ان کانت المیّت المزار ممن ترجی برکتہ فیتوسل الی اﷲ تعالٰی بہ، یبدأ بالتوسل الی اﷲ تعالٰی بالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذھو العمدۃ فی التوسل والاصل فی ھذا کلہ والمشروع لہ، ثم یتوسل باھل تلک المقابر اعنی بالصالحین منھم فی قضاء حوائجہ ومغفرۃ ذنوبہ ویکثر التوسل بھم الی اﷲ تعالٰی لانہ سبحانہ تعالٰی اجتباھم وشرّفھم وکرمھم فکما نفع بھم فی الدنیا ففی الاٰخرہ اکثر فمن ارادحاجۃ فلیذھب الیھم ویتوسل بھم فانھم الواسطۃ بین اﷲ تعالٰی وخلقہ وقد تقرر فی الشرع وعلم ماﷲ تعالٰی بھم من الاعتناء وذلک کثیرہ مشھور، ومازال الناس من العلماء والاکابر کابراً عن کابرمشرقا ومغربا یتبرکون بزیارۃ قبورھم ویجدون برکۃ ذلک حساً ومعنیً اھ ۱ملخصا
یعنی اگر صاحب مزار ان لوگوں میں ہے جن سے امید برکت کی جاتی ہے تو اسے اللہ تعالٰی کی طرف وسیلہ کرے، پہلے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے توسل کرے کہ حضور ہی توسل میں عمدہ اور ان سب باتوں میں اصل اور توسل کے مشروع فرمانے والے ہیں، صالحین اہل قبور سے اپنی حاجت روائی وبخشش گناہ میں توسل اور اس کی تکرار و کرامت بخشی تو جس طرح دنیا میں ان کی ذات سے نفع پینچایا یونہی بعد انتقال اس سے زیادہ پہنچائے گا، تو جسے کوئی حاجت منظور ہو انکے مزارات(عہ) پر حاضر ہو اور ان سے توسل کرے کہ یہی واسطہ ہیں اللہ تعالٰی اورا س کی مخلوق میں، اور بیشک شرع میں مقرر ومعلوم ہوچکا کہ اللہ تعالٰی کو ان پر کیسی عنایت ہے اور یہ خود بکثرت وشہرت ہے اور ہمیشہ علمائے اکا بر خلف و سلف مشرق ومغرب میں ان کی زیارت قبور سے تبرک کرتے اور ظاہر وباطن میں اس کی برکتیں پاتے رہے ہیں اھ ملخصاً۔
اُس بار گارہ کے قُرب یافتہ اوراس جناب سے تعلق رکھنے والوں کی زیارت کا قصد کرے اور ان سے درخواست کرے کہ اپنی برکات وخیرات کا فیض عطا کریں یہ مزیدخیر وخوبی اور ثواب میں زیادتی کا باعث ہوگا، والسلام ۱۲منہ جذب القلوب (ت)
(۱؎ المدخل فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۴۹۔ ۲۴۸)
(۲؎ جذ ب القلوب باب دہ از دہم مکتبہ نعیمہ چوک دالگراں۔ لاہور ص۱۳۸ )
قول (۱۰۷ تا ۱۰۹): اشعۃ میں فرمایا:
سیدی احمد بن زروق کہ از عاظم فقہاء وعلماء ومشائخ دیار مغرب است گفت روزے شیخ ابوالعباس حضرم از من پرسید امدادِحی قوی ست یا امداد میّت قوی ست من گفتم قوی می گویند کہ امداد حی قوی تر است ومن می گویم کہ امداد میّت قوی تراست پس شیخ گفت نعم زیرا کہ وی دربساط است ودر حضرت اوست (قال) ونقل دریں معنی ازیں طائفہ بیشتر ازان ست کہ حصر و احصار کردہ شود یافتہ نمی شود درکتاب و سنت اقوالِ سلف صالح چیزے کہ منافی ومخالف ایں باشد و ردکندایں را ۱ الخ۔
سیدی احمد بن زروق جودیارِ مغرب کے عظیم ترین فقہاء اور علماء ومشائخ سے ہیں فرماتے ہیں کہ ایک دن شیخ ابوالعباس حضرمی نے مجھ سے پوچھا زندہ کی امداد قوی ہے یاوفات یافتہ کی؟ میں نے کہا کچھ لوگ زندہ کی امداد زیادہ قوی بتاتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وفات یافتہ کی امداد زیادہ قوی ہے۔ اسی پر شیخ نے فرمایا: ہاں ! اس لیے کہ وہ حق کے دربار اور اس کی بارگارہ میں حاضر ہے (فرمایا) اس مضمون کا کلام ان بزرگوں سے اتنا زیادہ منقول ہے کہ حد وشمار سے باہر ہے اور کتاب وسنت اور سلف صالحین کے اقول میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جو اس کے منافی ومخالف اور اسے رد کرنے والی ہو۔ الخ۔ (ت)
قول (۱۱۱و ۱۱۲): شیخ الاسلام امام فخرالدین رازی سے ناقل:
چوں می آید زائر نزد قبر حاصل می شودا ورا تعلقے خاص بقبر چنانچہ نفس صاحب قبر را وبسبب ایں در تعلق حاصل مے شود میان ہر دونفس ملاقات معنوی وعلاقہ مخصوص پس اگر نفس مزوری قوی ترباشد نفس زائر مستفیض مے شود واگر برعکس بود برعکس شود ۳؎۔
جب زائر قبر کے پاس آتا ہے توا سے قبر سے اور ا یسے ہی صاحب قبر کو اس سے ایک خاص تعلق حاصل ہوتا ہے اور ا ن دونوں تعلقات کی وجہ سے دونوں کے درمیان معنوی ملاقات اور ایک خاص ربط حاصل ہوجاتا ہے۔ اب اگر صاحب قبر زیادہ قوت والا ہے تو زائر مستفیض ہوتا ہے اور برعکس ہے تو برعکس ہوتا ہے۔ (ت)
(۳۳؎ کشف الغطاء فصل دہم زیارت قبور مطبع احمدی دہلی ص۷۰)
قول (۱۱۳و ۱۱۴): مولٰنا جامی قدس سرہ، السامی حضرت سیدی امام اجل علاء الدولہ سمنانی رحمۃ اﷲ تعالٰی سے ناقل:
درویشے از شیخ سوال کرد کہ چوں بدن را درخاک ادراک نیست و در عالم ارواح حجاب نیست چہ احتیاج است بسر خاک رفتن۔ چہ دہر مقامیکہ توجہ کند بروح بزرگے ہماں باشد کہ بسر خاک شیخ فرمود فائدہ بسیار داردیکے آنکہ چون بزیارت کسے مے رود چند انکہ می رود توجہ اوزیادہ می شود چوں بہ سرخاک رسد بحس مشاہدہ کند خاک اور احس اونیز مشغول اومی شود بکلی متوجہ گر دوفائدہ بیشتر باشد ودیگر آنکہ ہرچند ارواح راحجاب نیست وہمہ جہاں اورا یکے است اما بآں است امابآں موضع تعلق بیشتر بود۱؎ اھ ملخصا
ایک درویش نے شیخ سے سوال کیا کہ جب قبر کے اندر ادراک بدن کو نہیں بلکہ روح کو ہے اور عالم ارواح میں کوئی حجاب نہیں ہے تو قبر کے پاس جانے کی کیا ضرورت، جہاں سے بھی توجہ کرے بزرگ کی روح سے وہی فائدہ ہوگا جو قبر کے پاس ہوگا۔ شیخ نے فرمایا: اس میں بہت فوائد ہیں ایک یہ کہ جب آدمی کسی کی زیارت کو جاتا ہے تو جس قدر آگے بڑھتا ہے اس کی توجہ بڑھتی جاتی ہے، جب قبر کے پاس پہنچتا ہے تو حواس سے اس قبر کا ادراک اور مشاہدہ کرتاہے ا ب اس کے حواس بھی اس کے ساتھ مشغول ہوجاتے ہیں اور وہ پورے ظاہر وباطن کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے جس کا فائدہ فزوں ترہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر چہ ارواح کے لیے حجاب نہیں ہے اورسارا جہان ان کے لیے ایک ہے مگر اس مقام سے تعلق زیادہ ہوتا ہے۔ اھ بہ تلخیص (ت)
(۱؎ نفحات الانس ترجمہ ابوالمکارم رکن الدین علاء الدین السمنانی مہدی توحیدی پور طہران ص۴۴۰)