Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
200 - 243
فائدہ جمیلہ تنقیح مسئلہ تلقین میں ۔
اقول وباﷲاستعین۔ نفس مبحث تلقین کی نسبت استطراداً اتنی بات سمجھ لیجئے کہ ظاہر الروایۃ میں اگر لایلقن یا غیر مشروع آیا بھی ہو تو وہ ممانعت وعدم جواز کے لیے متعین نہیں۔آخر نہ سنا کہ امام مجتہدین برہان الدین محمود نے ذخیرہ میں بروایت امام محررالمذہب حضرت محمد بن الحسن امام الائمہ مالک الازمہ حضرت اما م اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہم سے نقل کیا کہ سجدہ شکر مشروع نہیں۔ اور علماء نے اس کے معنٰی عدم  وجوب لیے، اشباہ میں ہے :
سجدۃ الشکر جائزۃ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ لاواجبۃ وھو معنی ماروی عنہ انھا لیست مشروعۃ ای وجوباً  ۱؎ اھواقرہ علیہ العلامۃ السید الحموی فی غمز العیون والسیدان الفاضلان احمد الطحطاوی و محمد الشامی فی حواشی الدر۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک سجدہ شکر جائز ہے واجب نہیں، یہی اس کا معنٰی ہے جو امام صاحب سے مروی ہے کہ سجدہ شکر مشروع نہیں یعنی وجوباً مشروع نہیں اھ۔ اسے علامہ سیدی حموی نے غمز العیون میں اور علامہ سیداحمد طحطاوی وعلامہ سید محمد شامی نے حواشی درمختار میں برقرار  رکھا۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    ماافترق فیہ سجود التلاوۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۶۴۷)
فتاوٰی حجہ میں فرمایا :
عندی انی قول الامام محمول علی الایجاب، وقول محمد علی الجواز والاستحباب، فیعمل بھما لا یجب بکل نعمۃ سجدۃ شکراً کما قال ابوحنیفہ ولکن یجوزان یسجد سجدۃ الشکر فی وقت سربنعمۃ او ذکر نعمۃ فشکرھا بالسجدۃ وانہ غیر خارج عن حد الاستحباب ۱؎ اھ نقلہ فی حاشیۃ المراقی و قبلہ الحلبی فی الغنیۃ ۔
میرے نزدیک یہ ہے کہ امام اعظم کا قول ایجاب پر اور امام محمد کا قول جواز پر واستحباب پر محمول ہے تودونوں قولوں پر عمل کیا جائیگا ہر نعمت پر سجدہ شکر واجب نہیں جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے لیکن جب کسی نعمت سے مسرت ہو تو سجدہ شکر کرنا جائز ہے، اسی طرح جب کسی نعمت کی یاد ہو تو اس کے شکر یہ میں سجدہ کرلینا یہ دائرہ استحباب سے باہر نہیں اھ اسے حاشیۃ مراقی میں اور اس سے پہلے حلبی نے غنیہ میں نقل کیا۔ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح    باب سجدۃ الشکر مکروھۃ    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۷۲)
اسی ذخیرہ میں فرمایا:
لایتعوذ التلمیذ اذا قرأ علٰی استاذہ ۲ ؎۔
شاگرد استاد کے پاس درس کے وقت تعوذ نہ پڑھے۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار    باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۷۵)
درمختار میں اسے نقل کرکے کہا:
ای لا یسن  ۳؎
 ( یعنی یہ مسنون نہیں ۔ ت)
فۃ الصلٰوۃ     مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۷۵)
نہر میں کہا :
لیس مافی الذخیرۃ فی المشرو عیۃ وعدمھا بل فی الاستنان وعدمہ ۴؎۔
ذخیرہ کی عبارت مشروعیت اور عدم مشروعیت سے متعلق نہیں بلکہ سنیت اور عدم سنیت سے متعلق ہے۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار بحوالہ نہر الفائق     باب صفۃ الصلٰوۃ    ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱ /۳۲۹)
یوں ہی ہمارے ائمہ سے دربارہ عقیقہ لایعق عن الغلام (لڑکے کی طرف سے عقیقہ نہ کرے۔ ت)

 منقول ، علمائے کرام فرماتے ہیں اس کے معنی نفی وجوب واستنان ہیں اور اباحت ثابت ہے۔ فتاوٰی خلاصہ میں ہے:
لا یعق عن الغلام وعن الجاریۃ یرید انہ لیس بواجب ولاسنہ لکنہ مباح  ۵؎۔
لڑکے اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ نہ کرے، اس سے مراد یہ ہے کہ یہ واجب وسنت نہیں۔ لیکن مباح ہے۔ (ت)
 (۵؎خلاصۃ الفتاوٰی    کتاب الکراھیۃالفصل التاسع فی المتفرقات    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۴ /۳۷۷)
اسی طرح عامہ کتب میں مثلاً ہدایہ وقایہ ونقایہ و بدائع و  منیہ و ملتقی و تنویر و جوہرہ وغیرہ  فاتحہ وسورت کے درمیان بسم اللہ  پڑھنے کے  بارے میں امام اعظم و امام ابویوسف رحمہ ا ﷲ تعالٰی علیہما کا قول  بلفظ  لایاتی و لایسمی ۶؎ (تسمیہ نہ لائے۔ بسم اللہ نہ پڑھے۔ ت) ذکر کیا۔
 (۶؎ الدرالمختار    باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۷۵)
پھرمحققین نے تصریح فرمائی کہ اس سے مراد نفی سنیت  ہے بخلاف امام محمد کہ قائل استنان ہیں، رہی کراہت وممانعت، وہ کسی کا مذہب نہیں، کہ پڑھنا بالاجماع بہتر  ہے جیسا کہ ذخیرہ و مجتبٰی و بحر و نہر و حاشیہ درر للعلامۃ الشرنبلالی و شرح علائی و حواشی شامی و طحطاوی وغیرہا سے واضح۔ علامہ غزی تمرتاشی نے فرمایا:
لابین الفاتحۃ والسورۃ
(فاتحہ وسورت کے درمیان نہیں۔ ت) محقق علائی نے لا کے بعد لفظ تسن بڑھادیا (یعنی مسنون نہیں۔ ت) پھر فرمایا
ولاتکرہ اتفاقا  ۱؎
 (مکروہ تو بالاتفاق نہیں۔ ت)
 (۱؎ الدرالمحتار   باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۷۵)
طحطاوی نے فرمایا:
بل لاخلاف فی انہ لوسمی لکان حسنا، نھر ۲؎
 (بلکہ اس میں بھی کوئی خلاف نہیں کہ اگر بسم اللہ پڑھاتو اچھا ہے۔ نہر۔ ت)
 (۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار    باب صفۃ الصلٰوۃ    دارالمعرفۃ بیروت        ۱ /۲۱۹)
بحرالرائق میں ہے :
الخلاف فی الاستنان اماعدم الکراہۃ فمتفق علیہ، ولہذا صرح فی الذخیرۃ والمجتبٰی بانہ ای سمی بین الفاتحہ والسورۃ کان حسنا عند ابی حنیفۃ۳؎۔ الخ
اختلاف مسنون ہونے میں ہے اور مکروہ نہ ہونے پر تو اتفاق ہے۔ اسی لیے ذخیرہ اور مجتبٰی میں تصریح ہے کہ اگر فاتحہ اور سورہ کے درمیان بسم اللہ پڑھا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اچھا ہے۔ الخ (ت)
 (۳؎ البحرالرائق     فصل واذا اراد الدخول    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۱۲)
پھرا مام صفار کا ارشاد سن چکے کہ مذہب اما م میں تلقین مناسب ہے، یہ امام علام صرف دو  واسطہ سے شاگرد صاحبین ہیں، امام نصیر بن یحیٰی سے اخذ علم کیا
وھو عن ابن سماعہ عن ابی یوسف ح وعن ابی سلیمان الجوز جانی عن محمد
 (انھوں نے ابن سماعہ سے انھوں نے امام ابویوسف سے اور امام نصیر نے ابوسلیمان جوزجانی سے اخذ کیا انھوں نے امام محمد سے۔ ت) یہ بالیقین اعرف بمذہب امام  ومعنی ظاہرالروایۃ پھر اس سے ہزار درجہ زائد اس جناب کا وہ ارشاد ہے کہ تلقین مذہب اہلسنت اور اس کا معنی مشرب معتزلہ ہے۔اور وہ واقعی مشائخ مذہب میں اس فرقہ ضالہ کا اختلاط اور نقول مذہب میں اس کے اقوال و تخاریج کا اندراج بعض جگہ سخت لغزشوں کا باعث ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی حقیقت کا رماہروں  پر ملتبس ہو جاتی ہے۔
وباﷲ العصمۃ جیسے بشر مَریسی معتزلی کا قول والرحمن الاافعل کذا ۴؎
 (رحمن کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ ت)
 (۴؎ ردالمحتار    کتاب الایمان    مصطفی البابی مصر        ۳ /۵۵)
اگر سورۃ رحمن مرادلی یمین نہ ہوگی، صاحب ولو الجیہ وخـلاصہ وغیرہما نے یوں نقل کردیا کہ گویا یہی مذہب ہے، حالانکہ وہ اس معتزلی کا قول ہے۔ اور مذہب مہذب ائمہ کرام کے بالکل خلاف
کما حققہ فی البحرالرائق
 (جیسا کہ البحرالرائق میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) ردالمحتار میں کہا:
ھـذا التفصیل فی الرحمن قول بشر المریسی ۵؎
 (الرحمن میں بہ تفریق، بشر مریسی کا قول ہے۔ ت)
 (۵؎ ردالمحتار     کتاب الایمان    مصطفی البابی مصر    ۳ /۵۵)
ایسا ہی اشتباہ علامہ زین بن نجیم مصری کو مسئلہ ذبیحہ میں واقع ہوا جس پر علامہ سیداحمد حموی نے فرمایا:
مبناھا علی الاعتزال الصریح والعجب ان المصنف لم یتفطن لہ مع ظہورہ من القنیۃ ۱؎۔
اس کا مبنٰی اعتذال پر ہے اور عجب نہ ہوا  کہ مصنف کوا س پر تنبیہ نہ ہوا باآنکہ صاحب قنیہ کا معتزلی ہونا کھلا ہواہے۔
 (۱؎  غمز عیون الابصار شرح الاشباہ والنظائر    کتاب الصید والذبائح    ادارہ القرآن کراچی    ۲ /۱۰۶)
بالجملہ روایت کا تویہ حال ہے۔ رہی روایت، مقصد دوم میں دیکھ چکے کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس حدیث میں وارد جسے امام ابن الصلاح وامام ضیا ء وامام امیرا الحاج وصاحب مجمع وغیرہم، نے بوجہ شواہد وعواضدحسن وقوی کہا، پھر سیدنا ابوامامہ باہلی صحابی اور راشد وضمرہ وحکیم وغیرہم تابعین کے اقوال اس میں مروی، پھر اورصحابہ سے اس کا غلاف ہر گز ثابت نہیں، باایں ہمہ قول صحابی قبول نہ کرنا اصول حنفیہ پر کیونکر مستقیم ہوا، تقلید (عہ) صحابی ہمارے امام کا مذہب معلوم ہے۔
عہ: مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب الصلٰوۃ باب الخطبہ میں فرماتے ہیں:
قول الصحابی حجۃ فیجب تقلیدعندنا اذا لم ینفہ شیئ اٰخر من السنۃ ۲؎ انتھی اقول وھذا لایختص بقول الصحابی فان کل دلیل یترک لدلیل اقوی من ۱۲ منہ (م)
صحابی کا قول حجت ہے تو اسکی تقلید ہمارے یہاں واجب ہے جبکہ کوئی حدیث اس کی نفی نہ کرتی ہو  انتہٰی اقول یہ قول صحابی سے ہی خاص نہیں اس لیے کہ ہر دلیل اپنے سے قوی تر دلیل کے باعث متروک ہوگی، ۱۲منہ (ت)
 (۲ ؂ مرقاۃا لمفاتیح         باب الخطبہ        تحت حدیث ۴۱۱   مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ   ۳ /۵۰۵)
میزان الشیریعۃ الکبرٰی میں امام ابو مطیع بلخی سے منقول:
قلت للامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ارأیت لو رأیت رأیاو رأی ابوبکر  رأیا اکنت تدع رأیک لرأیہ؟ فقال نعم فقلت لہ ارأیت لو رأیت رأیا و رأی عمر رأیا  اکنت تدع رأیک لرأیہ؟ فقال نعم وکذلک کنت ادع رائی لرأی عثمان  وعلی وسائر الصحابۃما عدا ابا ھریرۃ و انس بن مالک و سمرۃ بن جندب  ۱؂۔
میں نے امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی: بھلا ارشاد فرمائے اگر آپ کی ایک رائے ہو اور صدیق اکبر کی رائے اس کے خلاف ہو کیا آپ اپنی رائے ان کی رائے کے آگے چھوڑدیں گے ؟ فرمایا: ہاں ، میں نے عمر فاروق کی نسبت پوچھا، فرمایا: ہاں، اور یونہی میں اپنی رائے عثمان غنی و علی المرتضی  باقی تمام صحابہ کی رائے کے آگے ترک کردوں گا سوا ابوہریرہ و انس بن مالک و سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہم کے  اھ ۔
(۱؎ المیزان الکبرٰی    فصل فی بیان ضعف قول من نسب الامام اباحنیفہ الخ    مصطفی البابی مصر    ۱ /۶۵)
بلکہ علامہ ابن امیر الحاج تو حلیہ میں فرماتے ہیں: جب کسی مسئلہ میں ایک صحابی کا قول مروی ہو اور دیگر صحابہ سے اس کا خلاف نہ آئے وہ مسئلہ اجماعی ٹھہرئے گا۔
حیث قال الصحیح قولنا لما روی عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ قال فی مسافر جنب یتأخر الٰی اخرالوقت ولم یر و عن غیرہ من الصحابۃ خلافہ فیکون اجماعاً ۲ ؎۔
ان کی عبارت یہ ہے: صحیح ہمارا قول ہے اس لیے کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے جنابت والے مسافر کے بارے میں مروی ہے کہ وہ آخر وقت تک پانی کا اتنظار کرے، اس کے خلاف کسی اور صحابی سے مروی نہیں تو یہ ان کا اجماع مسئلہ قرار  پائےگا (ت)
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی)
بہر حال انکار اگر عدم ثبوت پر مبنی ،تو ثبوت حاضر، اور نفی نفع پر مبنی، تو نفع ظاہر، ہاں یہ رہ گیا کہ فہم و سماع موتٰی کا انکار کیجئے یہ بیشک اصولِ معتزلہ ہی پر درست ہوگا، ولہٰذا بحرالعلوم نے فرمایا اس بنا پر کہ مُردہ نہیں سنتا تلقین نہ ماننا مذہب باطل ہے
کما سیأتی نقلہ ان شاء اﷲ تعالٰی
(آگے ان کی عبارت ان شاء اللہ تعالٰی نقل ہوگی۔ ت) لاجرم عمائد حنفیہ سے یہ علمائے دین وائمہ ناقدین جن میں امام صفار وحاکم شہید وشمس الائمہ وظہیر کبیر و فقیہ النفس وغیرہم  ائمہ مجتہدین ہیں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین جواز واستحباب تلقین کے قائل ہوئے اور بالیقین وہ ہم سے زیادہ روایات ودرایاتِ مذہب پر آگاہ تھے، اور قطعاً اس کے خلاف پر اصلاً کوئی دلیل نہیں اور بیشک اس میں احیاء و اموات مسلمین کا نفع ہے۔ ذکر خدا ہے، رغم اعدا ہے۔ پھر وجہ انکار کیا ہے۔ تنزلی درجہ اتنا سہی کہ
لایؤمربہ و لاینھٰی عنہ
 ( جائز ومباح ہو، نہ حکم ہو نہ ممانعت۔ ت) باقی عدمِ جواز  یا ممانعت حاش اللہ محض بے حجت،
ومن ادعٰی فعلیہ البیان ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ تعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جو اس کا مدعی ہو بیان اس کا ذمہ۔ یہ وہ ہے جو میرے علم میں ہے اورحق کا علم میرے رب کے یہاں ہے۔اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم زیادہ کامل ومحکم ہے۔ اسد کا مجد جلیل ہے۔ (ت)

فصل چہاردہم: اصل مسئلہ مسئولہ سائل میں، یعنی ارواح کرام کو ندا اور ان سے توسل وطلب دُعا۔ یہ فصل بھی فصلِ دوازدہم کا ایک حصہ ہے کہ یہاں بھی کلام سلام کے سوا ہے مگر مثل فصل تلقین بوجہ مہتم بالشان ہونے کے فصل جدا گانہ قرار پائی واللہ التوفیق ۔
قول (۱۵۷تا ۱۵۹): سیدی خواجہ حافظی فصل الخطاب پھر(۱۵۸) شیخ محقق جذ ب القلوب میں ناقل:
قیل لموسٰی الرضا (۱۵۹) رضی اﷲ تعالٰی عنہ علمنی کلاما اذا زرت واحدا منکم فقال ادن من القبر وکبراﷲ اربعین مرّۃ ثم قل السلام علیکم یا اھل بیت الرسالۃ انی مستشفع بکم ومقدمکم امام طلبی وارادتی ومسأتی وحاجتی واشہد اﷲ انی مومن بسرکم وعلانیتکم وانی ابرأ الی اﷲ من عدم محمد واٰل محمد من الجن ولانس ۱؎ (ملخصا)
یعنی امام ابن الامام الٰی ستۃ آباء کرام علی موسٰی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم جمیعا سے عرض کی گئی مجھے ایک کلام تعلیم فرمائے کہ اہل بیت کرام کی زیارت میں عرض کروں؟ فرمایا: قبر سے نزدیک ہو کر چالیس بارتکبیر کہہ پھر عرض کر سلام آپ پر اے اہلبیت رسالت! میں آپ سے شفاعت چاہتاہوں اور آپ کو اپنی طلب وخواہش وسوال وحاجت کے آگے کرتا ہوں، خدا گواہ ہے مجھے آپ کے باطن کریم و ظاہر طاہر پر سچے دل سے اعتقاد ہے اور میں اللہ کی طرف بری ہوتا ہوں ان سب جن وانس سے جو محمد وآل محمد کے دشمن ہوں صلی اﷲ تعالٰی علی محمد وآلِ محمد وبارک وسلم آمین !
 (۱؎ جذب القلوب    باب دوازدہم درذکر مقبرہ شریفہ بقیع    مکتبہ نعمیہ چوک دالگراں لاہور    ص۱۳۸)
قول (۱۶۰تا ۱۶۱): سیدی جمال مکی قدس سرہ کے فتاوٰی میں ہے :
سئلت عمن یقول فی حال الشدائد یارسول اﷲ اویا علی اویاشیخ عبدالقادر مثلاً ھل ھو جائز شرعاً ام لا فاجیت نعم الاستغاثۃ بالاولیاء ونداؤھم والتوسل بھم امرمشروع ومرغوب لاینکرہ الامکابر اومعاند وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام، و سئل شیخ الاسلام الشہاب الرملی الانصاری الشافعی عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلاں ونحو ذلک من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والصالحیں فاجاب بما نصہ الاستغاثہ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء الصالحیں جائزۃ بعد موتھم ۱ ؎ الخ اھ ملخصا
مجھ سے سوال ہو ا اس شخص کے بارے میں جو سختیوں کے وقت کہتا ہے یا رسول اللہ ، یا علی، یا شیخ عبدالقادر مثلاً آیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ میں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع وشیئ مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم دشمن انصاف،ا وربیشک وہ برکت اولیائے کرام سے محروم ہے۔ شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری شافعی سے استفتاء ہو اکہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت مثلاً یا شیخ فلاں کہہ کر پکارتے ہیں اور انبیاء واولیاء سے فریاد کرتے ہیں اس کاشرح میں کیا حکم ہے؟ امام ممدوح نے فتوٰی دیا کہ انبیاء ومرسلین واولیاء علماء صالحین سے ان کے وصال شریف کے بعد بھی استعانت واستمداد جائز ہے۔
(۱؎ فتاوٰی جمال بن عمر مکی)
قول (۱۶۲): علامہ خیرالدین رملی حنفی استاذ صاحب درمختار رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما فتاوٰی خیریہ میں فرماتے ہیں:
قولھم یا شیخ عبدالقادر نداء فی الموجب لحرمتہ ۲؎ اھ ملخصا۔
لوگوں کا کہنا یا شیخ عبدالقادر یہ ایک نداء ہے پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے۔
 (۲؎ فتاوٰی خیریۃ        کتاب الکراھیۃ والاستحسان     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۸۲)
Flag Counter