بعض خواص اولیاء راکہ جارجہ تکمیل و ارشاد بنی نوع خودگرد انند دریں حالت (یعنی بحالت عالم برزخ) دادہ واستغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارک آنہا مانع تو جہ بایں سمت نمی گردد ۱؎۔
بعض خواص اولیاء جنھیں اپنے دوسرے بنی نوع کی تکمیل وارشاد کا ذریعہ بنایا ہے ان کو اس حالت میں تصرف در دنیا (یعنی عالم برزخ کی حالت میں) دنیا کے اندرتصرف بخشا ہے اور مشاہدہ الٰہی میں ان کا استغراق اس جانب توجہ سے مانع نہیں ہوتا اس لیے کہ ان کے مدارک بہت زیادہ وسعت رکھتے ہیں۔ (ت)
مقال (۱۸): میاں اسمٰعیل دہلوی صراط مستقیم میں حضرت جناب مولٰی مشکل کشا کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کی نسبت خدا جانے کس دل سے یوں ایمان لاتے ہیں :
درسلطنت سلاطین وامارات امراء ہمتِ ایشاں را دخلے ہست کہ برسیا حان ، عالم ملکوت مخفی نیست ۳؎۔
سلاطین کی سلطنت اور حکام کی حکومت میں حضرت علی (کر م اللہ تعالٰی وجہہ الکریم) کی ہمت کو ایسا دخل ہے جو عالمِ ملکوت کی سیاحت کرنیوالوں پر مخفی نہیں۔ (ت)
مقال (۱۹): اسی میں شوکت وعظمت جناب مرتضوی لکھ کرکہا:
شان جناب شیخین بس بلند بہ نسبت ابہت وجلال مذکور ست تمثیلیش بظاہر مرتبہ امیر کبیر ست کہ فارغ از امورسیاست گردیدہ ملازم بادشاہ گشتہ بہ نسبت کیسکہ قائم برخدمات ومشغول بکار پردازی است اگر چہ شوکت ظاہر یہ وکثرت اتباع درحق ایں مصاحب بہ نسبت آں میراعظم قائم بخدمات، اقل قیل است لیکن درعزت ووجاہت فوق است چہ فی الحقیقۃ آں امیر باہمگی شوکت وحشمت واتباع خوہ گویا از اتباع آں مصاحب ست زیرا کہ مشورت وتدبیرش درہمہ اتباع بادشاہی جاری وساری است۱؎ اھ ملخصا
مذکور شوکت وجلال کی نسبت حضرات شیخین کی شان بلند ہے، عالمِ ظاہر میں اس کی مثال اس امیر کبیر کا مرتبہ ہے جو امیر سیاست سے فارغ ہو کہ بادشاہ کی خدمت میں رہتا ہے، بہ نسبت دوسرے امیر کے جو امور مملکت سے وابستہ اور کارپردازی میں مشغول ہے اگر چہ ظاہری شوکت اور تابعداروں کی کثرت، امور مملکت سے وابستہ اس امیر اعظم کی
بہ نسبت ا س مصاحب کے حق میں کم سے کم تر ہے لیکن عزت و وجاہت میں یہ اس سے بالاتر ہے۔ اس لیے کہ وہ امیر اپنی تمام تر شوکت وحشمت اور تابعداروں کے باوجود گویا اس مصاحب کا ایک تابعدار ہے اس لیے کہ اس کا مشورہ اور اس کی تدبیر بادشاہ کے تمام تابعداروں میں جاری وساری ہے۔ (ختم بتلخیص)۔ (ت)
مقال (۲۰): مظاہر الحق میں ہے: تیسری قسم زیارت کی برکت حاصل کرنے کے لیے، وہ زیارت اچھے لوگوں کی قبروں کی ہے اس لیے کہ ان کے لیے برزخ میں تصرفات وبرکات بے شمار ہیں ۲؎
وعزاہ للامام النووی
(اسے امام نووی کے حوالے سے لکھا ہے۔ ت)
(۲؎ مظاہر حق باب زیارت القبور دین محمد اینڈ سنز لاہور ۱ /۷۱۶)
وصل سوم: بعد وصال اولیاء کے فیض وامداد میں۔
مقال (۲۱تا ۳۱): شاہ ولی اللہ و مولوی خرم علی نے کہا: منتظر رہے اس کا جس کا فیضان صاحب قبر سے ہو ۳؎۔
(۳؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل کشف قبور واستفاضہ بداں ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۲)
عزیزی میں فرمایا:
ارباب حاجات حل مشکلات خود از انہامی یابند ۴؎۔
اہل حاجات اپنی مشکلوں کا حل ان سے پاتے ہیں (ت)
(۴؎ تفسیر عزیزی پارہ عم تحت والقمر اذا اتسق مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی ص۲۰۶)
دونوں شاہ صاحبوں پھر مولوی خرم علی نے کہا:اویسیت کی نسبت وقوی وصحیح ہے روحی فیض ہے اور وہ روحانیت سے تربیت ہے ۵؎ ملخصاً۔
(۵؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ۱۱ سلسلہ طریقت مصنف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۸)
عزیزی میں لکھا ہے :
ازاولیائے مدفونین انتفاع جاری است ۶؎۔
(دفن شدہ اولیاء سے نفع یابی جاری ہے۔ ت)
(۶؎تفسیر عزیزی پارہ عم استفادہ از اولیائے مدفونین مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی ص۱۴۳)
مرزا مظہر صاحب مولٰی علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت مظہر :
قصیدہ عرض نمودم نوازشہا فرمودند ۷؎
( میں نے ایک قصیدہ عرض کیا بڑی نوازشیں فرمائیں۔ ت)
شاہ ولی اللہ ومولوی خرم علی نے کہا:شاہ عبدالرحیم ادب آموز ہوئے اپنے ناناکی روح سے ۱ ؎، کہ یہ سب اقوال مقصد اول کو نوع اول میں گزرے۔
(۱؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ۱۱ سلسلہ طریقت حضرت مصنف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۹)
مقال (۳۲): مرزا صاحب موصوف نے اپنے ملفوظات میں فرمایا:
از فرط محبت کہ فقیر رابجناب امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ثابت است و سرمنشا نسبت علیہ نقشبندیہ ایشان اند بمقتضائے بشریت غشاوہ برنسبت باطنی عارض مے شود خود بخود رجوع بآنجناب پیدا گشتہ بالتفات ایشاں رفع کدورت مے شود ۲؎۔
اس فرط محبت کے سبب جو فقر کے لیے امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بارگاہ میں ثابت رکھا۔ اور بلند نسبت نقشبندیہ کا سرمنشا وہی ہیں، یہ تقاضائے بشری نسبت باطنی پر ایک پردہ سا عارض ہوجاتا ہے خود بخود اس بارگاہ کی طرف رجوع پیدا ہوتا ہے اور ان کیوجہ سے کدورت دور ہوجاتی ہے۔ (ت)
(۲؎ ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۷۸)
مقال (۳۳تا ۳۶): اسی میں ہے :
التفات غوث الثقلین بحال متوسلان طریقہ عُلیہ ایشاں بسیار معلوم شدہ باہیج کس از ایں طریقہ ملاقات نشد کہ توجہ مبارک آنحضرت بحالش مبذول نیست ۳؎۔
اپنے عالیہ کے متوسلین پر حضرت غوث الثقلین کا التفات زیادہ معلوم ہو ا اس طریقہ والوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہ ملا جس کے حال پر حضرت کی توجہ مبارک مبذول نہ ہو۔ (ت)
(۳؎ ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳)
پھر کہا:
عنایت حضرت خواجہ نقشبندیہ بحال معتقدان خود مصروف است مغلان درصحرا یا وقت خوب اسباب واسپان خود بحمایت حضرت خواجہ مے سپارند وتائیدات از غیب ہمراہ ایشاں می شود دریں باب حکایات بسیار است تحریر آں باطالت می رساند ۴؎۔
اپنے معتقدین کے حال پر حضرت خواجہ نقشبندیہ کی عنایت کا ر فرما ہے۔ مغل لوگ صحراؤں میں سونے کے وقت اپنے سامان اور گھوڑوں کو حضرت کی حفاظت کے سپرد کرتے ہیں اور غیبی تائیدات ان کے ہمراہ ہوتی ہیں اس باب میں واقعات بہت ہیں جنھیں لکھنے میں طول ہوگا۔ (ت)
(۴ ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳)
پھر کہا:
سلطان المشائخ نظا الدین اولیاء اللہ علیہ بحال زائران مزار خود عنایت بسیارمی فرمایند۔ ۱ ؎
سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے مزار کی زیاترت کرنے والوں کے حال پر بڑی عنایت فرماتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں مع کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳)
پھر کہا:
ہمچنیں شیخ جلال پانی پتی التفا ت ہامے نمایند ۲؎۔
اس طرح شیخ جلال پانی پتی بھی بہت التفات فرماتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں مع کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳)
مقال (۳۷): قاضی ثناء اللہ پانی پتی جن کی مدح مقال ۶ میں گزری تذکرۃ الموتٰی میں لکھتے ہیں:
اولیاء اللہ دوستان ومعتقدان را دردنیا وآخرت مددگاری می فرمایند ودشمناں راہلاک می نمایند واز ارواح بطریق اویسیت فیض باطنی می رسد ۳؎۔
اولیاء اللہ اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کی دنیا وآخرت میں مدد فرماتے ہیں ا ور دوشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں___ اور روحوں سے اویسیت کے طریقے پر باطنی فیض پہنچاتے ہے۔ (ت)
(۳؎ تذکرۃ الموتٰی والقبور اردو ترجمہ مصباح القبور باب روحوں کے ٹھہرنے کی جگہ کیے بیان میں نوری کتب خانہ لاہور ص۷۶)
مقال (۳۸ تا ۴۵): یہی قاضی صاحب سیف المسلول میں مرتبہ قطبیت ارشاد کو یوں بیان کرکے کہ :
فیوض وبرکات کا رخانہ ولایت کہ از جناب الٰہی براولیاء اللہ نازل مے شود اول بریک شخص نازل مے شود وازاں شخص قسمت شہد بہریک ازاوالیائے عصر موافق مرتبہ وبحسب استعداد می رسد وبہ ہیچ کس از اولیاء اللہ بے توسط اوفیضی نمی رسد وکسے از مردانِ خدا بے وسیلہ اور درجہ ولایت نمی یابد اقطاب جزئی و اوتاد وابدال و نجیاء ونقباء وجمیع اقسام ازاولیائے خدا بوے محتاج می باشند صاحب این منصب عالی راامام و قطب الارشاد بالاصالۃ نیز خوانند وایں منصب عالی از وقت ظہور آدم علیہ السلام بروحِ پاک علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ مقرر بود ۱؎۔
کارخانہ ولایت کے فیوض وبرکات جو خدا کی بارگاہ سے اولیاء اللہ پر نازل ہوتے ہیں پہلے ایک شخص پر اترتے ہیں اور اس شخص سے تقسیم ہو کر اولیائے وقت میں سے ہر ایک کو اس کے مرتبہ واستعداد کے مطابق پہنچتے ہیں اور کسی ولی کو بھی اس کی وساطت کے بغیر کوئی فیض نہیں پہنچتا۔ْ اور اہل اللہ میں سے کوئی بھی اس کے وسیلہ کے بغیر درجہ ولایت نہیں پاتا۔ جزئی اقطاب اوتادہ ابدال، نجبا، نقباا ور تمام اقسام کے اولیاء اللہ اس کے محتاج ہوتے ہیں، اس منصب بلند والے کو امام اور قطب الارشاد بالاصالۃ بھی کہتے ہیں__ اور یہ منصب عالی ظہور آدم علیہ السلام کے زمانے سے حضرت علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ کی روح پاک کے لیے مقرر تھا۔ (ت)
(۱؎ سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹)
پھر ائمہ اطہار رضوان اللہ تعالٰی علیہم کو بترتیب اس منصب عظیم کا عطا ہونا لکھ کر کہتے ہیں:
بعد وفات عسکری علیہ السلام تاوقت ظہور سید الشرفا غوث الثقلین محی الدین عبدالقادرالجیلی ایں منصب بروح حسن عسکری علیہ السلام متعلق بود ۲؎۔
حضرت عسکری کی وفات کے بعد سید الشرفا غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی کے زمانہ ظہور تک یہ منصب حضرت حسن عسکری کی روح سے متعلق رہے گا۔ (ت)
(۲؎ سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹)
پھر کہا:
چوں حضرت غوث الثقلین پیدا شد ایں منصب مبارک بوے متعلق شدوتا ظہور محمد مہدی این منصب بروح مبارک غوث الثقلین متعلق باشد ۳؎۔
جب حضرت غوث الثقلین پیدا ہوئے یہ منصب مبارک ان سے متعلق ہوا اور امام محمد مہدی کے ظہو رتک یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گا۔ (ت)
(۳؎ سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹)
پھر کہا :
چوں امام محمد مہدی ظاہر شود ایں منصب عالی تاانقراض زمان بوے مفوض باشد ۴؎۔
جب امام مہدی ظاہر ہو ں گے یہ منصب بلند اختتام زمانہ تک ان کے سپر د رہے گا۔ (ت)
(۴؎ سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹)
اخیر میں کہا :
استنباط ایں مدعا ا ز کتاب اللہ واز حدیث می توانیم کرد۔ ۵؎ اھ ملخصا۔
ہم اس مدعاکا استنباط کتاب اللہ اور حدیث پاک سے کرسکتے ہیں اھ ملخصاً (ت)
(۵؎ سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹)
اصل ان سب اقوال ثلٰثہ کی جناب شیخ مجد الف ثانی سے ہے، جیسا کہ جلد سوم مکتوب نمبر ۴۳ صفحہ۱۲۳ میں مفصلاً مذکور، ان کے کلام میں اس قدر امرا اور زائد ہے کہ:
بعدا ز ایشان (یعنی حضرت مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنی) بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب والتفصیل قرار گوفت ودراعصا رایں بزرگواران و ہمچنیں بعداز ارتحال ایشاں ہر کس را فیض وہدایت می رسد بتوسط این بزرگوار ان بودہ ملاذ ملجائے ہمہ ایشاں بودہی اند تا آنکہ نوبت بحضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رسید قدس سرہ، ط۱؎ الخ اھ ملخصاً
حضرت مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کے بعد بارہ اماموں میں سے ہر ایک کے لیے ترتیب وتفصیل کے ساتھ قرارپذیر ہوا۔ ان بزگوں کے زمانے میں اسی طرح ان کی رحلت کے بعد جسے بھی فیض وہدایت پہنچتی انہی بزرگوں کے توسط سے تھی اور سب کا ملجا یہی حضرات تھے یہاں تک کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ، تک نوبت پہنچی الخ(ت)
(۱؎سیف المسلول مترجم اردو فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۶۹)
اور انھوں نے جلد ثانی میں خود اپنے لیے بھی اس منصب کاحصول مانا اور اس اعتراض سے کہ پھر اس دورے میں منصب مذکور کا حضور پر نور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اختصاص کب رہا۔ جلد ثالث میں یوں جواب دیا کہ:
مجدد الف ثانی دریں مقام نائب مناب حضرت شیخ است وبنیا بت حضرت شیخ ایں معاملہ باو مربوط است چنانکہ گفتہ اند نور القمر مستفاد من نور الشمس فلا محذور ۲ ؎۔
مجدد الف ثانی اس مقام میں حضرت شیخ کا قائم مقام ہے اور حضرت شیخ کی نیابت سے یہ معاملہ ا س سے وابستہ ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ ماہتاب کا نور آفتاب کے نور سے مستفاد ہے ۔ تو اگر کوئی اعتراض نہ رہا۔ (ت)
(۲مکتوبات امام ربانی مکتوب ووصدو بست وسوم مطبع نولکشور لکھنؤ ۳ / ۴۸ ۔ ۳۴۷)
مقال (۴۶تا ۵۸): شاہ ولی اللہ اتنباہ میں اور ا ن کے بارہ اساتذہ و مشائخ کہ عرب و ہند وغیرہما بلاد کے علماء واولیاء میں حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کو وقت مصیبت مدد گار مانتے ہیں اور ع
تجدہ عونا لک فی النوائب
( انھیں مصائب میں اپنا مددگارہ پاؤ گے۔ ت)کو حق جانتے ،
وسیاتی نقلہ فی الوصل الاتی ان شاء اﷲ تعالٰی
(وصل آئیندہ میں یہ کلام نقل ہوگا اگر خدا نے چاہا۔ ت)
مقال (۵۹): شاہ ولی اللہ نے ہمعات میں لکھا :
از جملہ نسبت ہائے معتبرہ نزدیک قوم نسبت اویسیہ است خواہ ایں مناسبت بہ نسبت ارواح انیباء باشد یا اولیائے امت یا ملائکہ وبساست کہ مناسبت بروحی حاصل شود بجہت آنکہ فضائل وے استماع کردہ مجتبی خاص بہم رسانید وآں محبت سبب کشادہ شدن راہے گرد دمیان روح وایں کس یا بجہت آنکہ روح مرشد روے یا جد وے باشد دروے ہمت ارشاد منتسبیان خو متکمن شدہ ۱ ؎ الخ انتہی ملتقطا۔
اہل طریقت کے نزدیک معتبر نسبتوں میں سے ایک نسبت اویسی بھی ہے خواہ یہ مناسب ارواح انبیاء کی نسبت سے ہو یا اولیائے امت یا ملائکہ کی نسبت سے ہو اور ایسابھی بہت ہوتا ہے کہ کسی روح سے مناسب پیدا ہوگئی اس لیے کہ اس کے فضائل سن کر ایک خاص محبت بہم پہنچائی ___ وہ محبت اس روح اور اس شخص کے درمیان ایک راہ کھلنے کا سبب ہوجاتی ہے ____ یا اس وجہ سے کہ وہ اس کے مرشد یا مرشد کے مرشد کی روح ہے اس کے اندر اپنے منتسبین کی رہنمائی کی ہمت خود قرار پذیر ہے۔ الخ (ختم التقاط کے ساتھ)۔ (ت)
(۱؎ ہمعات ہمعہ ۱۱ اکادیمۃ الشاہ ولی اللہ حیدر آباد باکستان ص۵۷۔ ۵۶)