Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
204 - 243
قول (۱۸۷تا۱۸۹): علامہ عبدالروف تیسیر میں قائل اور مولانہ علی قاری مرقاۃ میں قاضی سے ناقل:
واللفظ للمناوی ، النفوس القدسیۃ اذا تجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلی ولم یبق لہا حجاب فتری وتسمع الکل کالمشاھد ۳؎۔
 (اور الفاظ مناوی کے ہیں۔ ت) پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں ملاء اعلٰی سے مل جاتی ہیں اور ا ن کے لیے کوئی پر دہ نہیں رہتا سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے سامنے حاضر  ہے۔
 (۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر    تحت حدیث حیث ما کنتم فصلوا علی    مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ    ۱ /۵۰۲)
قول (۱۹۰): مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں زیر حدیث:
لایسمع مدی صوت المؤذن جن ولاانس ولاشی الاشہدا لہ یوم القیٰمۃ، محدث علامہ ابن ملک سے منقول تنکیر ھما فی سیاق النفی لتعمیم الاحیاء والاموات۴؎
یعنی حدیث شریف کا یہ مطلب ہے کہ زندہ جن اور زندہ آدمی اور مُردہ جن اور مُردہ آدمی جنتے لوگوں کو مؤذن کی آواز پہنچتی ہے اور  وہ اس کی اذان ستنتے ہیں سب روز قیامت اس کے لیے گواہی دیں گے۔
 (۴؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب فصل الاذان فصل ۱    مکتبہ امدادیہ ملتان            ۲ /۱۶۰)
یہاں تصریح ہوئی کہ بعد موت علم وسماع کا باقی رہنا کچھ بنی آدم سے خاص نہیں جن کے لیے بھی حاصل ہے اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہئے لانعدام المخصص (کیونکہ کوئی دلیل تخصیص نہیں۔ ت)
قول (۱۹۱تا ۱۹۸): امام اسمٰعیل پھر امام بیہقی پھرا مام سہیلی پھرامام قسطلانی پھر امام علامہ شامی پھر علامہ زرقانی نے سماع موتٰی کا اثبات کیا اور دلیل انکار سے جواب دئے
کما یظھر بالمراجعۃ الی الارشاد والمواھب وشرحہا وغیر ذلک من اسفار لعلماء
 (جیسا کہ ارشاد الساری شرح بخاری و مواہب لدینہ شرح مواہب لدینہ اور ان کے علاوہ کتب علماء کے مطالعہ سے معلوم ہوگا۔ ت) مواہب میں امام ابن جابر سے بھی اثبات سماع نقل کیا، امام کرمانی، امام عسقلانی، امام عینی، امام قسطلانی نے شروح صحیح بخاری اور امام سخاوی، امام سیوطی، علامہ حلبی، علی قاری، شیخ محقق وغیرہم نے اس کی تخصیص فرمائی، از انجا کہ یہ اقوال ان مباحث سے متعلق جنھیں اس رسالہ میں دور آئندہ پر محمول رکھا ہے لہذا ان کی نقل عبارات ملتوی رہی واللہ الموفق۔
قول (۱۹۹): جذب القلوب شریف میں ہے :
تمام اہل سنت وجماعت اعتقاد دارند بہ ثبوت ادراکات مثل علم وسماع مرسائر اموات را۔۱ ؎
تمام  اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ علم اور  سماعت جیسے ادراکات تمام مردوں کے لے ثابت ہیں (ت)
 (۱؎ جذب القلوب    باب چہاردہم درفضائل زیارت سید المرسلین     منشی نولکشور لکھنؤ     ص ۲۔۲۰۱)
قول (۲۰۰): جامع البرکات میں ہے :
سمہودی می گوید کہ تمام اہل سنت وجماعت اعتقاد دارند بہ ثبوت ادراک مثل علم وسمع وبصر مرسائر اموات راز آحاد بشر انتہی ۲ ؎۔ والحمد اللہ رب العٰلمین۔
امام سمہودی فرماتے ہیں کہ تمام اہل سنت وجماعت کاعقیدہ ہے کہ عام افراد بشر میں سے تمام مرُدوں کے لیے ادراک جیسے علم اور سننا دیکھنا ثابت ہے۔ انتہی۔
والحمدا اللہ رب العالمین (ت)
 (۲؎ جامع البرکات)
فقیر غفراللہ تعالٰی نے جن سو(۱۰۰) ائمہ وعلماء کے اسماء طیبہ گنائے تھے بحمداللہ ان کے اور ان کے علاوہ اوروں کے بھی اقوال عالیہ دو سو(۲۰۰) شمار کردئے اور ایفائے وعدہ سے سبک دوش ہوا۔

تنبیہ: ناظرین گمان نہ کرے کہ ہمارے تمام دلائل بس اسی قدر بلکہ جو نقل نہ کیا، وہ بیشتر واکثر، پھر فقیر غفراللہ المولے القدیر نے اس رسالہ میں یہ التزام بھی رکھا کہ جو آثار واحادیث اقوال علمائے قدیم وحدیث خاص حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حی باقی روح مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حیاتِ عالی و علم عظیم وسمع جلیل وبصر کریم میں وارد انھیں ذکر نہ کرے تین وجہ سے :
اولاً مسلمانوں  پر نیک گمان کر خاص حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو کوئی کلمہ گو مثل سائر اموات نہ جانے گا، ارباب طائفہ کہ ارواح موتٰی کو جماد سمجھتے ہیں شاید یہاں اس کلمہ مغضوبہ مبغوضہ سے انھیں بھی احتراز ہو، اور معاذاللہ جسے نہ ہو تو استغفراللہ ایساشقی لئیم قابل کلام و خطاب نہیں بلکہ اس کا جواب اللہ کا عذاب ،
والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
ثانیاً واللہ فقیر کو حیا آتی ہے کہ حضور  پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک ایسی بحث ''لا'' ''ونعم'' میں بطور خود شامل کرے، ہاں دوسرے کی طرف سے ا بتداء ہو تواظہار حق میں مجبوری ہے۔

ثالثاً وہاں دلائل کی وہ کثرت کہ نطاق نطق بیان سے عاجز پھر انھیں اقوال پرقناعت بس کہ جس سرکار کے غلام ایسے ''العظمۃللہ'' اس کا پوچھنا ہی کیا، آخر انھیں یہ مدارج ومعارج کس نے عطا کئے، اسی سرکار ابد قرار نے،
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی آلہٖ وصحبہ وابنہ الاکرم سیدی ومولائی الغوث العظم، والحمد اللہ رب العٰلمین ۔
نوع دوم: اقوال اکبر وعمائد خاندان عزیزی میں، یہاں اقوال مختلط مذکور ہوں گے ناظر ان کے مطالب کو فصول نوع اول  پر تقسیم کرلے، سردست سو(۱۰۰) مقال ان کے بھی حاضر کرتا ہوں وباللہ التوفیق۔

وصل اول ____ مقال (۱): شاہ ولی اللہ فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں:
اذا  انتقلوا الی البرزخ کانت تلک الاوضاع والعادات والعلوم معھم لاتفارقھم  ۱؎۔
جب برزخ کی طرف انقال کرتے ہیں یہ وضعیں اور عادتیں اور علم سب ان کے ساتھ ہوتے ہیں جدا نہیں ہوتے۔
 (۱؎ فیوض الحرمین معہ ترجمہ اردو         مشہد عظیم الخ         محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی    ص۴۲)
مقال (۲): اسی میں ہے :
اذا مات ھذا البارع لایفقد ھوولا براعتہ بل کل ذلک بحالہ  ۲؎۔
جب یہ بندہ کامل اتنقال فرماتا ہے نہ وہ گمتا ہے نہ اس کا کمال، بلکہ بدستور  اسی حال  پر رہتے ہیں ۔
 (۲؎ فیوض الحرمین معہ ترجمہ اردو         تحقیق شریف    محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی      ص۱۱۳)
مقال (۳): اسی میں ہے:
کل من مات من الکمل یخیل الی العامۃ انہ فقد من العالم ولا واﷲ مافقد بل تجوھر وقوی ۱؎۔
جس کامل کا انتقال ہوتا ہے عوام کے خیال میں گزرتا ہے کہ وہ عالم سے گم گیا، حالانکہ خدا کی قسم وُہ گُما نہیں بلکہ اور جوہر دار قوی ہوگیا۔
 (۱؎ فیوض الحرمین    تحقیق شریف الخ    محمد سعید تاجران کتب کراچی    ص۱۱۱)
مقال (۴): شاہ عبدالعیزیز صاحب تفسیر عزیز ی میں فرماتے ہیں:
چوں آدمی میرد روح راصلا تغیر نمی شود چنانچہ حاطل قوی بود حالا ہم ست شعور  و ادراک کے کہ داشت حالاہم دارد بلکہ صاف تر و روشن تر ۲؎ اھ ملخصاً۔
جب آۤدمی مرتا ہے روح میں بالکل کوئی تغیر نہیں ہوتا جس طرح پہلے حامل قوی تھی اب بھی ہے اور جو شعور وادراک اسے پہلے تھا اب بھی ہے بلکہ اب زیادہ صاف اور روشن ہے۔ اھ ملخصاً (ت)
 (۲؎ تفسیر عزیزی    آیت ولاتقولو المن یقتل الخ    اخفانی دارالکتب لال کنواں دہلی    ۱ /۵۵۹)
Flag Counter