قول (۷۳و ۷۴): اشعۃ اللمعات آخر باب الجنائز شرح مشکوٰۃ امام ابن حجر مکی سے زیر حدیث ام ا لمومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کہ آغاز نوع دوم مقصد دوم میں گزری نقل فرمایا:
دریں حدیث دلیلے واضح ست برحیات میّت وعلم وے آنکہ واجب است احترامِ میّت نزد زیارت وے خصوصاً صالحان ومراعات ادب بر قدر مراتب ایشاں چنانکہ درحالت حیات ایشاں ۳؎۔
اس حدیث میں اس پر کھلی ہوئی دلیل موجو دہے کہ وفات یافتہ کو حیات و علم حاصل ہوتا ہے اور وقت زیارت اس کا احترام واجب ہے خصوصاً صالحین کا احترام اور ان کے مراتب کے لحاظ سے رعایت ادب حیات دنیوی کی طرح ضروری ہے۔ (ت)
(۳؎ اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور فصل ۳ تیج کمار لکھنؤ ۱ /۷۲۰)
پھر کتاب الجہاد لمعات میں اسے ذکر کرکے لکھا ہے:
و ھل ھذا الا الاثبات العلم والادراک ۱؎
(یہ اگرمیّت کے لیے علم وادراک ثابت کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔ ت)
(۱؎ لمعات کتاب الجہاد)
فصل ہشتم: وہ اپنے زائروں سے کلام (عہ)کرتے اور ان کے سلام وکلام کا جواب دیتے ہیں۔
عہ: تنبیہ: جواب سلام کا ایک قول فصل ہفتم میں علامہ قونوی سے گزرا ۱۲ منہ (م)
قول (۷۵ تا۷۸):
امام یافعی پھر ا مام سیوطی امام محب طبری شارح تنبیہ سے ناقل ہیں امام اسمٰعیل حضرمی کے ساتھ مقبرہ زبیدہ میں تھے
فقال یامحب الدین اتؤمن بکلام الموتی قلت نعم فقال ان صاحب ھذا القبریقول لی انامن حشوالجنۃ۲؎
انھوں نے فرمایا: اے محب الدین! آپ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مرُدے کلام کرتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں، کہاں اس قبر والا مجھ سے کہہ رہاہے کہ میں جنت کی بھرتی سے ہوں ۔
(۲؎ شرح الصدور باب فی زیارۃ القبور الخ خلافت اکیڈمی منگوہ سوات ص۸۶)
تنبیہ: اس روایت کے لانے سے یہ غرض نہیں کہ اس میّت نے امام اسمٰعیل سے کلام کیا کہ ایسی روایات تو صدہا ہیں اور ہم پہلے کہہ آئے کہ وقائع جزئیہ شمار نہ کریں گے بلکہ محل استدلال یہ ہے کہ وہ دونوں امام احیاء سے اموات کے کلام کرنے پر اعتقاد رکھتے تھے، اور ان دونوں اماموں نےا سے استنادًا نقل فرمایا۔
تذییل: امام یافعی امام سیوطی انہی اسمٰعیل قدس سرہ الجلیل سے حاکی ہوئے بعض مقابر یمن پر ان کا گزر ہوا بہ شدت روئے اور سخت مغموم ہوئے، پھر کھلکھلا کر ہنسے اور نہایت شاد ہوئے، کسی نے سبب پوچھا، فرمایا: میں نے اس قبر والوں کو عذاب قبر میں دیکھا، رویا اور جنا ب الٰہی سے گڑا گڑا کر عرض کی، حکم ہوا:
فقد شفعناک فیھم
ہم نے تیری شفاعت ان کے حق میں قبول فرمائی، اس پر یہ قبر والی مجھ سے بولی:
وانا معھم یا فقیہ اسمٰعیل انا فلانۃ المغنیۃ مولانا اسمٰعیل!
میں بھی انھیں میں سے ہوں میں فلانی گائن ہوں، میں نے کہا:
وانت معھم
تو بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس پر مجھے ہنسی آئی ۳؎۔
(۳؎ شرح الصدور باب فی زیارۃ القبور الخ خلافت اکیڈمی منگوہ سوات ص۸۶)
اللّٰھم اجعلنا ممن رحمتہ باولیائک اٰمین
(اے اللہ ہمیں بھی ان میں شامل فرما جن کو اپنے اولیاء کے طفیل رحمت سے نوازا، الٰہی قبول فرما، ت)
قول (۷۹): زہرالربٰی شرح سنن نسائی میں نقل فرمایا:
ان للروح شانا اخرفتکون فی الرفیق الاعلی وھی متصلۃ بالبدن بحیث اذا سلم المسلم علی صاحبہ ردعلیہ السلام وھی فی مکانھا ھناک الٰی ان قال انما یاتی الغلط ھھنا من قیاس الغائب علی الشاھد فیعتقدون ان الروح من جنس مایعھد من الاجسام التی اذا شغلت مکانا لم یمکن ان تکون فی غیرہ وھذا غلط محض ۱؎۔
محض روح کی شان جُدا ہے با آنکہ ملاء اعلٰی میں ہوتی ہے پھر بھی بدن سے ایسی متصل ہے کہ جب سلام کرنے والا سلام کرے جواب دیتی ہے۔ لوگوں کو دھوکا میں یوں ہوتا ہے کہ بے دیکھے چیز کو محسوسات پر قیاس کرکے روح کا حال جسم کا سا سمجھتے ہیں کہ جب ایک مکان میں ہو اسی وقت دوسرے میں نہیں ہوسکتی حالانکہ یہ محض غلط ہے۔
(۱؎ زہرالربٰی حاشیہ علی النسائی کتاب الجنائز ارواح المومنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۹۲)
قول (۸۰): علا مہ زرقانی شرح مواہب میں نقل فرماتے ہیں :
ردالسلام علی المسلم من الانبیاء حقیقی بالروح والجسد بجملتہ، ومن غیر الانبیاء والشھداء باتصال الروح بالجسد اتصالا یحصل بواسطتہ التمکن من الرد مع کون ارواحھم لیست فی اجساد ھم وسواء الجمعۃ وغیرھا علی الاصح، لکن لامانع ان الاتصال فی الجمعۃ والیومین المکتنفین بہ اقوی من الاتصال فی غیرھا من الایام ۲؎ اھ ملخصا۔
انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا جواب سلام سے مشرف فرمانا تو حقیقی ہے کہ روح وبدن دونوں سے ہے اور انبیاء وشہداء کے سوا اور مومنین میں یوں ہے۔ کہ ان کی روحیں اگرچہ بدن میں نہیں تاہم بدن سے ایسا اتصال رکھتی ہیں جس کے باعث جواب سلام پر انھیں قدرت ہے اور مذہب اصح یہ ہے کہ جمعہ وغیرہ سب دن برابر ہیں، ہاں اس کا انکار نہیں کہ پنجشنبہ وجمعہ وشنبہ میں اور دونوں کی نسبت اتصال اقوی ہے۔ اھ ملخصاً
(۲؎ الزرقانی شرح المواہب المقصدا لعاشر فی اتمام نعمۃ الطبعۃ العامرہ مصر ۸ /۳۵۲)
قول (۸۱ و۸۲): شرح الصدور وطحطاوی حاشیہ مراقی میں نقل فرمایا:
الاحادیث والاثار تدل علی ان الزائرمتی جاء علم بہ المزور وسمع سلام وانس بہ ورد علیہ وھذا عام فی حتی الشھداء وغیرھم وانہ لا توقیت فی ذلک ۱؎۔
احادیث و آثار دلیل ہیں کہ جب زائر آتا ہے مرُدے کو ا س پر علم ہوتا ہے کہ اس کا سلام سُنتاہے ا ور اس سے انس کرتا ہے اوراس کو جواب دیتا ہے اور یہ بات شہداء و غیر شہداء سب میں عام ہے نہ اس میں کچھ وقت کی خصوصیت (عہ) کہ بعض وقت ہو اور بعض وقت نہیں۔
عہ : انھیں امام جلیل نے انیس الفریب میں فرمایا:
وسلموا ردا علی المسلم÷ فی ای یوم قالہ ابن القیم،
مُردے سلام کے جواب میں سلام کرتے ہیں کوئی دن ہو جیسا کہ ابن قیم نے تصریح کی ۱۲ (م)
(۱ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی زیارۃ القبور دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۶۲۰ )