Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
191 - 243
قول (۴۵ تا۴۶): فتاوٰی قاضی خاں پھر فتاوٰی علمگیری میں ہے :
ان قرأ  القران عند القبور نوی ذلک ان یونسہ صوت القراٰن فانہ یقرأ ۳؎۔
مقابر کے پاس قرآن پڑھنے سے اگر یہ نیت ہوکہ قرآن کی آواز سے مرُدے کا جی بہلائے تو بیشک پڑھے۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۵۰)
قول (۴۷تا ۴۹): ردالمحتار میں غنیہ شرح منیہ سے اور طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں تلقینِ میّت کے مفید ہونے میں فرمایا :
ان المیّت یستانس بالذکر علی ما ورد فی الاثار ۱؎۔
بیشک اللہ تعالٰی ذکر سے مرُدے کا جی بہلتا ہے جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح    باب احکام الجنائز    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ص۳۰۶)
قول (۵۰تا ۵۸): امام قاضی خاں فتاوٰی خانیہ (۵۱) شرنبلالی نورالایضاح ومراقی الفلاح وامداد الفتاح پھر (۵۲)علامہ ابوالسعود و(۵۳) فاضل طحطاوی حاشیہ مراقی میں استناداً وتقریراً، او ر(۵۴)شامی حاشیہ در میں استناداً، اور (۵۵)خزانۃ الروایات میں(۵۶) فتاوٰی کبرٰی سے، اور(۵۷) امام بزازی فتاوٰی بزازیہ اور(۵۸) شیخ الاسلام کشف الغطاء میں، اور ان کے سوا اور علماء فرماتے ہیں:
واللفظ للخانیۃ یکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فان کان یابساً لا باس لانہ مادام رطباً یسبح فیونس المیّت ۲؎۔
چوب وگیاہ سبز کا مقبرہ سے کاٹنا مکروہ ہے اور خشک ہو تو مضائقہ نہیں کہ وہ جب تک تررہتی ہے تسبیح خدا کرتی ہے اور اس سے میّت کا جی بہلتا ہے۔
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں     باب احکام الجنائز      نولکشور لکھنؤ        ۱ /۱۹۵)
علامہ شامی نے اسی حدیث سے مدلل کرکے فرمایا: اس بناء پر مطلقاً کراہت ہے اگر چہ خورد رَو  ہو کہ قطع میں حق میّت کا ضائع کرنا ہے۔

تنبیہ: فقیر کہتا ہے غفراللہ تعالٰی لہ، علماء کی ان عبارات اور نیز چار قل آئندہ ودیگر تصریحات رخشندہ سے دو جلیل فائدے حاصل:
اولاً نباتات وجمادات وتمام اجزائے عالم میں ہر ایک کے موافق ایک حیات ہے کہ اس کی بقا تک ہرشجر و حجر زبان قال سے اس رب ا کبر جل جلا لہ، کی پاکی بولتا ہے اور سبحان اللہ یا اس کے مثل اور کلمات تسبیح الٰہی کہتا ہے نہ کوئی ان میں صرف زبانِ حال ہے جیسا کہ ظاہر بینی کا مقال ہے کہ اس تقدیر  پر تر وخشک میں تفرقہ پر برہان قاطع کہ اس میں فرمایا:
ولکن لا تفقھون تسبیحھم ۳؎
تم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے،
(۳؎ القرآن      ۱۷ /۴۴)
ظاہر کہ تسبیح حالی تو ہر شخص عاقل سمجھتاہے یہاں تک کہ شعراء بھی کہہ گئے: ؃ؔ
ہر گیاہے کہ از زمین روید

وحدہ، لاشریک لہ، گوید
 (جو گھاس بھی زمین سے اُگتی ہے کہتی ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ت)
اور خود (عہ۱) مذہب اہلسنت مقرر ہوچکا کہ تمام ذراتِ عالم کے لیے ایک نوع علم وادراک وسمع وبصر حاصل ہے ۔
 عہ  ۱     مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کے باب فضل الاذان میں ہے :
 الصحیح ان للجمادات و النباتات والحیوانات علما وادارک وتسبیحا، قال البغوی وھذا مذھب اھل سنت وتدل علیہ الاحادیث و الآثار یشھد لہ مکاشفۃ اھل المشاھدۃ والاسرار التی ھی کالانوار، والمعتمد فی المعتقدان  شہادۃ الاعضاء بلسان القال، وما ورد عن الشارع یحمل علٰی ظاھرہ مالم یصرف عنہ صارف، ولاصارف ھنا کما لایخفی ۱؎ ملتقطا۱۲۔ (م)
صحیح یہ ہے کہ جمادات، نباتات اور حیوانات کو بھی ایک قسم کاعلم وادراک اور عمل تسبیح حاصل ہے۔ امام بغوی نے فرمایا یہی اہلسنت کا مذہب ہے جس پر احادیث وآثار سے دلیلیں موجود ہیں۔ اہل مشاہدہ اور انوار جیسے اسرار والوں کا مکاشفہ بھی اس پر شاہد ہے اور عقیدہ میں معتمد یہ ہے کہ اعضاء کی گواہی زبان قال سے ہوگی، شارع سے جو بھی وارد  ہے وہ اپنے ظاہر پر محمول ہوگا جب تک ظاہر سے پھیرنے والی کوئی دلیل نہ ہو اور یہاں ایسا کچھ نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح        باب فضل الاذان فصل نمبر۱        المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ          ۲ /۴۹۔ ۳۴۸)
مولوی معنوی قدس سرہ، نے مثنوی شریف میں اس مضمون کو خوب مشرح ادا فرمایا، اور اس پر قرآن واحادیث کے صدہا نصوص (عہ۲)ناطق۔ جنھیں جمع کروں تو انشاء اللہ پانسو سے کم نہ ہوں گے۔ ان سب کو بلا وجہ ظاہر سے پھیر کر تاویل کرنا تو قانون  عقل ونقل سے خروج بلکہ صراحۃً سفاہات مبتدعین میں ولوج ہے خصوصاً وہ نصوص (عہ۳)جو صریح مفسر ہیں کہ تاویل کی گنجائش ہی نہیں رکھتے۔ مقام اجنبی نہ ہوتا تو میں اس مسئلے  کا قدرے ایضاح کرتا۔
عہ۲ : فقیر نے اپنے فتاوٰی میں ایک جملہ صالحہ ذکر کیا اور صدہا کا پتادیا وباللہ التوفیق۔ (م)

 عہ۳ : مثلاً وُہ حدیثیں جن میں صاف ارشاد ہوا کہ نہ کوئی جانور شکار کیاجائے، نہ کوئی پیڑ کاٹا جائے جب تک تسبیح الٰہی میں غفلت نہ کرے۔ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماصید صید ولا قطعت شجرہ الابتضییع التسبیح ۲؎۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
نہ کوئی جانور شکار کیا جاتا ہے اور نہ کوئی درخت کاٹا جاتا ہے جب تک تسیبح الٰہی نہ ترک کرے۔ اسے ابونعیم نے حلیہ میں بسند حسن ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎ کنز العمال بحوالہ ابی نعیم عن ابی ھریرہ    حدیث ۱۹۱۹        مؤسستہ الرسالۃ بیروت    ۱ /۴۴۵)
ابو الشیخ نے روایت کی:
ما اخذ طائر ولاحوت الا بتضییع التسبیح ۲ ؎۔
کوئی پرندہ اور مچھلی نہیں پکڑی جائی مگر تسبیح الٰہی چھوڑدینے سے۔ (ت)
 (۲؎ درمنثور     بحوالہ ابی شیخ عن ابی الدرداء رضی اﷲ عنہ    وان من شیٌ الاّ یسبح بحمدہ کے تحت    مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران    ۴ /۱۸۴)
ابن اسحٰق بن راہویہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، ان کے پاس ایک زاغ لایا گیا جس کے شہپر سالم وکالم تھے۔ دیکھ کر فرمایا میں نے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا:
ماصید صید ولاعضدت عضباء ولاقطعت شجرۃ الابقلۃ التسبیح ۳ ؎۔ ۱۲منہ (م)
نہ کوئی جانور شکار ہوا نہ کوئی ببول کٹی، نہ کسی پیڑ کی جڑیں چھانٹی گئیں مگر تسبیح کی کمی کرنے سے۔
 (۳؎ کنز العمال     بحوالہ ابن راہویہ عن ابی بکر    حدیث ۱۹۲۰        مؤسستہ الرسالۃ بیروت    ۱ /۴۴۵)
ثانیاً اقوال مذکورہ سے یہ بھی منصہ نبوت پر جلوہ گر ہوا کہ اہل قبور کی قوت سامعہ اس درجہ تیز و صاف وقوی تر ہے کہ بناتات کی تسبیح جسے اکثر احیاء نہیں سنتے وہ بلا تکلف سنتے اور اس سے اُنس حاصل کرتے ہیں۔ پھر انسان کا کلام تو واضح اور اظہر ہے واللہ تعالٰی الہادی۔
Flag Counter