمع وبصر موتٰی پر تمام اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے۔ پرظاہر کہ ان کے اجماع کا مخاطب نہ ہوگا بد مذہب گمراہ۔
فائدہ ثانیہ:اہل قبور کے زائروں کو دیکھتے پہچانتے، ان کا کلام سنتے، سلام لیتے، جواب دیتے ہیں، یہ بات ہمیشہ ہے اس میں کسی دن کی تخصیص نہیں، جمعہ وغیر جمعہ سب یکساں، نہ کسی وقت کی خصوصیت ،ہاں جمعہ کے دن خصوصاً صبح کو معرفت ترقی پر ہوتی ہے۔ دیکھو (قول ۶۶/۱  و  ۶۹/۲  و ۸۰ /۳  و  ۸۱/۴  و  ۸۲/۵  و حاشہ قول ۸۱/۶) اور خود وہ تمام احادیث اور صدہا اقوال کہ فصول مقاصد دوم سوم میں اس مطلب پر منقول ہوئے کہ اپنے اطلاق وارسال سے اس عموم واطلاق کی دلیل کافی ہیں
کما مرت الاشارۃ الیہ فی الکتاب
 (جیسا کہ کتاب میں اس کی طرف اشارہ گزرا۔ ت)
فائدہ ثالثہ: ارواح مومنین کو اختیار ہوتا ہے کہ زمین وآسمان میں جہاں چاہیں جائیں، سیر کرتی، جولان فرمائیں، دیکھو (حدیث ۱/۱  و  ۹/ ۲ و قول ۱۳/۳  و  مقال ۶/۴) یہاں تک کہ بیداری میں اپنے مخلصین سے ملتے فیض بخشتے ہیں (مقال۷۰/۵  و  ۷۱/۶) ناتواں بیماروں کو پانی پلاتے ، کپڑا اُڑھاتے ہیں (مقال۷۲/۷) جہادوں میں شرکت فرماتے ہیں (مقال۱۵/۵) دوستوں کی مدد، دشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں (مقال۳۷/۹) یہاں تک کہ شرح سنن نسائی شریف میں تصریح فرمائی کہ روح کا جسم کا سا نہیں وہ ایک وقت میں چند جگہ ہو سکتی ہے (قول۷۹) میں کہتا ہوں اولیائے احیاء کی حکایات منقول کہ ایک وقت میں ستر جگہ تشریف فرما ہوتے تھے پھر بعد وصال کہ روح اپنی آزادی و ترقی کامل پر ہوتی ہے اس وقت کے افعال کا کہنا ہی کیا ہے۔ زہر الربی میں ہمیں یہ بھی نقل فرمایا کہ ایمان والوں کے دل اسے بے تکلف قبول کرسکتے ہیں کہ جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام جب خدمت حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوتے سدرۃ المنتہٰی سے جدا نہ ہوتے ہوں بلکہ اسی آن میں یہاں بھی ہوں اور وہاں بھی
العبارۃ  (عہ) علی الحاشیۃ
 (عبارت حاشیہ میں ہے۔ ت)
عہ:  ھذا جبریل علیہ السلام راٰہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولہ ست مائۃ جناح، منہا جناحان سدا الافق وکان یدنو  من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، حتی یضع رکبتیہ علٰی رکبتیہ ویدیہ علی فخذیہ وقلوب المخلصین تتسع للایمان بانہ من الممکن انہ کان ھذا الدنو  و ھو فی مستقرہ من السمٰوٰت وفی الحدیث فی رؤیۃ جبریل فرفعت راسی فاذا جبریل صاف قدمیہ بین السماء والارض یقول یا محمد انت رسول اﷲ وانا جبریل فجعلت لا اصرف بصری الٰی ناحیۃ الا رأیتہ کذالک ۱؎۱۲ (م)
یہ جبریل علیہ السلام ہیں جنھیں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو(۶۰۰) پر ہیں جن میں سے دو(۲) پروں نے سارا افق بھر دیا ہے، اور وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قریب آتے یہاں تک کہ اپنے زانوں حضور کے زانوؤں سے ملا کر اور اپنے ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھتے ۔ اور مخلصین کے دل اس بات پر ایمان کی وسعت رکھتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ یہ قرب اسی حال میں ہو جب وہ آسمان کے اندر اپنے مستقر میں موجود ہوں، اور حدیث میں حضرت جبریل کو دیکھنے کے بارے میں ہے : میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ جبریل آسمان وزمین کے درمیان اپنے قدموں پر صف بستہ کہہ رہے ہیں اے محمد! آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبریل ہوں، پھر جس طرف بھی نگاہ پھیرتا انھیں اسی کیفیت میں دیکھتا۔ (ت)
 (۱؎ زہر الربی علٰی سنن النسائی    کتاب الجنائز ارواح المؤمنین    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۲۹۲)
پھر سفہائے غافلین کا خود حضور پر نور روح القسط روح القدس روح الارواح صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت یہ جاہلانہ وسوسہ کہ اگر وہ کسی مجلس میں تشریف لائیں تو پیش ازقیامت مرقد اطہر سے خروج لازم ہو،ا ور چاہئے کہ اس وقت روضہ انور خالی رہ جائے، محض حماقت ہے۔

اولاً :وہ روح کا جسم پر قیاس اور زندان وہم میں سلطان عقل کا احتباس۔

ثانیاً: ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ روحیں تو عوام مومنین کی بھی قبور میں محبوس نہیں رہتیں بلکہ اپنے اپنے مراتب کے لائق علیین یا جنت یا آسمان یا چاہ زمزم وغیرہ میں ہوتی ہیں، جسے علمائے کرام یہاں تک کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے بھی تفسیر عزیزی (عہ) میں مفصلاً ذکر کیا:
عہ:  مقام علیین بلائے ہفت آسمان است و پائیں آن متصل بہ سدرۃ المنتہٰی وبالائے آن متصل بپایہ راست عرش مجید است و  ارواح نیکاں بعد از قبض در آن جا می رسند ومقربان یعنی انبیاء واولیاء درآن مستقرمی مانند و عوام  صلحا را بعد از نویسا نیدن نام و رسانیدنامہائے اعمال بر حسب مراتب در آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلقے بقبر نیز  اٰن ارواح رامی باشند ۱؎۔ آخر عبارتک کہ مقال ۷ میں گزری ۱۲ از تفسیر عزیزی (م)
علیین ساتوں آسمان کے اوپر ہے اس کا زیریں حصہ سدرۃ المنتہٰی سے متصل ہے اور بالائی حصہ عرش مجید کے دائیں پائے سے متصل ہے، نیکوں کی روحیں قبض ہونے کے بعد وہاں پہنچتی ہیں اور مقربین یعنی انبیاء واولیاء اس مستقر میں رہتے ہیں، اور عام صالحین کو درج کرانے اور اعمال نامے  پہنچ جانے کے بعد حسبِ مراتب آسمان دنیا، یا درمیان آسمان و زمین یا چاہ زمزم میں جگہ دیتے ہیں اور ان کو قبر سے بھی ایک تعلق رہتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفسیرعزیزی     پارہ عم     زیر آیۃ ان کتاب الابرار لفی علیین    مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی    ص۱۹۳)
ثالثاً یہ اعتراض بعینہٖ ان احادیث کثیرہ پر بھی وارد جن میں صریح تصریح کہ ارواح مومنین بعد انتقال جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں، لازم کہ جب وہ سیر کو جائیں قبریں خالی رہ جائیں اور قیامت سے پہلے حشر  ہوجائے مگر جہل و تعصب  جو نہ کرائیں وہ غنیمت ہے، چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایک سوال آیا زید کہتا ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روضہ انور سے جہاں چاہتے ہیں تشریف لے جاتے ہیں، عمرو  منکر ہے
انا ﷲ ونا الیہ راجعون،
فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس کے جواب میں مفصل فتوٰی لکھا اور وہاں اس سیر  و اختیار کو شہداء وغیر شہداء عام مومنین کی ارواح کے لیے بہت حدیثوں سے ثابت کیا اور کلمات علمائے دین سے اس کے وقائع کئے۔ یہ فتوٰی فقیر کی مجلد ششم فتاوٰی مسمی بہ
العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویۃ میں منسلک ۔ والحمد للہ رب العلمین
فائدہ رابعہ بغایت نافعہ:ارواح طیبہ کے نزدیک دیکھنے سننے میں دور و نزدیک سب یکساں ہے یہ ایک مطلب نفیس وجلیل وعظیم الفائدہ ہے جس کی طرف توجہ خاص لازم۔ دیکھو (قول۶۵/۱) کہ اولیاء احیاء نور خدا سے دیکھتے ہیں، اور نور خدا کو کوئی چیز حاجب نہیں، پھر اموات کا کیا کہنا (قول۶۹/۲) کہ قبر سے نزدیکی تو جمعہ کو ہوتی ہے اور ادراک وشناخت دائمی (قول۷۸/۳ و ۸۶/۴) کہ روح جنت یا آسمان یا علیین میں رفیق اعلٰی میں ہوتی ہے اور وہیں سے زائر کی آواز سنتی ہے جواب دیتی، ادراک کرتی، اپنے بدن سے کام لیتی ہے۔ پھر کون بتا سکتا ہے کہ زمین سے جنت تک کَے لاکھ کَے کروڑ منزل کا فاصلہ ہے نہ کہ بریلی سے بغداد یا ہند سے مدینہ صلی اللہ تعالٰی علٰی مالکہا وآلہٖ وبارک وسلم، (قول۱۱۳/۵ و ۱۱۴/۶) ارواح کے آگے کچھ پردہ نہیں اور انھیں سارا جہاں یکساں ہے (قول۱۸۷/۷ و ۱۸۸/۸ و۱۸۹ /۹) کہ ارواح قدسیہ سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے سامنے حاضر ہے (مقال۷/۱۰) شاہ عبدالعزیز صاحب کا قول کہ ر وح کو قرب وبُعد مکانی اس دریافت کا حاجب نہیں اس کا حال نگاہ کے سامنے کہ کنویں کے اندر سے ساتوں آسمان کے ستارے دیکھ سکتی ہے۔ یہی معنی ہیں ارشاد عالی دو امام اہلبیت طہارت، دو فرزند ریحانین، رسالت حضرت امام اجل زین العابدین علی بن حسین شہید کرب وبلاو حضرت امام حسن مثنٰی ابن امام اکبر سیدنا حسن مجتبٰی صلوات اللہ وسلامہ علٰی ابیہم الکریم وعلیہم کے کہ زائرین مزار اقدس سے فرمایا :
انتم ومن فی الاندلس سواء۔ حکاہ فی جذب القلوب وغیرہ۔
تم اور جو اندلس میں بیٹھے ہیں برابر ہیں (اسے جذب القلوب وغیرہ میں بیان کیاگیا ہے۔ ت)

سوال ۶میں حدیث گزری کہ اللہ تعالٰی کا ایک فرشتہ ہے جو روضہ اقدس پر کھڑا تمام جہانوں کی آوازیں سنتا ہے معلوم ہوا کہ یہ خاصہ ملزومہ الوہیت نہیں بلکہ بندے کو اس کا حصول ممکن اور زیر قدرت الٰہی داخل پھر کسی کے لیے اس کا اثبات شرک ہونا عجب تماشا ہے۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس کی تحقیق تام اپنے رسالہ
سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الورٰی
میں ذکر کی وباللہ التوفیق۔
فائدہ خامسہ: ولہذا ان کی امداد ہر جگہ جاری، کچھ نزدیکوں پر منحصر نہیں ، اور اسی لیے ان سے استمداد اور ان کی ندا میں بھی حضور مزار غیر مشروط بلکہ جہاں سے چاہو صحیح و درست ہے اگر چہ حضور مزارات میں نفع اتم و زائد ہے دیکھو (قول۱۳/۱ و ۱۱۴/۲) غور کرو ائمہ مجتہدین کے  پیر و تمام ملک خدا میں کہاں سے کہاں تک پھیلے ہیں پھر وہ کیونکر ہر شخص کی ہر مشکل وآفت میں مدد فرماتے اور دائماً خبر گیراں رہتے ہیں، اس طرح حضرات اولیائے کرام

اپنے مریدان سلاسل کے ساتھ ، دیکھو (قول۹۷/۳) خود سیدی احمد زروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: جب کوئی مصیبت آئے یا زروق (عہ)کہہ کر پکار میں فوراً مدد کو  آؤں گا دیکھو  (قول۱۶۳/۴) اورشاہ عبدالعزیز صاحب کا قول ،
Flag Counter