Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
194 - 243
فصل نہم: اولیاء کی کرامتیں اولیاء کے تصرف بعد وصال بھی بدستور ہیں۔

قول (۸۴): امام نووی نے اقسام زیارت میں فرمایا: ایک زیارت بغرض حصول برکت ہوتی ہے، یہ مزارات(عہ)  اولیاء کے لیے سنت ہے اور ان کے لیے برزخ میں تصرفات وبرکات بے شمار ہیں
وستقف علٰی ذلک اِن شاء اﷲ تعالٰی
 (اِن شاء اللہ تعالٰی عنقریب اس سے اگاہی ہوگی۔ ت)
عہ :  زیارت گاہی از جہت انتفاع بہ اہل قبور بود  چنانکہ در زیارت قبور صالحین آثار آمدہ ۱۲ جذب القلوب
کبھی زیارت اہل قبور سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہوتی ہے جیسا کہ قبور صالحین کی زیارت کے بارے میں ہیں احادیث آتی ہیں۔ (ت)
قول (۸۵ و ۸۶): اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
تفسیر کردہ است بیضاوی آیہ کریمہ والنازعات غرقاً الآیۃ رابصفات نفوس فاضلہ درحال مفارقت ازبدن کہ کشیدہ می شوند از ابدان  و نشاط میکنند بسوئے عالم ملکوت وسیاحت میکنند دران پس سبقت میکنند بحظائر قدس پس می گردند بشرف و قوت از  مد برات۳؎۔
قاضی بیضاوی نے آیۃ کریمہ والنازعات غرقاً الخ کی تفسیر میں بتایا ہے کہ یہاں بدن سے جدائی کے وقت ارواح طیبہ کی جو صفات ہوتی ہے ان کا بیان ہے کہ وہ بدنوں سے نکالی جاتی ہیں اور عالم ملکوت کی طرف تیزی سے جاتی اور وہاں سیر کرتی ہیں پھر مقامات مقدس کی طرف سبقت کرتی ہیں اور قوت وشرف کے باعث مدبرات امر یعنی نظام عالم کی تدبیر کرنیوالوں سے ہوجاتی ہیں۔ (ت)
 (۳؎ اشعۃ اللمعات    با ب حکم الاسراء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۰۱)
قول (۸۷): علامہ نابلسی قدس سرہ، نے حدیقہ ندیہ میں فر مایا:
کرامات الاولیاء باقیۃ بعد موتھم ایضا ومن زعم خلاف ذلک فھو جاھل متعصب ولنا رسالۃ فی خصوص اثبات الکرامۃ بعد موت الولی۱؎ اھ ملخصاً۔
اولیاء کی کرامتیں بعدا نتقال بھی باقی ہیں جو اس کے خلاف زعم کرے وہ جاہل ہٹ دھرم ہے  ہم نے ایک رسالہ خاص اسی امر کے ثبوت میں لکھا ہے اھ ملخصاً (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ    اولھم آدم ابوالبشر    نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/۲۹۰)
قول  (۸۸ و  ۸۹): شیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالبلد الامین مولٰنا جمال بن عبداللہ بن عمر مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں:
قال العلامۃ الغنیمی وھو خاتمۃ محققی الحنفیۃ اذاکان مرجع الکرامات الٰی قدرۃ اﷲ تعالٰی کما تقرر فلا فرق بین حیاتھم ومماتھم (الٰی ان قال) قد اتفقت کلمات علماء الاسلام قاطبۃً علٰی ان معجزات نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تحصر لان منھا ما اجرہ اﷲ تعالٰی ویجریہ لاولیائہ من الکرامات احیاءً وامواتاً الٰی یوم القیٰمۃ  ۲؎۔
علاّمہ غنیمی رحمہ اللہ تعالٰی نے کہ محققین حنفیہ کے خاتم ہیں فرمایا جب ثابت ہوچکا کہ مرجع کرامات قدرت الٰہی کی طرف سے، تو اولیاء کی حیات و وفات میں کچھ فرق نہیں، تمام علماء اسلام ایک زبان فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے معجزے محدود نہیں کہ حضور ہی کے معجزات سے ہیں وہ سب کرامتیں جو اولیائے زندہ و مرُدہ سے جاری کیں اور قیامت تک ان سے جاری فرمائے گا۔
  (۲؎ فتاوٰی جمال بن عمر مکی)
قول (۹۰): اس میں امام شیخ الاسلام شہاب رملی سے منقول ہوا :
معجزات الانبیاء وکرامات الاولیاء لاتنقطع بموتھم ۳؎۔
ابنیاء کے معجزے اور اولیاء کی کرامتیں ان کے انتقال سے منقطع نہیں ہوتیں۔
 (۳؎ فتاوٰی جمال بن عمر مکی)
قول (۹۱و ۹۲): امام ابن الحاج مدخل میں ، امام ابو عبداللہ بن نعمان کی کتاب مستطاب سفینۃ النجاء لاہل الالتجاء فی کرامات الشیخ ابی النجاء سے ناقل:
تحقق لذ وی البصائر والاعتباران زیارۃ قبور الصالحین محبوبۃ لاجل التبرک مع الاعتبار فان برکۃ الصالحین جاریۃ بعد مماتھم کما کانت فی حیاتھم  ۴؎۔
اہل بصیرت واعتبار کے نزدیک محقق ہوچکا ہے کہ قبور صالحین بغرض تحصیل برکت وعبرت محبوب ہے کہ ان کی برکتیں جیسے زندگی میں جاری تھیں بعد وصال بھی جاری ہیں۔
 (۴؎ المدخل         فصل فی زیارۃ القبور        دارالکتاب العربی بیروت    ۱ /۲۴۹)
قول (۹۳): جامع البرکات میں ارشاد فرمایا :
اولیاء راکرامات وتصرفات دراکوان حاصل است وآن نیست مگر ا رواحِ ایشاں راچون ارواح باقی است بعد از ممات نیزیاشد۱؎۔
اولیاء کو کائنات میں کرامات وتصرفات کی قوت حاصل ہے اور یہ قوت ان کی روحوں کو ہی ملتی ہے تو روحیں جب بعد وفات بھی باقی رہتی ہیں تو یہ قوت بھی باقی رہتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ جامع البرکات    )
قول (۹۴): کشف الغطاء میں ہے:
ارواح کمل کہ درحینِ حیات ایشاں بہ سبب قرب مکانت ومنزلت از رب العزت کرامات وتصرفات وامداد داشتند بعد از ممات چوں بہماں قرب باقیند نیز تصرفات دارند چنانچہ درحین تعلق بجسد داشتند یا بیشتر ازاں ۲؎۔
کا ملین کی روحیں ان کی زندگی میں رب العزت سے قرب مرتبت کے باعث کرامات وتصرفات اور حاجتمنددوں کی امداد فرمایا کرتی تھیں بعد وفات جب وہ ارواح شریفہ اسی قرب واعزاز کے ساتھ باقی ہیں تو اب بھی ان کے تصرفات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے جسم سے دنیاوی تعلق کے تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ (ت)
 (۲؎ کشف الغطاء    فصل دہم زیارت القبور    مطبع احمدی دہلی     ص۸۰)
قول (۹۵ و ۹۶): شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
یکے از مشائخ عظام  (عہ ۱)گفتہ است دیدم چہار کس را  از مشائخ تصرف می کنند درقبور خود مانند تصرفہائے شاں درحیات خود یا بیشتر شیخ معروف و عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہما و دوکس (عہ ۲)دیگر راز اولیاء شمُردہ ومقصود حصر نیست آنچہ خود دیدہ ویافتہ است  ۱؎۔
ایک عظیم بزرگ فرماتے ہیں میں نے مشائخ میں سے چار حضرات کو دیکھا کہ اپنی قبروں میں رہ کر بھی ویسے ہی تصرف فرماتے ہیں جیسے حیات دنیا کے وقت فرماتے تھے یا اس سے بھی زیادہ (۱) شیخ معروف کرخی (۲) سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہما، اور دو اولیاء اور کو شمار کیا (شیخ عقیل منجبی بسہی  اور شیخ حیاۃ ابن قیس حرانی رحمہما اللہ تعالٰی  ان کا مقصد حصر نہیں بلکہ خود جو دیکھا او رمشاہدہ فرمایا وہ بیان کیا۔ ت)
عہ ۱ :یعنی سیدی علی قرشی قدس سرہ العزیز کما روی عنہ الامام نورالدین ابوالحسن علی فی بھجۃ الاسراء بسندہ ۱۲منہ(م)
یعنی سیدی علی قرشی قدس سرہ،العزیز ، جیسا کہ بہجۃ الاسرار میں ان سے نورالدین ابوالحسن علی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے ۱۲ منہ (م)
عہ۲ : یعنی شیخ عقیل بسہی وحضرت شیخ حیاۃ ابن قیس الحرانی قدس اﷲ تعالٰی اسرارہما کما فی البہجۃ ۱۲منہ (م)
یعنی شیخ عقیل منجبی بسہی اور شیخ حیات ابن قیس حرانی رحمہما اللہ تعالٰی ، جیسا کہ بہجۃ الاسرارمیں ہے ۱۲منہ (م)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات    باب زیارۃ القبور    تیج کمار لکھنؤ        ۱ /۷۱۵)
Flag Counter