Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
207 - 243
مقال (۶۰): اسی میں ہے :
از ثمرات ایں نسبت (یعنی اویسیہ) رویت آں جماعت است درمنام وفائدہ از ایشاں یافتن ودر مہالک ومضائق صورت آں جماعت پدیر آمدن وحل المشکلات وے بآں صورت منسوب شدن ۲؎۔
اس نسبت اویسی کے ثمرات سے ہے خواب میں اس جماعت کا دیدار ہونا، ان سے نفع پانا، ہلاکت و مصیبت کی جگہوں میں اس جماعت کی صورت کا نمودار ہونا اور مشکلات کا حل اس صورت سے منسوب ہونا (ت)
 (۲؎ ہمعات    ہمعہ  ۱۱    اکادیمۃ الشاہ ولی اللہ حیدر آباد باکستان     ص۵۹)
مقال (۶۱): اسی میں ہے :
امروز  اگر کسے رامناسبت بروح خاص پیدا شود واز نجا فیض برادر وغالباً بیرون نیست از آنکہ ایں معنی بہ نسبت پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باشد یا بہ نسبت  حضرت امیرالمومنین علی کرم اللہ  تعالی ٰ وجہہ، یا بہ نسبت حضرت غوث اعظم جیلانی رحمہ اللہ تعالٰی عنہ وآنکہ مناسبت بہ سائر ارواح دارند باعث خصوص آں اسباب طاریہ شدہ اند مثل آنکہ وے حجت آں بزرگ بسیار دارد، وبر قبروے بسیار می رود، واین معنی سلسلہ جنبان از جہت۔ قابل گشتہ است، وآں بزرگ راہمتِ قویہ بودہ است درتربیت منتسبا خود واں ہمت ہنوز در روح وے باقی است وایں معنی سلسلہ جنبان از جہت فاعل است۔۱ ؎
آج اگر کسی کو کسی خاص روح سے مناسبت پیدا ہو اور وہاں سے فیض یاب ہو غالباً اس سے باہر نہ ہوگا یہ معنی حضرت رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت سے ہو  یا حضرت امیر المومنین علی مرتضٰی کرم اللہ وجہ کی نسبت سے یا حضرت غوث اعظم جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت سے ہو اور جو لوگ تمام ارواح سے مناسبت رکھتے ہیں ان کی خصوصیت کا باعث عارضی اسباب ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ وہ اس بزرگ سے زیادہ محبت رکھتا ہے اور اس کی قبر پر زیادہ جاتا ہے۔ یہ معنی قابل کی جانب سے محرک بنا ___ اور اپنے منتسبین کی تربیت میں اس بزرگ کی ہمت قوی تھی اور وہ ہمت روح میں اب بھی باقی ہے  ___ یہ معنی فاعل کی جانب سے محرک ہو (ت)
 (۱؎ ہمعات         ہمعہ ۱۱    اکادیمۃ الشاہ ولی اللہ حیدرآباد پاکستان    ص۶۳۔ ۶۲)
مقال (۶۲): حجۃ اللہ البالغہ میں ہے :
قدا ستفاض من الشرع ان اﷲ تعالٰی عباداھم افاضل الملئکۃ وانھم یکونون سفراء بین اﷲ وبین عبادۃ انھم یلھمون فی قلوب بنی اٰدم خیرا، وان لھم اجتماعات کیف شاء اﷲ وحیث شاء اﷲ یعبر عنھم باعتبار ذلک بالملاء الاعلٰی وان ارواح افاضل الاٰدمین دخول فیھم ولحوقا بھم کما قال اﷲ تعالٰی یایتھا النفس المطئنۃ ارجعی الٰی ر بک راضیہ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی فی جنتی، والملاء الاعلی ثلٰثۃ اقسام، قسم ھم نفوس انسانیہ مازالت تعمل اعمالا منجیہ تفید اللحوق بھم حتی طرحت عنھا جلابیب ابدانھا فانسلکت فی سلکھم وعدت منھم  ۲؎ اھ ملخصاً۔
یعنی بے شک شرع سے بدرجہ شہرت ثبوت کو  پہنچا کہ مقرب فرشتے خدا اور اس کے بندوں میں واسطہ ہوتے اور آدمیوں کے دلوں میں نیک بات کا القاء کرتے ہیں ا ور ان کے لیے اجتماع ہیں جس طرح خدا چاہے اور جہاں چاہے، اسی لحاظ سے انھیں ملاء اعلٰی کہتے ہیں اور یہ بھی اسی طرح شرع سے بشہر ت ثابت کہ بزرگان دین کی روحیں بھی ان میں داخل ہوتی اور ان سے ملتی ہیںجیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ''اے اطمینان والی جان! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے خوش، پس داخل ہو میرے بندوں میں اور آ میری جنت میں ۔'' اور ملاء اعلٰی کی ایک اور قسم وہ ارواح انسانی ہیں کہ ہمیشہ رستگاری کے کام کرتے رہے جن کے باعث ان ملائکہ سے ملے یہاں تک کہ جب بدن کی نقابیں پھینکیں ملاء اعلٰی میں داخل ہوئے اور انھیں سے شمار کئے گئے۔
 (۲؂ حجۃ اللہ البالغہ        باب ذکر الملاء الاعلٰی     المکتبۃ السلفیہ لاہور        ۱ /۱۶۔ ۱۵)
مقال ( ۶۳): عزیزی میں فرمایا :
دردفن کردن چوں اجزائے بدن بتمامہ یکجامی باشند علاقہ روح یا بابدن زراہِ نظر عنایت بحال می ماند و توجہ روح بزائرین ومستانسین ومستفیدین بہ سہولت مے شود۔۱ ؎
دفن کرنے میںبدن کے تمام اجزاء ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں اور نظر عنایت سے روح کا تعلق بدن سے ہوجاتا ہے اور زائرین اور انس اور استفادہ کرنے والوں کی طرف توجہ آسان ہوجاتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفسیر عزیزی پارہ عم    استفادہ از اولیائے مدفونین        مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی    ص۱۴۳)
مقال (۶۴): میاں اسمٰعیل صراط مسقیم میں لکھ گئے:
حضرت مرتضوی راک نور تفضیل برحضرات شیخین ہم ثابت وآں تفضیل بجہت کثرت اتباع ایشاں و وساطت مقامات ولایت بل سائر خدمات است مثل قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہما از عہد کرامت مہد حضرت مرتضٰی تا انقراض دینا ہمہ بواسطہ ایشاں است۔ ۲؎
حضرت مرتضٰی کویک گونہ فضیلت حضرات شیخین پر بھی ثابت ہے اور وہ فضیلت متبعین کی کثرت اور مقامات ولایت بلکہ تمام خدمات__جیسے قطبیت، غوثیت، ابدالیت وغیرہا___ میں وساطت کے لحاظ سے ہے۔سب حضرت مرتضٰی کے عہدکریم سے اختتام دینا تک ان ہی کے واسطے سے ہے۔ (ت)
 (۲؎ صراط مسقیم        ہدایت ثانیہ در ذکر بدعاتیکہ الخ    المکتبۃ السلفیہ لاہور        ص۵۸)
مقال (۶۵): اسی میں ہے :
حق جل وعلا بذاتِ پاک خود یا بواسطہ ملائکہ عظام یا ارواح مقدسہ بسبب برکت توسل قرآن محافطت طالب خواہد نمود ۳؎۔
حق جل وعلا بذاتِ خود یا ملائکہ عظام یا ارواح مقدسہ کے واسطہ سے، قرآن سے توسل کی برکت کے سبب طالب کی حفاظت فرمائے گا۔ (ت)
 (۳؎ صراط مسقیم   باب چہارم دربیان طریق سلوک راہ نبوت الخ    المکتبۃ السلفیہ لاہور         ص۱۴۸)
مقال(۶۶): مولوی اسحاق کی مائۃ مسائل میں ہے :
سوال: شخصیکہ منکریاشد فیض روح مبارک محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم را در عالم برزخ وشخصے کہ منکر باشد از فیض ارواح مقدسہ انبیاء دیگر علیہم الصلٰوۃ ولسلام و شخصے کہ منکران باشد از فیض ارواحِ اولیاء اللہ درعالم برزخ حکمِ او چیست ؟
جو شخص عالم برزخ میں محمد رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی روح مبارک کے فیض کا اور جو دیگر انبیاء علیہم الصلٰوۃو السلام کی ارواح مقدسہ کے فیض کا اور عالم برزخ میں جوا ولیاء اللہ کی ارواح کے فیض کا منکر ہو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب: ہر فیض شرع کو ثبوت باخبار متواترہ باشد منکر آں کافر است و ہر فیضیکہ ثبوت باخبار مشہور ہی باشد منکراں ضال است ہر فیضے کہ .ثبوت اں بخیر واحد باشد منکراں بہ سبب ترک قبول گنہ گار خواہد شد بشرطیکہ ثبوت آں صحیح یا بطریق حسن خواہد شد ۱؎اھ ملخصاً
جس فیض شرع کا ثبوت احادیث میں متواترہ سے ہو اس کا منکر کافر ہے اور جس فیض کا ثبوت احادیث مشہورہ سے ہو اس کا منکر گمراہ ہے اور جس فیض کا ثبوت خبر واحد سے ہو اس کا منکر ترک قبول کی وجہ سے گنہ گار ہوگا بشرطیکہ اس کا ثبوت بطریق صحیح یا بطریق حسن ہو۔ (ت)
 (۱؎ مائۃ مسائل        سوال ششم تا ہشتم        مکتبہ توحید وسنت پشاور    ص۱۷۔ ۱۶)
ہر چند یہ جواب سراپا عیاری  پر مبنی ہے مگر سب نے دیکھا کہ سوال فیض برزخ سے تھا، واجب کہ جواب اسے بھی شام ہو اوس قدر امر نفی جنون کے لے ضروری یاان کی دیانت وللّٰہیت سے انکار اور اخفائے حق تلبیس بالباطل کا اقرار کیا جائے۔

مقال (۶۷): جناب شیخ مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں :
بعدا ز رحلت ارشاد پناہی قبلہ گاہی (یعنی خواجہ باقی  باللہ علیہ رحمۃ اللہ) بتقریب زیارت مزار شریف بہ بلدہ محروسہ دہلی اتفاق عبود افتاد روز عید بزیارت مزار شریف ایشاں رفتہ بود درا ثنائے توجہ بہ مزار متبرک التفاتے تمام از روحانیت مقدسہ ایشاں ظاہر گشت وازکمال غریب نوازی نسبت خاصہ خود را کہ بحضرت خواجہ احرار منسوب بود مرحمرت فرموند۲؎۔
حضرت ارشاد پناہی قبلہ گاہی (خواجہ باقی باللہ علیہ رحمۃ اللہ) کی رحلت کے بعد مزار شریف کی زیارت کی تقریب سے شہر دہلی میں گزرنے کا اتفاق ہوا، عید کے دن حضرت کے مزار پاک کی زیارت کے لے گیا، مزار پاک کی جانب توجہ کے دوران  حضرت کی مقدسی روحانیت سے کام التفات رونما ہوا، اور کمال غریب نوازی سے اپنی خاص نسبت جو حضرت خواجہ احرار کی جانب تھی مجھے مرحمت فر مائی۔ (ت)
 (۲؎ مکتوبات اما ربانی    مکتوب ۶۹۷     منشی نولکشور لکھنؤ    ۱ /۴۱۳)
تنبیہ: لفظ ''بتقریب زیارت مزار شریف الخ''ملحوظ رہے ار یونہی ''غریب نواز'' بھی کہ حضرت خواجہ اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت کہے جس سے متعصبان طائفہ چڑتے ہیں۔
Flag Counter