یہ شیخ ابو طاہر کردی مدنی شاہ ولی اللہ کے شیخ حدیث وپیر سلسلہ ہیں، مدینہ طیبہ میں مدتوں ان کی خدمت میں رہ کر سلاسِل حدیث حاصل کئے کہ وہی ان سے شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان سے مولوی اسحٰق کو پہنچے اور شیخ محمد سعید کی نسبت انتباہ میں لکھا :
یکے از اعیان مشائخ طریقہ بودند شیخ معمر ثقۃ ۳؎۔
ممتازشیخ مشائخ طریقت میں سے ایک عمر رسیدہ شیخ تھے (ت)
اسی میں دونوں مشائخ سے سلاسل اجازت بیان کیے جن سے ثابت کہ شیخ ابراہیم کردی والد شیخ ابوطاہر مدنی اور ان کے استاد شیخ احمد قشاشی اور ان کے استاد شیخ احمد شناوی اور شاہ ولی اللہ کے استاذ الاستاذ احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ ولی اللہ کے اکثر سلاسل حدیث میں داخل ہیں
کما یـظھر من المسلسلات وغیرھا
(جیسا کہ مسلسل احادیث وغیرہا کی سند سے ظاہر ہے۔ ت) اور ان شیخ معمر ثقہ کے پیر شیخ محمداشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولانا عبدالملک اور ان کے شیخ بایزید ثانی اور شیخ شناوی پیر حضرت سید صبغۃ اللہ بروجی اور ان دونوں صاحبوں کے پیر مولٰنا وجیہ الدین علوی ان سب علماء ومشائخ نے سیفی وغیرہ اعمال جواہر خمسہ کی اجازتیں اپنے اساتذہ سے لیں اور تلامذہ کو عطا کیں، اور جناب شاہ محمد غوث گوالیاری تو ان سلاسل کے منتہٰی اور جواہر خمسہ کے مولف ہیں رحمہ اللہ تعالٰی علیہ اجمعین۔ اب ملاحظہ ہو کہ اسی جواہر خمسہ میں اسی دعائے سیفی کی ترکیب میں کیا لکھا ہے :
ناد علی ہفت بار یاسہ بار یا یک بار بخواندہ و آں ایں است ۔ناد علیا مظھر العجائب تجدہ عونالک فی النوائب کل ھم وغم سینجلی بولایتک یا علی یا علی یا علی۱؎
سات بار، یاتین بار، یا ایک بارنادعلی پڑھے، اور وہ یہ ہے :حیرت زاد چیزوں کے مظہر حضرت علی کو ندا کر انھیں ناگہانی آفتوں مصیبتوں میں اپنا مدد گار پائے گا ہر رنج وغم دور ہوجائے گا آپ کی ولایت سے اے علی، اے علی، اے علی! (ت)
(۱؎جواہر خمسہ مترجم اردو فصل ۱۳ مناجات اورادعیہ دارالاشاعت مسافر خانہ کراچی ص۲۸۲ و ۴۵۳)
اگر مولا علی کو مشکل کشا ماننا، مصیبت کے وقت مددگار جاننا، ہنگامِ غم وتکلیف اس جناب کو ندا کرنا، یا علی یا علی کا دم بھرنا شر ک ہو تو معاذ اللہ تمھارے نزدیک حضرات مذکورین سب کفار ومشرکین ٹھہریں، اور سب سے بڑھ کر بھاری مشرک کٹر کافر عیاذاً باللہ شاہ ولی اللہ ہوں جو مشرکوں کو اولیاء اللہ جانتے ، اپنا شیخِ و مرشد ومرجع سلسلہ مانتے ، احادیث نبی صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم کی سندیں ان سے لیتے، مدتوں ان کی خدمتگاری و کفش برداری کی داد دیتے، انھیں شیخ ثقہ وعادل بتلاتے، ان کی ملاقات کو بلفظ دست بوس تعبیر فرماتے ہیں، محدثین کا تمغا، حدیث کی سندیں یوں برباد ہوئیں کہ اتنے مشرکین ان میں داخل ، پھر شاہ عبدالعزیز صاحب کو شاہ ولی اللہ صاحب سے یہی نسبت خدمت وارادت وتلمیذ وبیعت ومدح عقیدت حاصل، اورا ن کی سب سندوں میں تمھارے طور پر یہ مشر ک اعظم وکافر اکبر شامل، کہاں کی شاہی، کیسی محدثی، اصل ایمان کی سلامتی مشکل ،
انا اﷲ وانا الیہ راجعون ۔
پھر مولوی اسحاق ومیاں اسمٰعیل بیچارے کس گنتی میں کہ انکی تو ساری کرامات اسی شرکستان کی بھٹی میں مشرکوں کی نسل، مشرکوں کی اولاد، مشرک ہی پیر، مشرک ہی استاد،۔ آنکھ کھلتے ہی مشرک نظر پڑے، ہوش سنبھلتے ہی مشرکوں میں بگڑے، مشرکوں کی گود، مشرکوں کی بغل، مشرکوں کا دودھ، مشرکوں کا عمل، مشرکوں میں پلے، مشرکوں میں بڑھے، مشرکوں سے سیکھے، مشرکوں سے پڑھے مشرک دادا،۔ مشرک نانا، عمر بھر مشرکوں کو جانا مانا،
العیاذ باﷲ رب العٰلمین ولاحول ولاقوۃ الاّ باﷲ الحق المبین،
مسلمان دیکھیں کہ یا علی یا علی کو شرک ٹھہرانے کی کیا سزا ملی، نہ ناحق مسلمانوں کو مشرک کہتے نہ اگلوں پچھلوں کے مشرک بننے کی مصیبت سہتے، اس سے یہی بہتر کہ راہ راست پر آئیں، سچے مسلمانوں کو مشرک نہ بنائیں ورنہ اپنوں کے ایمان کی فکر فرمائیں کہ کرد کہ نیافت کوبھول نہ جائیں ؎
دیدی کہ خون ناحق پر وانہ شمع را چنداں اماں نہ داد کہ شب راسحر کند
نسأ ل اﷲ العافیۃ وحسن العاقبۃ اٰمین۔
دیکھا کہ پروانہ کے خون ناحق نے شمع کو اتنی بھی اماں نہ دی کہ شب کو سحر کرے (ت)ہم خدا سے عافیت اور انجام کی خیریت کے خواستگار ہیں، الٰہی قبول فرما! (ت)
مقال (۱۰۳): اسی اتنباہ میں بعض مشائخ حضرات قادریہ قدست اسرارہم سے حصول مہمات وقضائے حاجات کیلیے ایک ختم یوں نقل کیا:
اول دو رکعت نفل بعد ازاں یک صد ویازدہ بار درود بعد ازاں یک صد ویازدہ بار کلمہ تمجید و یک صدویازدہ بار شیئا ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی الخ ۱ ؎۔
پہلے دو رکعت نفل پڑھے، اس کے بعد ایک سوگیار بار درود پھر ایک سوگیارہ بار کلمہ تمجید اور ایک سو گیارہ بار شیئا ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی الخ (خدا کے لیے کچھ عطا ہو سے شیخ عبدالقادر جیلانی) (ت)
(۱؎ الانتباہ فی سلاسل الاولیاء)
مقال ( ۱۰۴): شاہ عبدالعزیز تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں:
کاش اگر قتلہ عثمان دہ دوازدہ سال دیگر ہم تن بصیر مے دادند وسکوت کردہ مے نشستند سند وہند و ترک و چین نیز مثل ایران وخراسان یا علی یا علی می گفتند ۲ ؎ الخ
کاش اگر قاتلاں عثمان دس بارہ سال اور صبر کرتے اور خاموش بیٹھتے تو سندھ، ہند، ترکستان اور چین بھی ایران وخراسان کی طرح یا علی یا علی کہتے الخ (ت)
(۲؎ تحفہ اثنا عشریہ مطاعن عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۱۴)
مقال (۱۰۵): رسالہ فیض عام مزارات اولیاء سے استعانت میں شاہ صاحب کا یہ ارشاد ہے:
طریق استمداد ازایشاں آنست کہ بزبان گوید اے حضرت من برائے کار فلاں درجناب الٰہی التجامی کنم شمانیز بدعا وشفاعت امداد من نماید لکن استمداد از مشہور ین باید کرد ۳ ؎ ( ملخصاً)
ان حضرات سے استمداد کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہے: اے میرے حضور! فلاں کام کے لیے میں بارگاہ الٰہی میں التجا کررہاہوں آپ بھی دعا وشفاعت سے میری امددکیجئے۔ لیکن استمداد مشہور حضرات سے کرنا چاہئے (ت)
(۳؎فتاوٰی عزیزی رسالہ فیض عام مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۷۷)
یہ خاص صورت کامسئولہ کاجواب ہے
واﷲ الھادی الٰی سبیل الصواب
(اور اللہ ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت)
الحمد اللہ کہ یہ نوع بھی اپنے منتہٰی کو پہنچی، سو (۱۰۰) مقال کا وعدہ تھا ایک سو پانچ (۱۰۵) گنے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مقصد او ل میں پنتیس (۳۵) سوال تھے، مقصد دوم میں ساٹھ(۶۰) حدیثیں، ادھر نوع اول میں دوسو (۲۰۰) قول ،اب یہ ایک سو پانچ (۱۰۵) مقال مل کر چارسو (۴۰۰) کا عدد کامل اور فقیر کا وہ مدعا حاصل ہوگیا کہ مولوی صاحب سددہ اللہ تعالٰی کے اصل مذہب اور اس چند سطری تحریر پر چار سو (۴۰۰) وجہ سے اعتراض ہے۔