فصل دہم: الحمد اللہ برزخ میں بھی ان کا فیض جاری اور غلاموں کے ساتھ وہی شان امداد ویاری ہے۔
قول (۹۷): امام اجل عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ، الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی میں ارشاد فرماتے ہیں:
تمام ائمہ مجتہدین اپنے پیرووں کی شفاعت کرتے ہیں اور دنیا و برزخ وقیامت ہر جگہ کی سختیوں میں ان پر نگاہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ صراط سے پار ہوجائیں۔
(۲؎ المیزان الکبرٰی مقدمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱ /۹)
اسی امام اجل نے اسی کتاب اجمل میں فرمایا :
قد ذکرنا فی کتاب الاجوبۃ عن ائمۃ الفقھاء و الصوفیۃ کلھم یشفعون فی مقلدیھم و یلاحظون احدھم عند طلوع روحہ وعند سوال منکر و نکیر لہ وعند النشر والحشر والحساب والمیزان والصراط، والا یغفلون عنھم فی موقف من المواقف ولما مات شیخنا شیخ الاسلام الشیخ ناصرالدین اللقانی رآہ بعض الصالحین فی المنام فقال لہ مافعل اﷲ بک فقال لما اجلسنی الملکان فی القبر لیسئلافی اتاھم الامام مالک فقال مثل ھذا یحتاج الی سوال فی ایمانہ باﷲ ورسولہ تنحیاعنہ فتحیا عنی اھ واذاکان مشائخ الصوفیۃ یلاحظون اتباعھم ومریدیھم فی جمیع الاھوال والشدائد فی الدنیا و الاٰخرۃ فکیف بائمۃ المذھب الذین ھم أوتادالارض وارکان الدین وأمناء الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی امتہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین۱؎۔
ہم نے کتاب الاجوبہ عن الفقہاء والصوفیہ میں ذکر کیا ہے کہ تمام ائمہ فقہاء وصوفیہ اپنے اپنے مقلدوں کی شفاعت کرتے ہیں اور جب ان کے مقلد کی روح نکلتی ہے، جب منکر نکیر اس سے سوال کو آتے ہیں، جب اس کا حشر ہوتا ہے، جب نامہ اعمال کھلتے ہیں، جب حساب لیاجاتا ہے، جب عمل تُلتے ہیں، جب صراط پر چلتا ہے، غرض ہر حال میں اس کی نگہبانی فرماتے ہیں اور کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے، ہمارے استاد شیخ الاسلام امام ناصرالدین لقانی مالکی رحمہ اللہ تعالٰی کا جب انتقال ہوا بعض صالحوں نے انھیں خواب میں دیکھا، پوچھا اللہ تعالٰی نے آپ کے ساتھ کیا کیا؟ کہا جب منکر نکیر نے مجھے سوال کے لئے بٹھایا امام مالک تشریف لائے اور ان سے فرمایاایسا شخص بھی اس کی حاجت رکھتا ہے کہ اس سے خدا و رسول پر ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے الگ ہو اس کے پاس سے، یہ فرماتے ہیں نکیرین مجھ سے الگ ہوگئے اور جب مشائخ کرام صوفیہ قدست اسرارہم ہول وسختی کے وقت دنیا وآخرت میں اپنے پیرووں اور مریدوں کا لحاظ رکھتے ہیں تو ا ن پیشوایانِ عذاب کاکہنا ہی کیا جو زمین کی میخیں ہیں اور دین کے ستون، او ر شارع علیہ السلام کی اُمت پر اس کے امین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
(۱؎ المیزان الکبرٰی فصل فی بیان جملۃ من الامثلۃ المحسوستہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۳)
ﷲا کبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد ؎
حسبی من الخیرات ما اعددتہ یوم القیامۃ فی رضی الرحمٰن
دین النبی محمد خیرالورٰی ثم اعتقادی مذھب النعمٰن
وارادتی وعقیدتی ومحبتی للشیخ عبدالقادر الجیلانی
( میرے لیے نیکیوں سے وہ کافی ہے جو روز قیامت خوشنودی الٰہی کی راہ میں، میں نے تیار کررکھا ہے۔ نبی اکرم ، مخلوق میں سب سے افضل حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا دین پاک، پھر مذہب نعمان امام اعظم ابوحنیفہ پر اعتقاد، اور سیدی شیخ عبدالقادر جیلانی سے ارادت اور عقیدت ومحبت۔ ت) ؎
وی بخاک رضا شدم گفتم کہ تو چونی کہ ماچناں شدہ ایم
ہمہ روز از غمت بفکر فضول ہمہ شب درخیال بہیدہ ایم
خبری گو بماز تلخی مرگ سنیّت را گدائے میکدہ ایم
شیر بودیم و شہد افروزند ما سراپا حلاوت آمدہ ایم
(ایک دن میں نے رضا خاکی خاک پر جاکرکہا تمھارا کیا حال ہے، ہمارا حال تو یہ ہے کہ دن رات تمھارے غم میں بیکار سوچتے اور فکر کرتے رہتے ہیں، بتاؤ کہ موت کی تلخی کا حال کیسا رہا؟ عرض کیا: یہ تلخ جام ہم نے تو کم ہی چکھا، قادریت ہمارا مشرب رہا اور سنیت ہمارا میکدہ۔ ہم دُودھ تھے ہی اس پر شہد کا اضافہ ہوا، ہم تو سراپا حلاوت نکلے۔ت)
تنبیہ نبیہ: ہاں مقلد ان ائمہ کو خوشی وشادمانی اور ان کے مخالفوں کو حسرت وپیشمانی، مگر حاش صرف فروع میں تقلید سے متبع نہیں ہوتا، پہلے مہم امر عقائد ہے جو اس میں ائمہ سلف کے خلاف ہو ، تو بہ، کہاں وہ اور کہاں اتباع، یوں تو بہتیر حنفیت جتاتے ہیں، بعض زیدیہ روافض شافعی کہلاتے ہیں، بہت مجسمہ موجہ حنبلی کہے جاتے، پھر کیا ارواح طیبہ حضرات عالیہ امام اعظم و امام شافعی وامام احمد رضی اﷲ تعالی عنہم ان سے خوش ہوں گے،کلا واﷲ! ان گمراہوں کا انتساب ایساہے جیسے روافض اپنے آپ کو امامیہ کہتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے بیزار روح پاک ائمہ اطہار ہے رضوان اللہ تعالٰی علیہ اجمعین، یونہی نجد کے حنبلی، ہند کے حنفی جو مخترعانِ مذہب جدید ومتبعانِ قرنِ طرید ہوئے ہر گز حنبلی وحنفی نہیں بلکہ حَبَلی (عہ۱) و جنفی (عہ۲)ہیں،
فقیر غفراللہ تعالٰی لہ،نے اپنے قصیدہ اکسیر اعظم (۱۳۰۲ھ)کی شرح مجیر معظم (۱۳۰۳ھ) میں غلامان سرکار قادری کے فضائل اور ان کے لیے جو عظیم امیدیں لکھ کر گزارش کی :
اماہوس کاراینکہ رنزد ایشاں اتباع ہوائے نفس کمالِ تصوف ورداحکام شرع تمغائے تعرف، مناہی وملاہی موصل الی اللہ وتباہی ودواہی ریاضت این راہ، روزہا دارنداما برگرد و نماز ہا گزار ند برمعنی ترک کردن ونہ آنکہ ازینہابا کے دارند یاسرے خارند بلکہ فارغ زیند وحسابے ندارند و خود ازینہاچہ حکایت و ازبدعت چہ شکایت کہ متہوران ایشاں ضروریاتِ دین راخلاف کنند وبدعوی اسلام برعقائد اسلام خندہ زنند من وخدائے من کہ ایناں نہ قادری باشند و نہ چشتی بلکہ غادری باشند وزشتی سایہ مادور باد از مادور الخ اھ ملخصا
مگر وہ ہوس کار جن کے نزدیک ہوائے نفس کی پیروی کمال تصوف اور احکام شرع کو رَد کرنا تمغہ امتیاز، ممنوعات اور لہو کی چیزیں خدا رسی کا ذریعہ، تباہی اور مصیبت کی چیزیں اس راہ کی ریاضت، روزے رکھیں مگر ذمہ میں رہیں، نمازیں پڑھیں مگر نہ پـڑھنے کی طرح، اس پر بھی یہ نہیں کہ کچھ خوف یا فکر ہو بلکہ چین سے جیتے ہیں اور کوئی حساب نہیں رکھتے، ان کی کیا بات اور اس بد مذہبی کی کیا شکایت جبکہ ا ن کے بے باکوں کا حال یہ ہے کہ ضروریاتِ دین کا خلاف کریں اور اسلام کا دعوٰی کرکے عقائد السلام پر خندہ زن ہو، واﷲ یہ نہ قادری ہیں نہ چشتی بلکہ غادری ہیں اور زِ شتی، ان کا سایہ ہم سے دور ہو دور الخ ملخصاً(ت)
معہذا بالفرض اگر ایک فریق منکرین باعتبار فروع مقلدین سہی تاہم جب ان کے نزدیک ارواح گزشتگان مثل جماد اور محال امداد اور شرک استمداد، تو وہ اس قابل کہاں کہ ارواح ائمہ ان پر نظر فرمائیں، سنت الٰہیہ ہے کہ منکرین کو محروم رکھتے ہیں، اللہ تعالٰی حدیث قدسی میں فرماتا ہے :
انا عند ظن عبدی بی ۱؎۔ رواہ البخاری۔
میں بندہ سے وہ کرتاہوں جو بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا۔
(۱؎ الصحیح للبخاری باب قول اللہ ویحذرکم اللہ نفسہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۱)
جب ان کے گمان میں امداد محال تو ان کے حق میں ایسا ہی ہوگا۔ ؎
گر بہ تو حرام است حرامت بادا
سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث متواتر میں فرماتے ہیں :
شفاعتی یوم القیٰمۃ حق فمن لم یؤمن بھا لم یکن من اھلھا ۲ ؎۔ رواہ ابن منیع عن زید بن ارقم وبضعۃ عشر من الصحابۃ رضوان اﷲ تعالٰی اجمعین۔
میری شفاعت قیامت کے روز حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے اہل نہ ہوگا۔ (اسے ابن منیع نے حضرت زید بن ارقم اور تیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ جامع صغیری مع فیض القدیر حدیث ۴۸۹۶ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۴ /۱۶۳)
اللہ تعالٰی دنیا واٰخرت میں ان کی شفاعتوں سے بہرہ مند فرمائے اٰمین اللّٰھم اٰمین۔