Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
202 - 243
قول  (۱۶۶ تا ۱۷۰): لباب و شرح لباب و اختیار و فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
واللفظ للاولین فانہ اتم
 (الفاظ پہلی دونوں کتابوں کے ہیں کیونکہ وہ زیادہ کامل ہیں۔ ت) بعد زیارت فاروقی بقدر ایک بالشت کے سرہانے کی طرف  پلٹے اور  وزیرین جلیلین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان کھڑا ہو کر بعد سلام اعادہ سلام و ذکر مآثار السلام عرض کرے :
جزا کم اﷲ عن ذٰلک مرافقتہ فی جنتہ وایانا معکما برحمۃ انہ ارحم الراحمین وجزا کم اﷲ عن الاسلام واھلہ خیر الجزاء، جئنا یا صاحبی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زائرین لنبینا وصدیقنا وفاروقنا ونحن نتوسل بکما الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیشفع لنا الٰی ربنا ۱؎۔
اللہ تعالٰی آپ دونوں صاحبوں کو  ان خوبیوں کے عوض اپنی جنت میں اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  کی رفاقت عطا فرمائے اور  آپ کے ساتھ ہمیں بھی، بیشک وہ ہر مہر  والے سے زیادہ مہر  والا ہے۔ اللہ آپ دونوں کو اسلام واہل اسلام کی طرف سے بہتر بدلہ کرامت فرمائے، اے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دونوں یارو! ہم اپنے نبی اور اپنے صدیق اور اپنے فاروق کی زیارت کو حاضر ہوئے اور ہم  نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف آپ دونوں سے توسل کرتے ہیں تاکہ حضور ہمارے رب کے پاس ہماری شفاعت فرمائیں۔
 (۱؂المسلک المتقسط مع ارشاد الساری    باب زیارۃ سیدالمرسلین        دارالکتاب العربی بیروت      ص۳۴۰)
اسی طرح مدخل میں ہے :
یتو سل بھما الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویقد مھما بین یدیہ شفیعین فی حوائجہ ۲؂۔
یعنی حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف توسل کرے اور انھیں اپنی حاجتوں میں شفیع بناکر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے آگے کرے ۔
(۲؂ المدخل      فصل فی احکام علٰی زیارت سید الاولین الخ      دارالکتاب العربی بیروت    ۱ /۲۵۸)
قول  (۱۷۱) :اشعۃ اللمعات میں فرمایا:
لیت شعری چہ می خواہند ایشاں باستمداد وامداد کہ این فرقہ منکر ند آں  را آنچہ مامی فہمیم ازاں این ست کہ داعی دعاکنند خدا وتوسل کند بروحانیت این بندہ مقرب را کہ اے بندہ خدا و ولی وے شفاعت کن مراد بخواہ  از خدا کہ بدہد مسئول ومطلوب مرا اگر ایں معنی موجب شرک باشد چنانکہ منکر زعم کند باید کہ منع کردہ شود توسل وطلب دعا از دوستانِ خدا درحالت حیات  نیز واین مستحب است باتفاق وشائع است در دین و آنچہ مروی و محکی است از مشائخ اہل کشف دراستمداد از  ارواح کمل واستفادہ ازاں، خارج از حصراست ومذکور ست درکتب و رسائل ایشاں ومشہور ست میاں ایشاں حاجت نیست کہ آنرا ذکرکنیم وشاید کہ منکر متعصب سود نہ کند اور اکلماتِ ایشاں عافانا اللہ من ذٰلک کلام دریں مقام بحد اطناب کشید بر غم منکراں کہ درقرب ایں زماں فرقہ پیدا شدۃ اند کہ منکر استمداد واستعانت را از اولیائے خدا ومتوجہاں بجناب ایشاں  را مشرک بخدا عبدۃ اصنام می دانند  و می گویند آنچہ می گویند ۱؎ اھ ملتقطا۔
نہ معلوم وہ استمداد وامداد سے کیاچاہتے ہیں کہ یہ فرقہ اس کامنکر ہے۔ ہم جہاں تک سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ دعا کرنے والا خدا سے دعا کرتا ہے او ر اس بندہ مقرب کی روحانیت کو  وسیلہ بناتا ہے  یا اس بندہ مقرب سے عرض کرتا ہے کہ اے خدا کے بندے اور اس کے دوست ! میری شفاعت کیجئے اور خدا سے دعا کیجئے کہ میرا مطلوب مجھے عطا فرمادے ____ اگر یہ معنی شرک کا باعث ہو جیسا کہ منکرکا خیال باطل ہے تو چاہئے کہ اولیاء اللہ کو ا ن کی حیات دنیا میں بھی وسیلہ بنانا اور ان سے دعا کر انا ممنوع ہو حالانکہ یہ بالاتفاق مستحب ومستحسن اور دین معروف ومشہور ہے۔ ارواح کاملین سے استمداد اور استغفار کے بارے میں مشائخ اہل کشف سے جو  روایات و واقعات وارد ہیں وہ حصر و شمار سے باہر ہیں اور ان حضرات کے رسائل وکتب میں مذکور اور ان کے درمیان مشہور ہیں، ہمیں ان کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں اور شائد ہٹ دھرم منکر کے لیے ان کے کلمات سود مند بھی نہ ہو ____ خدا ہمیں عافیت میں رکھے ___ اس مقام میں کلام طویل ہوا اور منکرین کی تردید وتذلیل کے  پیش نظر جو ایک فرقہ کے روپ میں آج کل نکل آئے ہیں اور اولیاء اللہ سے استمداد واستعانت کا انکار کرتے ہیں اور ان حضرات کی بارگاہ میں توجہ کرنے والوں کو مشرک و بت پرست سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں جو کہتے ہیں اھ (ت)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات    باب حکم الاسراء    فصل ۱     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۰۱)
اور شرح عربی میں اس مضمون اخیر کو یوں ادا فرمایا :
انما اطلنا الکلام فی ھذا المقام رغما الانف لمنکرین فانہ قد حدث فی زماننا شرذمۃ ینکرون الاستمداد من الاولیاء ویقولون مایقولون ومالھم علٰی ذلک من علم ان ھم الایخرصون ۲؎۔
ہم نے اسد مقام میں کلام طویل کیا منکروں کی ناک خاک پر رگڑنے کو کہ ہمارے زمانے میں معدودے چند ایسے  پیدا ہوئے ہیں کہ حضرات اولیاء سے مدد مانگنے کے منکر ہیں اور کہتے ہیں جو کہتے ہیں اور انھیں اس پر کچھ علم نہیں یونہی اپنے سے اٹکلیں لڑاتے ہیں۔
 (۲؎ لمعات التنقیح باب حکم الاسراء    فصل ۱     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۰۱)
اسی طرح جذ ب القلوب شریف میں معنی تو سل واستمداد بروجہ مذکور بیان کرکے فرمایا:
و ورود نص قطعی دروے حاجت نیست بلکہ عدم نص برمنع آں کافی ست  ۱ ؎۔
اس بارے میں نص قطعی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی ممانت پر نص نہ ہونا ہی کافی ہے۔ (ت)
 (۱؎ جذب القلوب    باب پانزدھم دربیان حکم زیارت قبر مکرم الخ        منشی نولکشور لکھنوٌ     ص۲۲۴)
قول (۱۷۲): شیخ الاسلام جنھیں مائتہ مسائل میں علمائے محدیثین سے شمار کیا اورا ن کی کتاب کشف الغطاء  پر جابجا اعتماد واعتبار کیا اسی کشف الغطاء میں فرماتے ہیں:
انکار استمداد درا  وجہے صحیح نمی نماید مگر انکہ از اول امر منکر شوند تعلق روح وبدن را بالکلیہ وآں خلاف منصوص است وبرین تقدیر زیارت درفتن بقبور ہمہ لغو وبے معنی گردد و ایں امرے دیگر  است کہ تمام اخبار وآثار دال برخلاف آنست ونیست صورت استمداد مگر ہمیں کہ محتاج طلب کند حاجت خود را از جناب عزت الٰہی بتوسل روحانیت بندہ مقرب یا ندا کند  آں بندہ راکہ اے بندہ خدا و ولی وے شفاعت کن مراد بخواہ از خدائے تعالٰی مطلوب مرا و دروے ہیچ  شائبہ شرک نیست چنانچہ منکر وہم کردہ ۲؎اھ بالالتقاط۔
استمداد سے انکار کی کوئی صحیح  وجہ نظر نہیں آتی، مگریہ کہ سرے سے روح وبدن کے تعلق کاہی بالکل انکار کردیں اور  ___ یہ نص کے خلاف ہے___ اس تقدیر  پر تو قبروں کے پاس جانا اور زیارت کرنا سب لغو اور بے معنٰی ہواجاتا ہے، اور یہ ایک دوسری بات ہے جس کے خلاف تمام آثار واحادیث دلیل ہیں، اور استمداد کی صورت کیا ہے؟ یہی کہ حاجت مند اپنی حاجت خدائے عزوجل سے بندہ مقرب کی روحانیت کو  وسیلہ کرکے طلب کرتا ہے۔ یا ا س بندے کو ندا کرتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ اے خدا کے بندے اور اس کے دوست! میری شفاعت کیجئے اور میرے مطلوب کے لیے خدا سے دعا کیجئے، اس میں تو شرک کاکوئی شائبہ بھی نہیں جیسا کہ منکر کا وہم وخیال ہے اھ ملتقطاً (ت)
 (۲؎ کشف الغطاء فصل دہم زیارت قبور         مکتبۃ احمد دہلی             ص  ۸۱  ۔  ۸۰  )
قول (۱۷۳): سیدی محمد عبدری مدخل میں دربارہ زیارت قبور انبیاء سابقین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم فرماتے ہیں:
یاتی الیھم الزوائر ویتعین علیہ قصد ھم من الاماکن البعیدۃ، فاذا جاء الیھم فلیتصف بالذکر والانکسار والمسکنۃ والفقر والفاقۃ والحاجۃ والاضطر و الخضوع، ویستغیث بھم ویطلب حوائجہ منھم  ویجزم  الحاجۃ ببرکتہم ، فانھم باب اﷲ المفتوح و جرت سنۃ سبحانہ وتعالٰی فی قضاء الحوائج علٰی ایدیھم وبسببھم  ۱؎ (ملخصاً)
زائر ان کے آگے حاضر ہو اور اس پر متعین ہے کہ  دور دراز مقاموں سے ان کی زیارت کا قصد کرے  پھر جب حاضری سے مشرف یاب ہو تو لازم ہے کہ ذلت و انکسار ومحتاجی وفقر وفاقہ وحاجت وبے چارگی و فروتنی کو شعار بنائے اور ان کی سرکار میں فریاد کرے اور ان سے اپنی حاجتیں مانگے اور یقین کرے کہ ان کی برکت سے اجابت ہوگی کہ وہ اللہ تعالٰی کے درکشادہ ہیں اور سنت الٰہی جاری ہے کہ ان کے ہاتھ پر ان کے سبب سے حاجت روائی ہوتی ہے۔ والحمد للہ رب العٰلمین۔
 (۱؎ المدخل       فصل فی زیارۃ القبور        دارالکتاب العربیۃ بیروت    ۱ /۲۵۲)
Flag Counter