بالجملہ بجائے صمت، اقامت جہر بالذکر، تحصیل مقصود کے لئے تبدیل ذریعہ بمصلحت حالیہ ہے نہ کہ تفویت مقصود، جاہل وُہ جو خاموشی کو مقصود جانے، مطلوب ذکر ہے،جب خاموشی میں اور جہر بالذکر میں، خادمِ فقہ جانتا ہے تحصیلِ مقصود کے لئے بعض مکروہات سے کراہت زائل ہوجاتی ہے، جیسے نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے اور خشوع یونہی ملتا ہے تو آنکھیں بند کرنا ہی اولٰی ،
کمافی الدرالمختارکرہ تغمیض عینیہ للنھی الاکمال الخشوع ۲؎، وفی ردالمحتاربان خاف فوت الخشوع بسبب رؤیۃ مایفرق الخاطرفلایکرہ بل قال بعض العلماء انہ الاولٰی ولیس ببعید حلیۃ وبحر۳؎ اھ اقول ولعل التحقیق ان بخشیۃ فوات الخؒشوع تزول الکراھۃ وبتحققہ یحصل الاستحباب واﷲتعالٰی اعلم ۔
جیسا کہ درمختار میں ہے: نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس بارے میں ممانعت آئی ہے لیکن اگر کمالِ خشوع کے لئے ہو تو مکروہ نہیں۔ردالمحتار میں ہے: اس طرح طبیعت کو منتشر کرنے والی چیزیں دیکھنے کے سبب خشوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو مکروہ نہیں بلکہ بعض علماء نے فرمایا کہ اولٰی ہے، اور یہ کوئی بعید نہیں--حلیہ وبحر --اھ—اقول شاید تحقیق یہ ہے کہ خشوع فوت ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے کراہت زائل ہوجاتی ہے اور آنکھ بند کرلینے پر خشوع متحقق ہوجانے سے استحباب حاصل ہوجاتا ہے اورخدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب مایفسدالصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ /۹۲)
(۳؎ ردالمحتار باب مایفسدالصلٰوۃ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۱ /۴۳۴)
تو یہاں یہ کہ ذکر اعظم مطلوبات سے تھا اور منع ایک وجہ بعید کے لئے کہ ذریعہ مقصود میں مخل نہ ہو، اور اب وہ ذریعہ ہی نہ رہا، بلکہ منعکس ہوگیا۔ تو وُہ منع اگرچہ تنزیہی باقی رہناکس قدر فقاہت سے دور، بلکہ عقل سے مہجور ہے۔ پھر ذکر کہ عرض عریض ہے۔ ذکرِ موت وذکرِ قبر وذکرِ آخرت وذکرِ انبیاء وذکرِ اولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سب ذکرِ الٰہی ہیں۔ ہم نے اپنی تعلقیات کتاب مستطاب اذاقۃ الاثام میں اس پربارہ۱۲دلائل قائم کئے ہیں۔صحیح بخاری شریف میں حضرت سیّدناحسّان ابن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف سےمشرکین کے اشعار کا اشعار میں جواب دینا اُن شعروں کوپڑھنا اورحضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کا سُننا ثابت ہے اگرچہ یہ اشعارذکر الٰہی نہ ہوتے، مسجد میں ان کے لئے منبر بچھانے کی اجازت کیونکر!
فانمابنیت المساجدلذکراﷲ والصّلٰوۃ۱ ؎۔
کہ مسجدیں خدا کے ذکر اور نماز ہی کے لئے بنائی گئی ہیں۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح باب المساجد مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ /۱۹۷)
اور جب یہ ذکر نہ ہوتا تواس کے لئے اہتمام فرمانا معاذاﷲ غفلت کے لئے اہتمام ہوتا۔ اوریہ محال ہے لاجرم اشعارِ حمد ، نعت وثناء ودُعاء ووعظ وپندذکرِالٰہی ہیں،اورغناوہ کہ ان سے جُداہوکہ غناکو آیہ کریمہ
ومن الناس من یشتری لھوالحدیث ۲؎
(لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو لہو کی بات خریدتا ہے۔ت)میں داخل کرتے ہیں اور بداہۃً معلوم کہ حمد ونعت ودعا وعظ ہرگز لہوالحدیث نہیں،
(۲؎ القرآن ۳۱/۶)
ولہذا جوہرہ ودرمنتقی وردالمحتار میں ہے :
مانقل انہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سمع الشعرلم یدل علٰی اباحۃ الغناء ویجوز حملہ علی الشعرالمباح المشتمل علی الحکمۃ والواعظ ۳؎۔
حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے شعر سُننا جو منقول ہے اس سے غنا کی اباحت ثابت نہیں ہوتی اسے ایسے شعر پر محمول کیا جاسکتا ہے جو جائز اور حکمت ونصیحت پر مشتمل ہو۔(ت)
(۳ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۵ /۲۲۲)
تو ثابت ہواکہ قول علامہ شامی :
فما ظنک بالغناء الحادث فی ھٰذاالزمان ۴؎
(اس زمانے میں پیدا شدہ نغمہ زنی کے بارے میں تمہاراکیاخیال ہے۔ت)
(۴؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱/ ۵۹۸)
خود بشہادت علّامہ شامی اُن اشعار کے بارے میں ہے جو حکمت و وعظ پر مشتمل نہ ہوں، جیسے میّت کا مرثیہ یا اُس کی تعریف، مدح بافراط یااشعار مہیجہ مکروہ ، حزن مزیلہ صبر داعی نوحہ گریبان دری کہ یہ بلا شبہ حکمت ووعظ سے خالی، بلکہ اُس کے خلاف اور اپنے احوال پر حرام، مکروہ وگزاف ہیں بخلاف اُن اشعار فارسی و عربی مذکورہ سوال کا کہ ذکر الٰہی سے جدا نہیں، البتہ اشعار اردو میں حاجت ترمیم وتبدیل ہے، شعرِاوّل میں نام پاک لے کر ندا ہے اور صحیح یہ کہ جائز نہیں بلکہ اوصاف کریمہ کے ساتھ ہو، مثلاً یارسول اﷲ، یاحبیب اﷲ ۔دوسراشعر مہمل ہوبے معنی، اورحیثیتِ شعری سے بھی مختل ہے اور بعض جُہّال سنّوریا سے ذات اقدس مراد رکھتے ہیں، اس وقت وہ قریب بہ کلمہ کفر ہوجائے گا۔تیسرا شعر بھی کچھ مفید نہیں، ہاں چوتھے اور پانچویں میں حرج نہیں، واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۲۵: ازقادری گنج ضلع بیربھوم ملک بنگال مرسلہ سید ظہور الحسن صاحب قادری رزاقی مرشدی کرمانی ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
جنازہ کے ہمراہ بلند آواز سے کلمہ طیّبہ یا وظیفہ غوثیہ
(جیساکہ سید عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۲۶ : بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ جنازہ کے ساتھ غزلیں نعتیہ پڑھتے جاتی ہیں اس کی نسبت کیا حکم ہے؟
الجواب
جائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۲۷: از موضع شرشدی جونیر مدرسہ ڈاکخانہ فیسنی ضلع نواکھالی مرسلہ مولوی عبدالکریم
۲۶ جمادی الاُخری ۱۳۳۸ھ
ماقول علمائنا رحمھم اﷲ
(ہمارے علمائے کرام رحمہم اﷲ کیا فرماتے ہیں۔ت) ایک حنفی عالم کہتا ہے کہ بے نمازی کافر و مرتد ہے اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنا چاہئے۔ اس عالم کا قول مردود ہے یا نہیں؟ تین شخصوں کے بے نمازِ جنازہ دفن کرادیا ہے اس پر شرعاً کیا وعید عاءد ہوسکتی ہے؟ دُنیا میں ایسا مسلمان نہیں جو گاہ بگاہ پنجگانہ و عید نہ پڑھتا ہو ۔
الجواب
ایمان وتصحیح عقائد کے بعد جملہ حقوق اﷲ میں سب سے اہم واعظم نماز ہے۔ جمعہ وعیدین یا بلا پابندی پنجگانہ پڑھنا ہرگز نجات کاذمہ دار نہیں۔ جس نے قصداً ایک وقت کی نماز چھوڑی ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کرلے، مسلمان اگر اُس کی زندگی میں اُسے یکلخت چھوڑ دیں اُس سے بات نہ کریں، اُس کے پاس نہ بیٹھیں ، تو ضرور اس کا سزا وار ہے۔اﷲ تعالٰی فرماتا ہے :
واماینسینّک الشیطٰن فلاتقعدبعد الذکرٰی مع القوم المظّٰلمین۱ ؎۔
اگر شیطان تجھے بھُلادے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا۔(ت)
(۱؎ القرآن ۶ /۶۷)
مگر بعد موت ہر سنّی صحیح العقیدہ کو غسل وکفن دینا، اس کے جنازے کی نماز پڑھنا
الّامااستثنٰی ولیس ھذامنھم
(اگر وہ جن کا استثناء کیا گیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں۔ت) فرض قطعی علی الکفایہ ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں جن جن کو اطلاع تھی سب گنہگار و تارک فرض ومستحق عذاب ہوں گے۔ جس نے تین مسلمانوں جو بے نماز دفن کرادیا فاسق، مرتکبِ کبیرہ، مستوجب سزائے شدید ہوا، بے نماز کے نماز کو فرض جانتاہو اس کی تحقیر نہ کرتا اگرچہ نفس وشیطان کے پھندے میں آکر نہ پڑھتا ہو مرتکب کبائر ہے، مستحقِ عذابِ نار ہے، مگر کافر نہیں، باغی نہیں، ڈاکو نہیں، ایک تباہ کار مسلمان ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلٰوۃ واجبۃ علیکم علٰی کل مسلم یموت براکان اوفاجراوان ھو عمل الکبائر ۲؎۔
تم پر ہر مسلمان کی نمازِ جنازہ فرض ہے نیک ہو یا بدکار اور اگرچہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو ۔(ت)
(۲؎ سنن ابو داؤد کتاب الجہاد مطبوعہ آفتاب عالم پریس ،لاہور ۱/۳۴۳)