مقال (۶۸): شاہ ولی اللہ انفاس العارفین میں اپنے استاذ محدث ابراہیم کردی علیہ الرحمۃ کا حال لکھتے ہیں:
دوسال کم و بیش دربغداد ساکن بوہ برقہر سید عبدالقادر قدس سرہ، متوجہ مے شد و ذوق ایں را ازآنجا پیدا کرد۔ ۱؎
کم وبیش دو سال تک آپ بغداد میں مقیم رہے اس دوران آپ اکثرسید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزار مبارک کو مرکز توجہ بنایا کرتے تھے اور یہیں سے آپ کو راہ معرفت کا ذوق پیدا ہوا (ت)
(۱؎ انفاس العارفین مترجم اردو شیخ ابراہیم کردی اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور ص۳۸۶)
مقال (۶۹): اسی میں حضرت میر ابو العلی قدس سرہ، کے ذکر مبارک میں لکھا :
بمزار فیض الانوار حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ، متوجہ بودند واز آنجناب دل ربائہا یا فتند و فیضاں گرفتند۔۲ ؎۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ کے مزار فائض الانوار کی طرف متوجہ ہوئے اس بارگاہ سے خاص لطف و کرم پایا اور فیوض حاصل کئے۔ (ت)
مقال (۷۰ و ۷۱ ): اسی میں اپنے نانا ابو الرضا محمد سے نقل کیا :
می فرمودند یک بارحضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ را دریقظہ ویدوم اسرار عظیم دراں محل تعلیم فرمودند۳؎۔
فرماتئے تھے ایک بار حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بیداری میں دیکھا اس مقام میں عظیم اسرار تعلیم فرمائے۔ (ت)
(۳؎ انفاس العارفین حصہ دوم شیخ ابوالرضا محمد اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور ص ۱۹۴)
مقال(۷۲): اسی میں شیخ مذکور کے حالات میں لکھا :
عجوزہ راز مخلصان بعد وفات ایشاں تپ لرزہ گرفت بغایت نزارگشت شبے بنو شیدن آب وپوشیدن لحاف محتاج شد وطاقت آں نداشت وکسے حاضر نبود ایشاں متمثل شدند وآب دادند ولحاف پوشانیدند آں گاہ غائب شدند۔۴؎
مخلصین میں سے ایک بڑھیا حضرت کی وفات کے بعد تب لرزہ میں گرفتار ہوئی، انتہائی لاغر ہوگئی، ایک رات اسے پانی پینے اور لحاف اوڑھتے کی ضرورت تھی، اس کے اندر طاقت نہ تھی، اور دوسرا کوئی موجو د نہیں تھا، حضرت متمثل ہوئے پانی دیا، لحاف اڑھایا، پھر اچانک غائب ہوگئے۔ (ت)
تادب شیخنا عبدالرحیم من روح الائمۃ الشیخ عبدالقادر الجیلانی والخواجہ بھاء الدین محمد نقشبند والخواجہ معین الدین بن الحسن الچشتی وانہ راٰھم واخذ منھم الاجازۃ وعرف لسبۃ کل واحد منھم علی حدتھا ممافاض منھم علی قلبہ وکان یحکی لنا حکایتھا رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنھم اجمعین ۱؎۔
یعنی ہمارے مرشد شیخ عبدالرحیم نے ائمہ کرام حضور غوث اعظم وخواجہ نقشبند وخواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی
عنہم کی ارواح طیبہ سے آداب طریقت سیکھے اور ان سے اجازتیں لیں اور ہر ایک کی نسبت جو ان سرکاروں سے ان کے دل پر فائز ہوئی جدا جدا پہچانی اور ہم سے اس کی حکایت بیان کرتے تھے اللہ تعالٰی ان سب حضرات اور ان سے راضی ہوا۔
(۱؎القول الجمیل معہ شرح شفاء العلیل فصل ۱۱ سند سلسلہ قادریہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۸۲)
مولوی خرم علی صاحب نے اگر چہ راٰھم کے ترجمہ میں لفظ ''خواب میں دیکھا'' ۲ اپنی طرف سے بڑھا دیا جس پر کلام شاہ ولی اللہ میں اصلاً دال نہیں، مگر ارواح عالیہ کا فیض بخشنا، اجازتیں دینا نسبتیں عطا فرمانا مجبورانہ مسلم رکھا۔
(۲؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ۱۱ سند سلسلہ قادریہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۸۲)
مقال (۷۶ و ۷۷): مرزا جانجاناں صاحب فرماتے ہیں :
از حضرت شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ دوکس طریقہ گرفتہ یکے طریقہ قادری اخذ کرد ودیگرے طریقہ نقشبندیہ اختیار نمودا یشاں فرمودند کہ روح مبارک حضرت غوث اعظم تشریف آوردوہ صورت مثالی مرید خاندانِ خود راہمراہ روند حضرت خواجہ نقشبند تشریف فرماشدہ صورت مثالی متعقد خود راباخود بروند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم ۳؎۔
حضرت شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دو آدمیوں نے طریقت حاصل کی، ایک نے طریقہ قادری لیا دوسرے نے طریقہ نقشبندیہ اختیار کیا، حضرت فرماتے ہیں کہ حضرت غوث اعظم کی روح مبارک تشریف لائی اور اپنے خاندان کے مرید کی صورت مثالی کو ساتھ لے گئی اور حضرت خواجہ نقشبند تشریف فرما ہوکر اپنے عقیدت مند کی صورت مثالی کو اپنے ساتھ لے گئے، رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین۔ (ت)
مقال (۷۸): اسمٰعیل نے صراط مستقیم میں اپنے پیر کا حال لکھا:
روح مقدس جناب حضرت غوث الثقلین وجناب حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ تا قریب یک ماہ فی الجملہ تنازع در مابین روحیں مقدسین درحق حضرت ایشاں ماندہ زیرا کہ ہرد و احد ازیں دو امام تقاضائے جذب حضرت ایشاں بتمامہ بسوئے خود مے فرمودتا ازینکہ بعد انقراض زمانہ تنازع ووقوع مصالحت برشرکت روزے ہر دو روح مقدس بر حضرت ایشاں جلوہ گر شد ند تاقریب پک پاس ہر دوامام برنفس نفیس حضرت ایشاں توجہ قوی وتاثیرز ور آور مے فرمودند تا انیکہ درہمان پک پاس حصولِ نسبت ہر دو طریقہ نصیبہ حضرت ایشاں گردید۱؎۔
حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کی روحیں حضرت کے حال پر متوجہ ہوئیں اور قریب ایک ماہ تک دونوں مقدس روحوں کے درمیان حضرت کے حق میں تنازع رہا اس لیے دونوں ماموں میں سے ہر ایک حضرت کو پورے طور سے اپنی طرف کھینچنے کا تقاضا کر رہے تھے یہاں تک کہ زمانہ تنازع کے ختم ہونے اور شرک پر مصالحت واقع ہوجانے کے بعد ایک دن دونوں مقدس روحیں حضرت پر جلوہ گر ہوئیں ایک پہر کے قریب دونوں امام حضرت کے نفس نفیس پر قوی توجہ اور پر زور تاثیر ڈالتے رہے یاں تک کہ اسی ایک پہر کے اندر دونوں طریقتوں کی نسبت حضرت کو نصیب ہوگئی۔ (ت)
روزے حضر ت ایشاں بسوئے مرقد منور حضرت خواجہ خواجگان خواجہ قطب الاقطاب بختیار کا کی قدس سرہ العزیز تشریف فرما شد ند برمرقد مبارک ایشاں مراقب نشستند دریں اثناء بروح پر فتور ایشاں توجہی جس قوی فرمودند کہ بسبب آں توجہ ابتدائے حصول نسبت چشتیہ متحقق شد ۲؎۔
ایک دن حضرت خواجہ خواجگان خواجہ قطب الاقطاب بختیار کاکی قدس سرہ، العزیز کے مرقد انور کی طرف حضرت تشریف لے گئے ان کے مرقد مبارک پر مراقبہ میں بیٹھے اس دوران حضرت کی روح پر فتوح پر علامات تحقیق ہوئیں، ا ور آں حضور نے حضرت پر بہت قوی توجہ فرمائی جس کے سبب نسبت چشتیہ کے حصول کی ابتداء متحقق ہوئی۔ (ت)
(عارضہ جسمانی میں آں حضرت کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ ت) کہ یہ سب اقوال مقصد اول میں گزرے۔
شاہ عبدالعزیز نے سید احمد زروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت کہا:
مردے جلیل القد ریست کہ مرتبہ کمال اوفوق الذکراست ۷؎
( ایک جلیل القدر شخصیت ہیں جن کا رتبہ کمال ذکر سے بالا تر ہے۔ ت) پھر ان سے نقل کیا: ''مصیبت میں یا زروق کہہ کر پکار میں فوراً مدد کو آؤں گا"۔ ۸ یہ اُسی مقصد میں گزرا۔