Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
197 - 243
قول (۱۱۵ تا ۱۱۶): سید جمال مکّی کے فتاوٰی میں امام شہاب الدین رملی سے منقول:
للانبیاء والرسل والاولیاء والصالحین اغاثہ بعدموتھم ۲ ؎۔
انبیاء ورسل واولیاء وصالحین بعد رحلت بھی فریاد رسی کرتے ہیں۔
(۲؎ فتاوٰی جمال بن عمر مکی)
فصل یازدہم: تصریحات علماء میں کہ سلام قبور دلیل قطع سماع وفہم وعلم وشعور ہے۔

قول (۱۱۷): امام عزالدین بن عبدالسلام اپنی امالی میں فرماتے ہیں :
لانا امرنا بالسلام علی القبور ولولاان الارواح تدرک کان فیہ فائدۃ  ۳؎۔
ہمیں حکم ہوا کہ قبور  پر سلام کریں اگر  روحیں سمجھتی نہ ہوتیں تو بیشک ا س میں کچھ فائدہ نہ ہوتا۔
 (۳؎ شرح الصدور     بحوالہ عزالدین ا بن عبدالسلام    باب مقرالارواح    خلافت اکیڈمی سوات        ص۱۰۳)
قول (۱۱۸): امام  ابو عمر ابن عبدالبر نے فر مایا:
احادیث زیارۃ القبور والسلام علیھا وخطابھم مخاطبۃ الحاضر العاقل دالۃ علی ذلک۴؎ اھ ملخصا۔
زیارت قبور اور ان  پر سلام اور ان سے حاضر عاقل کی طرح خطاب کی حدیثیں اس پر دلیل ہیں اھ ملخصا
 (۴؎ شرح الصدور   حوالہ ابن عبدالبر   باب مقرالارواح    خلافت اکیڈمی سوات        ص۱۰ )
قول (۱۱۹): شرح الصدور میں مثل قولین سا بقین منقول:
قد شرح صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لامتہ ان یسلموا علی اھل القبور سلام من یخاطبونہ من یسمع ویعقل ۱؎۔
بیشک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اہل قبور پر ایسا مشروع فرمایا ہے جیسے سننے

سمجھنے والوں سے خطاب کرتے ہیں۔
(۱؎ شرح الصدور        باب زیارۃ القبور       خلافت اکیڈمی منگورہ سوات    ص۹۴)
قول (۱۲۰): امام علامہ نووی منہاج میں امام قاضی عیاض کا قول دربارہئ وسماع موتٰی نقل کرکے فرماتے ہیں:
ھوالظاھر المختار الذی یقتضیہ احادیث السلام علی القبور ۲؎۔
یہی ظاہر ومختار ہے جسے سلام قبور کی حدیثیں اقتضاء کرتی ہے۔
 (۲؎ منہاج للنووی شرح صحیح مسلم مع مسلم    باب عرض مقعد المیّت من الجنۃ والنار الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۳۸۷)
قول (۱۲۱): علامہ مناوی نے اسی امر پر دلیل یوں نقل فرمائی ہے:
فان السلام علی من لایشعر محال ۳؎
کہ جو نہ سمجھے اس پر سلام اصلاً معقول نہیں۔
 (۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر    تھت من زار قبرابویہ الخ     مکتبۃ الامام شافعی الریاض السعودیہ ۲ /۴۲۰)
قول (۱۲۲): شیخ محقق مدارج النبوۃ میں سلام اموات کو حدیث سے نقل کرکے فرماتے ہیں :
خطاب باکسیکہ نہ شنود  ونہ فہمد معقول نیست، ونزدیک ست کہ شمار کردہ شود از قبیلہ عبث چنانچہ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ گفت ۴؎۔
جو نہ سنے نہ سمجھے اس سے خطاب معقول نہیں اور قریب ہے کہ عبث کے دائرے میں شمار ہو جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا۔ (ت)
 (۴؎ مدارج النبوۃ     فصل درسماعت میّت       نوریہ رضوریہ سکھر        ۲ /۹۵)
قول (۱۲۳) مولانا علی قاری شرح اللباب میں دربارہ سلام زیارت میں فرماتے  ہیں:
من غیر  رفع صوت ولا اخفاء بالمرۃ لفوت الاسماع الذی ھو السنۃ  ۵؎۔
نہ بلند آواز سے ہو نہ بالکل آہستہ جس میں سنانا کہ سنت ہے فوت ہوجائے۔
 (۵؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    باب زیارۃ سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم        دارالکتاب العربی بیروت     ص۳۳۸)
فصل دو از دہم: اہل قبور سے سوائے سلام اور انواع خطاب وکلام میں،

قول (۱۲۴ تا ۱۲۷): منسک متوسط و مسلک متقسط واختیار شرح مختار  و فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
واللفظ للاخیرین فانہ ابسط
(الفاظ اخیرین کے ہیں اس لیے کہ یہ زیادہ مبسوط ہیں۔ ت) کہ بعد زیارت سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہاتھ بھر ہٹ کر  سرِ اقدس صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مقابل ہو  اور  بعد سلام عرض کرے:
جزاک اﷲ عنا افضل ماجزی اماما عن امۃ نبیہ ولقد خلقتہ باحسن خلف وسلک طریقۃ ومنہاجہ خیرمسلک وقالت اھل الردۃ والبدع ومھدت الاسلام و وصلت الارحام ولم تزل قائلا للحق ناصرا لاھلہ حتی اتاک الیقین ۱ ؎۔
آپ کو اللہ تعالٰی ہم سے جزا وعوض نیک دے بہتر اس عوض کا جو کسی کو اس کے نبی کی امت سے عطا فرمایا ہو بیشک آپ نے بہترین خلافت سے نبی ْ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیاحت کی اور بہترین روش سے حضور کی راہ وطریقہ پر چلے، آپ نے اہل ارتداد وبدعت سے قتال کیا، آپ نے اسلام کو اراستگی دی، آپ نے صلہ رحم فرمایا، آپ ہمیشہ حق گو اور اہل حق کے ناصر رہے یہاں تک کہ آپ کو موت آئی۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    مطلب زیارہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم             نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۶۶)
پھر ہٹ کر قبر مبارک حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے محاذی ہو اور بعد سلام عرض کرے۔
جزاک اﷲ عنا افضل الجزاء ورضی عمن استخلفک فقد نصرت للاسلام والمسلمین حیاً ومیّتاً فکفلت الایتام و وصلت الارحام وقوی بک الاسلام و کنت للمسلمین اماما مرضیا وھادیا مھدیا جمعت شملھم واغنیت فقیرھم وجبرت کسیرھم۲؎۔
اللہ تعالٰی نے آپ کو بہتر بدلہ دے اور ان سے راضی ہو جنھوں نے آپ کو خلیفہ کیا یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ آپ نے اپنی زندگی اور موت دونوں حال میں اسلام ومسلمین کی مدد فرمائی، آپ نے یتیموں کی کفالت اور  رحم کا صلہ کیا۔ اسلام نے آپ سے قوت پائی، آپ مسلمانوں کے پسندیدہ پیشوا اور رہنما راہ یاب ہوئے آپ نے ان کا جتھا باندھا اور  ان کے محتاجوں کو غنی کردیا اور ان کی شکستہ دلی دُورفرمائی۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ    مطلب زیارہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم      نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۶۶)
اسی طرح کتب مناسک میں بہت تصریحیں اس کی ملیں گی۔

قول (۱۲۸ تا۰ ۱۳): امام خطابی نے دربارہ تلقین فرمایا :
لاباس بہ اذلیس فیہ الاذکر اﷲ تعالٰی و عرض الاعتقاد علی المیّت (الی قولہ) وکل ذٰلک حسن، نقلہ القاری فی المرقاۃ ۳؎۔
اس میں کچھ حرج نہیں کہ وہ ہے کیا مگر اللہ تعالٰی کی یاد اور میّت پرعرض اعتقاد۔ یہ سب خوب ہیں (اسے ملا علی قاری نے مرقاۃ میں نقل کیا۔ ت)
 (۳؎ مرقاۃ المفاتیح     بحوالہ الخطابی    باب اثبات عذاب القبر حدیث ۱۳۳    المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۳۵۶)
بعینہٖ اسی طرح ذیل مجمع البحار میں مذکور۔
 (۴؎ تکملہ مجمع البحار    تحت لفظ ثبت      منشی نولکشور لکھنؤ    ص۲۵)
وحسبنا اﷲ العزیز الغفور وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ الٰی یوم النشور۔
ہمیں عزت ومغفرت والاخدا کافی ہے اور اللہ تعالٰی ہمارے آقا ومولا حضرت محمد اورا ن کی آل واصحاب پر تا حشر درود و حمت بھیجے۔ (ت)
Flag Counter