قول (۳۶تا ۳۷): عارف باللہ حکیم ترمذی پھر علامہ نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں :
معناہ ان الارواح تعلم بترک اقامہ الحرمۃ والاستہانۃ فتاذی بذلک ۲؎۔
اس کے یہ معنی ہیں کہ روحیں جان لیتی ہیں کہ اس نے ہماری تعظیم میں قصور کیا لہذا ایذا پاتی ہیں۔
(۲؎ نوادر الاصول الاصل التاسع والمائتان دارصادر بیروت ص۲۴۴)
قول (۳۸ تا ۳۹): حاشیۃ طحطاوی و ردالمحتار وغیرہ میں ہے:
مقابر میں پیشاب کرنے کو نہ بیٹھے لان المیّت یتاذی بما یتاذی بہ الحی ۳؎
اس لیے کہ جس سے زندو ں کو اذیت ہوتی ہے اس سے مرُدے کو بھی ایذا پاتے ہیں ۔
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب صلٰوۃ الجنازۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۸۱)
اقول بلکہ دیلمی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس کلیہ کی صراحتاً روایت کی کہ سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
المیّت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ بہ فی بیتہ ۴؎۔
میّت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی تھی قبر میں بھی اس سے اذیت پاتا ہے۔
(۴؎ شرح الصدور بحوالہ دیلمی باب تأذی المیّت الخ خلافت اکیڈمی، سوات ص۱۲۴)
قول (۴۰ تا ۴۱): حدیث ۲۶ کے نیچے اشعہ میں امام ابوعمر عبدالبر سے نقل کیا :
از ینجا مستفاد می گردد کہ میّت متالم می گردد بجمیع انچہ متالم می گردد بدان حی ولازم این ست کہ متلذذ گردد بتمام انچہ متلذذمے شود بداں زندہ ۱ ؎۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ میّت کو ان تمام چیزون سے تکلیف ہوتی ہے جس سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کو
لاز م یہ ہے کہ اسے ان تمام چیزوں سے لذت بھی حاصل ہو جن سے زندوں کو لذت ملتی ہے۔ (ت)
تذئیل: مسئلہ ہے کہ دارالحرب کے جن جانوروں کو اپنے ساتھ لانا دشوار ہو انھیں زندہ چھوڑیں کہ اس میں حربیوں کا نفع ہے، نہ کونچیں کاٹیں کہ اس میں جانوروں کی ایذا ہے بلکہ ذبح کرکے جلادیں تاکہ وہ ان کے گوشت سے بھی انتفاع نہ کرسکیں،
درمختار میں ہے :
حرم عقردابۃ شق نقلھا الٰی دار نا فتذبح وتحرق بعدہ اذلا یعذب بالنار الا ربھا۔۲؎۔
جس جانور کو دارالاسلام تک لانا دشوار ہو اس کی کونچیں کاٹنا حرام ہے، پہلے ذبح کریں اس کے بعد جلادیں ا س لیے کہ زندہ آگ میں ڈالنے کا عذاب دینا ربِّ نار ہی کاکام ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار با ب المغنم وقسمتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۴۲)
اس پر علامہ حلبی محشی درمختار نے شبہ کیا کہ یہاں سے لازم کہ مرُدے کے جسم کو صدمہ پہچائیں اس سے اسے تکلیف نہ ہو حالانکہ حدیث میں اس کا خلاف وارد ہے۔ علامہ طحطاوی و علامہ شامی نے جواب دیا کہ یہ بات بنی آدم کے ساتھ خاص ہے کہ وہ اپنی قبور میں ثواب وعذاب پاتے ہیں تو ان کی ارواح کی ابدان سے ایسا تعلق رہتا ہے جس کے سبب ادراک واحساس ہوتاہے ۔ جانوروں میں یہ بات نہیں ورنہ ان کی ہڈی وغیرہ سے انتفاع نہ کیا جاتا۔
ردالمحتار میں ہے :
او رد المحشی علی جواز احراقھا بعد الذبح انہ یقتضی ان المیّت لا یتألم مع انہ ورد انہ یتألم بکسر عظمہ قلت قد یجاب بان ھذا خاص ببنی آدم لانھم یتنعمون ویعذبون فی قبورھم بخلاف غیرھم من الحیوانات والالزم ان لاینتفع بعظمھا ونحوہ ثم رأیت ط ذکر نحوہ ۳؎ انتہی۔
محشی نے جانوروں کو ذبح کرکے جلانے پر یہ شبہ پیش کیا اس سے لازم آتا ہے کہ مرُدے کو اذیت نہیں ہوتی حالانکہ حدیث میں اس کا خلاف ہے کہ میّت کی ہڈی توڑنے سے اس کو اذیت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بات بنی آدم کے ساتھ ہے کیونکہ وہ اپنی قبروں میں خوشی اور تکلیف پاتے ہیں، جانوروں میں یہ بات نہیں ورنہ ان کی ہڈی وغیرہ سے انتفاع نہ کیا جاتا، پھر میں نے طحطاوی کو دیکھا تو انھوں نے ایسا ہی فرمایا، انتہی (ت)
(۳؎ردالمحتار با ب المغنم وقسمتہ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۵۲)
اقول تخصیص بنی آدم باضافت حیوانات مراد ہے ورنہ جن بھی بعد موت ادراک رکھتے ہیں کما یاتی قول
۱۹۰ (جیسا کہ قول ۱۹۰ میں آئیگا۔ ت) اور خود عذاب و ثواب سے علامہ کی تعطیل اس پر دلیل، واللہ تعالٰی اعلم
فصل ششم: ملاقات احیاء وذکر خدا سے اموات کا جی بہلتا ہے۔
قول (۴۲): امام سیوطی نے انیس الغریب میں فرمایا: ؎
ویانسُونَ ان اتی المقابر ۱؎
(جب زائرین مقابر پر آتے ہیں مرُدے ان سے انس حاصل کرتے ہیں۔ ت)
(۱؎ انیس الغریب)
قول (۴۳): امام اجل نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اقسامِ زیارت میں فرمایا ایک قسم زیارت اس غرض سے ہے کہ مقابر پر جانے سے اموات کا دل بہلائیں کہ یہ بات حدیث سے ثابت ہے۔
وسیاتی نقلہ فی النوع الثانی ان شاء اللّٰہ تعالٰی
(یہ بات ان شاء اللہ تعالٰی نوعِ ثانی میں نقل ہوگا۔ ت)
قول (۴۴): جذب القلوب میں فرمایا:
زیارت گاہی از جہت ادائے حق اہل قبور باشد درحدیث آمدہ مانوس ترین حالتیکہ میّت رابود در وقت کریکے از آشنایانِ او زیارتِ قبر اوکند وا حادیث دریں باب بسیار است۲؎۔
زیارت کبھی قبروالوں کے حق کی ادائیگی کے لیے ہوتی ہے حدیث میں آیا ہے کہ میّت کے لیے سب سے زیادہ اُنس کی حالت وہ ہوتی ہے جب اس کا کوئی پیارا آشنا اس کی زیارت کے لیے آتاہے۔ اس باب میں احادیث بہت ہیں۔ (ت)