Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
19 - 243
الجواب:اﷲ عزوجل کا ذکر اصل مقصود و اجل مقاصد و مغز جملہ عبادت ہے
اقم الصلٰوۃ لذکری۱ ؎
 (میرے ذکرکے لئے نماز قائم کرو۔ت)
(۱؎ القرآن      ۲۰/۱۴)
وُہ ہر حال میں مطلوب،
یذکرون اﷲ قیاما وقعوداو علی جنوبھم۲ ؎اھ
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یذکراﷲ فی کل احیانہ ۳؎۔
  وہ کھڑے بیٹھے، کروٹوں پر لیٹے اﷲ تعالٰی  کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سبھی اوقات میں خدا کاذکر کیا کرتے۔(ت)
 (۲؎ القرآن   ۳/۱۹۱) (۳؎ المستدرک علی الصحیحین   کتاب الدعاء  مطبوعہ دارالفکر بیروت   ۱ /۴۹۹)
بلا تقیید اُس کی تکثیر کاحکم :
واذکراﷲ کثیرالعلکم تفلحون۴؎۔
اکثروا ذکراﷲ حتی یقولو انہ مجنون۵ ؎۔(الحدیث)
اﷲ کا ذکر زیادہ کرو تاکہ فلاح پاؤ(ت) خدا کاذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنون ہے۔(ت)
 (۴؎ القرآن   ۶۲/۱۰)  (۵؎ مسند احمد بن حنبل  مروی از ابو سعید  دارالفکر  بیروت   ۳/۶۸ و ۷۱

تہذیب تاریخ دمشق الکبیر  ترجمہ دراج بن سمعان المصری  داراحیاء التراث العرابی بیروت    ۵/ ۲۲۴)
ذکر کے لئے انحاء کثیرہ ہیں، قلبی ولسانی وخفی وجلی وتلاوت و ثناء ودرود  ودعا وعبادات وطاعات۔ باوصف اطلاق بعض مقامات کو بعض انحاء سے خصوصیت ہوتی ہے۔ محلِ جنازہ مقامِ تفکر ہے ذکر قلبی ہے۔
تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ الثقلین
 (گھڑی بھر کا تفکر انسانوں اور جِنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ت)
ولہذا فقہائے ذکر ذکر لسانی پر ترجیح دی گئی ورنہ ذکر پر تفصیل محال ہوتی
و ذکر اﷲ اکبر
 (اور اﷲ تعالٰی  کاذکر سب سے بڑھا ہوا ہے۔ت) اس نحو ذکر کے لئے صمت یعنی خاموشی بہتر ہوتی ہے، ولہذا فقہاء نے
ینبغی ان یطیل الصمت
 (طویل سکوت اختیار کرنا چاہئے ۔ت) فرمایا، صدرِ اول میں غالباً یہی معمول تھا یہاں تک کہ جنازہ کے ساتھ چلنے میں یہ نہ معلوم ہوتا کہ ہمارے دہنے ہاتھ پر کون اور بائیں ہاتھ پر کون، ہر شخص اپنی فکر میں مشغول ہوتا اور اپنے لئے  یہ وقت آنا، اور  پھر ا س وقت کیا ہوگا؟ کیسے گزرے گی ؟ اپنے اعمال کی حالت کیا ہے؟ اس دھن میں مستغرق ہونا گویا ہرشخص اس جنازہ کو  اپنا ہی جنازہ جانتا، بلاشبہ اُس وقت کیا مناسب یہی حالت ہے اور اس حالت کے مناسب وہی صمتِ مطلق کہ سانس کے سوا اصلاً  آواز  نہ ہو۔ جب زمانہ بدلا اور صدرِ اوّل کا سا خوف عام مسلمانوں میں نہ رہا، صمت محض بہتوں کو باعث پریشانی خیالی ہوا، اطبائے قلوب نے ذکرلسانی خفی کا اضافہ فرمایا کہ
ان اراد ان یذکراﷲ یذکر فی نفسہ
(اگر اﷲ تعالٰی  کا ذکر کرنا چاہے تو آہستہ کرے ۔ت)
اقول اس میں حکمت یہ تھی فی نفسہٖ کوئی شہ مطلوب نہیں قولِ خیر عدم قول مطلق سے قطعاً افضل ہے ولہذا ارشاد ہوا:
ان لا یزال لسانک رطبا من ذکر اﷲ ۱؎۔
ہمیشہ تمھاری زبان خدا کے ذکر سے تر رہے ۔ (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الدعوات    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۷۳

   مسند احمد بن حنبل    حدیث عبداﷲ بن بسر المازنی الخ    دارالفکربیروت        ۴/ ۱۸۸)
اگر شرائع نے اُسے صوم میں رکھا تھا۔ ہماری شریعت عزانے اُسے منسوخ فرمادیا۔ محبوس کے یہاں وقت اکل صمت ہے۔ ہماری شریعت میں وہ مکروہ و لازم احتزاز ہے۔ یہاں ایک ذریعہ بعد معین مقصود ہوکر مطلوب ہُوا تھا کہ عمل لسان وجہ انقسام توجہ نہ ہو۔ اب کہ دیکھنا زمانہ بدلا، اب وہ معین ہونے کے عوض بہتوں کے لئے مخل مقصود ہونے لگا، تحصیل اصل مقصود کے لئے ذکر لسانی بتایا اور خفی رکھا سب تو ایسے پریشان خیال نہیں جہر سے اہلِ تفکر کا ذہن نہ ہٹے۔جب زمانہ اور بدلا اور عامہ ناس غالباً اسی قسم کے رہ گئے اور فقہ میں اکثر  ہی کا اعتبار  ہے۔
النا درمستثنٰی ولایفرد بحکم ۲ ۲؎کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔
نادر مستثنٰی  ہے اور اس کا الگ حکم بیان نہیں ہوتا، جیسا کہ فتح القدیر اورردالمحتار وغیرہما میں ہے(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب النکاح باب النفقہ        مصطفی البابی مصر      ۲ /۷۳۰

   منتقی شرح ملتقی علٰی  ھامش مجمع الانہر    کتاب النکاح        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۰۰)
اطبائے روحانی نے جہر بالذکر کی اجازت دی کہ وہ اوقع فی النفوس وادفع للوساوس وانفع للناس ہے۔ ذاکرین کی زبانوں اور سامعین کے کانوں کو مشغول کرتا اور غافلین کو جگا کر لغویات سے باز رکھ کر ذکر و سماع کی طرف لاتا ہے، اور یہ سمجھ لینا کہ مسلمان ایسے ہوگئے کہ باوجود قرع و قوت قرع و تکرر بھی متاثر نہ ہوں گے، جہل و صوئے ظن ہے، تو اب ذکرِ جہر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے افراد سے ہے جس سے منع عکس ونقیض مقصود شرع ہے .s
Flag Counter