Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
203 - 243
فصل پانزدہم: بقیہ تصریحات سماع اموات میں ۔

قول (۱۷۴ تا ۱۷۸): امام خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین سبکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے شفاء السقام کے باب تاسع فی حیاۃ الابنیاء میں ایک فصل ''ماور فی حیاۃ الانبیاء'' دوسری فصل حیات شہداء میں وضع کرکے فصل ثالث تمام اموات کے سماع وکلام وادراک وحیات میں وضع کی اور اس میں احادیث صحیحہ بخاری و مسلم وغیرہما سے علم وسماع موتٰی ثابت کرکے فرمایا:
وعلی الجملۃ ھذہ الامور ممکنۃ فی قدرۃ اﷲ تعالٰی وقدوردت بھا الاٰخبار والصحیحۃ فیجیب التصدیق بھا ۲ ؎۔
بالجملہ یہ سب امور قدرت الٰہی میں ممکن ہیں اور بے شک ان کے ثبوت میں یہ حدیثیں وارد ہوئیں تو ان کی تصدیق واجب ہے۔
 (۲؎ شفاء السقام    الفصل الثالث فی سائر الموتٰی    نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص۲۰۳)
فصل اول میں انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی حیات تحقیق کرکے آخر میں فرمایا:
اما الادراکات کالعلم والسماع فلا شک ان ذلک ثابت لسائر الموتٰی فکیف بالانبیاء ۳؎۔
رہے اور اکات جیسے علم وسماع، یہ تو یقینا تمام اموات کے لیے ثابت ہیں پھر انبیاء تو انبیاء ہیں علیہم الصلٰوۃ والسلام۔
 (۳؎ شفاء السقام     الفصل الاول        نوریہ رضویہ فیصل آباد  الباب التاسع       ص۱۹۲۔ ۱۹۱)
امام جلال الدین سیوطی نے شرح الصدور میں اس جناب کا یہ قول نقل کرکے تقیر فرمائی، امام زین الدین مراغی جنھیں شرح مواہب میں المحدث العالم النحریر کہا ا جناب کی یہ تحقیق انیق نقل کرکے فرماتے ہیں:
انہ مما یعز وجودہ فی مثلہ فلینا فس المتنافسون ۱؎۔
یہ نایاب تحقیق ہے اور چاہئے کہ ایسی ہی چیزیں نہایت رغبت کریں رغبت کرنے والے۔
 (۱؎ المواہب اللدینہ    بحوالہ زین الدین المراغی            المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۶۹۶)
امام احمد قسطلانی نے مواہب شریف میں امام سبکی کا وہ ارشاد مبین اورا مام زین الدین کی جلیل تحسین استناداً نقل کی، پھر علامہ عبدالباقی زرقانی نے شرح مواہب میں اس کی تقریر وتائید میں حدیثیں نقل کیں(عہ) ۔
عہ :   یونہی شیخ محقق نے مدارج میںیہ قول علماء سے نقل فرمایا ۱۲منہ (م)
قول  (۱۷۹): امام ممدوح نے باب مذکور کی فصل خامس میں فرمایا:
کان المقصود بھذا کلہ تحقیق السماع و نحوہ من الاعراض بعد الموت، فانہ قد یقال ان ھذہ الاعراض مشروطۃ بالحیاۃ، فکیف تحصل بعد الموت وھذا خیال ضعیف لان لا ندعی ان الموصوف بالموت موصوف بالسماع وانما ندعی ان السماع بعد الموت حاصل لحی، وھو  اما الروح وحدھا حالۃ کون الجسد میّتا او متصلۃ بالبدن حالۃ عود الحیاۃ الیہ۲؎۔
اس سبب سے مقصود موت کے بعد سماع وغیرہ صفات کی تحقیق تھی کہ بعض لو گ کہنے لگتے ہیں ان اوصاف کے لیے زندگی شرط ہے تو  بعد موت کیونکر حاصل ہوں گے ، حالانکہ یہ پوچ خیال ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو چیز مُردہ ہے وہ سنتی ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ بعد مرگ سماع اس کے لیے ثابت ہے جو  زندہ ہے یعنی روح، یا تو تنہا وہی جب بدن مُردہ ہو  یا جسم سے متصل ہوکرجب حیات بدن کی طرف عود کرے۔
 (۲؎ شفاء السقام    الباب التاسع         الفصل الخامس    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص ۲۰۹ )
قول (۱۸۰) :علامہ قونوی سے جذب القلوب میں ہے کہ انھوں نے بہت احادیث ذکر کرکے فرمایا:
جمیع ایں احادیث دلالت دارد برآنکہ اموات را ادراک وسماع حاصل ست وشک نیست کہ سمع از اعراضی است کہ مشروط است بحیات پس ہمہ حی اند ، ولیکن حیاتِ ایشاں در مرتبہ کمتر از حیات شہداست وحیاتِ انبیاء صلوات اللہ تعالٰی علیہم کامل ترازحیات شہداست ۱؎۔
ان  تمام احادیث میں اس بات  پر دلیل موجود ہیں کہ مردوں کو ادراک وسماع حاصل ہے اور بلاشبہ سماعت ایسا وصف ہے جس کے لیے زندگی شرط ہے تو سب زندہ ہیں، لیکن ان کی زندگی حیاتِ شہداء سے کم درجہ کی ہے اور حیات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام حیاتِ شھداء سے زیادہ کامل ہے۔ (ت)
 (۱؎ جذب القلوب    باب چہار دہم        منشی نولکشور لکھنؤ    ص ۷ ۲۰ ۔ ۲۰۶)
قول (۱۸۱ و ۱۸۲): امام قرطبی  پھر امام سیوطی قبر کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے مسئلہ میں فرماتے ہیں :
وقد قیل ان ثواب القرائۃ للقاری وللمیّت ثواب الاستماع ولذلک تلحقہ الرحمۃ، قال اﷲ تعالٰی واذاقرئ القراٰن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ولایبعد من کرم اﷲ تعالٰی ان یلحقہ ثواب القرأۃ والاستماع ۲؎معاً۔
بہ تحقیق کہا گیا کہ پڑھنے کا ثواب قاری کو ہے او رمیّت کے لیے اس کا اجر ہے کہ اس نے کان لگا کر قرآن سنا اور اس لیے ا س پر رحمت ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے جب قرآن  پڑھاجائے تو کان لگا کر سنو اور چُپ رہو شاید تم  پر مہر ہو اور کچھ یہ بھی خدا کے کرم سے دور نہیں کہ مُردے کو قرآن  و استماع دونوں کا ثواب پہنچائے۔
 (۲؎ شرح الصدور    باب فی قرأۃ القرآن للمیّت الخ    خلافت اکیڈمی سوات    ص۱۳۰)
اقول ثواب قرأت پہنچنے  پر جزم نہ کرنے کا باعث یہ کہ وہ شافعی المذہب ہیں اور سید نا امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک عبادات بدنیہ کا ثواب نہیں  پہنچتا مگر جمہور اہلسنت قائل اطلاق و عموم ہیں، اور یہی مذہب ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ہے یہاں تک کہ خود محققین شافعیہ نے اس کی ترجیح وتصحیح کی
منھم السیوطی فی انیس الغریب
 (ان میں سے ایک امام سیوطی نے انیس الغریب میں اسکی وضاحت کی ہے) تو ہمارے نزدیک شک نہیں کہ میّت کو تلاوت کابھی ثواب پہنچتا ہے۔
قول (۱۸۳): مرقاۃ میں انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے علم وسماع کا ذکر کرکے فرماتے ہیں:
سائر الاموات ایضا یسمعون السلام والکلام  ۳؎
سب مُردے سلام وکلام ستنے ہیں، پھر فرمایا: یہ سب مسائل احادیث صحیحہ و آثار صریحہ سے ثابت ہیں۔
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب الجمعہ فصل ۲        مکتبہ امدادیہ ملتان    ۳ /۲۳۸)
قول (۱۸۴): علامہ حلبی سیرۃ انسان العیون میں امام ابوالفضل خاتم الحقائق سے ناقل: ؎
سماع موتٰی کلام الخلق حق قد جائت بہ عند نا الاثار فی الکتب ۴؎۔
اموات کا کلام مخلوق کو سننا حق ہے بیشک اس باب میں ہمارے پا س کتابوں میں حدیثیں آئیں۔
 (۴؎ انسان العیون    باب بدءِ الاذان     مصطفی البابی مصر    ۲ /۴۳۵)
قول (۱۸۵): ملک العلماء بحرالعلوم مولٰنا عبدالعلی لکھنوی مرحوم ارکان اربعہ میں فرماتے ہیں:
وما قیل ان التلقین لغو لان المیّت لایسمع فھذا باطل ۱؎۔
اس بناء پر کہ بعض نے کہا مُردہ نہیں سنتا تلقین سے انکار مذہب باطل ہے۔
 (۱؎ رسائل الارکان        فصل حکم الجنازۃ        مکتب اسلامیہ کوئٹہ            ص۱۵۰)
قول (۱۸۶): زہرالربی شرح سنن نسائی میں بعد تحقیق  وتفصیل نقل فرمایا:
فثبت بھذا انہ لامنا فات بین کون الروح فی علیین او الجنۃ اوالسماء وان لھا بالبدن اتصالاً بحیث تدرک وتسمع وتصلی وتقرء وانما یستغرب ھذا لکون الشاھد الدینوی لیس فیہ مایشاھد بہ ھذا و امور البرزخ والاٰخرۃٰ علی نمط غیرالمالوف فی الدنیا۲؎۔
تو ثابت ہو ا کہ کچھ منافات نہیں اس میں کہ روح علیین یا جنت یا آسمانوں میں ہوتی ہو ا ور اس کے ساتھ بدن سے ایسا اتصال رکھے کہ سمجھے ، سنے، نماز پڑھے، قرآن مجید کی تلاوت کرے، اس سے تعجب یو ں ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی بات اس کے مشابہ نہیں پاتے، حالانکہ برزخ و آخرت کے کام اس روش پر نہیں جو دنیا میں دیکھی بھالی ہے۔
 (۲؎ زہرالربٰی حاشیہ علی سنن النسائی    کتاب الجنائز        نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی        ۱ /۲۹۳)
Flag Counter