Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
20 - 243
علامہ عارف باﷲ سیّدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ اور امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی عہود محمدیہ میں فرماتے ہیں :
ینبغی لعالم الحارۃ او شیخ للفقراء فی الحارۃ ان یعلم من یرید المشی مع الجنازۃ اٰداب المشی معھا من عدم اللغو فیھا وذکر من تولی وعزل من الولاۃ اوسافر اورجع من التجارۃ و نحوذلک فان ذکرالدنیا فی ذلک المحل مالہ محل وکان سیّدی علی الخواص رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول اذاعلم من الماشین مع الجنازۃ انھم لا یترکون اللغو فی الجنازۃ ویشتغلون باحوال الدنیا فینبغی ان یامرھم بقول لاالٰہ الااﷲ محمدرسو ل اﷲ فان ذٰلک افضل من ترکہ، ولاینبغی لفقیہ ان ینکر ذٰلک لابنص اواجماع فان مع المسلمین الاذن العام من الشارع بقول لاالٰہ الااﷲمحمدرسول اﷲکل وقت شاءوا یااﷲالعجب من عمی قلب من ینکر مثل ھذاو ربماعزم عندالحکام الفلوسی حتی یبطل قول المومنین (کلمۃ طیبۃ) فی طریق الجنازۃ، وھویری الحشیش یباع فلایکلف خاطرہ ان یقول للحشاش حرام علیک بل رأیت فقیھا منھم یاخذ معلوم امامۃ من فلوس بائع الحشیش والبرش فنسأل اﷲالعافیۃ واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۱؂
عالمِ محلہ یا فقراے محلہ کے بزرگ کو چاہئے کہ جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کو اس کے ساتھ چلنے کے آداب سکھائے کہ اس میں لغو باتیں نہ ہوں، کون حاکم ہوا، کون معزول ہوا، کون تاجر سفر سے آیا کون گیا، اس طرح کی باتیں نہ ہوں اس لئے کہ اس جگہ دُنیاکی باتوں کا کوئی موقع نہیں--سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالٰی  عنہ فرماتے تھے کہ جب جنازہ کےساتھ چلنے والوں کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ جنازہ میں لغو سے باز نہ آئیں گے اور دنیا کی باتوں میں مشغول رہیں گے تو انہیں حکم دینا چاہئے کہ کلمہ
لاالٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم
پڑھیں کہ اسے پڑھنا اس کے ترک سے افضل ہے۔ اور کسی فقیہ کو بغیر نص یا اجماع کے اس سے منع نہ کرنا چاہئے اس لئے کہ مسلمانوں کو شارع کی جانب سے
لا الٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲ
پڑھنے کا اذنِ عام ہے وہ جب چاہیں پڑھیں،الٰہی اس دل کے اندھے پن سے تعجب ہے جواس طریقے کے عمل سے روکتا ہ، شاید جنازہ کے راستے میں کلمہ طیبہ پڑھنے کو باطل قرار دے کر حکام سے مالِ دنیا کی طمع رکھتا ہے جبکہ وُہ راستے میں بھنگ بکتے دیکھے تو بھنگ فروش سے اتنا کہنے کی زحمت نہ اُٹھائے کہ یہ کام حرام ہے، بلکہ میں نے ان میں ایسے فقیہ کو بھی دیکھا ہے جو بھنگ فروش کے مال سے اپنی پیش نماز کی تنخواہ وصول کرتا ہے--تو خداہی سے عافیت کا سوال ہے---اور اﷲ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے(ت)
 (۱؂ الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ    الصنف الثالث    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲ /۴۰۹)
کتاب عہود المشائخ امام شعرانی پھرحدیقہ مبارکہ میں ہے:
ولانمکن احدامن اخواننا ینکر شیئا ابتدعہ المسلمون علٰی جھۃ القربۃ الی اﷲتعالٰی و رأوہ حسنا کما مر تقریرہ مرارا  فی ھذہ العھود لاسیما ماکان متعلقا باﷲتعالٰی ورسولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کقول الناس امام الجنازۃ لاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ او قرائۃ احدالقراٰن امامھا و نحو ذلک فمن حرم ذلک فھو قاصر عن فھم الشریعۃ لانہ ماکل مالم یکن علی عہد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یکون مذموما وقدرجح النوی رحمہ اﷲ تعالٰی ان الکلام خلاف اولی فقط ۔
ہم اپنے دوستوں کو کسی ایسی چیز سے روکنے کی اجازت نہ دیں گے جو مسلمانوں نے خدا کی بارگاہ میں تقرب کے طور پر ایجاد کی ہو اور اسے اچھا جانتے ہوں، جیسا کہ بارہا اس کی تقریر اسی کتاب عہود میں گزر چکی ہے، خصوصاً وُہ چیز جس کا تعلق رب تعالٰی  اوراسکے رسول صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے ہو، جیسے لوگوں کا جنازہ کے سامنے لاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ پڑھنا، یا وہاں پر قرآن کی تلاوت کرنا اور اس طرح کی باتیں،اسے جو حرام کہے وہ شریعت کے فہم سے قاصر ہے ۔ اس لئے کہ ہر وہ چیز جو عہدِ رسالت میں نہ رہی ہو بری نہیں۔امام نووی رحمہ اﷲتعالٰی  نے تواسے ترجیح دی ہے کہ کلام صرف خلافِ اولٰی  ہے۔
واعلم انہ لوفتح ھذاالباب لردت  اقوال  المجتہدین فی جمیع ما استحنبوا من المحاسن ولاقائل بہ وقد فتح رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم العلماء امتہ ھذاالباب و اباح لھم ان یسنوا کل شی استحسنو  ویلحقوہ بشریعۃ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجرمن یعمل بھا وکلمۃ لاالٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲاکبرحسنات فکیف یمنع منھا وتأمل احوال غالب الخلق الاٰن فی الجنازۃ تجدھم مشغولین بحکایات الدنیا لم یعتبر وا بالمیت وقلبھم غافل عن جمیع ما وقع لہ بل رأیت منھم من یضحک واذا تعارض عندنا مثل ذلک وکون ذلک لم یکن فی عھد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قدمنا ذکراﷲ عزوجل بل کل حدیث لغو اولٰی من حدیث انباء الدنیا فلوصاح کل من فی الجنازۃ بلاالٰہ الااﷲ فلااعتراض ولم یاتنا فی ذلک شی عن رسول اﷲتعالٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلوکان ذکراﷲ فی الجنازۃ منھیاعنہ لبلغنا ولو فیحدیث کما بلغنا فی قراءۃ القراٰن فی الرکوع فافھم وشی سکت عنہ الشارع اوائل الا سلام لایمنع منہ او اخر الزمان ۱؎۔
یہ جان لو اگر اس کا دروازہ کھولا جائے تو مجتہدین کرام کے وُہ تمام اقوال مردود ہوجائیں جو انہوں نے اپنے پسند کردہ محاسن کے بارے میں استخراج فرمائے ہیں اور کوئی اس کا قائل کیوں ہوگا جبکہ خود رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے اپنی امت کے علماء کے لئے یہ دروازہ کُھلا رکھا ہے اور انہیں اجازت دی ہے کے ایسے طریقے ایجاد کریں جن کو وُہ اچھاجانیں اور ان کو رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کی شریعت میں شامل کریں ۔یہ اجازت اس ارشادِرسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے ہے جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لئے اس ایجاد کا ثواب اور آئیندہ اس پر تمام عمل کرنے والوں کا ثواب ہے۔ کلمہ
لاالٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲ
تو سب سے بڑی نیکی ہے پھراس سے کیونکر روکا جائےگا؟ اس وقت نماز جنازہ میں اکثر لوگوں کے حالات کا جائزہ لو انہیں دنیاوی باتوں میں مشغول پاؤ گے میّت کے حال سے کوئی عبرت نہیں، دل اس سارے واقعے سے جواسے درپیش ہے غافل ہے بلکہ ان میں ہنسی والے بھی نظر آئیں گے، جب ایک طرف یہ حال ہو اوردوسری طرف یہ کہ اس وقت کلمہ پڑھنا رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا توعمل کیاہو، ایسے وقت ہم اﷲ عزوجل کے ذکر کو مقدم رکھیں گے، بلکہ ہر لغو  بات جنازے کے اندر دنیا کی باتوں کی بہ نسبت اچھی ہے، تو اگر جنازہ میں کوئی بلند آواز سے لاالٰہ الااﷲ پڑھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ہمیں اس سے ممانعت میں رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہ ملی۔اگر اﷲ کا ذکر ممنوع ہوتا تو کوئی نہ کوئی حدیث اس بارے میں آتی، جیسے رکوع میں تلاوتِ قرآن ممنوع ہے تو حدیث میں وارد بھی  ہے -- تواسے سمجھو -- وُہ چیز جس سے شارع علیہ السلام نے اسلام کے ابتدائی زمانے میں سکوت فرمایا ہے وُہ آخر زمانے میں ممنوع نہیں ہوسکتی(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ        الصنف الثالث الخ     مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۴۰۹)
Flag Counter