فصل سیز دہم: بعد دفن میّت کو تلقین اورا سے عقائد اسلام یاد دلانے میں، یہ فصل فصل دواز دہم کی ایک صنف ہے کہ اس میں بھی میّت سے سوائے سلام اور قسم کا خطاب وکلام ہے کما لا یخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) میں یہاں صرف علمائے حنفیہ کے اقوال شمار کروں گا کہ شافعیہ تو قاطبتہً قائل تلقین ہیں الا من شاء اللہ۔
قول (۱۳۱تا ۱۳۳): امام زاہد صفار نے کتاب مستطاب تلخیص الادلہ میں تصریح فرمائی کہ تلقین موتٰی مسلک اہلسنت ہے اور منع تلقین مذہب معتزلہ پر مبنی کہ وہ میّت کو جماد مانتے ہیں، امام حاکم شہید نے کافی اور امام خبازی نے خبازیہ میں ان سے نقل فرمایا :
ان ھذا (ای منع التلقین) علٰی مذھب المعتزلۃ لان الاحیاء بعد الموت عندھم مستحیل، اما عنداھل السنہ فالحدیث ای لقنوا واتاکم لا الٰہ الا اﷲ محمد علی حقیقۃ۔ لان اﷲ تعالٰی یحییہ علی ماجائت بہ الاثارت وقدروی عنہ علیہ الصلوۃوالسلام انہ امر بالتلقین بعدا لدفن ۱؎ الخ ذکرہ فی ردالمحتار عن معراج الداریۃ۔
تلقین سے ممانعت معتزلہ کامذہب ہے اس لیے کہ موت کے بعد زندہ کرنا ان کے نزدیک محال ہے لیکن اہلسنت کے نزدیک حدیث تلقین (اپنے مردوں کو لا الہ الا اللہ سکھاؤ) اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے اس لیے کہ اللہ تعالٰی مُردے کو زندہ فرمادیتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ سرکار نے دفن کے بعد تلقین کا حکم دیا الخ۔ اسے ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ذکر کیا۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۹)
قول (۱۳۶): نہایہ شرح ہدایہ میں ہے :
کیف لایفعل وقدروی عنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام انہ امر بالتلقین بعد دفن ۱؎۔
تلقین کیونکر نہ کی جائےگی حالانکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہوا، حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بعد دفن تلقین کاحکم دیا۔اور ان کا قول فصل ہشتم میں گزرا کہ اہلسنت کے نزدیک تلقین اپنی حقیقت پر ہے۔
(۱؎البدایہ فی شرح الہدایہ باب الجنائز المکتبہ الامدادیۃ فیصل آباد جلد اول جز ثانی ص۱۰۷۳)
قول (۱۳۷ و ۱۳۸): امام اجل شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا :
لایومربہ ولاینھی عنہ ۲؎۔ نقلہ فی النھایۃ وغیرہا۔
تلقین کا حکم نہ دیں نہ اس سے منع کریں، اسے نہایہ وغیرہ میں نقل کیا۔ ت)
(۲؎ البدایہ فی شرح الہدایہ بحوالہ الحلوانی المکتبہ الامدادیۃ فیصل آباد جلد اول جز ثانی ص۱۰۷۳)
حلیہ میں اسے نقل کرکے فر مایا:
ظاھرہ انہ یباح ۳؎
اس قول سے ظاہر اباحت ہے۔
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
قول (۱۳۹): امام فقیہ النفس قاضی خاں نے فرمایا:
ان کان التلقین لاینفع لایضر ایضا فیجوز ۴؎۔ اثرہ المذکوران۔
تلقین میں اگر کوئی نفع نہ ہو تو ضرر بھی نہیں پس جائز ہوگی، (اسے دونوں مذکور حضرات نے ذکر کیا ہے)
(۴؎ البدایۃ فی شرح الہدایۃ بحوالہ قاضی خاں المکتبۃ الامدادیہ فیصل آباد جلد اول جزء ثانی ص۱۰۷۳)
اورظاہر ہے کہ نفی نفع برسبیل تنزل ہے۔
قول (۱۴۰تا ۱۴۳): صاحب غیاث فر ماتے ہیں :
انی سمعت استاذی قاضی خان انہ یحکی عن الامام ظہیر الدین انہ لقن بعض الائمۃ و اوصانی بتلقینہ فلقنتہ فیجوز ۵؎۔ نقلہ فی شرح النقایۃ۔
میں نے اپنے استاذ قاضی خاں کو سنا کہ اما اجل ظہیر الدین مرغینانی سے حکایت فرماتے تھے بعض ائمہ نے تلقین فرمائی اور مجھے اپنی تلقین کرنے کی وصیت کی تو میں نے انھیں تلقین کی، پس جواز ثابت ہوا۔ (اسے شرح نقایہ میں نقل کیا۔ ت)
(۵؎ جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۲۷۸)
اسی طرح صاحب حقائق نے بتصریح (عہ)اس کے کہ یہ تلقین بعد دفن تھی، صاحب غیاث سے نقل کیا
کما فی الحلیۃ
(جیسا کہ حلیہ میں ہے۔ ت)
عہ : یہ معنی خود لفظ اوصانی سے مستفاد مگر اس میں صریح تر ہے کہ
لقن بعض الائمۃ بعد دفنہ واوصانی بتلقینہ فلقنتہ بعد مادفن ۶ ۱۲منہ
(بعض ائمہ نے بعد دفن میّت کو تلقین فرمائی اور مجھے میّت کو تلقین کرنے کی وصیت کی تو میں نے بعد از دفن میّت کو تلقین کی۱۲ منہ (ت)
( ۶ حاشیۃ الشبلی علی التبیین بحوالہ الحقائق با ب الجنائز مطبعہ کبرٰی بولاق مصر ۱ /۲۳۴)
امام ابن امیر الحاج عبارت حقائق لکھ کر فرماتے ہیں:
یفیدون فعلہ راجح علٰی ترکہ ۱؎ ۔
یہ کلام استحباب تلقین کا مفید ہے۔ پھر اس پر حدیث سے دلیل ذکر کر کے ائمہ محدیثین امام ابو عمرو بن الصلاح وغیرہ سے ا س کا بوجہ شواہد و عمل قدیم علمائے شام قوت پانا نقل کرتے ہیں
(۳؎ تکملہ مجمع بحارالانوار تحت لفظ ثبت نولکشور لکھنؤ ص ۲۵)
قول (۱۴۷): نورالایضاح میں ہے:
تلقینہ فی القبر مشروع ۴؎
مُردے کو تلقین کرنا مشروع ہے۔
(۴؎ نورالایضاح باب احکام الجنائز مطبع علیمی لاہور ص۵۴)
قول(۱۴۸و۱۴۹): علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں کتاب التجنیس والمزید سے ناقل:
ا لتلقین بعد الموت فعلہ مشائخنا ۵؎
ہمارے بعض مشائخ نے موت کے بعد تلقین فرمائی ہے۔
(۵؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۲۴)
قول ( ۱۵۰و ۱۵۲): جامع الرموز میں جواہر سے منقول :
سئل القاضی مجدا لدین الکرمانی عنہ قال ما راہ المسلمون حسنا فھو عند اﷲ حسن و روی فی ذلک الحدیثن ۶؎۔
قاضی مجدالدین کرمانی سے دربارہئ تلقین سوال ہوا، فرمایا جوبات مسلمان اچھی سمجھیں خدا کے نزدیک اچھی ہے۔ اور اس بارے میں دو حدیثیں روایت کیں ۔
(۶؎ جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۲۷۹)
قول (۱۵۳): طحطاوی حاشیہ مراقی میں علامہ حلبی سے منقول:
کیف لایفعل مع انہ لاضرر فیہ بل فیہ نفع للمیّت ۱؎۔
تلقین کیونکر نہ کی جائے گی حالانکہ اس میں کوئی نقصان نہیں بلکہ میّت کا فائدہ ہے۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام الجنائز نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۰۶)
قول (۱۵۴): کشف الغطاء میں ہے :
بالجملہ بمقتضائے مذہب اہل سنت وجماعت تلقین مناسب پھر امام صفار کا ارشاد کہ : سزا وار آن ست کہ تلقین کردہ شود میّت برمذہب امام اعظم وہرکہ تلقین نمی کند ونمے گوید بآن پس اوبر مذہب اعتزال ست کہ گویند میّت جماد محض است و روح در قبر معاد نمی شود۔
مذہب امام اعظم میں میّت کو تلقین مناسب ہے اورجو تلقین کا تارک اور منکر ہے وہ معتزلہ کا مذہب رکھتا ہے جو میّت کو جماد محض کہتے ہیں، اور قبر میں پھر روح کا اعادہ نہیں مانتے۔ (ت)
نقل کرکے فرمایا:
وانچہ درکافی گفت کہ اگر مسلمان مُردہ است، محتاج نیست بہ سوئے تلقین وے بعد از موت وگرنہ فائدہ نمی کند ناتمام است چہ باوجود اسلام احتیاج بسوئے تلقین برائے ثابت داشتن دل باقی ست چنانچہ درحدیث آمدہ کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد از دفن فرمودی استغفار کنید برا درخود را و سوال کنید برائے وے تثبت رابدر ستیکہ الآن سوال کردہ مے شود ازوے ۲ الٰی اخرہ۔
وہ جو کافی ہیں کہا کہ ''اگر بحالت اسلام مرا ہے تو وہ موت کے بعد تلقین کا محتاج نہیں، اور اگر ایسا نہیں تو تلقین بے سود ہے'' ناتمام ہے اس لیے کہ اسلام کے باوجود،دل کوثابت رکھنے کے لیے تلقین کی حاجت ثابت ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دفن کے بعد فرماتے اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو کہ اس وقت اس سے سوال ہورہا ہے۔ الخ (ت)