شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی صاحب اس شیر الٰہی کا حال اپنی کتاب بستان المحدثین میں یوں لکھتے ہیں :
شیخ اوسیدی زیتون رحمہ اللہ تعالٰی علیہ درحق اُو بشارت دادہ کہ اُواز ابدال سبعہ است وباوصف علوحال باطن تصانیف او در علوم ظاہرہ نیز نافع شدہ ومفید وکثیرہ افتادہ ۱؎۔
ان کے شیخ سیدی زیتون رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے ان کے حق میں بشارت دی کہ وہ ساتوں ابدال میں سے ایک ہیں، علم باطن میں بلند رتبہ کے ساتھ ظاہری علوم میں بھی ان کی کثیر تصانیف موجود ہیں جو نافع ومفید ہیں۔ (ت)
(۱؎ بستان المحدثین مع اردو ترجمہ حاشیہ بخاری سید زروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۲۰)
پھر شمار تصانیف کے بعد لکھا :
بالجملہ مُردے جلیل القدر یست کہ مرتبہ کمال اوفوق الذکر است واواز آخر محققان صوفیہ است کہ بین الحقیقۃ والشریعت جامع بودہ اند وبشاگردی اواجلہ علماء مفتخر ومباہی بودہ اند مثل شہاب الدین قسطلانی کہ سابق حال او مذکور شدہ وشمس الدین لقانی ۲؎ الخ۔
مختصر یہ کہ وہ ایک جلیل القدر شخصیت ہیں جن کا رتبہ کمال بیان سے بالاتر ہے، وہ ان آخر صوفیہ محققین سے ہیں جو حقیقت وشریعت کے جامع ہوئے، ان کی شاگردی پر اجلہ علماء فخر ومباہات کرتے ہیں جیسے علامہ شہاب الدین قسطلانی جن کا حال پہلے ذکر ہوا اور شمس الدین لقانی الخ۔ (ت)
(۲؎ بستان المحدثین مع اردو ترجمہ حاشیہ بخاری سید زروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۱)
واو را قصیدہ ایست برطور قصیدہ جیلانیہ کہ بعضے ابیات او این ست ۳
قصیدہ غوثیہ کے طرز پر ان کا ایک قصیدہ بھی ہے جس کے بعض اشعار یہ ہیں۔ (ت)
(۳؎ بستان المحدثین مع اردو ترجمہ حاشیہ بخاری سید زروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۱)
اور وہی دو بیت مذکور نقل کیے ۔
قول (۱۶۴ تا ۱۶۵): امام ابن الحاج امام ابن النعمان کی سفینۃ النجاء سے ناقل:
الدعاء عند القبور الصالحین والتشفع بھم معمول بہ عند علمائنا المحققین من ائمۃ الدین ۴؎۔
قبور صالحین کے پاس دعا اور ان سے شفاعت چاہنا ہمارے علمائے محققین ائمہ دین کا معمول ہے۔
(۴؎المدخل فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۲۴۹)