قول (۵۹تا ۶۲): مجمع البرکات میں مطالب المومنین سے، ا ور کنز العباد و فتاوٰی غرائب وغیرہا میں ہے :
وضع الورد والریاحین علی القبور حسن لانہ مادام رطبا یسبح ویکون للمیّت انس بتسبیحہ ۱؎ ۔
گلاب وغیرہ کے پھول قبروں پر ڈالنا خوب ہے کہ جب تک تازہ رہیں گے تسبیح الٰہی کریں گے۔ تسبیح سے میّت کو انس حاصل ہوگا۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۱)
فائدہ: مطالب المؤمنین و جامع البرکات دونوں کتب مستندہ مخالفین سے ہیں اس سے مولوی اسحٰق نے مائتہ مسائل میں اس سے متکلم قنوجی وغیرہ نے استناد کیا۔
فصل ہفتم : وہ اپنے زائرین کو دیکھتے پہچانتے اور ان کی زیارت پر مطلع ہوتے ہیں :
قول (۶۳و ۶۴): مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مسلک متقسط شرح منسک متوسط، پھر فاضل ابن عابدین حاشیہ شرح تنویر میں فرماتے ہیں :
من اٰداب الزیارۃ ماقالوا من انہ لایاتی الزائر من قبل راسہ لانہ اتعب بصر المیّت بخلاف الاول لانہ یکون مقابل بصرہ ۱؎۔
زیارت قبور کے ادب سے ایک بات یہ ہے جو علماء نے فرمائی ہے کہ زیارت کو قبر کی پائنتی سے جائے نہ کہ سرہانے سے کہ اس میں میّت کی نگاہ کو مشقت ہوگی یعنی سراٹھا کر دیکھنا پڑھے گا، پائنتی سے جائے گا تو اس کی نظر کے خاص سامنے ہوگا۔
(۱؎ ردالمحتار حاشیہ در مختار مطلب فی زیارۃ القبور مصطفی البابی مصر ۱ /۶۶۵)
قول (۶۵): مد خل میں فرمایا:
کفی فی ھذا بیانا قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام المومن ینظر بنور اﷲ انتھی ونوراللہ لایحجبہ شیئ ،ھذا فی حق الاحیاء من المومنین، فکیف من کان منھم فی الدار الاٰخرۃ ۲؎۔
اس امر کے ثبوت میں کہ اہل قبورکو احوال احیاء پر علم وشعور ہے، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ فرمانا بس ہے کہ مسلمان خدا کے نور سے دیکھتا ہے اور خدا کے نور کو کوئی چیز پردہ نہیں ہوتی، جب زندگی کایہ حال ہے تو ان کا کیا پوچھنا جو آخرت کے گھر یعنی برزخ میں ہیں:
(۲؎ المدخل فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۲۵۳)
قول (۶۶): شیخ محقق جذب القلو ب میں امام علامہ صدر الدین قونوی سے نقل فرماتے ہیں:
درمیان قبور سائر مؤمنین وارواح ایشاں نسبت خاصی است مستمر کہ بدان زائرین رامی شناسند و ردسلام برایشاں می کنند بدلیل استحباب زیارت درجمیع اوقات۳؎۔
تمام مؤمنین کی قبروں اور روحوں کے درمیان ایک خاص نسبت ہوتی ہے جو ہمیشہ موجود رہتی ہے، اسی سے زیارت کے لیے آنے والوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے سلام کا جواب دیتے ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ زیارت تمام اوقات میں مستحب ہے۔
(۳؎ جذب القلوب باب چہارم دہم منشی نولکشور لکھنؤ ص۲۰۶)
قول (۶۷): انیس الغریب میں فرمایا: ؎
ویعرفون من اتاھم زائراً ۴؎
(جو زیارت کو آتا ہے مرُدے اسے پہچانتے ہیں۔ ت)
(۴؎ انیس الغریب)
قول (۶۸): تیسیر میں ہے :
الشعور باق حتی بعدالدفن حتی انہ یعرف زائرہ ۱؎ ۔
شعور باقی ہے یہاں تک کہ بعد دفن بھی یہاں تک کہ اپنے زائر کو پہچانتا ہے۔
(ا ؎ا لتیسیر شرح جامع صغیر تحت ان المیّت یعرف من یحملہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۱ /۳۰۳)
قول (۶۹): لمعات و اشعۃ اللمعات وجامع البرکات میں ہے :
واللفظ للوسطی در روایات آمدہ است کہ دادہ می شود برائے میّت روز جمعہ علم وادراک پیشتر از انچہ داداہ می شوددر روز ہائے دیگر تاآنکہ می شناسد زائر رابیشتر از روز دیگر ۲؎۔
الفاظ اشعۃ اللمعات کے ہیں: روایات میں آیا ہے کہ میّت کو جمعہ کے دن دوسرے دنوں سے زیادہ علم وادراک دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ روز جمعہ زیارت کرنے والے کو دوسرے دن سے زیادہ پہچانتا ہے
(۲؎اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور فصل ۱ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۷۱۶)
شرح سفر السعادۃ میں مفصل ومنقح تر فرمایا کہ:
خاصیّت سی ام آنکہ روز جمعہ ارواح مومناں بقبور خویش نزدیک می شوند نزدیک شدن معنوی وتعلق و اتصال روحانی نظیر ومشابہ اتصال کہ ببدن دارد و زائران راکہ نزدیک قبر می آیند می شناسد وخود ہمیشہ می شناسند ولیکن دریں روز شناختن زیادت برشناخت سائر ایام ست ازجہت نزدیک شدن بقبور لابد شناخت از نزدیک پیشتر وقوی تر باشد از شناخت ودور دربعض روایات آمد کرایں شناخت دراول روز پیشتر است از آخر آں ولہذا ازیارت قبور درین وقت مستحب تراست وعادت درحرمین شریفین ہمیں است ۳؎۔
تیسویں ۳۰ خاصیت یہ ہے کہ جمعہ کے دن مومنین کی روحیں اپنی قبروں سے نزدیک ہوجاتی ہیں، یہ نزدیکی معنوی ہوتی ہے اور روحانی تعلق و اتصال ہوتاہے جیسے بدن سے قرب واتصال ہوتا ہے۔ اس دن جو زائرین قبر کے پاس آتے ہیں انھیں پہچانتی ہیں، اور یہ پہچاننا ہمیشہ ہوتا ہے مگر اس دن کی شناخت دیگر ایام کی شناخت سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، ضروری بات ہے کہ نزدیک سے جو شناخت سے زائد ہوتی ہے وہ دور والی شناخت سے زائد قوی ہوتی ہے ____ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ شناخت جمعہ کی شام کو بہ نسبت اور زیادہ ہوتی ہے اسی لیے وقت زیارتِ قبور کا استحباب زیادہ ہے، اور حرمین شریفین کا دستور بھی یہی ہے۔ (ت)
(۳؎ شرح سفر السعادۃ فصل دربیان تعظیم جُمعہ نوریہ رضویہ سکھر ص۱۹۹)
اقول ولاعطر بعد العروس
(میں کہتا ہوں، دلہن کے بعد عطر نہیں ہے۔ ت)
قول (۷۰و۷۱) : شیخ و شیخ الاسلام نے فرمایا :
واللفظ للشیخ فی جامع البرکات
(جامع البرکات میں شیخ کے الفاظ ہیں۔ ت) :
تحقیق ثابت شدہ است بآیات واحادیث کہ روح باقی است واو راعلم وشعور بزائران و احوال ایشاں ثابت است وایں امریست مقرر در دین۱؎۔
آیات واحادیث سے بہ تحقیق ثابت ہوچکا ہے کہ روح باقی رہتی ہے اور اسے زائرین اور ان کے احوال کا علم وادراک ہوتا ہے۔ یہ دین میں ایک طے شدہ امر ہے۔ (ت)
(۱؎ جامع البرکات)
قول (۷۲): تیسیر میں زیر حدیث
من زار قبر ابویہ
(جس نے اپنے باپ کی قبر کی زیارت کی۔ ت) نقل فرمایا:
ھذا نص فی ان المیّت یشعر من یزورہ والا لما صح تستمیّتہ زائرا واذا لم یعلم المزور بزیارۃ من زارہ لم یصح ان یقال زارہ، ھذا ھوالمعقول عند جمیع الامم ۲؎۔
یہ حدیث نص ہے اس بات میں کہ مُردہ زائر پر مطلع ہوتا ہے ورنہ اسے زائر کہنا صحیح نہ ہوتا کہ جس کی ملاقات کو جائیے جب اسے خبر ہی نہ ہو تو یہ نہیں کہہ سکتے کہل اس سے ملاقات کی، تمام عالم اس لفظ سے یہی معنٰی سمجھتا ہے۔ (ت)
(۲؎ تیسیر شرح جامع صغیر تحت من زار قبر ابویہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۲ /۴۲۰)