خاتمہ رسالہ میں دربارہ سماع موتٰی علمائے عرب کا فتوٰی
اس رسالہ کے زمانہ تالید میں فقیر کو معتبر طور پر خبر پہنچی کہ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اگروہ ہمارے مسئلہ کا رد لکھے گا ہم دونوں تحریریں مولویان بھوپال کو بھیج دیں گے کہ وہ حکم ہوجائیں۔
اقول تحکیم بے قبول طرفین معقول نہیں ۔ مولوی صاحب ماشاء اللہ فاضل ہیں، یہیں کیوں نہ تصفیہ ہوجائے، طالبان تحقیق کو اظہار حق سے کیوں باک آئے، رسالہ فقیر کو ملاحظہ فرمائیں ، اگر حق واضح ہوجائے تسلیم واجب، ورنہ جواب مناسب، ہاں تحریر جواب میں استعداد و استعانت کا اختیار ہے بھوپالیوں سے ہو یا بنگالیوں سے، اور اگر اوروں ہی پر رکھنا صلاح وقت ہے تو اہل ہند میں جسے دیکھئے گا بلا مرجح خود احدالفریقین ہے۔ بھوپالیوں کو مثلاً مصطفی آبادیوں پر کیا وجہ ترجیح ہے۔ لہذا سب سے قطع نظر کرکے علمائے عرب کو حکم کیجئے کہ دین وہیں سے نکلا اور وہیں کو پلٹ جائےگا اور وہاں کے جمہور علماء پر ان شاء اللہ تعالٰی شیطان ہر گز قابو نہ پائے گا۔ جناب مولٰنا اگر اس رائے کو پسند فرمائیں توا ن اکا برکرام کا مہری دستخطی فتوٰی بالفعل فقیر کے پاس اصل موجود، جس میں اکثر مسائل وہابیت کا رد واضح فرمایا اور طائفہ جدیدہ کو ضال مضل، مبتدع، مبطل ٹھہرایا، فقیر غفراللہ تعالٰی لہ اس میں سے چند سطریں متعلق مسئلہ سماع مع شرح ودستخط علماء بتلخیص والتقاط حاضر کرتا ہے، واللہ الہادی اس سوال کے جواب میں کہ وہابیہ عدمِ علم وعدمِ سماع موتٰی کا ادعا واعتقاد رکھتے ہیں، فرمایا :
ھذا الادعاء افتراء قبیح وھذا الاعتقاد اعتداء صریح فان العلماء المحققین من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرہم قد اثبتوا اطلاع الانسان فی البرزخ وسماعہ لسلام الزائر وکلامہ ومعرفتہ والانس بہ بالاحادیث الصحیحۃ والاٰثار الصریحۃ و تلک المسئلۃ مع دلائلھا مصرحۃ فی المرقاۃ شرح مشکٰوۃ لعلی القاری الحنفی وشرح الصدور للحافظ السیوطی وشفاء السقام للامام سبکی وغیرھا من الکتب المشہورۃ لجمہور محققین حتی اشاروا الیہ فی کتب العقائد المشہورۃ فقد صرح فی المقاصد وشرحہ انہ عندالمعتزلۃ وغیرھم البدنیۃ المخصوصۃ شرط فی الاادراک فعند ھم لایبقی ادراک الجزئیات عند فقد الاٰلات عند نا یبقی وھو ظاھر من قواعد الاسلام، ولہذا ینتفع بزیار القبور الابرار والاستعانۃ من نفوس الاخیار ۱الخ وبالجملۃ فالنفس الانسانیۃ تبقی لھا الادراکات ولالھاتعلقات کثیرۃ بموضع دفن جسد ھا و الاحادیث والاٰثار شاھد ۃ لذلک لاینکرھا بعد العلم بھا الا مکابر معاند الخ۔
یعنی وہابیہ کا یہ ادعاء افترائے قبیح اور یہ اعتقاد ظلم صریح ہے۔ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم کے علمائے محققین نے صحیح حدیثوں اور صریح خبروں سے ثابت کیا ہے کہ آدمی برزخ میں علم رکھتا اور زائر کا سلام وکلام سنتا ہے اور اسے پہچانتا ہے اور اس سے انس حاصل کرتا ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ علی قاری حنفی وشرح الصدور حافظ سیوطی شافعی وشفار امام سبکی وغیرہا جمہور محققین کی کتب مشہورہ میں اس مسئلہ اور اس کے دلائل کی تصریح ہے یہاں تک کہ علماء نے عقائد کی مشہور کتابوں میں اس کی طرف اشارہ کیا، مقاصد وشرح مقاصد میں تصریح فرمائی کہ معتزلہ وغیرہم کے نزدیک یہ بدن شرط ادراک ہے تو ا ن کے مذہب میں جب آلات بدنی نہ رہے ادراک جزئیات بھی نہ رہا اور ہم اہل سنت کے نزدیک ادراک باقی رہنا ہے، قواعد اسلام اسی کی تائید کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قبور ابرار کی زیارت اور ارواح اولیاء سے استعانت نفع دیتی ہے۔ غرض روح انسانی کے ادراک باقی اور اسے موضع دفن سے بہت تعلقات ہیں، احادیث و آثار اس پر گواہ ہیں جنھیں جان بوجھ کر انکار نہ کریگا مگر باطل کوش دشمن حق۔ (ت)اس کے بعد شبہات منکرین کا نصوصِ علماء سے ردکیا اور عمائد علماء حرمین طیبین نے اس پر مہر و دستخط ثبت فرمائے۔
(۱؎ شرح المقاصد المبحث الرابع مدرک الجزئیات عندنا النفس درالمعارف النعمانیہ کریم پارک لاہور ۲ /۴۳)
شرح دستخط حضرت مولٰنا محمد بن حسین کتبی حنفی مفتی مکہ
لاکلا فیہ ولا شک یعتریہ
اس میں نہ کلام کی گنجائش نہ شک کی خلش ۔
امر برقمہ محمد بن حسین الکتبی الحنفی مفتی مکۃ المکرمۃ عفی عنہ بمنہ امین۔
9_11_1.jpg
شرح دستخط حضرت مولٰنا وشیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالمسجد الحرام مولٰنا جمال ابن عبداللہ بن عمر مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہ
لا یلتفت المفید الا الیہ ولایعول المستفید الا علیہ
مفید التفات نہ کرے مگر
اسی طرف، اور مستفید اعتماد نہ کرے مگر اسی پر،
امربرقمہ رئیس المدرسین الکرام بالمسجد المکی الحرام الراجی لطف ربہ الخفی جمال بن عبداﷲ شیخ عمر الحنفی لطف اﷲ تعالٰی بھما۔
9_11_2.jpg
شرح دستخط مولٰنا حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ مبارکہ
لاریب فیہ ولاشک یعتریہ المالکیۃ بمکۃ کتبہ الفقیر حسین بن ابراہیم مفتی المشرقیۃ المحمیۃ
9_12_1.jpg
شرح دستخط حضرت مولٰنا وشیخنا وبرکتنا زین الحرم عین الکرم مولٰنا احمد زین دحلان شافعی مفتی مکہ مکرمہ قدس سرہ العزیز
رأیت ھذاالمؤلف الشریف الھاوی کل برھان لطیف فرأیتہ قد نص علی عقائد اھل الحق المؤیدین وابطل عقاید اھل الضلال المبطلین
میں نے یہ شریف تالیف جامع ہر دلیل لطیف دیکھی تو میں نے اسے پایا کہ اہل حق وار باب تائید کے عقیدے صاف واضح لکھے ہیں اور باطل پر ست گمراہوں کے مذہب باطل کیے ہیں
رقمہ بقلمہ المرتجی من
ربہ الغفران احمد بن زین دحلان ۔
9_12_2.jpg
شرح دستخط حضرت مولٰنا محمد بن غرب شافعی مدنی مدرس مسجد مدینہ طیبہ
تاملت فی ھذا المؤلف فرأیت مؤلف قد اجاد و ولکل نص سنی صریح افاد
میں نے یہ رسلہ بغور دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کے مصنف نے جید کلام لکھا اور ہر نص روشن کا افادہ کیا۔
کتبہ الفقیر الی اﷲ تعالٰی محمد بن محمد الغریب الشافعی خادم العلم بالمسجد النبوی۔
9_12_3.jpg
شرح دستخط مولٰنا عبدالکریم حنفی از علمائے مدینہ منورہ
شرح دستخط حضرت مولٰنا السید ابراہیم بن الخیار شافعی مفتی مدینہ امینہ
کم طالعت بعد ما اطلعت ردوالعلماء الاجلۃ علی الفرقۃ الضالۃ المضلۃ فما رأیت مثل ھذا الرسالۃ،
میں نے جب سے اطلاع پائی اس فرقہ گمراہ پر علمائے جلیل کے بہت رَد دیکھے مگر اس رسالہ کا مثل نظر سے نہ گزرا۔
قال بفمہ ورقمہ بقلمہ خادم العلم بالحرم النبوی الشافعی ابراھیم ابن المرحوم محمد خیار الحسنی الحرمی۔
الحمدُ اﷲ علٰی حصول المسئول وبلوغ نھایۃ المامول
فقیر عبدالمصطفی احمد رضا سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی نے اس رسالہ کا مسوّدہ اوائل رجب ۱۱۳۰۵ھ میں کیا پھر بوجہ عروض بعض اعراض و اہتمام دیگر اغراض مثل تحریر مسائل وتصنیف بعض دیگر رسائل جن کی ضرورت اہم نظر آئی اس کی تبییض نے تاخیر پائی، اب بحمد اﷲ بعنایت الٰہی واعانت حضرت رسالت پناہی علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام وعلٰی آلہٖ وصحبہ الکرام سلخ شعبان سند مذکورہ کو وقت عصریہ مسودہ مبیضہ ہوا اور اثنائے تبییض میں سرکار مفیض سے فیوض تازہ کا افاضہ ہوا۔
اور اول و آخر، باطن وظاہر میں خدا ہی کے لیے حمد ہے۔ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد، ان کی آل واصحاب، ان کے فرزند، ان کی جماعت پر، اور ان کے طفیل ہم پر بھی خدا کا درود، برکت اور بکثرت سلام ہو، اللہ تعالٰی سے ہماری دعا ہے کہ ہماری کوشش قبول فرمائے، ہمارے گناہ بخشے۔ ہماری محتاجی پر رحم فرمائے۔ ہمیں اسلام کے ساتھ زندگی اور ایمان کے ساتھ موت نصیب کرے، صالحین کی جماعت میں ہمارا حشر فرمائے اور اس تالیف سے اور میں دوسری تصانیف سے میرے تمام دینی بھائیوں کو فائدہ پہنچائے۔ بیشک وہ سننے والا قریب، قدرت والا مجیب ہے، اور سب خوبیاں خدا کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ (ت)