Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
205 - 243
مقال (۵): تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں :
چون روح از بدن جدا شد قوائے بناتی از وجدا می شوند نہ قوائے نفسانی وحیوانی واگر وجود قوائے نفسانی وحیوانی فیضاناً یا بقاً مشروط باشد بوجود قوائے نباتی ومزاج الزم آید کہ ملائکہ را شعور  و ادراک وحسے  وحرکتے  و غضب ودفع منافر نباشد پس حال ارواح درعالم قبر مثل حال ملائکہ است کہ بتوسط شکلے وبدنے کارمی کنند و مصدر رافعال حیوانی ونفسانی می گر دند بے آنکہ نفس نباتی ہمراہ داشتہ باشند  ۳؎۔
جب روح بدن سے جدا ہوتی ہے قوائے نباتی اس سے جدا ہوجاتے ہیں مگر قوائے نفسانی و حیوانی باقی رہتے ہیں اوراگر قوائے نفسانی وحیوانی کے فیضان یا بقا کے لیے قوائے نباتی اور مزاج کا وجود شرط ہو تو لازم ہے آئے گا کہ ملائکہ میں شعور وادراک ، حس و حرکت غضب ودفع نا موافق کچھ بھی نہ ہو، تو عالمِ برزخ میں روحوں کاحال یسا ہی ہے جیسے ملائکہ کا حال ہے کہ کسی شکل اور بدن کی وساطت سے کام کرتے ہیں اور شکل اور نفس نباتی کے بغیر ان سے حیوانی ونفسانی افعال وصادر ہوتے ہیں۔ (ت)
 (۳؎ تحفہ اثناعشریہ    باب ہشتم درمعاد الخ     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۴۰۔ ۳۳۹)
مقال (۶): قاضی ثناء اللہ پانی پتی جن سے مولوی اسحاق نے مائتہ مسائل واربعین میں استناد کیا اور جناب مرزا صاحب ان کے  پیر و مرشد وممدوح عظیم شاہ ولی اللہ صاحب نے مکتوب ۷میں انھیں فضیلت ولایت مآب، مروج شریف ومنور طریقت و نور مجسم وعزیز ترین ومجودات ومصدر انوار فیوض وبرکات لکھا اور منقول کہ شاہ عبدالعزیز صاحب انھیں بہیقی وقت کہتے ،
رسالۃ تذکیرۃ الموتٰی میں لکھتے ہیں :
اولیاء گفتہ اند ار واحنا اجساد نا یعنی ارواح ایشاں کا اجساد می کند وگاہی اجساد از غایت لطافت برنگ ارواح می بر آید، می گوید کہ رسول خدا را سایہ نبود صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارواح ایشاں از  زمین وآسمان  و بہشت ہر جاکہ خواہدن می روند و بہ سبب ہمیں حیات اجساد آنہارا ور قبر خاک نمی خورد بلکہ کفن ہم میماند، ابن ابی الدنیا از ملک روایت نمود، ارواحِ مومنین ہر جاکہ خواہند سیر کنند مراد از مومنین کاملین اند حق تعالٰی اجساد ایشاں راقوت ارواح مے دہد درقبور نماز مے خوانند و ذکر می کنند وقرآن مے خوانند ۱ ؎ اھ ملخصاً۔
اولیاء فرماتے ہیں، ہماری روح ہمارا جسم ہے۔ یعنی ان کی روحیں جسموں کا کام کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے روحوں کے رنگ میں جلوہ نما ہوتے ہیں___ اولیاء بتاتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا___ ان کی روحیں زمین، آسمان اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں____ اور اسی وجہ سے قبر میں ان کے جسم کو مٹی نہیں کھاتی، بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے، ابن ابی الدنیا امام مالک سے راوی ہے کہ ''مومنوں کی روحیں جہاں چاہتی ہے سیر کرتی ہیں۔'' مومنین سے مراد کاملین ہیں، حق تعالٰی انکے اجسام کو  روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے، وہ قبر وں میں نماز ادا کرتے ہیں، ذکر کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں۔ (ختم بتلخیص)۔ (ت)
 (۱؎ تذکرۃ الموتٰی والقبور    اردو ترجمہہ مصباح النور باب روحوں کے ٹھہرنے کی جگہ کے بیان میں نور ی کتب خانہ لاہور ص ۷۵ ۔ ۷۶)
مقال (۷): تفسیر عزیزی میں ارواح انبیاء واولیاء عام وصلحا علی سید ہم وعلیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر کرکے کہ بعض علیّین اور بعض آسمان اور بعض درمیان آسمان  و زمین اور بعض چاہ زمزم میں، لکھتے ہیں:
تعلقے بقبر نیز ایں ارواح رامے باشد کہ بحضور زیارت کنند گان واقارب ودیگر دوستاں بر قبر مطلع ومستانس مے گردند وزیراں کہ روح راقرب و بعدمکانی مانع ایں دریافت نمی شود ومثال آں در وجود انسان روحِ بصری ست  کہ ستارہائے ہفت آسمان رادر دنِ چاہ مے تواند دید۔ ۲؎
ان روحوں کو قبر سے بھی ایک تعلق رہتا ہے جس کے سبب زائرین اور عزیزوں ، دوستوں کی آمد کا انھیں علم ہوتا ہے اور ان سے  انہیں اُنس حاصل ہو تا ہے اس لیے کہ مکان کی دوری ونزدیکی روح کے لیے اس ادراک سے مانع نہیں ہوتی، انسان کے وجود میں اس کی مثال رو ح بصر ہے جو ہفت آسمان کے ستارے کُنویں کے اندر سے دیکھ سکتی ہے۔ (ت)
       (۲؎ تفسیر عزیزی         پارہ عم         تحت ان کتاب الابرار لفی علیین    مسلم بک ڈپو لال کنوان دہلی    ص۱۹۳)
یہ پچھلا جملہ زیادہ قابل لحاظ ہے۔

مقال (۸): مظاہر حق ترجمہ مشکوٰۃ میں ہے: ''پانچویں قسم مہربانی اور اُنس کے لیے ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو کوئی گزرے اوپر قبر مومن بھائی اپنے کے اور سلام کرے تو پہچانتا ہے وہ اس کو اور جواب سلام کا دیتا ہے  ۱؎۔
''وعزاہ للامام النووی
(اس پر امام نووی کا حوالہ دیا ہے۔ ت)
 (۱؎ مظاہر حق ترجمہ مشکوٰۃ المصابیح    باب زیارہ القبور فصل ۱    ملک دین محمد اینڈ سنز لاہور    ۱ /۱۷۔ ۷۱۶)
مقال (۹): مولوی اسحاق صاحب نے اربعین میں عورتوں ک لیے زیارت قبر مطلقاً ممنوع ٹھہرانے کو نصاب الاحتساب سے نقل کیا کہ ''جب وہ نکلنے کا ارادہ کرتی ہے ملعونہ ہوتی ہے جب نکلتی ہے چار طرف سے شیاطین اسے گھیر لیتے ہیں
واذا اتت القبر یلعنھا روح المیّت ۲؎
اور جب قبر پر آتی ہے میّت کی روح اسے لعنت کرتی ہے۔'' اپنا ادعائے اطلاق ثابت کرنے کونقل توگئے مگر نہ دیکھا کہ اس نے حمایت موتی کا خاتما کردیا۔ کلام مذکور صاف دلیل واضح ہے کہ میّت حضور زائرپر مطلع ہوتا ہے اور یہ بھی پہچانتا ہے کہ یہ مرد ہے  یا عورت، اور اس کے لیے  بے جا فعل سے  پریشان بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ زن زائرہ پر لعنت کرتا ہے۔
 (۲؎ مسائل اربعین معہ اردو ترجمہ    مسئلہ ۳۹      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۹۶)
مقال (۱۰): مرزا مظہر جانجاناں اپنے ملفوظات میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت کہتے ہیں:
یک بار قصیدہ درمدح ایشاں گفتہ بودم، عنایت بیسار بحال فقیر نمودہ، ازروئے تواضع فرموند مالائق اینہمہ ستائش نیستم  ۳؎۔
ایک بار ان کی مدح میں ایک قصیدہ عرض کیا تھا۔ اس فقیر کے حال پر بہت عنایت فرمائی اور تواضعاً فرمایا کہ ہم اس ساری ستائش کے لائق نہیں۔ (ت)
(۳؎ ملفوظات مرزا مظہر جان جاناں    از کلمات طیبات    مطبع مجتبائی دہلی    ص۷۸)
مقال (۱۱): اسی میں حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی نسبت کہا:
یک بار قصدہ بجناب ایشا ں عرض نمودم ۴؎ا لخ۔
ایک بار ان کی بارگاہ میں ایک قصیدہ عرض کیا۔ الخ (ت)
 (۴؎ ملفوظات مرزا مظہر جان جاناں    از کلمات طیبات    مطبع مجتبائی دہلی    ص۷۸)
مقال (۱۲): شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں :
اذا مات الانسان کان للنسمۃ نشأۃ اخری فینشی فیض الروح الالھی فیھا قوۃ فیما بقی من الحس المشترک تکفی کفایۃ السمع والبصر والکلام  ۵؎۔
جب آدمی مرتا ہے روح حیوانی کے لیے ایک اور اٹھان ہوتی ہے تو روح الٰہی کا فیض اس کے بقیہ حس مشترک میں ایک وقت ایجاد کرتا ہے جو سننے اور دیکھنے اور کلام کرنے کا کام دیتی ہے۔
 (۵؎ حجۃاللہ البالغہ        باب حقیقۃ الروح        الکمتبہ اسلفیہ لاہور    ص ۱۹)
مقال (۱۳): مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ موضح القرآن میں زیر کریمہ
وما انت بسمع من فی القبور
فرماتے ہیں ''حدیث میں آیا ہے کہ مردوں سے سلام علیک کرو وہ سنتے ہیں۔ اور بہت جگہ مردوں کو خطاب کیا ہے۔ ا س کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ وہ نہیں سن سکتا ہے۱؎۔''
 (۱؎ موضح القرآن     وامانت بمسمع من فی القبور کے تحت    ممتاز کمپنی کشمیری بازار لاہور    ص۴۸۰)
وصل دوم: بقائے تصرفات وکرامات اولیاء بعد الوصال میں۔

مقال (۱۴): شاہ ولی اللہ ہمعات میں لکھتے ہیں :
در اولیائے امت واصحاب طریق اقوی کسیکہ بعدہ تمام  راہِ جذب باکد وجوہ باصل ایں نسبت میل کردہ ودر آنجا بوجہ اتم قدم است حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی اند ولہذا گفتہ اندکہ ایشاں درقبور خود مثل احیاء تصرف مے کند۔۲؎
اولیائے امت واصحاب طریقت میں سب سے زیادہ قوی شخصیت ___ جس کے بعد تمام راہ عشق مؤکد ترین طور پر اسی نسبت کی اصل کی طرف مائل اور کامل ترین طور  پر اسی مقام  پر قائم ہوچکی ہے، حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ہیں، اسی لیے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ یہ اپنی قبروں میں رہ کر  زندوں کی طرح تصرف کرتے ہیں۔ (ت)
 (۲؎ ہمعات         ہمعہ  ۱۱       اکادیمی شاہ ولی اللہ حیدر آباد    ص۶۱)
مقال (۱۵): حجۃ اللہ البالغہ میں اہل برزخ کو چار قسم کرکے لکھا :
 اذا مات انقطعت العلاقات فلحق بالملٰئکۃ وصارمنھم، والھم کالھامھم وسعی فیما یسعون فیہ و ربما اشتغل ھٰؤلاء باعلام کلمۃ اﷲ ونصر حزب اﷲ و ربما کان لھم لمۃ خیربابن آدم۳؎۔ ملخصاً۔
جب مرتے ہیں علائق بدنی منقطع ہو کہ ملائکہ سے ملتے اور انھیں میں سے ہوجاتے ہیں جس طرح فرشتے آدمیوں کے دل میں نیک بات کا القاء کرتے ہیں یہ بھی کرتے ہیں اور جن کاموں میں ملائکہ سعی کرتے ہیں یہ بھی کرتے ہیں اور کبھی یہ پاک روحیں خدا کا بول بالا کرنے اور اس کے لشکر کو مدد دینے یعنی جہاد وقتل کفار و امداد مسلمین میں مشغول ہوتی ہیں اور کبھی بنی آدم سے نزدیک وقریب ہوتی ہیں کہ ان پر افاضہ خیر فرمائیں۔
 (۳؎ حجۃ اللہ البالغۃ    باب اختلاف احوال الناس فی البرزخ    المکتبۃ  السلفیہ لاہور     ص۳۵)
Flag Counter