قول (۱۵۵و ۱۵۶): علامہ زیلعی نے تبیین الحقائق میں دربارہ تلقین پہلے استحباب پھر جواز پھر منع تینوں قول نقل کرکے استحباب پر دلیل قائم کی اور بے شک تعلیل، دلیل اختیار و تعویل ہے،علامہ حامد آفندی نے مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں فرمایا:
ھو المرجح اذا ھو المحلی بالتعلیل۳؎
( اس کی علت بیان کی گئی ہے لہذا اسی کو ترجیح ہے۔ ت)
(۳؎ مغنی المستفتی عن سوال المفتی)
ولہٰذا علامہ شامی آفندی تبیین کا یہ کلام نقل کرکے فرماتے ہیں:
ظاھر استدلا لہ للاول اختیارہ ۱ ؎
یعنی قول استحباب پر دلیل قائم کرنے سے ظاہر یہی ہے کہ امام زیلعی اسی کو مذہب مختار جانتے ہیں ا ور خود علامہ شامی کا کلام اختیار جواز و استحباب پر دلیل ہے کہ معراج الدرایہ سے عدم تلقین کا ظاہر الروایۃ ہونا نقل کرکے پھر اسی معراج سے بحوالہ کافی و خبازیہ امام صفار کا وہ ارشاد نقل کیا پھر فتح کا حوالہ دیا کہ انھوں نے حدیث تلقین کو اپنی حقیقت پرمحمول کرنے کی بہت تائید فرمائی، پھر غنیہ سے تائید لائے کہ حدیث میں تجوز ہے مگر تلقین سے منع نہ کریں گے کہ میّت کو مفید ہے، پھر زیلعی کے کلام سے یوں استظہار کیا اور شارح نے جو مشروعیتِ تلقین کو قول اہلسنت کہا اسے مقرر و مسلم رکھا، واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ ردالمحتار مطلب فی التلقین بعد الموت ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ /۵۷۱)
نکتہ جلیلہ تتمیمِ کلام و ازالہ اوہام میں ۔
اقول وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق، طائفہ جدیدہ ان اقول کے مقابل براہ تلبیس و مغالطہ منع تلقین کے اقوال پیش کردیتے ہیں، حالانکہ یہ محض جہالت بے مزہ ہے، ہم یہاں نفس مسئلہ تلقین کی بحث میں نہیں ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ ان علمائے مجوزین نے ادراک وسمع موتٰی مانا، اور یہ امر اقوال مذکورہ سے یقینا ثابت، ذرا آنکھیں مل کر دیکھیں کہ ائمہ نے کیا چیز جائز مانی، تلقین میّت۔ پھر یہ سیکھیں کہ تلقین کے معنی کیا ہیں، تفہیم و تذکیر یعنی سمجھانا اور یاد دلانا
کما فی حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی
(جیساکہ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح میں ہے ۔ ت) پھر کسی ذی عقل سے پوچھیں کہ تفہیم وتذکیر جماد و دیوار کو ہوتی ہے یا سامع فہیم وہوشیارکو؟ حاشا وکلاّ ہر سمجھ والابچہ جانتا ہے کہ سمجھانا اور یاد دلانا ہر گز متصور نہیں جب تک مخاطب سنتا سمجھتا نہ ہو اور جس کے اعتقاد میں ہو کہ مخاطب نہ عقل وفہم رکھتا ہے نہ میرا کہا سنے، پھر اس کے آگے بقصد تفہیم وتذکیر بات کرے وہ قطعاً مجنون ودیوانہ ہوگا لہذا یقینا واجب کہ جو ائمہ وعلماء استحباب ، خواہ جواز تلقین کے قائل ہوئے انھوں نے بلاشبہ اموات کو بعد دفن بھی کلام احیاء سننے والا مانا اور اسی قدر مقصود تھا بخلاف اقوال منع کہ وہ نہار نہ مخالف کو مفید نہ ہمیں مضر کہ ترک تلقین کی علت کچھ انکار فہم وسماع ہی میں منحصر نہیں جس سے خواہی نخواہی سمجھا جائے کہ جو تلقین نہیں مانتا وہ میّت کو سمیع و فہیم بھی نہیں جانتا، کیا ممکن نہیں کہ اس کی وجہ بعض کے نزدیک عدم ثبوت ہو، جیسا کہ حلیہ میں ہے :
نص الشیخ عزالدین بن عبدالسلام علٰی انہ بدعۃ ۱ ؎۔
شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے اس کے بدعت ہونے پر نص کی ہے۔ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
دیکھو امام عزالدین شافعی اس وجہ سے قائل تلقین نہ ہوئے کہ ان کے نزدیک بدعت تھی ، حالانکہ یہ وہی امام عزالدین ہیں جن کا ارشاد قول ۱۱۷میں گزرا کہ مُردے ہمارا کلام نہ سمجھتے ہوتے تو سلام قبور محض لغو تھا۔ یوں ہی کیا ممکن نہیں کہ وجہ ان کی رائے میں عدم فائدہ ہوں بایں معنی کہ مُردہ باایمان گیا، تو خود رحمت الٰہی اسے بس ہے۔ وہ بتوفیق ربانی آپ ہی صحیح جواب دے گا۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور اخرت میں (ت)
(۲القرآن ۱۴ /۲۷)
اور جو عیاذ باﷲ نوع دیگر ہے اسے لاکھ تلقین کیجئے کیا فائدہ ! دیکھو امام حافظ الدین نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کافی شرح وافی میں انکار تلقین اسی پر مبنٰی کیا۔
حیث قال ولقن الشہادۃ لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لقنوا موتاکم شہادۃ ان لا الہ الا اﷲ وارید بہ من قرب من الموت وقیل ھو مجریً علٰی حقیقتہ وھو قول الشافعی لانہ تعالٰی یحییہ وقد روی انہ علیہ السلام امر بتلقین المیّت بعد دفنہ و زعموا انہ مذہب اھل السنۃ والاول مذھب المعتزلہ الا ان نقول لافائدۃ بالتلقین بعد الموت لانہ مات مومنا فلاحاجۃ الیہ وان مات کافرا فلا یقید التلقین ۳؎ اھ ببعض تلخیص۔
ان کی عبارت یہ ہے : وقت نزع شہادت یاد دلائے اس لیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے اپنے مردوں کو کلمہ شہادت کی تلقین کرو۔ اس سے مراد وہ ہیں جو قریب الموت ہوں، اور کہا گیا کہ یہ اپنے حقیقی معنٰی میں ہے۔ یہی امام شافعی کا قول ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالٰی اسے زندہ کردے گا، اور مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دفن کے بعد تلقین کا حکم دیا، لوگ کہتے ہیں کہ یہ مذہب اہلسنت ہے اور اول معتزلہ کا مذہب ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ موت کے بعد تلقین کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے کہ اگر بحالتِ ایمان مرا ہے تو تلقین کی کوئی ضروت نہیں اور ا گر کافر مرا ہے تو تلقین کارگر نہ ہوگی، اھ (ختم قدرے تلخیص کے ساتھ) ۔ (ت)
(۳؎ کافی شرح وافی)
اگر چہ علماء نے اس شبہہ کا جواب کافی دے دیا کہ ہم شق اول یعنی موت علی ایمان اختیار کرتے ہیں، اور یہ کہناکہ اب حاجت نہیں غیر مسلم کہ وہ و قت ہول و دہشت کا ہے ہماری تذکیر اور خدا کے ذکر سے دل میّت کا قوی ہوگا، ڈھارس بندھے گی، وحشت گھٹے گی،
قال اﷲ تعالٰی الابذکر اﷲ تطمئن القلوب ۱؎ ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: سن لو خدا کی یاد سے ٹھہر جاتے ہیں دل ۔
(۱؎ القرآن ۱۳ /۲۸)
اسی لیے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد دفن حکم دیتے میّت کے لیے خدا سے تثبت مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا۔
صاحب کافی کا مطلقاً فائدے سے انکار ہمیں تسلیم نہیں (کیونکہ اس میں دل کو ٹھہرانے اور ثبات دینے کا فائدہ ہے) ہاں فائدہ اصلیہ (اس وقت اُسے ایمان بخشنا) نہیں اور تلقین کی ضروت قبر میں سوال کے وقت دل کی تقویت اور ثبات کے لیے ہے اھ (عبارت مراقی ختم حاشیہ الطحطاوی سے توضیح کے ساتھ) (ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام الجنائز نور محمد اصح کارخانہ کتب کراچی ص ۳۰۷ )
علامہ ابراہیم حلبی کا جواب اسی مقصد میں گزرا کہ تلقین میں میّت کا فائدہ ہے کہ ذکر خدا سے اس کا جی بہلے گا، فقیر کہتا ہے غفراللہ تعالٰی اگر عدم فائدہ میں ایسی ہی تقریر کریں تو دعاء و دوا تمام کا رخانہ اسباب سب مہمل و معطل رہ جائے کہ تقدیر الہٰی میں حصول مراد ہے تو آپ ہی ملے گی ورنہ کیا حاصل، غرض جب واضح و بین کہ تلقین بے فہم وسماع میّت کے محال اور اس کا انکار کچھ نفی سماع میں منحصر نہیں تو یقینا ثابت کہ اقوال جواز ہمارے مذہب پر دلائل ساطع اور اقوال ترک ومنع اصلاً مضر نہیں پھر ان کے مقابل ان کا پیش کرنا کیا کہا جائے کہ کس درجہ کی سفاہت ہے اور یہ قدیم چالاکی ان حضرات کی ہے جہاں کسی امر کے اثبات کو بعض علماء کے وہ اقوال جن کا مبنٰی اس امر کا ماننا ہو پیش کیئجے اور وہ مسئلہ مختلف فیہا ہو تو فوراً دوسری طرف کے قول نقل کر لائیں گے، یہ نہیں دیکھتے کہ
محل نزاع کیا تھا اورموضع استدلال کون سا مقدمہ ہے، کہا تو یہ تھا کہ امر ثابت ہے ولہذا فلاں فلاں ائمہ نے اس بات پر فلاں بات مبنی کی، اس کا یہ کیا جواب ہوگا کہ فلاں فلاں نے وہ بنا نہ مانی کیا انکار بنا انکار مبنی کو مستلزم ہوتا ہے، واقعی سلامت عقل عجب دولت ہے جسے خدا دے وباﷲ التوفیق، یہ نکتہ واجب الحفظ ہے کہ اس سے مخالفین کی بہت چالاکیوں کا حال کُھلتا ہے ۔ واﷲ الھادی ۔